- الإعلانات -

کرتار پور راہداری پر دہشتگردی کا بھارتی منصوبہ

کرتارپور سکھوں کیلئے انتہائی اہم اور مقدس مقام کی حیثیت رکھتا ہے جہاں سکھوں کے روحانی پیشوا بابا گرونانک جی نے اپنی زندگی کے آخری18 سال گزارے ۔ سکھوں کی اس مقام سے مذہبی عقیدت دیکھتے ہوئے 2018 میں پاکستانی حکومت نے کرتار پور بارڈر کھولنے کا عندیہ دیا اور وزیر اعظم عمران خان نے کرتار پور راہداری کی بنیاد رکھی ۔ نومبر 2019 میں کرتار پور راہداری کھول دی گئی جس سے سکھوں کو کرتارپور تک بغیر ویزہ رسائی مل گئی یعنی سکھ یاتری صرف دربار صاحب تک آ پائیں گے ۔ کرتارپورراہداری کھول کر پاکستان نے اقلیتوں سے اپنی محبت اور ان کا احترام دنیا پر واضح کر دیا ۔ پاکستان کی طرف سے کرتار پور راہداری کھولنے پر پوری دنیا نے مثبت اور خوش آئند قرار دیا لیکن بھارت کی جانب سے ہمیشہ کی طرح سرد اور منفی جواب ہی سامنے آیا کیونکہ پاکستان مخالف بیانات پر سیاست کرنا مودی سرکار کا وطیرہ ہے ۔ مودی کا حمایتی میڈیا کرتارپور کی کوریج سے گریزاں رہا لیکن بین الاقوامی میڈیا نے کرتارپور راہداری کھلنے کو بھرپور کوریج دی ۔ اس روزبھارت میڈیا کرتارپور کے بجائے بابری مسجد کے فیصلے پر خوشی کے شادیانے بجا کر ہندوتوا کے ایجنڈے پر گامزن رہا ۔ ہر وقت پاکستان کےخلاف سازشیں بننے والے بھارتی میڈیا کو کرتارپور راہداری پر جیسے سانپ سونگھ گیا ۔ پاکستان نے سکھ یاتریوں کےلئے کرتارپور راہداری کھولنے کے اقدامات پر بھارت بوکھلا گیا اور پاکستانی مذہبی رواداری کے اقدامات کو پروپیگنڈہ اور دہشت گردی سے تعبیر کرنے لگا ۔ پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی شروع ہو گئی کہ یہ پاکستانی سازش اورپروپیگنڈا ہے ۔ بھرپورمقابلہ کیا جائےگا ۔ جب یہاں بھارت کی دال نہ گلی تو افغانستان کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف نہ صرف پروپیگنڈہ شروع کر دیا بلکہ ہمیشہ کی طرح کرتار پور راہداری کو دہشت گردی کا شکار بنانے کی سازش کرنے لگا ۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ‘’را’’ اور افغان خفیہ ایجنسی ‘’این ڈی ایس’’ نے منصوبہ بنایا کہ کرتار پور راہداری میں سکھ یاتریوں کی آمد پر دہشت گردی کی بڑی واردات کے ذریعے دنیا کو بتایا جائے کہ پاکستان پرامن ملک نہیں ہے ۔ پاکستان کے خفیہ اداروں نے بروقت بھارت اور افغان خفیہ ایجنسیوں کی اس گھناونی سازش کا سراغ لگا کر اسے ناکام بنا دیا ہے ۔ دوسری جانب کرتار پور راہداری سے پریشان بھارت ہر صورت سکھوں کو اپنے مقدس مقام کی یاترا سے روکنے کی کوششوں میں مصروف ہے ۔ پاکستان کی جانب سے فراہم کی گئی سہولیات سے بھی سکھ برادری کو نہیں دی جا رہیں اور انہیں اجازت کا عمل بھی سخت بنا دیا گیا ہے ۔ بھارت پاکستان میں امن تباہ کرنے کی سازش میں مبتلا ہے اور دنیا کے سامنے پاکستان کیخلاف منفی پراپیگنڈوں کا راگ سناتا رہتا ہے ۔ جبکہ حال ہی میں قانون ترمیمی بل کی وجہ سے بھارتی مسلمانوں پر زمین تنگ کر دی گئی ۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ بھارتی حکومت نے اپنی ہی ریاست کو نچلے درجے کے ہندوں سمیت تمام تر مذاہب کے لوگوں کیلئے تنگ کر دیا ہے ۔ لوگوں سے مذہبی آزادی بھی چھینی جا رہی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر بھی پچھلے 180 دن سے کرفیو کی نظر ہو رہا ہے اور وہاں خواتین ، بچوں ، جوانوں اور بوڑھوں کیساتھ انتہائی گھناءونا سلوک کیا جارہا ہے ۔ پاکستان کی جانب سے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا گیا اور نہ صرف پاکستان میں تمام لوگوں کو مذہبی آزادی دی بلکہ بھارت میں موجود سکھ برادری کو بھی اجازت دی کے وہ آسانی سے اپنے عقیدے کے مطابق بابا گرونانک کے در کی زیارت کریں ۔ تاہم بھارت کی ہندو توا حکومت اب پاکستان میں مذہبی آزادی کو نشانہ بنانے کی سازش کر رہی ہے ۔ بھارت پاکستان کے قیام کے بعد سے ہی اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے ۔ اس سے قبل بھارتی جاسوس کو بھی گرفتار کیا جا چکا ہے، جو اب بھی پاکستان کی حراست میں ہے اور بلوچستان میں دہشتگردی کا اعتراف کر چکا ہے ۔ پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے بھارتی میڈیا کا کردار ہمیشہ سے منفی رہا ہے جبکہ ہر مثبت پیش رفت یا ڈپلومیسی کے جواب میں دونوں طرف کے میڈیا کو درمیان کا راستہ نکالنا چاہیے لیکن بھارتی میڈیا یکطرفہ فیصلہ نکالتے ہوئے پاکستانی سمت میں توپ داغنا شروع کر دیتا ہے ۔ گزشتہ برس کرتار پور راہداری کے سنگ بنیاد رکھے جانے جیسے اہم موقع پر بھی بھارتی میڈیا کو اور کچھ نہ ملا تو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے خالصتان تحریک کے سرگرم رکن گوپال چاولہ سے ہاتھ ملانے پر ہی شور مچاتا رہا جس پر آئی ایس پی آر کی جانب سے کہا بھی گیا کہ اس تقریب میں صرف گوپال چاولہ سے نہیں بلکہ تمام شرکاء کا خیر مقدم کیا گیا اور دیگر مندوبین سے بھی خیر سگالی کے طور پر ہاتھ ملائے گئے ۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارتی سوشل میڈیا پر عمران خان کی تعریف بھی سدھو صاحب کا جرم ٹھہری ۔ پاکستان میں رہنے والے یا آنے والے پوری دنیا کے سکھ پاکستان حکومت پر اعتماد کرتے ہیں ۔