- الإعلانات -

پاکستان مخالف بیانئیے کے پس پشت عناصر بے نقاب

’’سری واستو گروپ آف کمپنیز‘‘کا ہیڈکوارٹرنئی دہلی صفدر جنگ انکلیو پرواقع ہے، سری واستو گروپ آف کمپنیزانڈیا کا ایک بدنام زمانہ ’مشکوک‘ کاروباری ادارہ ‘جو دیش کے مواصلاتی سسٹم سے وابستہ‘دیش کے قدرتی وسائل کے شعبہ میں ‘فضائی حدود سے متعلق اسپیس کے امور کی تجارتی سرگومیوں پر حاوی ہونے کے علاوہ صحت سے متعلق شعبہ ہائے جات میں سرکاری ٹھیکیداری نظام پر اپنی بہت مضبوط مفاداتی گرفت قائم کیئے ہوئے ہے،وزیراعظم مودی کا اس خاندانی کاروباری ادارہ کے ساتھ براہ راست تعلق ہونے کی یہی وجوہ ہے کہ ’’سری واستو گروپ‘‘نے دیش میں بلکہ غیر ممالک میں بھارتی مفادات کے حصول کویقینی بنانے کے لئے سفارتی پیمانہ پر پرنٹ میڈیا‘الیکٹرونک میڈیا کے علاوہ انٹرنیٹ کی دنیا کے ہر’’ٹولز‘‘ کے میدان میں اپنے ’’پَر‘‘پھیلائے ہوئے ہیں ’’سری واستو گروپ آف کمپنیز‘‘ کے ہر کاروباری اشتہار کی شہ سرخیوں میں صاف دیکھا جاسکتا ہے ویسے دکھنے میں یہ ایک کاروباری ادارہ ضرور ہے لیکن سری واستو گروپ آف کمپنیز کے کاروباری تعارف کے پس پشت کچھ اور خفیہ عناصر کارفرما ہیں ،چند ماہ پہلے اور حالیہ دنوں میں چھپے ہوئے اس گروپ کے مذموم مقاصد بے نقاب ہوئے تو بھارتی خفیہ ایجنسیاں بھی بہت بْری طرح سے بے نقاب ہوئیں ،جنہوں نے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے اس بھارتی کاروباری ادارے کی ’’کاروباری ساکھ‘‘کی مٹی پلید کرکے رکھ دی،کاروبار میں ایمانداری کے نام پر بے ایمانی کے مقصد کو دیش بھر میں پھیلانے اوردیش کے عوام کے ٹیکسوں کے خزانے کو بیرون دیش ممالک میں جمع کرنے جیسے عزائم رکھنے والے ادارے سری واستو گروپ آف کمپنیزکے مالکان کی تما تر تو وجوہات ’’را‘‘ کی بنائی ہوئی اْن سازشوں پر مرکوز رہتی ہیں جو نئی دہلی کی اسٹبلیشمنٹ نے قیام پاکستان سے تاحال پڑوسی ایٹمی ملک پاکستان کے خلاف اپنائی جوستراکہتر برس گزرنے کے باوجود اب بھی ویسے ہی جاری وساری ہیں جن کا اہم نکتہ پاکستان کےخلاف سازشی مفروضے گھڑنا،سازشی نظرئیے اور سازشی کہانیاں بنانا اور دنیا کے اہم ترقی یافتہ ممالک کے شعبوں میں پاکستان کو مسلسل اور متواتر شکوک شبہیات کی پرتوں سے پرکھنے کی مذموم اور متعصب پالیسیاں اجاگر کیئے رکھنے جیسے اقدامات ہیں ، جو بھارتی پالیسی سازوں نے شروع دن سے اختیار کی ہوئی ہیں چونکہ ’’را‘‘ کے قیام کا اصل مقصد خطہ میں بھارتی بالادستی کے راہیں ہموار کرنا ہے ’’را‘‘ کے خود غرضانہ مقصد کی تکمیل کے لئے ایک بڑے کاروباری ادارے کی ضرورت سامنے آئی تاکہ’را‘پس پشت رہے ’’را‘‘کے اشارے پر یہ’’مشکوک‘‘کاروباری ادارہ متحرک رہے جس کے تحت کئی میڈیا گروپ کے شعبے بنائے گئے اپنے طور پر بھارت کے لئے آسانی پیدا ہوئی وہ یہی کہ پاکستان مخالفت کے’’مائنڈ سیٹ‘‘ کو بطور ’’ذراءع ابلاغ‘‘ کی آزادی کی آڑ میں نجانے کب سے پاکستان کے خلاف عالمی لابیاں متحرک تھیں شائد یہ سلسلہ اب بھی قائم ہو ;238; ’’سری واستو گروپ آف کمپنیز ‘‘کے بینر تلے’’ای پی ٹوڈے ڈاٹ کام‘‘نامی ویب ساءٹ برسلز میں یورپی پارلیمنٹ کا میگزین ہونے کا دعویٰ کرتی ہے;238;ای ٹوڈے کا زیادہ ترتشہیری مواد امریکی فنڈنگ سے چلنے والی ویب ساءٹ وائس آف امریکا سے لیا گیا، جو بھارتی مفاد میں اور پاکستان کو بدنام کرنے کےلئے ہمہ وقت تنقیدی کام کرتی ہے’’ڈی انفو لیب‘‘ کی تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ خود کو یورپی پارلیمنٹ کا نمائندہ میگزین کہنے والی جعلی ویب ساءٹ ای پی ٹوڈے ڈاٹ کام نے پاکستان میں اقلیتوں کے متعلق بے شمار من گھڑت خبریں شاءع کیں جن میں ’’خود تصوراتی اقلیتوں پرمظالم‘‘ دکھائے گئے، یہ ویب ساءٹ بھارتی سٹیک ہولڈرز کے زیر انتظام ہے ای یو ڈس انفو لیب کے ایگزیکیٹو الیگزنڈر الافیلیپ نے کہا ہے کہ’ بھارتی مفادات کے لئے سرگرم اس پورے نیٹ ورک کی سب سے زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ’’جعلی این جی اوز‘‘ اور‘‘جعلی ویب ساءٹس‘‘ کی مدد سے یہ سبھی ایک ایسا جھوٹا بیانیہ پیش کرنے میں کامیاب رہے جس سے محسوس ہوتا ہے کہ اْن کے اس جعلی موقف کو بڑے پیمانے پر دنیا میں بڑی حمایت حاصل ہے ا ور یہی وہ نکتہ ہے، جس سے ’ڈس انفارمیشن‘ ثابت ہوتی ہے جیسا ہم نے بین السطور بتایا ہے کہ’’سری واستو‘‘نامی کاروباری گروپ سے منسلک یہ تھنک ٹینکس،این جی اوزاور کمپنیوں کے رابطے ایک ہی نیٹ ورک کا حصہ ہیں ،جس میں معروف ناموں والی ویب ساءٹس جیسا کہ’’نئی دہلی ٹائمز‘‘ اور تھنک ٹینکس جیسا کہ’’انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار نان الائنڈ سٹڈیز‘‘ (آئی آئی این ایس) شامل ہیں ،یہ نیٹ ورک مختلف این جی اوز مثلاً ’’یورپین آرگنائزیشن فار پاکستانی منارٹیز اور پاکستانی ویمن ہیومن راءٹس آرگنائزیشنز ‘‘ کیساتھ تعلقات رکھنے کے مقاصد واضح کرتی ہیں رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی’’ڈس انفارمیشن ٹاسک فورس‘‘ نے گزشتہ برس اکتوبر میں ’’ای پی ٹو ڈے ڈاٹ کام‘‘ کی جعلی خبریں پھیلانے جیسے مکروہ اور گھناونے کاروبار سے پردہ اٹھایا تھا، جس نے’’رشیا ٹوڈے‘‘اور’’وائس آف امریکا‘‘ کے ایسے پرانے مضامین اور پرانے اداریے دوبارہ شاءع کئے،جو پاکستان میں اقلیتوں سے متعلق اور پاک بھارت معاملات کی تلخیوں پر کبھی ماضی میں شاءع ہوئے تھے مثال کے طور پرایک آن لائن نیوز پیپر’’ٹائمز آف جنیوا‘‘بھی پاکستان مخالف خبریں پھیلانے کے ایک بوگس ذریعہ کے طور پربنایا گیا اس آن لائن اخبار میں بھی’’ای پی ٹوڈی‘‘ طرز پر پاکستان مخالف مواد چھاپے گئے اور ویڈیوز لگائی گئیں ، جس میں کشمیر تنازع پر پاکستان کے کردار پر شدید تنقید شامل کی گئی الغرض نئی دہلی اسٹبلیشمنٹ نے دلیل،دلائل، حقائق اور منطقی مخالفت سے فرار حاصل کرنے کی غرض سے جعلی اور جھوٹی نیوز ساءٹس بناکر کئی برسوں سے’’پاکستان مخالف مواد‘‘کو دنیا بھر میں پھیلانے کا یہ مذموم کاروبار شروع کررکھا تھا اور بڑی مکارانہ مہارت کیساتھ پاکستان کیخلاف عالمی اداروں ، منتخب عالمی نمائندوں ، مغربی حکومتی عہدیداروں اور عوام میں پاکستانی ریاست مخالف رائے عامہ ہموار کرتی رہی ہیں دنیا بھولنے کی عادی ہے یا جان بوجھ کر انجان بنتی ہے پاکستانی حکومتی ذمہ داروں اور ملکی سلامتی کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر نے ملکی وغیر ملکی پریس نمائندوں کے روبرو کئی بار اپنے اصولی موقف کو دہرایا اور بتایا ہے کہ پاکستان مخالف بیانئیے کے پس پشت سوائے بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘کے کوئی اور عنصر کارفرما نہیں ہے بھارت کے سفارتی مفادات کیلئے لابنگ کرنے والے تھینک ٹینکس‘این جی اوز اورجعلی میڈیا گروپوں کا گٹھ جوڑ بے نقاب ہونے باوجود تادم تحریرمقبوضہ کشمیر میں معمولات زندگی مسلسل 192ویں روز بھی مفلوج ہیں ، دنیا مگر ٹس سے مس ہونے پر نہیں آرہی جبکہ آج کئی ہفتے گزرچکے ہیں یورپ میں قائم ایک معتبر’’ ڈس انفارمیشن واچ ڈاگ‘‘ نے بھارت کے سفارتی مفادات کے لئے لابنگ کرنے والے تھینک ٹینکس، این جی اوز اور جعلی میڈیا گروپوں سمیت ’’را‘‘کے قائم کیئے نام نہاد کاروباری گروپوں کے جعلی نیٹ ورکس کے گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرکے اپنا فرض ادا کردیا ہے ۔