- الإعلانات -

ہتھیاروں کے ڈھیر میں بدلا بھارت !

6 فروری کو اترپردیش کے دارالحکومت لکھنو میں ہتھیاروں کی تین روزہ نمائش کا افتتاح کرتے نریندر مودی نے کہا کہ ہم ایسی راءفل بنا کر اسے تجرباتی طور پر چیک کر رہے ہیں جس کے ذریعے کسی کو بھی چند دنوں کیلئے مکمل طور پر اندھا کیا جا سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ بھارتی صدر رام ناتھ کووند اور مودی نے گزشتہ روز بھی وہ لب و لہجہ اپنا یا جو جو کسی طور ان مناصب کے شایانِ شان نہیں ۔ بھارت نے ماضی کی مانند خطے میں ایٹمی اور روایتی ہتھیاروں کی دوڑ نئے سرے سے شروع کر دی ہے ۔ اسی تناظر میں ماہرین نے کہا ہے کہ گزشتہ کافی سالوں سے میڈیا کے بعض حلقوں میں یہ تاثرسا بن گیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں جوہری اسلحہ کی موجودگی کا بنیادی سبب پاکستان ہے ۔ اس تاثر کو پختہ کرنے میں عالمی میڈیا خصوصا بھارتی ذراءع ابلاغ کا خاص کردار رہا ہے جبکہ زمینی حقائق اس سارے تاثر کی سختی سے نفی کرتے ہیں ۔ کیونکہ ستمبر 1972 میں میکسیکو میں سولہویں یو این اٹامک انرجی کانفرنس ہوئی جس میں پہلی بار پاکستان کے نمائندہ منیر احمد نے جنوبی ایشیا کو جوہری اسلحہ سے پاک قرار دینے کی تجویز پیش کی اور کہا کہ جس طرح لاطینی امریکہ کو نیوکلیئر ویپن فری زون قرار دینے کی بابت ایک معاہدہ ( یہ معاہدہ 14 فروری 1967 کو ہوا جس کے تحت لاطینی امریکہ میں جوہری ہتھیار ممنوعہ قرار پائے ہے ۔ اسی طرز پر جنوبی ایشیا کے ضمن میں بھی کوئی معاہدہ طے پانا چاہیے ۔ اس کے کچھ روز بعد 23 نومبر 1972 کو اس وقت کے وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو نے کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ کا افتتاح کرتے کہا کہ توانائی کے حصول کی خاطر نیو کلیئر انرجی پاکستان کی ضرورت ہے مگر اس معاملے کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک ہونا چاہئے ۔ اس کے کچھ عرصے بعد بھارت نے 18 مئی 1974 کو ایٹمی تجربہ کیا جسے بھارتی سائنسدانوں نے ;83;miling ;66;uddha کا کوڈ نام دیا جبکہ انڈین آرمی نے اس ضمن میں آپریشن ہیپی کرشنا کا کوڈ استعمال کیا ۔ بھارتی وزارتِ خارجہ نے اسے پوکھرن ون کہا کیونکہ راجستھان میں جیسلمیر کے مقام پوکھرن میں یہ ایٹمی تجربہ کیا گیا ۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 29 ویں اجلاس میں 28اکتوبر 1974 کو پاکستان نے ایک باقاعدہ قرار داد پیش کی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ یو این سیکرٹری جنرل ساءوتھ ایشیا کو نیوکلیئر ویپن فری زون قرار دینے کے حوالے سے متعلقہ ممالک کا اجلاس طلب کریں ۔ جواب میں بھارت نے تعمیری رویہ اختیار کرنے کی بجائے اسی اجلاس میں اپنی جانب سے قرار داد پیش کی جس میں کہا گیا کہ صرف ساءوتھ ایشیا کی بجائے خطے کے سبھی ممالک کو اس دائرہ کار میں لایا جائے ۔ در اصل اس بھارتی موقف کا مقصد پاکستان کی قرار داد کی نفی کرنا تھا ۔ پھر مئی 1980 میں گیارہویں اسلامی سربراہ کانفرنس میں بھی پاکستان نے نیوکلیئر ویپن فری زون کے اپنے اسی موقف کو دہرایا ۔ ستمبر 1985 میں پاکستانی اٹامک انرجی کمیشن کے چیئر مین نے مڈل ایسٹ ، ساءوتھ ایشیا اور افریقہ کو نیوکلیئر ویپن فری زون قرار دینے کی تجویز پیش کی ۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی جانب سے یہ مطالبہ جولائی 1984 میں مجلسِ شوری میں بھی کیا گیا ۔ پھر1985 میں خارجہ سیکرٹری نیاز اے نائیک (مرحوم)نے بھی یہ موقف دہرایا جسے بھارت کی جانب سے مسترد کر دیا گیا ۔ 19 مارچ 1998 میں واجپائی کی زیر قیادت ;667480; حکومت بننے کے محض 50 دنوں کے اندر یعنی گیارہ اور 13 مئی کو بھارت نے پوکھرن کے مقام پر پانچ ایٹمی دھماکے کیے جنہیں پوکھرن ٹو اور آپریشن شکتی کا نام دیا گیا ۔ اس کے فورا بعد بھارتی حکمرانوں کا لب و لہجہ مکمل طور پر تبدیل ہو گیا اور تب وزیر دفاع جارج فرنانڈیز نے چین کو بھارت کا دشمن نمبر ایک قرار دیا جبکہ وزیر داخلہ لعل کرشن ایڈوانی نے کہا کہ اب پاکستان کو بھارت کے ساتھ بدلے ہوئے زمینی حقائق سامنے رکھتے ہوئے بات کرنی چاہیے کیونکہ اب بھارت اعلانیہ ایٹمی قوت بن چکا ہے ۔ ظاہر سی بات ہے کہ یہ صورت حال پاکستان کےلئے قطعا ناقابلِ قبول تھی اس لئے عوام و خواص کے بھرپور مطالبے کو پیش نظر رکھتے ہوئے 28 مئی 1998 کو پاکستان نے چاغی کے مقام پر سات ایٹمی دھماکے کیے تا کہ خطے میں طاقت کے توازن کو درست کیا جا سکے جس کے نتیجے میں ہندوستانی حکمرانوں کے طرزِ عمل میں فوری اور واضح تبدیلی دیکھنے کو ملی اور تقریباً 22برس کا عرصہ گزرنے اور خطے میں بہت سے اتار چڑھاءو کے باوجود بھارت کو کھلی جارحیت کا حوصلہ نہیں ہوا اور مبصرین اس کا کریڈٹ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کو ہی دیتے ہیں جس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کا جوہری پروگرام علاقے میں امن و استحکام کی ضمانت ہے ۔ یاد رہے کہ پاکستان کے وسائل اتنے نہیں کہ وہ روایتی ہتھیاروں پر بھارت کی مانند بے حساب خرچ کر سکے اس لئے بھی جوہری ہتھیار پاکستان کی سلامتی کےلئے اشد ضروری ہیں ۔ یوں بھی مودی نے 12 اگست 2014 کو لداخ میں اپنی تقریر کے دوران انتہائی اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرتے کہا تھا کہ پاکستان روایتی جنگ لڑنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکا ہے ۔ اس کے علاوہ بھارت نے پاکستان کو بنجر کرنے کے لئے آبی جارحیت کا جو خوف ناک سلسلہ شروع کر رکھا ہے وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں اور انڈین نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر کھلے عام پاکستان کے خلاف جارحانہ حکمتِ عملی اپنانے کا ایک سے زائد مرتبہ اعتراف کر چکے ہیں ۔ اس کے ساتھ انڈین آرمی کی کولڈ سٹارٹ حکمتِ عملی( جو کسی بھی روایتی جنگ میں ابتدائی 48گھنٹوں میں خدانخواستہ پاکستان کو بے دست و پا کرنے کا شر انگیز منصوبہ ہے)بھی وطنِ عزیز کےلئے بڑا خطرہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت جوہری حملے کے حوالے سے ;7879; ;7073828384; ;858369; کی باتوں پر اپنی ساری توانائیاں صرف کر رہا ہے مگر پاکستان بجا طور پر ہندوستانی منفی عزائم کے پیش نظر اس بھارتی جال میں نہیں آ رہا ۔ خصوصا 5 اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر کو جس طرح یکطرفہ طور پر بھارت نے اپنے اندر ضم کرنے کا شیطانی عمل انجام دیا، اس کے بعد سے تو کسی بھی طور بھارتی عزائم کی بابت کسی خوش فہمی کی گنجائش باقی نہیں رہتی لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر سطح پر ہر لحاظ سے چوکنا رہا جائے ۔ توقع کی جانی چاہیے کہ مندرجہ بالا حقائق کو مدِ نظر رکھتے ہوئے عالمی برادری کے موثر حلقے اور وطنِ عزیز کے باشعور طبقات بھی بھارتی عزائم کا صحیح ادراک کرتے ہوئے اپنا کردار مزید موثر ڈھنگ سے نبھائیں گے ۔