- الإعلانات -

بچو! ہم تو سمجھے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم

اُستاد کبھی اُستاد یا معلم نہیں بن سکتا ، جب تک اُس کی کلاس روم میں بچے نہ ہوں ۔ یہ بچے ہی ہیں جن کی موجودگی اُستاد کو یہ احساس دلاتی ہے کہ ہ میں پڑھاوَ بھی اور خود بھی پڑھیں ۔ تا کہ ہم مستقبل کی راہ لیں ! معاشرے کے اُتار چڑھاوَ سے آگاہ ہوں ، آ پ کی علمیت میں بھی اضافہ ہوگا ۔ کیونکہ علم دینے والا نبیﷺ کا اصل وارث ہے ۔ کائنات کی اس عظیم ہستی نے معلم اول کی حیثیت سے دنیائے عرب تو کیا، جہانوں کے سر بستہ راز وا کرد یئے ۔ قرآن وہ درسی کتاب ہے جس میں کیا معیشت کیا سیاست، اور کیا نجی معاملات کا شعور اور معیار مثال دے کر جہالت کے اندھیروں کو ختم کیا ۔ مغربی مفکر برفانے اپنی کتاب ’’انسانیت ساز‘‘ میں نبی پاکﷺ کو وہ معلم قرار دیا کہ آج بھی دنیا میں جہاں ’’امن و سکون‘‘ کی سانسیں لی جارہی ہیں ، وہ اس ذات اقدس کی بدولت ہے ۔ عرب کیا قرآن کے محقیقن اور عالموں نے یورپ کو سائنس کے رجحانات کے درس دیتے ہیں ۔ آج یورپ کی ترقی ۔ عرب عالموں اور سائنسدانوں کے سبب ہے ۔ یہ کسی عیسائی محقق کا بہت بڑا اعتراف ہے ۔ اس کتاب نے یورپ کے معلمین اور دانشوروں کی آنکھیں کھولیں ۔ دوسرے ایک سائنسدان موریس بو کائے ہیں ۔ جنہوں نے قرآن کو معجزہ قرار دیا ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جو حامل قرآن ہونے کا دعوی کرتے ہیں ۔ وہ سات سو سال سے ایک بھی عالمی معیار کا سائنسدان پیدا نہ کرسکے;238;اس لیے کہ اساتذہ نے نبی پاکﷺ کے اصول تعلیم کو یکسر فراموش کردیا ہے ۔ کوئی بھی قوم اس وقت تک تعلیم یافتہ نہیں بن سکتی ۔ جب تک اس کے پاس یہ دو بنیادی اصول نہ ہوں ۔

نمبر 1: نصب العین یا مقصد تعلیم

نمبر2: باعمل اور با کردار اساتذہ

آج افسوس ہے ، صدا افسوس ہے ۔ اساتذہ نے بے حسی اور غیر ذمہ داری سے تعلیم کے ان اصولوں کو دل و دماغ سے نکال دیا ہے ۔ وہ بچوں کو جو تعلیم دے رہے ہیں ۔ وہ نہ تو ہماری اقدار سے نسبت رکھتی ہیں اور نہ ہی تخلیقیت کی ترغیب رکھتی ہے ۔ آج کل اساتذہ ایم فل، اور پی ایچ ڈی کی فکر میں غلطاں و پیچاں ہیں ۔ اپنی تنخواہ اور سہولیات بڑھانے کے چکر میں ہیں ۔ یعنی مفاد عاجلہ کا شکار ہیں ۔ مسائل زمانہ کے ہاتھوں گُھٹنے ٹیک چکے ہیں ۔ اس ذاتی مفاد کے حصول میں بچوں کو ان دو اصول کے تحت بچوں ، نوجواں اور ان کے مستقبل کو داوَ پر لگا لگا بیٹھے ہیں ۔ بے لوث خدمت کا جذبہ جب نہ رہے اور تعلیم کی دنیا میں نئے رجحانات نہ سیکھنے کی وجہ سے ، اساتذہ اس قابل ہی نہ رہے کہ وہ بچوں کی نفسیات کو سمجھ سکیں ۔ بس ان کے پاس ایک ہی حل ہے کہ مروجہ نصاب کو کسی طور امتحان آنے سے پہلے مکمل کیا جائے ۔ اساتذہ کے اس عمل سے بچے رٹے اور ;68;ate ;67;ollector بن گئے ۔ یہ شارٹ کٹ رستہ ہے ۔ بچے گریڈز کے سسپنس میں صرف ’’ریس کورس‘‘ کے میدان میں گھوڑوں کی طرح بھاگتے نظر آرہے ہیں ۔ ڈاکٹرز، انجنیئرز تو بن جاتے ہیں ۔ یہ مشاہدہ ہے کہ پروفیشنلز زندگی میں ’’لکیر کے فقیر‘‘ رہ جاتے ہیں ۔ مجھے ذاتی تجربہ ہے کہ میرے ایک طالب علم جو کہ ایک ساءکتارسٹ ہیں ۔ لیکن یقین کیجئے کہ وہ خود ایک نفسیاتی مریض ہیں ۔ وہ ایسے کہ ان کے 3مختلف مقامات پر پرائیوٹ کلینکس ہیں ۔ خود سرکاری ہسپتال میں ملازم بھی ہیں ۔ بھاگ ڈور میں رہتے ہیں ۔ اگر کسی استاد نے اس کو درست تعلیم دی ہوتی ۔ درست تعلیم مراد کہ ’’انسان سازی‘‘ کی ہوتی تو اس کا یہ رویہ ;65;bnormal نہ ہوتا ۔ اس کی زندگی کا مقصد مادی رہ گیا ہے ۔ وہ ذیادہ سے ذیادہ دولت کمانا چاہتا ہے ۔ یہی سبب ہے کہ اس مریض اس سے ذیادہ تازہ دکھائی دیتا ہے ۔ بنیادی بات یہ ہے کہ اس مسئلے کا مرکزی سب والدین کی غفلت بھی ہے ۔ اور وہی ہوس ہے کہ کس طرح ان کے بچے پڑ ھ لکھ کر خوب کمائیں ۔ اور اس طرح ان کی آخرت اور بڑھاپے کا سہارا بن سکیں ۔ اس رویے نے بھی بچوں کو انسان کم اور مرغیاں یا مرغے بنادیے ۔ سماج میں بچوں اور کلاس روم میں اساتذہ بچوں کو نام نہاد ;83;tatus کا شکار بنار ہے ہیں ۔ ماں پاب کی اولاد سے محبت اپنی جگہ مگر ایسا تو مرغی کا یا مرغا بھی اپنی اولاد سے کرتے ہیں ۔ جب مرغی کے بچوں پر بلی جھپتی ہے تو مرغی کی چونچ بلی جیسی خونخوار اور بڑی طاقت کو بھگادیتی ہے ۔ اور بچے اپنی ماں کے پروں میں چھپ جاتے ہیں ۔ آج کل بچے بعینہ ایسے ہی ;66;ehave کرتے ہیں ۔ ان کو یہی سکھایا گیا ہے کہ مرغی کے بچے بنے رہیں ۔ یا کبھی محلے میں کسی غریب کے بچے سے ہاتھ نہ لگ جائے ورنہ بیمار ہو جاوَ گے ۔ یوں بچوں کو ذات پات اور نفرت کی چکی میں ملائم بنا رہے ہیں ۔ جو پروفیشنل بن کر بھی مستحکم ذات نہیں بن سکتے ۔ یکساں تعلیمی نظام کے نہ ہونے کے سبب ہم جماعت ہوکر بھی وحدت قائم نہیں ہوسکتی ۔ ماں باپ گھر میں اور اساتذہ سکول، کالج اور یورنیوسٹی میں بچوں کو یہی ’’فلسفہ ڈگری‘‘ دے رہے ہیں ۔ سوال یہ رہ گیا ہے کہ ایسے بچے دیگر اقوام کے مقابل اپنے معاشرے کے لیے کیا کرسکتے ہیں ;238;ہمارے بچے مرغیاں کھا کھا کر فربہ ہو رہے ہیں یا موبائل نے ان کو تصوراتی بنا دیا ہے ۔ ان مضر اثرات سے ان کی ذہنی اور جسمانی صحت تباہ ہو چکی ہے ۔ اتنے نازک مزاج بن چکے ہیں کہ میرے ایک دوست استاد نے کرنل صاحب کی بیٹی کو بد تمیزی پر ڈانتا اور پانی پت کی جنگ شروع ہوگئی ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ طالبہ کی بد تمیزی کو زہر سمجھ کر کو پینا ہی پڑا عجب یوں کرنل صاحب کو اپنی طالبہ بیٹی کی کامیاب دفاع پر نفسیاتی سکون حاصل ہوا!ہمارے ملک میں دوسرے اور تیسرے تعلیمی نصاب و نظام نے بچوں کو نفسیاتی مریض بنادیا ۔ کوئی سرکاری سکول کوئی بیکن ہاوَس کوئی آرمی سکول اور نادار بچوں کےلئے مدرسہ نظام ونصاب سو اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ قوم سراپا فرقہ پرستی کا شکار ہوچکی ۔ اس انتشار نے ساری قوم کو فرقہ فرقستان بنادیا ہے ۔ جب والدین اساتذہ اور ادارے بجائے اس کے کہ وہ مقصد تعلیم کا فلسفہ اپنے عمل کے ذریعے پیش کریں انہوں نے ’’بزنس پارٹنر شپ‘‘ کے تحت لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم رکھا ہے ۔ سرکاری اساتذہ ایم فل اور پی ایچ ڈی کے تعاقب میں سر پیر مارتے مارتے بچوں کو یتیم بنارہے ہیں ۔ اور اپنی سہولیات ، پنشن اور تنخواہوں کی اپ گریڈیشن میں آسمان کو چھو رہے ہیں ۔ ہماری قوم کے زوال کا سبب یہی نمبر 1 مسئلہ ہے ۔ اب پانی دور نکل چکا ہے بند باندھنے کےلئے 500 کلو میٹر رفتار سے دوڑنا ہوگا ۔ تاکہ بچوں کی اس بے لگام زندگی کے سامنے ر کاوٹ بن کر ان کی توانائیوں کو خوشحال زندگی کی ضامن بنایا جا سکے ۔ بچوں کی معصوم زندگی کو ’’احساس برتری‘‘ اور ’’احساس کمتری‘‘ کے گُر سکھائے جارہے ہیں ۔ بچے ہمارا مستقبل ہیں ۔ اور ہم اپنے مستقبل کو پر خود معذور بنارہے ہیں ۔ فرض اور ذمہ داری کا بنھاوَ نہ ہونے سے والدین اور اساتذہ کی ملی بھگت سے پالا تھی ۔ اور بچے کے ہاتھ میں اک آلہ تھما دیا گیا ہے ۔ سب خوش ہیں کہ چلو ہمارے بچے اس ٹیکنالوجی سے ذہین بن رہے ہیں ۔ اور ہمارے بھی جان جوکھوں سے بچ گئی ہے ۔ مگر پورنو گرافی نشے، جنسی بے راہ روی کے مواقع خود پیدا کردیتے ہیں ۔ اس سہل انگاری نے بچوں اور بچیوں کو معاشرے میں دند ناتے بھیڑیوں کی چیر پھاڑ کے حوالے کردیا ۔ یہ قیامت دیکھنے کے باوجود کہ توبہ! دو سال کی بچی کو جنسی ہوس کا نشانہ بنایا گیا اور ظلم یہ کہ قتل کردی گئی ۔ ماں باپ ٹی وی پر اس خبر سے ایسے خوف ذدہ ہوئے کہ ماں نے اپنے بچوں کو مرغی کے بچوں کی طرح اپنی آغوش میں پناہ دی ۔ بچوں کو کیا معلوم کہ یہ کیا ہو رہا ہہے ۔ باپ بچوں کو محتاط رہنے پر بھاشن دے کر رفوچکر ہو جاتے ہیں ۔ خود پسندی دوسرے کے بچوں سے تعصب اپنے بچوں کے ہی آرام و سکون دینے کی بے لگام جدوجہد نے گھر گھر کو ان کے اعمال کا یوں ’’نفسیاتی خلجاں ‘‘ کا شکار کردیا ۔ ظلم یہ ہے کہ ان کی مادہ پرستی تھکتی نہیں ۔ اس وقت نفسیاتی امراض خوف وحزن میں پناہ اضافہ ہو چکا ہے ۔ ہر کسی کو عدم تحفظ کا احساس شدت سے اس قدر پھیل گیا ہ ۔ کہ ’’ڈپریشن‘‘ نمبر 1 مسئلہ بن گیا ۔ دو باتیں رہ گئی ہیں ۔ ;46; اسباب ۔ 2 ۔ حل

اسباب تو مذکور ہوئے مگر حل ایک ہی ہے کہ حکومت معاشیات کے مسائل اس وقت درست نہیں کرسکتی ۔ جب تک تعلیمی ایمرجنسی کا اعلان نہیں کرسکتی ۔ تعلیمی نظام کی نبیادی ضرورت صرف ’’مقصد تعلیم‘‘ اور ’’تعلیمی نظام کے فرقوں ‘‘ کا قتل کردے ۔ ورنہ یہ ملک آئندہ پانچ تا دس سالوں میں ڈوب جائےگا ۔ نظام تعلیم نبی پاک ﷺ سے لے کر یورپ کی چکا چوند ترقی تک سب کےلئے ایک ہے ۔ امیر غریب کا یہ فرق مٹانا پڑے گا کیونکہ یہ غیر ضروری منافرتیں دم توڑ جائیں گی ۔ تعلیم کا فلک شگاف نعرہ ’’ہم سب ایک ہیں ‘‘ تعلیم سب کےلئے ہوتی ہے ۔ حکومت کے پاس اگر ;87;ill نہیں تو جان لے وہ یتیموں کی بہتات پیدا کررہی ہے ۔ والدین اساتذہ جلد اپنا قبلہ درست نہ کیا تو ان کی آخرت، مستقبل اور زندگی کی ہر چمک سے دھتکار دیئے جائیں گے ۔