- الإعلانات -

یہ لبرل ۔۔۔!!

گل بخاری، حسین حقانی اورطارق فتح جیسے کچھ عناصر وطن عزیز کو مطعون کرنے کی جانب راغب نظر آتے ہیں ، خصوصاً پاک فوج تو ازل سے ہی پاک وطن کے مخالفین کے دل میں کانٹے کی طرح کھٹکتی ہے ، مگر یہ امر بھی طے ہے کہ وطن عزیز خدائے بزرگ و برتر کی خاص عنایت سے ہی وجود میں آیا تھا اور اپنی تمام تر کمزوریوں کے باوجود پاک قوم اور قومی سلامتی کے ادارے تا ابد سلامت رہیں گے ۔

کسے معلوم نہیں کہ پاکستانی عوام، حکومت اور قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف بے بنیاد الزام تراشیوں کی روش اگرچہ مغربی اور بھارتی میڈیا کا دیرینہ مشغلہ رہا ہے مگر وطن عزیز کے کچھ حلقے بھی دانستہ یا غیر دانستہ طور پر اس میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں جیسا کہ حالیہ دنوں میں ایک مذہبی سیاسی رہنما اور بیرون ملک مقیم خاتون صحافی گل بخاری جانے کس ایجنڈے کے تحت ایک مخصوص راگ الاپنے میں مصروف ہیں ۔ اس سلسلے میں کچھ زیادہ ہی شدت آ گئی ہے اور افواج پاکستان و آئی ایس آئی کے خلاف ایسے ایسے افسانے تراشے جا رہے ہیں جن کا نہ کوئی سر ہے نہ ہی پیر ۔ درحقیقت پاکستان کے ازلی مخالفین گذشتہ 72 سالوں سے وطن عزیز کے خلاف منظم مہم چھیڑے ہوئے ہیں اور اس کے پس پردہ نہ صرف بھارت اور اسرائیل کے حکومتی طبقات ہے بلکہ امریکہ اور یورپ کے کچھ حلقے بھی اس مکروہ مہم میں حصہ بقدر جثہ ڈال رہے ہیں ۔

خاص طور پر نائن الیون کے سانحے کے بعد تو گویا ان حلقوں کی بن آئی تھی، جب عالمی سطح پر پاکستان پر کافی دباءو بڑھ گیا تھا مگر زمینی حقیقت ازل سے یہی چلی آ رہی ہے کہ جھوٹ کے پاءوں نہیں ہوتے، سچ کو بہرحال سامنے آنا ہی ہوتا ہے، محض پراپیگنڈے کے زور پر کوئی فرد یا گروہ ساری دنیا کو ہمیشہ کے لئے گمراہ نہیں کر سکتا ۔ لہذا اسی آفاقی اصول کے تحت عالمی برادری پر بھی گذشتہ کچھ عرصہ سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ پاکستانی ادارے دہشتگردی کی سرپرستی نہیں کر رہے بلکہ اس برائی کے خلاف ہراول دستے کا کردار ادا کر رہے ہیں ۔ عالمی برادری کے ایک حلقے میں بھی اس حقیقت کا ادراک بتدریج سامنے آ رہا ہے کہ پاک فوج، عوام اور آئی ایس آئی دہشتگردی کے خاتمے کے لئے لازوال قربانیاں دے رہے ہیں ۔ اسی عالمی اعتراف کا نتیجہ ہے کہ کئی انسان دوست حلقوں کی جانب سے گاہے بگاہے پاک فوج اور آئی ایس آئی کی بھرپور تعریف بھی کی جاتی ہے ۔ ظاہر ہے یہ بات پاکستان کے مخالفین کو کسی طور ہضم نہیں ہو سکتی، اس لئے انھوں نے پلٹ کر وار کرنے کی کوشش کی ہے اور اپنی سفارتی پسپائی کو فتح میں تبدیل کرنے کی ناکام سعی کی جا رہی ہے ۔ اسی تناظر میں کبھی پاک مخالف شخصیتوں کو مہرہ بنا کر ہرزہ سرائی کرائی جاتی ہے اور کبھی کچھ نام نہاد ’تجزیہ نگاروں ‘ کے ذریعے ایسی نکتہ آفرینیاں کرائی جاتی ہیں کہ الامان الحفیظ ۔

حالانکہ اس بات سے سبھی بخوبی آگاہ ہیں کہ دہشتگردی کے ہاتھوں سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہوا ہے ، یہ بھی کوئی راز کی بات نہیں کہ پاکستان میں افسروں اور جوانوں کی شہادت کا تناسب دنیا میں سب سے زیادہ ہے ۔ افواج پاکستان کے سینئر افسران سمیت 7 ہزار سے زائد آرمی اہلکار اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کر چکے ہیں ۔ کیا امریکہ، بھارت، اسرائیل یا کوئی بھی دوسری ریاست اس طرح کی کوئی قربانیاں رقم کر سکی ہے;238; ۔ ان تمام قربانیوں کے باوجود اگر کوئی بیرونی طاقتوں کے ایما پر افواج پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں کو ہدف تنقید بنائے تو عالمی برادری خصوصاً امریکہ، برطانیہ اور دیگر حکومتوں کا فریضہ ہے کہ وہ آگے بڑھ کر ایسے شرپسند عناصر کی لغویات کی فوری طور پر تردید کریں اور عالمی ذراءع ابلاغ ایسے الزامات کو سنجیدگی سے لینے کی بجائے اس طرح کے طبقات کی ذہنی حالت کا محاسبہ کریں اور یہ بھی پتہ لگائیں کہ اس کے محرکات کیا ہیں ;238; اس طرح کے عمل سے دہشتگرد اور منفی عناصر کو تقویت ملتی ہے ۔ وطن عزیز کے سبھی حلقوں اور سول سوساءٹی کی بھی ذمہ داری ہے کہ ملکی اور غیر ملکی میڈیا و تحقیقی اداروں کے ذریعے ایسی بے بنیاد الزام تراشیوں کا خاطر خواہ ڈھنگ سے جواب دیں اور بڑے ناموں سے مرعوب ہونے کے بجائے دلیل اور ’’لوجک‘‘ کو اہمیت دیں ۔ کچھ بڑے نام غالباً اپنے طرز عمل کی وجہ سے ’’نام بڑا اور درشن چھوٹے‘‘ کے زمرے میں آتے ہیں ۔