- الإعلانات -

آسمان تیری لحد پر شبنم فشانی کرے

بنگلہ دیش کی سرزمین مجیب الرحمن کی بیٹی وزیراعظم حسینہ واجدنے پاکستان سے محبت کرنے والوں کیلئے جہنم بنا دی ۔ خاص طور پر جماعت اسلامی کے ان رہنماؤں کو موت جیسی سخت سزائیں سنائی جا رہی ہیں جنہوں نے 1971ء میں پاکستان کا تحفظ کرنے کی کوشش کی ۔ پاکستان میں رہتے ہوئے اسکی حفاظت ہر پاکستانی کی ذمہ داری تھی ۔ بے وفائی تو ان لوگوں نے کی جو اس کو توڑنے میں حصہ دار بنے ۔ ان لوگوں کی چونکہ بغاوت کامیاب ہو گئی اس لئے وہ ہیرو ٹھہرے اور محب وطن افراد پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ۔ انہی محب الوطن لوگوں میں جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رہنماعبدالکلام یوسف بھی تھے جو 9 فروری 2014کی صبح بنگلہ بندھو شیخ مجیب میڈیکل یو نیورسٹی ہسپتا ل میں انتقال کرگئے ۔ وہ جنگی جرائم کے حوالے سے تیر ہ مقدموں کا سامنا کر رہے تھے اور کشمیر جیل میں قید تھے ۔ طبیعت زیادہ خراب ہونے پر انہیں ہسپتال لیجایا گیا جہاں وہ جانبر نہ ہوسکے ۔ ایک تو جیل حکام نے انہیں بہت دیر بعد ہسپتال پہنچا یا پھر انہیں ہسپتال میں بی بروقت مناسب طبی امداد نہیں دی گئی ۔ انہیں 12 مئی2013 کو علالت کے باوجود گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا گیا تھا ۔ مولانا جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سینئر نائب امیر اور ممتاز عالم دین تھے ۔ بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے کئی مرکزی رہنماؤں کو نام نہاد جنگی جرائم کے الزام میں عدالت کے ذریعے عمر قید اور موت کی سزائیں سنائی جاچکی ہیں ۔ مولانا اے کے ایم یوسف کو بھی بے بنیاد جنگی جرائم کے الزام میں 12 مئی 2013 ء کو گرفتار کیا گیا تھا ان کی بیماری اور ضعیف العمری کے باوجو د انہیں قید رکھا گیا اور اسیری میں ہی وہ 87 سال کی عمر میں اللہ سے جا ملے ۔ مولانا محمد یوسف ایک جید عالم دین اور محدث تھے ۔ دینی و تدریسی اور معاشرے میں انصاف کے لیے کی گئی اپنی کوششوں کی وجہ سے اندرون و بیرون ملک ممتاز مقام رکھتے تھے ۔ انہوں نے جنوبی ایشیا، جنوب مشرقی ایشیا، مشرق وسطیٰ سمیت امریکا اور یورپ کی بنگلہ دیشی کمیونٹیز کی کئی تعلیمی کانفرنسوں میں بنگلہ دیش کی نمائندگی کی ۔ وہ تیس سال سے زائد بنگلہ دیش کسان پارٹی کے چیئرمین اور ساٹھ سال سے زائد عرصہ بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما رہے ۔ مولانا یوسف کی سیاسی و سماجی خدمات کی تاریخ ساٹھ برس پر محیط ہے ۔ اس عرصہ میں انہوں نے اپنے آپ کو خدمت کے جذبے سے سرشار اور دیانتدار سیاستدان ثابت کیا ہے ۔ 1962 کے انتخابات میں کہ جب حکومت پاکستان نے ’’بنیادی جمہوریت‘‘ کا پروگرام متعارف کرایا، جس کے مطابق یونین کونسل کی سطح پر ووٹنگ ہونا تھی، جماعت نے مولانا یوسف کو قومی اسمبلی کے انتخابات کے لیے کْھلنا اور باریسال ضلع سے اپنا امیدوار نامزد کیا ۔ انہوں نے عالیہ مدرسہ سے رخصت لی اور قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوگئے جہاں وہ کْھلنا اور باریسال ضلع کی نمائندگی کرتے رہے ۔ بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کی حکومت نے 1971ء میں پاکستان بچانے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف قتل، اقدام قتل، بلوہ، عورتوں کی آبروریزی سمیت سنگین جرائم عائد کیے ہیں ۔ ایک ٹربیونل میں جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے دس راہنماؤں کے خلاف یہ مقدمات چلائے جارہے ہیں ۔ ان مظاہروں کا اہتمام حکمران جماعت نے اس ٹربیونل کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے جواب میں کیا تھا ۔ مقصد یہ تھا کہ اس ٹربیونل سے سزا یافتگان کی عوامی حمایت کو سیاسی طور پر بے اثر کیا جائے ۔ ان مظاہروں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ ڈھاکہ کا التحریر اسکوائر ہے ۔ جماعت اسلامی کے کارکن اور حامی ان سزاؤں کو انصاف اور قانون کا قتل قرار دے رہے ہیں ۔ ملک بھر میں ان کے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں ۔ ان مظاہروں کو روکنے کے لیے پولیس طاقت کا اندھا دھند استعمال کررہی ہے ۔ حسینہ واجد کی پارٹی کے گروہ ان مظاہروں پر حملے بھی کر رہے ہیں ۔ بنگلہ دیش میں نظریہ پاکستان ایک بار پھر بیدار ہو رہا ہے اور مضبوط تحریک کھڑی ہو رہی ہے ۔ اسی سے خوفزدہ ہو کر بھارتی اشاروں پرپھانسیوں کی سزائیں سنا ئی جارہی ہیں ۔ بنگلہ دیش میں جن قائدین کو پھانسیوں کی سزائیں سنائی جارہی ہیں ان کا جرم صرف یہ تھا کہ جب بھارت نے اگر تلہ سازش کے تحت مجیب الرحمن جیسے غداروں کو کھڑ اکیا اور مشرقی پاکستان پر باقاعدہ فوج کشی کی تو ان بزرگوں نے دفاع پاکستان کیلئے پاک فوج کے ساتھ مل کر بھارتی فوج کا مقابلہ کیاتھا ۔ آج بنگلہ دیش پر اسی مجیب الرحمن کی بیٹی کی حکومت ہے جو اپنے باپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پاکستان کا نام لینے والوں کو جیلوں میں ڈال رہی ہے اوربھارت کی ہمنوا بن کر انہیں پھانسیاں دی جارہی ہیں ۔ بنگلہ دیش میں فی الواقع جماعت اسلامی ہی وہ منظم قوت ہے، جو بھارت کی بڑھتی ہوئی دھونس اور مداخلت کو روکنے میں اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔