- الإعلانات -

پاک ترک باہمی تعاون، 13 معاہدوں و مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

ترک صدر رجب طیب اردوان پاکستان کا دو روزہ مکمل کر کے وطن واپس لوٹ چکے ہیں ۔ پاکستان کے نکتہ نظر سے یہ دورہ جہاں کامیاب رہا وہاں یہ بہت اہمیت کا حامل بھی تھا ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور ;200;رٹیکل 370 کی منسوخی، اسلاموفوبیا اور ملک میں معاشی ترقی سمیت اے ایف ٹی ایف جیسے مسائل کے تناظر میں ترک صدر رجب طیب اردوان کا دورہ کئی اعتبار سے اہم سمجھا جا رہا ہے ۔ اسی طرح دونوں ممالک کے مابین تجارتی تعلقات سے متعلق مشترکہ ورکنگ گروپ کا اجلاس اور اس میں ہونے والے معاہدے خطے میں نئی تبدیلی کے تناظر میں دیکھے جارہے ہیں ۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے جس طرح انہوں نے کشمیر ایشو پر کھل کر پاکستانی موقف کی حمایت کی وہ برسوں یاد رکھی جائے گی ۔ صرف یہی نہیں بلکہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے سلسلے میں بھی اپنے تعاون کی یقین دہانی ایک ایسے موقع پر حوصلہ افزا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کا اہم اجلاس ;200;ج پیرس میں ہونے جا رہا ہے ۔ جمعہ کے روز مشترکہ اجلاس سے خطاب کے بعد ترک صدر اور وزیراعظم عمران کے درمیان ون ;200;ن ون ملاقات ہوئی جس میں دونوں رہنماءوں نے باہمی تعاون اور تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیاجبکہ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کی تقریب کے بعد ترک صدر رجب طیب اردوان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا دونوں ممالک کے مابین مفاہمتی یادداشتوں پر ہونے والے دستخط سے پاک ترک تجارت میں نئے دور کا ;200;غاز ہوگا ۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کیخلاف آواز اٹھانے پر ترک صدر کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہیں ۔ انہوں نے مقبوضہ وادی میں بھارتی مظالم اور گزشتہ 6 ماہ سے جاری لاک ڈاءون کے بارے میں بھی بتایا کہ کس طرح بھارتی حکومت نے کشمیریوں کے بنیادی حقوق سلب کیے ہوئے ہیں ۔ عمران خان نے بتایا کہ 8 لاکھ بھارتی فوجیوں نے تقریباً 80 لاکھ کشمیری اور ان کے رہنماوں کو محصور کر رکھا ہے جنہیں مواصلات اور دیگر بنیادی حقوق تک رسائی حاصل نہیں ہے ۔ ترک صدر کے پاکستانی پارلیمان میں کیے گئے خطاب کے بارے انہوں نے بتایا عوام نے اسے بہت پسند کیا ہے ۔ بلاشبہ ترک صدر کا خطاب عوامی امنگوں کی ترجمانی ثابت ہوا ۔ خصوصا کشمیر بارے ان کے جذبات سے کشمیری عوام کے حوصلے بھی بلند ہوئے ہوں گے ۔ اس موقع پر ترک صدر رجب طیب اردوان نے ایک بار پھر پاکستان کو اپنا دوسرا گھر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پرتپاک استقبال پر آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ طیب اردوان نے کہا کہ تین سال بعد پاکستان کا دورہ کرنے پر دلی مسرت ہوئی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان دفاع، عسکری تربیت کے شعبوں میں تعاون گہری دوستی کا عکاس ہے ۔ قبل ازیں پاکستان اور ترکی نے معاشی روابط کی شرح کو بڑھانے اور تجارت و سرمایہ کاری میں اضافے کےلئے غیر استعمال شدہ صلاحیت کو متحرک کرنے کےلئے ایم او یوز کو حتمی شکل دی ۔ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کی تقریب میں ٹی وی، ریڈیو، سیاحت، ثقافت، خوراک، تجارت میں سہولت کاری، پوسٹل سروسز، ریلوے اور عسکری تربیت سمیت دیگر شعبوں میں 13 معاہدوں اور یادداشتوں پر متعلقہ وزارتوں کے وزرا نے دستخط کیے ۔ علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے پاک ترک اکنامک فریم ورک سے متعلق مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے ۔ ادھر ;200;رمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ترک وزیر برائے قومی دفاع کی ملاقات ہوئی جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سیکیورٹی اور دوطرفہ دفاعی تعاون کو فروغ دینے کے امور پر تبادلہ خیال ہوا ۔ ترک صدر جب بھی پاکستان ;200;ئے اپنے واضح اور دوٹوک موقف کی وجہ سے پاکستانی قوم کے دلوں میں گھر کیا ۔ ترک صدر کچھ عرصہ میں عالم اسلام کے ہر دل عزیز لیڈر بن کر ابھرے ہیں ۔ گیلپ سروے آف پاکستان اور گیلپ انٹرنیشنل کے مشترکہ سروے کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردوان جہاں سب سے مقبول مسلمان حکمران ہیں ، وہیں وہ دنیا کے بھی پانچویں مقبول رہنما ہیں ۔

آئی ایم ایف کے وفدکادورہ پاکستان،حکومتی اقدامات کی تعریف

عالمی مالیاتی فنڈ مشن نے گزشتہ چند ماہ کے دوران اصلاحات میں پیشرفت اور پائیدار معاشی پالیسیوں کے تسلسل کے تناظر میں نمایاں پیشرفت پر پاکستان کی تعریف کی ہے ۔ آئی ایم ایف مشن کے پاکستان کے دورے کے اختتام پرمشن کے سربراہ ;82;amirez ;82;igo نے ایک بیان میں کہاکہ دسمبر کے آخر تک کارکردگی کے تمام معیار اور ڈھانچہ جاتی اہداف کو مکمل کیا گیا ۔ بیان میں کہاگیاکہ آئی ایم ایف مشن اورحکومتی حکام کے درمیان پالیسیوں اوراصلاحات پر بات چیت میں حوصلہ افزاء پیشرفت ہوئی اورپاکستان میں معاشی سرگرمیوں کواستحکام حاصل ہوا ہے اوربتدریج بہتری کی راہ پرگامزن ہیں ۔ حسابات جاریہ کے خسارے میں کمی آئی ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں توقعات کے مقابلے میں نمایاں بہتری آئی ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ حکومت نے معیشت کی بہتری کے لئے بہت سے ایسے اقدامات اٹھائے ہیں جن سے معیشت مضبوط ہوئی اورزرمبادلہ کے ذخائر میں بھی اضافہ ہوا اور اس طرح معیشت بھی مستحکم ہوئی ۔ اگر اس حوالے سے سابقہ حکومتیں اقتصادی استحکام کےلئے بہتر حکمت عملی طے کرتیں اور خودانحصاری کو فروغ دیا جاتا تو ہ میں ;200;ئی ایم ایف کے شکنجے سے بتدریج نجات مل سکتی تھی ۔ ;200;ئی ایم ایف کو تو اپنے قرض کی بمعہ سود وصولی سے ہی غرض ہوتی ہے جس کیلئے وہ اپنے مقروض ملک پر ایسی ناروا شرائط عائد کرتا ہے کہ ان پر عملدر;200;مد کرتے کرتے ملک کی خودمختاری تک گروی رکھ دی جاتی ہے جبکہ ان شرائط پر عملدر;200;مد سے مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام سسکتے کراہتے عملاً زندہ درگور ہوجاتے ہیں مگر ;200;ئی ایم ایف کے تقاضے پھر بھی ختم نہیں ہوتے ۔ اب یہ حوصلہ افزا بات ہے کہ آئی ایم ایف کے وفد نے حکومت کی جانب سے کئے گئے اقدامات کی تعریف کی کہے ۔ اس وقت ملک میں ملک میں مہنگائی عروج پرہے ۔ لہٰذا حکومت کواب فوری طورپرمہنگائی پرقابوپانے کے لئے بھی اقدامات کرنے چاہئیں ۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا اہم اجلاس

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا ایک اہم اور مکمل اجلاس ;200;ج 16تا 21فروری پیرس میں منعقد ہو گا جس میں پاکستان کی جانب سے اس ضمن میں کی گئی اب تک کوششوں کا جائزہ لیا جائے گا ۔ ایف اے ٹی ایف ایک بین الحکومتی تنظیم ہے جو بین الاقوامی سطح پر منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت سے نمٹنے کی کوششیں کرتی ہے ۔ جون 2018 میں پاکستان کا نام گرے لسٹ میں شامل کرتے ہوئے ایک پلان آف ایکشن پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا تھا ۔ یہ ایک خطرناک صورتحال تھی اس کے باوجود کہ اس کے پیچھے بھارتی مکارانہ چال تھی پاکستان نے اسے ایک چیلنج کے طور پر لیا اور اہم اقدامات لینا شروع کر دیئے ۔ بعد ازاں اکتوبر 2019 اور جنوری 2020 بیجنگ میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور مزید اقدامات کےلئے وقت دیا ۔ اس عرصہ میں خصوصا بیجنگ میں ہونےوالے اجلاس میں پاکستان کی طرف دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے مختلف اقدامات کی تنظیم کے موجودہ صدر کی طرف سے بطور خاص تعریف کی گئی ۔ پاکستان اپنے مخلص دوستوں کا شکر گزار ہے کہ وہ بھارت کی دکھتی رگ کو بخوبی پہچانتے ہیں اور اچھی طرح جانتے ہیں کہ پاکستان کا کسی دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ۔ پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں درحقیقت سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں ۔ پاکستان نے حالیہ مہینوں میں ایکشن پلان کے تحت کئی بڑے اقدامات کئے ہیں ۔ رواں اجلاس بہت اہمیت کا حامل ہے،جہاں پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے پلان ;200;ف ایکشن کے تحت جامع اقدامات اٹھائے ہیں وہاں امریکی صدر کے اسلام آباد واشنگٹن دوستی کے حوصلہ افزا بیانات اور ترک صدر طیب اردوان کی طرف سے مکمل حمایت کی یقین دہانی کے بعد پاکستان کو بھر پور توقع ہے کہ وہ گرے لسٹ سے بھی نکل جائے گا اور بھارت اپنی سازشی چالوں میں بری طرح ناکام ہو گا،ان شا اللہ ۔