- الإعلانات -

حکومت کابڑاریلیف پیکج

گزشتہ روزوفاقی کابینہ نے قیمتوں میں استحکام کیلئے ریلیف پیکج کی منظوری دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کو آئندہ 5 ماہ تک ماہانہ 2ارب سبسڈی فراہم کی جائے گی جبکہ ماہ رمضان میں یوٹیلیٹی اسٹورز کو 5 ارب روپے الگ سے ملیں گے ۔ اعلان کردہ پیکج کے مطابق یوٹیلیٹی اسٹورز پر آٹا جو اس وقت مارکیٹ میں پچاس سے ساٹھ روپے کلو بک رہا ہے 40 روپے کلو ملے گا، اسی طرح چینی جو مارکیٹ میں 80سے پچاسی روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے پیکج کے تحت 70روپے کلو ملے گی ، گھی 175روپے فی کلو دستیاب ہو گا،چاول اور دالیں 15سے 20روپے سستی کی جائیں گی ۔ علاوہ ازیں غربت کی لائن سے نیچے زندگی بسر کرنےوالے افراد کیلئے پیکج کے تحت ماہ رمضان سے پہلے خصوصی راشن کارڈ کا اجراء کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے ۔ بتایا گیا ہے کہ راشن کارڈ کے ذریعے مستحق افراد کو 25سے 30فیصد سستی اشیا فراہم ہوں گی ۔ ماہ رمضان بھی ایک ایسا موقع ہوتا ہے جس پر منافع خوروں کی چاندی ہو جاتی اور غریب شہریوں کی چیخیں نکل جاتی ہیں ، راشن کارڈز کا اجراء پیش بندی کےلئے اچھا فیصلہ ہے ۔ پیکج میں ایک اور خوش ;200;ئند اعلان بھی کیا گیا ہے کہ کامیاب جوان پروگرام کے تحت یوٹیلٹی اسٹورز کے اشتراک سے2000یوتھ اسٹورز کا قیام بھی عمل میں لایا جائے گا ۔ جسکے لئے نوجوانوں کو بلاسود قرضے دیئے جائیں گے ۔ آئندہ دو سالوں میں ان اسٹورز کی تعداد دوہزار سے بڑھا کرپچاس ہزار کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے ۔ ان سٹورز کیلئے ورکنگ کیپٹل کامیاب جوان قرضوں کے ذریعے مہیا کیا جائے گا ۔ اس اقدام کے تحت چار لاکھ افراد کو براہ راست جبکہ آٹھ لاکھ افراد کو بالواسطہ نوکریوں اور کاروبار کے مواقع میسر آئیں گے ۔ یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن ملک کے بڑے شہروں میں بارہ کیش اینڈ کیری سٹور قائم کرے گی جو فرنچائز اور بزنس ٹو بزنس ماڈل پر کسٹمرز کو کھانے پینے کی اشیا کی فراہمی اور قیمتوں میں استحکام لانے میں معاون ثابت ہوں گے ۔ یوٹیلٹی سٹورز ملک بھر میں پچاس ہزار تنوروں اور ڈھابوں کو کنٹرول ریٹ پر اشیا فراہم کرے گا ۔ بلاشبہ یہ ایک بڑا اعلان ہے جس سے جہاں مہنگائی کے جن کو قابو کرنے میں مدد ملے گی وہاں نوجوانوں کو روز گار بھی ملے گا ۔ ملک میں اس وقت سب بڑا مسئلہ بے روز گاری ہے اور اس پہ جلتی پر تیل کا کام ہوشربا مہنگائی کر رہی ہے بڑھتی ہوئی مہنگائی سمیت عوام جن معاشی مشکلات اور مسائل کا شکار ہیں ان پر قابو پانے کےلئے حکومت نے غیرمعمولی اقدامات اٹھانا شروع کر دیئے ہیں ۔ توقع ہے کہ ان اقدامات سے صورتحال میں جلد بہتری ;200;نا شروع ہو جائیگی ۔ منگل کو وزیراعظم عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں جو اہم فیصلے کئے گئے ہیں اس میں چینی کی درآمد پر پابندی اٹھا لی گی ہے، چینی کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد نہیں ہو گی، دالوں کی درآمد پر عائد کئے جانےوالے ٹیکسز کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ ان کو ختم کیا جا سکے جبکہ وزیراعظم نے معاون خصوصی برائے پٹرولیم کو ہدایت کی کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی لانے کے حوالے سے لاءحہ عمل آئندہ ایک ہفتے میں کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے ۔ کابینہ کے فیصلوں کے بارے میں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ احساس کفالت پروگرام کے تحت 43لاکھ خواتین کو ماہانہ دو ہزارروپے دیے جا رہے ہیں ۔ مارچ تک اس تعداد میں مزید دس لاکھ خواتین کا اضافہ کیا جائے گا اور سال کے آخر تک یہ تعداد ستر لاکھ کر دی جائےگی ۔ پروگرام سے چار کروڑ 69لاکھ افراد مستفید ہوں گے ۔ احساس انڈر گریجویٹ پروگرام کے تحت سرکاری یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم پچاس ہزار طلبا کو وظیفے دیے جائینگے تاکہ ان کی ٹیوشن فیس اور یونیورسٹی کے دیگر اخراجات پورے کئے جا سکیں ۔ یہ وہ اقدامات ہیں جن پر اگر مکمل عملدر;200;مد ہوتا ہے یقینی طور پر پسے ہوئے طبقے کی طرز زندگی میں نمایاں بہتری ;200;ئیگی ۔

کراچی سرکلرریلوے منصوبہ تین ماہ میں مکمل کرنے کاحکم

کراچی سرکلر ریلوے منصوبہ پرجاری کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے حکومت کو منصوبہ3ماہ میں فعال کرنے اور ایم ایل ون منصوبہ2سال کے عرصے میں مکمل کرنے کا حکم دے دیا ہے ۔ اس کیس کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ کر رہا ہے ۔ عدالت عظمیٰ نے وزیر ریلوے شیخ رشید احمد اور وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کو طلب کررکھا تھا ۔ کیس کی گزشتہ سماعت میں سپریم کورٹ نے کمشنر کراچی کو حکم دیا تھا کہ ریلوے کی زمین پر تعمیر ہونے والی عمارتوں کو گرادیا جائے ۔ گزشتہ روزہونے والی سماعت میں سپریم کورٹ کی جانب سے ریلوے کی زمین سے تجاوزات ختم کرنے کے حکم کے تناظر میں وزیر ریلوے نے عدالت کو بتایا کہ میں ;200;پ کا شکرگزار ہوں 12 دن میں بہت کام ہوا ہے بلکہ پوری قوم ;200;پ کی شکر گزار ہے ۔ دن رات ;200;پریشن کیا ہے مگرسرکلر ریلوے میں بہت مزاحمت سامنے ;200;رہی ہے، خواتین مزاحمت کررہی ہیں ۔ وزیر ریلوے نے عدالت سے درخواست کی کہ مہربانی ہوگی فنڈز فراہمی کی ہدایت کردیں ۔ اس پرچیف جسٹس نے کہا کہ ;200;پ اگر لاہور یا کراچی میں ریلوے کی 4 سے 5 پراپرٹیز بیچ دیں ریلوے کا مالی نظام بہتر ہوجائے گا، ہم چاہتے ہیں کہ عوام کی بھلائی کے لیے کچھ ہو ۔ تاہم شیخ رشید نے سپریم کورٹ نے بیچنے سے روک رکھا ہے ۔ چیف جسٹس نے شیخ رشید کو سرکلر ریلوے کو بھی سنبھالنے کی بات اور کہا کہ زمین ;200;پ حاصل کر لیں اور سرکلر ریلوے کو بھی ;200;پ چلائیں ۔ سندھ حکومت سے کچھ نہیں ہوگا، ;200;پ نے بات کرنی ہے تو کرلیں ، شیخ رشید صاحب یہ منصوبہ ;200;پ ہی چلائیں گے اور کوئی نہیں چلا سکتا، یہ معاملہ ;200;پ کا ہے ;200;پ خود حل کریں ۔ ریلوے وفاقی حکومت کا سبجیکٹ ہے، کیا ;200;پ ;200;ئین میں ترمیم کرنے جا رہے ہیں ، ;200;ئین کے خلاف کوئی کام نہ کریں ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم تو چاہ رہے تھے کہ سرکلر ریلوے کے بعد کراچی ٹرام بھی چلائیں ، ;200;پ کو یاد ہے کراچی میں پہلے محمد علی نامی کمپنی ہوتی تھی، نہ ہم سو رہے نہ ;200;پ سو رہے ہیں ، اپنے لوگوں سے ڈیلیور کرائیں ۔ ادھروفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر ایم ایل ون کے حوالے سے خوشخبری دیتے ہوئے کہا ہے کہ اقتصادی راہداری منصوبے پر پاکستان اور چین کی مشترکہ تعاون کمیٹی کا اجلاس اپریل میں ہونا ہے، ایم ایل ون کا منصوبہ منظوری کےلئے اس اجلاس میں پیش کیا جائیگا، ایم ایل ون کا کام شیخ رشید کے ہاتھوں ہوگا ۔ ایم ایل ون 9 بلین ڈالرز کا پراجیکٹ ہے، 15 اپریل تک ایکنک ایم ایل ون کی منظوری دےگی ۔ سپریم کورٹ کو بتا دیا کہ اس پر وفاق کی جانب سے جو کام کیا جانا چاہیے تھا وہ کیا جارہا ہے اور منصوبے کی لیڈ اس وقت صوبائی حکومت کے پاس ہے ۔

نئی حج پالیسی۔۔۔حج پھرمہنگا!

ارکان اسلام میں حج ایک اہم رکن اور اسکی ادائیگی ہر مسلمان کی اولین ترجیح ہوتی ہے لیکن ہر گزرتے سال کے ساتھ یہ مذہبی فریضہ مہنگا ہوتا جا رہا ہے ۔ وزارت مذہبی امور نے جو نئی حج پالیسی2020 ء جاری کی ہے اسکے تحت رواں سال ایک لاکھ79ہزار210پاکستانی حج ادا کرسکیں گے جبکہ اس بارحج پیکج4لاکھ80روپے کا ہوگا ۔ اس حوالے سے کی گئی پریس کانفرنس میں وزیر حج نور الحق قادری نے بتایا کہ حج پیکج میں اضافے کی وجہ فضائی اخراجات میں اضافہ اور روپے کی قدر میں کمی ہے ۔ رواں برس ایک لاکھ 84 ہزار210کے بجائے ایک لاکھ 79 ہزار210عازمین حج کرنے جائیں گے کیونکہ گزشتہ برس سعودی عرب نے 5ہزار اضافی عازمین کی اجازت دی تھی،انہوں نے یہ بھی بتایا کہ رواں برس سرکاری حج اسکیم کو60فیصد اور نجی حج اسکیم کےلئے40فیصد کوٹہ مختص کیا گیا ہے ۔ حج کے بڑھتے اخراجات کے حوالے سے ہر سال حکومت کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ پچھلے سال سرکاری حج کے فی کس اخراجات تقریباً چار لاکھ36ہزار تک تھے تاہم اس سال ان میں 50سے 60ہزار روپے تک کا اضافہ ہوا ہے ۔ اسکی بنیادی وجہ ایئر ٹکٹس ، سعودی عرب میں رہائشوں ، حاجیوں کےلئے ہیلتھ انشورنس اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں بھی اضافہ بتایا گیا ہے ۔ تاہم وزیر مذہبی امور نے بتایا کہ حج اخراجات میں کمی لانے کے لئے سعودی حکومت سے بات چیت کے ذریعے پوری کوشش کی جائے گی ۔ تاہم حج اخراجات میں اضافے کی ایک بڑی اہم وجہ سبسڈی کا خاتمہ ہے جو گزشتہ برس حکومت نے ملکی معاشی حالات کی پیش نظر واپس لے لی تھی ۔