- الإعلانات -

حافظہ ، عالمہ انجینئر خاتون اسسٹنٹ کمشنر کا عظیم کارنامہ


بلوچستان دہشت گردوں اور سمگلروں کی جنت سمجھا جاتا ہے ۔ پاکستان کی مغربی سرحد افغانستان کے ساتھ بہت طویل ہے جو پہاڑی اور ریگستانی راستوں پر مشتمل ہے ۔ میں نے ذاتی طور پر اس سرحد کے ساتھ کافی سفر کیا ۔ آنے جانے والے راستوں کا معائنہ کیا ۔ لیکن آج میں ایک اصل واقعہ کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جس نے ساری بلوچستان حکومت اور خاص کر سیکیورٹی اداروں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ۔ چند سال پہلے میں اپنی کتاب’’ بلوچستان : عکس اور حقیقت ‘‘لکھنے کے لئے بلوچستان میں مقیم تھاتو انجینئرنگ یونیورسٹی خضدار کے وائس چانسلر برگیڈئیر محمد امین نے سالانہ ڈگریاں اور تقسیم انعامات کے موقع پر بطور خاص مہمان یونیورسٹی آنے کی دعوت دی ۔ انہی تقسیمِ انعامات کے دوران جب ایک الیکٹرانک انجینئرنگ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی طالبہ عائشہ زہری کو سٹیج پر بلایا گیاتو میری حیرانگی کی انتہا نہ رہی ۔ سٹیج سیکرٹری نے ان کا یوں تعارف کرایا حافظہ ، عالمہ، انجینئر عائشہ زہری کو اول پوزیشن حاصل کرنے پر گولڈ میڈل دیا جاتا ہے ۔ حیرانگی کی بات یہ تھی کہ تعلق جنگجوقبیلہ سے ہے، رہنے والی بھی زہری گاؤں (ضلع خضدار)کی ہے، انجینئرنگ کی تعلیم میں اول پوزیشن پھر ساتھ حافظہ اور عالمہ بھی ہونا یقینا حیرانگی کی بات تھی ۔ آخر میں پوری یونیورسٹی میں مجموعی طور پر ہر لحاظ سے اول پوزیشن حاصل کرنے پر گولڈ میڈل کا حقدار عائشہ زہری کو ٹھہرایا گیا ۔ تقریب کے اختتام پر عائشہ زہری سے میں نے چند ایک سوال پوچھے تو انہوں نے بتایا کہ قرآن پاک حفظ تو میں نے بہت چھوٹی عمر میں کر لیا تھا ۔ پھربا ضابطہ طور پر دینی تعلیم کےلئے ایک مشہور و معروف رجسٹرڈ مدرسے میں داخلہ لے کر عالمہ ، فاضلہ کا کورس کر کے سند حاصل کی ۔ عالمہ کے امتحانات میں بھی مجموعی طور پر میں نے پہلی پوزیشن حاصل کی ۔ دنیاوی تعلیم میں بھی آٹھویں کلاس سے لے کر انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کرنے تک ہر امتحان میں اول پوزیشن حاصل کی ۔ ا س دوران مجھے کئی غیر ملکی(امریکہ ، کینیڈا، سنگاپور، آسٹریلیا اور فرانس) میں اعلیٰ تعلیم کےلئے سکالرشپ کی آفر بھی ہوئی ۔ لیکن میں نے تمام تعلیم اپنے آبائی علاقے خضدار سے ہی حاصل کی ۔ اس کے بعد بھی میں نے بلوچستان میں خدمات سرانجام دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ یونیورسٹی کی ملاقات کے بعد راقم کا عائشہ زہری سے رابطہ نہ رہا ۔ اس سے اگلے سال پھر تقسیمِ انعامات کے موقع پر وائس چانسلر بر گیڈئیر محمد امین صاحب نے دوبارہ مجھے دعوت دی تو میں اسلا م آباد سے صرف اس تقریب میں شرکت کے لئے دوبارہ خضدار پہنچا ۔ اس سال بھی انجینئرنگ میں ڈبل گولڈ میڈل حاصل کرنے والی ایک طالبہ ہی تھی ۔ اور اس کا تعلق میرے آبائی شہر چکوال سے تھا ۔ میں نے وائس چانسلر صاحب سے عائشہ زہری کا پوچھا کہ وہ کیا کر رہی ہے تو انہوں نے بتایا کہ وہ کوءٹہ واپڈا میں ’’ایس ڈی او ‘‘ہے ۔ دوسرے سال اول پوزیشن حاصل کرنے والی طالبہ شازین بھی اب کوءٹہ واپڈا میں ’’ایس ڈی او‘‘ ہے ۔ چند دن پہلے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی کہ ایک خاتون اسسٹنٹ کمشنر نے دالبندین ’’بلوچستان‘‘ میں ایک چھاپہ کے دوران کروڑوں روپے کی منشیات قبضے میں لے لی ہے ۔ لیکن وہ ا سمگلنگ کا سامان پولیس ا سٹیشن میں پہنچنے سے پہلے ڈپٹی کمشنر دالبندین کا تھانے میں فون آ گیا کہ یہ منشیات آپ نے وصول نہیں کرنی ۔ عائشہ زہری نے وہ سامان ایک جگہ جمع کر کے ویڈیو بنائی ۔ وہ سٹاف بھی ساتھ دکھایا جو رات کو اس مقابلے میں عائشہ زہری کے ساتھ تھا ۔ میں نے ویڈیو میں عائشہ کو پہچان لیا لیکن میری معلومات کے مطابق وہ واپڈا میں ’’ایس ڈی او ‘‘تھی ۔ میں نے فوری طور پر دالبندین پریس کے دوستوں سے رابطہ کر کے عائشہ زہری اسسٹنٹ کمشنر ، ڈپٹی کمشنر فاتح اور سٹاف کے ایک بندے کے فون نمبر حاصل کئے ۔ عائشہ نے بتایا کہ میں نے 2016ء میں واپڈا جوائن کیا تھا لیکن پھر 2017ء میں پی سی ایس کا امتحان نمایاں طور پر بلکہ ڈویژن بھر میں تیسری پوزیشن حاصل کر کے سول سروس میں آگئی ۔ پہلی پوسٹنگ اسسٹنٹ کمشنر ریونییوکے طور پر خضدار میں ہوئی اور ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی قلات ڈویژن میں رہیں ۔ نومبر 2019ء میں مجھے بطور اسسٹنٹ کمشنر دالبندین تعینات کیا گیا ۔ یہاں دن رات محنت کر رہی تھی ۔ رات تین تین بجے تک میں شاہراہ کے علاوہ تحریک، کٹھن اور پہاڑی راستوں میں جا کر خود مجرموں کا پیچھا کرتی رہی ۔ اس بات کی تصدیق ان کے ساتھ مقابلے میں حصہ لینے والے ایک ماتحت پولیس افسر نے بھی کی ۔ اس نے نام نہ ظاہر کرنے پر بتایا کہ یہ کروڑوں کی منشیات پکڑنے سے پہلے ایک رات عائشہ نے ہمارے ساتھ ایک گاڑی کا پیچھا کیا تو وہ انتہائی ماہر ڈرائیور اور پیشہ ور اسمگلر بھاگ کھڑا ہوا ۔ میڈم نے اس کا پیچھا جاری رکھا ۔ آخر ایک جگہ اس کی گاڑی پھنس گئی تو سٹاف سے پہلے عائشہ زہری نے اپنی چلتی گاڑی سے چھلانگ لگا کر اس مجرم کو گردن سے جا پکڑا اور اس کے منہ پر زور دار تھپڑ رسید کر کے گرفتار کرا دیا ۔ وہ تھپڑ اتنے زوردار تھے کہ اس منشیات اسمگلر نے ایک خاتون اسسٹنٹ کمشنر کے صرف دو تھپڑ کھانے کے ساتھ ہی اپنی شلوار گیلی کر دی ۔ دوسرے دن جب یہ کروڑوں کی اسمگلنگ ہم نے پکڑی عائشہ زہری کوایک خاص مخبر نے خبر دی کہ آج بہت بڑی تعداد میں فلاں علاقے سے افغانستان کی طرف سے منشیات رات گیارہ بجے دالبندین پہنچ رہی ہے ۔ عائشہ زہری نے رات دس بجے دالبندین سے دور خطرناک پہاڑی راستوں میں جا کر پناہ لے لی ۔ لیکن تھوڑی دیر کے بعد بارش شروع ہو گئی وہ اسمگلر 11بجے کے بجائے 3بجے اس مقام پر پہنچے تو سب سے پہلے عائشہ خود بندوق لے کر اپنے سٹاف کے آگے آگے اس طرف چل پڑی ۔ دوسری طرف سے بھاری گولہ باری شروع ہوگئی ۔ بہادر خاتون قافلے کی قیادت کرتے ہوئے آگے بڑھتی ہی گئی ۔ تھوڑی دیر کے بعد دوسری طرف سے فائرنگ بند ہو گئی تو عائشہ کی اپنے جوانوں کو زور دار آواز آئی کہ میں سب سے آگے ہوں ۔ پہلی گولی مجھے ہی لگے گی ۔ آپ ڈریں اور گھبرائیں نہیں ، پھرتی سے آگے بڑھیں ۔ جب ہم موقع پر پہنچے تو دیکھا کہ اسمگلر سامان چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں ۔ رات کی تاریکی اورسخت ترین سردی میں سب سے قابلِ غور اور قابلِ فکر بات یہ تھی کہ اس میں دھماکہ خیز مواد ، بارود اورمہلک ہتھیار بھی شامل ہو سکتے ہیں ۔ اس کے باوجود اس دلیر اور نڈر اسٹنٹ کمشنر نے پاس کھڑے ہو کر ساری منشیات گاڑیوں میں لوڈ کرائیں ۔ جب ہم واپس تھانہ پہنچے تو پولیس نے وہ سامان یہ کہہ کر وصول کرنے سے انکار کر دیا کہ ہ میں ڈپٹی کمشنر نے فون کیا ہے کہ منشیات والا سامان نہ وصول کرنا ہے اور نہ کسی پر ایف آئی آر درج کرنی ہے ۔ اس وقت ہم سب کو بہت افسوس ہونے کے ساتھ غصہ بھی آیا ۔ جہاں ایسے ڈپٹی کمشنر ہونگے وہاں سے اسمگلنگ اور جرائم کیسے ختم ہونگے ۔ عائشہ زہری کی آنکھوں میں غصے سے آنسو آگئے کہ میں نے ساری رات منفی ٹمپریچر کی سردی میں جان ہتھیلی پر رکھ کر اسمگلروں کے آمنے سامنے ہو کر گولیوں کی ترتڑاہٹ اور گونج میں کامیاب کاروائی کی ہے ۔ ہ میں شاباش دینے کی بجائے ہماری اس طرح حوصلہ شکنی کی جارہی ہے ۔ راقم نے یہ کالم لکھنے سے پہلے تین دن مسلسل سارا سار ادن ڈپٹی کمشنر دالبندین کا موَقف جاننے کی کوشش کی ۔ لیکن موصوف نے یا تو فون بالکل ہی بند رکھا یا پھر اٹینڈ نہ کیا ۔ بلوچستان حکومت کو چاہیئے کہ وہ عائشہ زہری کی حوصلہ افزائی ضرور کریں اگر حکومت نہیں بھی کرتی تو سوشل تنظی میں اور اینٹی نارکوٹکس فورس کی طرف سے خصوصی انعامات کے طور پر ایک دلیر ، بہادر، جنگجو ، حافظہ ، عالمہ، اسسٹنٹ کمشنر عائشہ زہری کی حوصلہ افزائی ضرور ہونی چاہیئے ۔ ڈپٹی کمشنر دالبندین کی طرف سے ایک خاص انتقامی کارروائی یہ بھی کی گئی کہ مقدمہ درج کرنے کےلئے تمام پولیس افسروں کو منع کر دیا گیا کہ کو ئی بھی اس مقدمے کا مدعی نہ بنے ۔ آخر کار عائشہ زہری کو خود ہی مدعی بننا پڑا ۔ اس میں خطرے کی بات یہ ہے کہ اگر عائشہ کا تبادلہ پاکستان کے کسی بھی علاقے میں ہو جاتا ہے تو اس کو ہر تاریخ پر اکیلے دالبندین پیشی پر حاضر ہونا ہوگا جس کی اطلاع متعلقہ اسمگلرز کو بھی ہوگی ۔ وہ کسی بھی تاریخ پیشی پر اسسٹنٹ کمشنر عائشہ زہری پر قاتلانہ حملہ کر سکتے ہیں ۔ اس کا کوئی متبادل حل ہونا چاہیئے تھا ۔ بہر حال اس کیس کی مکمل انکوائری کروائی جائے کہ ڈپٹی کمشنر صاحب کو ان اسمگلر کے ساتھ کیا ہمدردی اور مقدمہ نہ درج کروانے کی کیا مجبوری تھی;238;