- الإعلانات -

افغانستان ۔۔۔ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی !

انسان دوست حلقوں کے مطابق اسے عالمی امن کی بد قسمتی ہی قرار دیا جانا چاہیے کہ بھارت، امریکہ اور کابل انتظامیہ تسلسل کے ساتھ وطن عزیز کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈہ کرتی چلی آ رہی ہیں اور یہ سلسلہ ہے کہ رکنے کی بجائے ہر آنے والے دن کے ساتھ دراز سے دراز تر ہوتا چلا جا رہا ہے، ان طبقات کی جانب سے لگاتار پاکستان کے خلاف اس قدر زہریلا پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ الامان الحفیظ ۔

سنجیدہ حلقوں کے مطابق افغانستان پر قابض امریکی افواج نے پچھلے اٹھارہ سال میں افغان عوام اور اس کے سبھی اداروں کا جو حشر کیا ہے وہ افغان تاریخ کا ایسا باب ہے جس پر وہاں کے عوام و خواص میں شاید ہی کسی کو فخر کا احساس ہوتا ہو ۔ اس پر طرہ یہ کہ دہلی کی معاونت سے کابل انتظامیہ نے ماضی قریب میں افغانستان کی وہ حالت بنا دی کہ وہ ایک لحاظ سے عبرت کا نشاں بن کر رہ گیا ہے مگر بات یہیں تک محدود رہتی تو شاید پھر بھی غنیمت ہوتا مگر بھارتی خفیہ اداروں ’’را‘‘ اور ’’انڈین آئی بی‘‘ کی شازشوں اوراین ڈی ایس کی کار ستانیوں کے نتیجے میں یہ خطہ ارض ٹرمپ اور مودی کے گٹھ جوڑ کی جولان گاہ بن کر رہ گیا ہے ۔ گویا

مریضِ عشق پہ رحمت خدا کی

مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی

ماہرین کے مطابق برصغیر جنوبی ایشیا میں دنیا بھر کے مسلمانوں کا 33;46;51 فیصد آباد ہے اور یہ تعداد باقی تمام خطوں میں رہنے والے مسلمان بلحاظ خطہ سب سے زیادہ ہے ۔ تقریباً سبھی حلقے اس امر پر متفق ہیں کہ کرہ ارض کے اس حصے میں اسلام پھیلانے میں بزرگان دین اور صوفیا کرام کا حصہ سب سے زیادہ ہے نہ کہ مسلمان فاتحین اور بادشاہوں کا ۔ یوں یہ امر ہی اس حقیقت کا بین ثبوت ہے کہ پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں رہنے والی مسلم آبادی صوفیا کی تعلیمات سے بہت زیادہ متاثر ہے ۔ تاہم اس حوالے سے یہ امر غالباً زیادہ توجہ کا حامل ہے کہ اسلامی تعلیمات کسی بھی طور اس بات کی اجازت نہیں دیتیں کہ مذہب کو بنیاد بنا کر کسی بھی طبقے کے خلاف جبر و استبداد کا طرز عمل اختیار کیا جائے، لہٰذا ماضی میں اگر کسی بھی جانب سے اس قسم کی روش اپنائی بھی گئی ہے تو اسے کسی بھی طور قابل تقلید نہیں قرار دیا جا سکتا بلکہ ہر سطح پر اس کی حوصلہ شکنی وقت کی ضرورت ہے ۔ اس ضمن میں یہ بات خصوصی طور پر پیش نظر رہنی چاہیے کہ تمام علمی اور تحقیقی پلیٹ فارم پر شعوری کوشش کی جائے کہ سول سوساءٹی کے تمام حلقوں کی طرف سے قومی سطح پر ایسا بیانیہ تشکیل پا سکے جس کے نتیجے میں باہمی منافرت، فرقہ وارانہ اور گروہی تعصبات کی حوصلہ افزائی کی بجائے ان کا خاتمہ ممکن ہو ۔ اس حوالے سے ایسا ’’متبادل بیانیہ‘‘ تیار ہونا چاہیے جس کے ذریعے اس امر کو اس کی تمام تر جزئیات کے ساتھ واضح کیا جائے کہ اسلام میں تشدد، جبر اور انتہا پسندی کسی بھی لحاظ سے قطعاً نا قابل قبول ہیں اور کوئی بھی معاشرہ یا ریاست اس طرز عمل کے فروغ کی اجازت نہیں دے سکتی، کیونکہ یہ قومی ریاست کی تشکیل کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے ۔ ایسے میں خصوصی طور پر پاکستانی معاشرے کا فرض اولین ہے کہ وہ تمام تر کوششوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ’’متبادل بیانیے‘‘ کی تشکیل کو بنیادی ترجیحات میں شریک رکھے ۔ حالانکہ یہ امر کسی تعارف کا محتاج نہیں کہ پاکستان نے افغان عوام کی خاطر مدد اور ایثار کی جو تاریخ رقم کی وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں البتہ اسے اس خطے کی بد قسمتی سے ہی تعبیر کیا جا سکتا ہے کہ مملکت خداداد پاکستان کی تمام تر کوششوں کا ثمر اسے یہ دیا جا رہا ہے کہ دہلی کے ایما پر ایک جانب سی پیک کے خلاف سازشوں کا لامتناہی سلسلہ جاری ہے تو دوسری طرف بلوچستان، فاٹا اور کراچی سمیت پاکستان کے کئی علاقوں میں بھارتی دہشتگردی کا عفریت منہ کھولے کھڑا ہے اور وطن عزیز کی بابت ہر قسم کی کہانیاں اور افسانے تراشے جا رہے ہیں اور امریکی حماقتوں کو چھپانے کیلئے ’’ڈو مور‘‘ کا بے سروپا راگ بند ہونے کا نام نہیں لے رہا ۔ ایسے میں یہ موہوم امید ہی کی جا سکتی ہے کہ عالمی برادری کے ساتھ ساتھ دیگر تمام سٹیک ہولڈرز بھی اس ضمن میں اپنا مثبت کردار ادا کریں گے ۔