- الإعلانات -

سمجھوتہ ایکسپریس انتہا پسند ہندوءوں کی کارستانی

سمجھوتہ ایکسپریس پاکستان اور بھارت کے درمےان اےک سفری سمجھوتے کے تحت چلنے والی ٹرین ہے ۔ اسی وجہ سے اس کا نام سمجھوتہ ایکسپریس پڑگےا ۔ 2007 میں بھارت کے صوبے ہرےانہ کے ضلع پانی پت کی حدود میں ایک افسوسناک سانحہ پےش آےا ۔ ہوا یوں کہ سمجھوتہ ایکسپریس کی دو بوگیوں کو آگ لگ گئی ۔ جس میں 68 افراد ہلاک اور بہت سے زخمی ہوگئے ۔ ہلاک اور زخمیوں میں ایک بڑی تعداد پاکستانیوں کی تھی ۔ تحقیقات سے یہ بات منظر عام پر آئی کہ انتہا پسند ہندوءوں نے ٹرےن کو آگ لگانے کےلئے مٹی کا تےل ،سلفر اور پوٹاشےم ناءٹرےٹ کے آمےزہ استعمال کےا اور انہوں نے آگ لگانے والے ےہ بم ٹرےن کے اندر چھپا کر رکھے تھے بدقسمتی سے یا منصوبے کے تحت ٹرےن کے دروازے اندر سے بند تھے ۔ ٹرےن میں کل 757افراد سوار تھے جن میں 553 پاکستانی تھے ۔ بھارتی حکومت اس ٹرےن کی حفاظت کی ذمہ دار تھی جس نے اپنی ذمہ داری پوری نہےں کی ۔ بھارت کی انتہا پسند ہندو تنظیم ’بجرنگ دل‘ نے سمجھوتہ ایکسپریس میں بم دھماکوں اور آتشزدگی کی ذمہ داری قبول کی اور مسلمانوں کےخلاف معاندانہ سرگرمیاں جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا تھا لیکن اس کے باوجود بھارتی حکومت انتہا پسند ہندو تنظیموں کے چہرے سے نقاب ہٹانے سے انکار کر تی رہی ۔ پاکستان نے سانحہ کی مشترکہ تحقیقات کی دعوت دی مگر بھارت مشترکہ ٹیم کی جانب سے تحقیقات سے گریزاں کر رہا ۔ کیونکہ بھارتی حکومت ہرگز یہ پسند نہیں کرتی کہ اس آتشزدگی میں جو خفیہ ہاتھ کارفرما تھے وہ بے نقاب ہوں اور ساری دنیا سمجھوتہ ایکسپریس کی آتشزدگی میں ملوث انتہاپسند ہندو تنظیموں بشمول بجرنگ دل کا بھیانک چہرہ دیکھے ۔ کہا جاتا ہے کہ سمجھوتہ ایکسپریس دھماکے کی سازش 2006 میں تیار ہوئی جس میں بھارتی فوج کا افسر لیفٹیننٹ کرنل پروہت شامل تھا ۔ اسی فوجی افسر نے ہندو شدت پسندوں سے مل کر دہشتگردوں کو تربیت بھی دی ۔ لیکن نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی نے نہایت ڈھٹائی سے انکار کیا کہ لیفٹیننٹ کرنل پروہت کا سمجھوتہ ایکسپریس دہشت گرد حملے میں کوئی کردار نہیں تھا ۔ ایک اور عجیب منطق یہ پیش کی گئی کہ بھارتی ادارے لیفٹیننٹ کرنل پروہت کے سمجھوتہ ایکسپریس دھماکے میں کردار کی ابھی تحقیقات کر رہے ہیں ۔ بھارت اپنے ہاں ہر واقعہ کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہراکر پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دینے کےلئے شور مچاتا رہتا ہے ۔ حالانکہ بھارت میں ہونےوالے دہشت گردی کے واقعات میں سے 99 فیصد بھارتی حکومت کے بنائے گئے ڈرامے ہوتے ہیں یا پھر بھارت میں چلنے والی علیحدگی کی تنظی میں اس کی ذمہ دار ہوتی ہیں ۔ بھارتی پارلیمنٹ پر حملوں سے لے کر اڑی حملہ کیس تک ہر واقعہ میں بھارتی حکومت یا اس کی علیحدگی پسند تنظی میں ہی پس پردہ دکھائی دیتی رہیں مگر بھارت میں نہ مانوں کی رٹ لگائے ان سب کا الزام پاکستان کے سر تھوپنے پر لگا ۔ سمجھوتہ ایکسپریس ، بابری مسجد اور دیگر ایسے واقعات جن میں پاکستان یا مسلمانوں کو تکلیف پہنچی اس کے خلاف کوئی تحقیقات نہیں ۔ سابق بھارتی وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو بم دھماکے کا ذمہ دار قرار دیا ۔ تحقیقات ہوئی تو اس گھناءونی سازش میں حصہ لینے والے بھارتی فوج کے کئی چہرے بے نقاب ہوئے ۔ تحقیقات کے بعد اس وقت کے حاضر سروس بھارتی کرنل پروہت، میجر اپادھیا،انتہا پسند ہندو رہنما سوامی آسیم آنند اور کمل چوہان دھماکے میں ملوث پائے گئے ۔ مرکزی ملزم آسیم آنند نے اعتراف جرم بھی کیا کہ بھارتی فوج کی مدد سے یہ درندگی آر ایس ایس جیسی انتہا پسند تنظیم اور تنگ نظر ہندءوں کی کارستانی تھی ۔ اس سانحے کا ماسٹر مائنڈ لیفٹیننٹ کرنل پرساد سری کانت پروہت تھا ۔ بھارت کی ریاست مہاراشٹر کی پولیس کے اینٹی ٹیرر اسکواڈ نے کرنل پروہت پر چارج شیٹ جاری کی کہ وہ دھماکے کی سازش کا ماسٹر مائنڈ تھا اور اس نے دھماکا خیز مواد فراہم کیا اور دھماکے کےلئے آر ڈی ایکس فراہم کیا ۔ مہاراشٹر کی عدالت کو بتایا گیا کہ لیفٹیننٹ کرنل پروہت نے ہی دھماکے کےلئے تین لاکھ اٹھانوے ہزار روپے حوالے کے ذریعے فراہم کئے اور فنڈز اکٹھے کئے ۔ اب تک تو بھارتی حکام ان سانحات کی ذمہ داری مسلمانوں پر ڈالتے چلے آرہے تھے مگر اب معلوم ہو چکا ہے کہ ان میں ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس ملوث ہے ۔ سمجھوتہ ایکسپریس کے سانحہ کو لگ بھگ 12 سال گزر چکے ہیں ۔ عدالتی کمیشن اور تحقیقاتی رپورٹوں کے مطابق ملزم بھی نامزد ہو چکے ہیں ۔ ممبئی حملوں کے بعد تو بھارت نے پاکستان پر دباءو ڈالے رکھا اور نام نہاد اجمل قصاب کو پھانسی تک دےدی مگر سمجھوتہ ایکسپریس کے ملزمان کا کیا کیا;238; بھارت صرف پاکستان کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے ۔ چاہے وہ سفارتی سطح پر ہو یا زمینی سطح پر ۔ تاہم شہدائے سمجھوتہ ایکسپریس کی روحیں اب بھی پاکستانی حکمرانوں سے سوال کررہی ہیں کہ کب اْن کی غیرت جاگے گی اور وہ اْن کے ساتھ طے شدہ منصوبے کے تحت ہونے والے ظلم کا بھارت سے حساب لیں گے