- الإعلانات -

وزیراعظم ،کوتاہی کا اعتراف،تاہم ذخیرہ اندوزوں کیخلاف پُرعزم

وزیراعظم عمران خان نے ہفتہ کے روز لاہور میں صحت انصاف کارڈ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں چینی اور ;200;ٹے کے حالیہ بحران میں حکومت کی کوتاہی کو قبول کرتا ہوں تاہم انہوں نے کہا کہ بحران پیدا کرنے والے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی ہوگئی تحقیقات کا عمل جاری ہے جس کی گرفت سے کوئی نہیں بچ پائے گا ۔ وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو ہدایت کی ہے کہ اشیائے خورونوش کا مصنوعی بحران پیدا کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے ۔ وزیراعظم نے پنجاب حکومت کو ذخیرہ اندوزوں اور ملاوٹ مافیا کے خلاف ;200;پریشن تیز کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت کی اولین ترجیح عام ;200;دمی کو ارزاں نرخوں پر اشیا خورونوش کی فراہمی ہے ۔ کہاں ہے نیا پاکستان کے حوالے سے تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنائیں گے، میں نے کہا تھا کہ پاکستان کو ریاست مدینہ کے اصولوں پر فلاحی ریاست بنائیں گے، منصوبہ بندی کے تحت حکومت کے خلاف مہم چلائی جارہی ہے اور پلان کرکے تاثر دیا جارہا ہے کہ ملک میں صورتحال ٹھیک نہیں ، ہر بات پر دوسرا سوال یہ پوچھا جاتا ہے کہ کہاں ہے نیا پاکستان ۔ ملک میں مہنگائی کی وجوہات کے بارے میں بتایا کہ روپے کی قدر گرنے سے گھی کی قیمت میں اضافہ ہوا، سب پتہ چل گیا ہے کہ کس نے مہنگائی کر کے فائدہ اٹھایا، ;200;ٹا چینی مہنگا ہونے میں ہماری کوتاہی ہے یہ میں مانتا ہوں ۔ عمران خان کا یہ اعتراف کہ اس معاملے میں کوتاہی ہوئی ہے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مہنگائی کے ایشو سے غافل نہیں اور اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں ۔ ماضی میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی حکومت کے سربراہ نے کسی ایسے معاملے کی ذمہ داری اپنے سر لی ہو جس کی وجہ سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہو ۔ بلاشبہ مہنگائی کی وجہ سے حکومت کے تمام اچھے کام بھی پس پشت چلے گئے ہیں ۔ جیسے اس صحت انصاف کارڈ عمران حکومت کا ایسا کام ہے جس میں عام ;200;دمی کی فلاح بہبود کے کئی پہلو ہیں ۔ پنجاب کے70لاکھ سے زائد خاندان صحت انصاف کارڈ سے مستفید ہونگے جبکہ پنجاب کے36اضلاع میں صحت کارڈ کی سہولت دی گئی ہے ۔ اس کارڈ کے ذریعے ساڑھے سات لاکھ روپے سالانہ تک کے علاج کی سہولت دستیاب ہے ۔ اب تک پچاس لاکھ کارڈ تقسیم کئے جا چکے ہیں ۔ تقریب میں وزیراعظم نے 50 لاکھ خاندانوں کو صحت کارڈکے اجرا پر ڈاکٹر یاسمین راشد کو مبارکباد بھی پیش کی ۔ وزیراعظم نے کہا کہ صحت سہولت کارڈ ریاست مدینہ کی جانب ایک ;200;غاز ہے، ہم نے اپنے کمزور طبقوں کو اوپر اٹھانا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم نے باہر سے ;200;کر نجی ہسپتال بنانے والوں کیلئے سہولت دی اور میڈیکل ;200;لات سے ڈیوٹی ختم کی ۔ ہیلتھ کارڈ کے ذریعے پاکستان کے کسی بھی ہسپتال میں غریب ;200;دمی علاج کرا سکتا ہے جس کیلئے ہم نے مراعات دیں اور اب پرائیویٹ ہسپتالوں کیلئے بھی مراعات دیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ ہسپتال بنیں ، جہاں سزا اورجزا کا نظام ہو وہاں سسٹم بہتر ہوتا ہے، ورنہ غریب ;200;دمی سرکاری ہسپتال میں اور امیر پرائیویٹ ہسپتال میں اور سب سے زیادہ پیسے والے لوگ لندن علاج کرانے جاتے ہیں ۔ سب سے زیادہ مشکل غریب ;200;دمی کو ہوتی ہے اس لئے صحت کارڈ ایسے طبقوں کیلئے جاری کیا گیا ہے ۔ وزیراعظم نے اس تاثر کو بھی غلط قرار دیا کہ ہسپتالوں کی نجکاری کی جارہی ہے اور کہا کہ یہ نجکاری نہیں بلکہ خود مختاری ہے جس کے ذریعے نظام میں بہتری لائی جاسکے گی ۔ اس موقع پر عمران خان نے میڈیا کے کردار پر بھی تنقید کی ۔ وزیراعظم کو گلہ رہتا ہے کہ میڈیا ان کے خلاف منصوبہ بندی کے تحت مہم چلاتا ہے ۔ اس میں کسی حد تک صداقت ہو بھی سکتی ہے لیکن من حیث الکل میڈیا کو الزام نہیں دیا جا سکتا ہے ۔ میڈیا کا ایک بڑا حصہ حکومت کے اچھے کاموں کو سراہتا بھی ہے ۔ تاہم جہاں کوتاہی ہو گی میڈیا ;200;واز اٹھائے گا جیسے ;200;ٹا چینی بحران پر حکومتی کوتاہی پر ملکی میڈیا نے بھر پور ;200;وازبلند کی ۔ وزیراعظم عمران خان نے اس کوتاہی کو قبول بھی کیا ہے جو اچھی بات ہے امید ہے اس کوتاہی سے سبق بھی سکھا گیا ہو گا تاکہ مستقبل میں ایسا بحران دوبارہ سر نہ اٹھائے ۔

معروف پاپ سنگر مائیکل جیکسن کے بھتیجے کی پاکستان ;200;مد

عالمی شہرت یافتہ گلوکار مائیکل جیکسن کے بھتیجے جعفر جیکسن ان دنوں پاکستان دورے پر ہیں اور مختلف شہروں کو وزٹ کر رہے ہیں ۔ گزشتہ روز وہ اسلام ;200;باد ;200;ئے جہاں انہوں نے نسٹ یونیورسٹی اور کامسیٹس یونیورسٹی کا دورہ کیا اور طلبا سے خطاب کرتے ہو ئے انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک حسین اور پرامن ملک ہے ۔ پاکستان کے لوگ بہت زیادہ محبت کرنے والے اور مہمان نواز ہیں ۔ وہ پاکستان میں ملنے والا پیار کبھی بھی بھلا نہیں سکیں گے ۔ انہوں نے پاکستان میں مہمان نوازی اور لوگوں کی ملنساری سے متاثر ہوکر پاکستان کے بارے میں مغربی میڈیا کے پیش کردہ منفی تاثر کو غلط قراردیا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے مہمان کا گرم جوشی سے استقبال کرنے والے ملنسار اور با اخلاق لوگوں کا خوبصورت ملک ہے اور وہ پاکستان کے لوگوں کی مہمان نوازی دیکھ کر حیران رہ گئے ہیں کہ مغربی میڈیا پاکستان کے بارے میں کس قدر غلط انداز میں منفی تاثر پیدا کرتا ہے ۔ لاس اینجلس کیلیفورنیا میں پیدا ہونے والے جعفر جیکسن مغربی دنیا کے ابھرتے ہوئے گلوکار ہیں ,وہ عالمگیر شہرت کے حامل لیجینڈری گلوکار پاپ کنگ مائیکل جیکسن کے بھتیجے اور نغمہ نگار و پروڈیوسر جرمین جیکسن کے چھوٹے بیٹے ہیں ۔ ان کے والد جرمین جیکسن نے 1989 میں بحرین کے دورے کے بعد اسلام قبول کرلیا تھا ۔ پاکستان میں قیام کے دوران وہ لاہور اور کراچی بھی جائیں گے جہاں وہ مختلف یونیورسٹیوں کے علاوہ بادشاہی مسجد، شاہی قلعہ اور دیگر تاریخی مقامات دیکھیں گے جبکہ کراچی میں قائد اعظم کے مزار پر حاضری دینے کے بعد لیاری اور گورنرہاوَس کا وزٹ بھی کریں گے ۔ ایسی بین الاقوامی شہرت کی حامل شخصیات کے دورے سے پاکستان کے خلاف پھیلائے گئے منفی تاثر کو زائل کرنے میں مدد ملے گی ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک منصوبہ بندی کے تحت پاکستان کی ساکھ کونقصان پہنچانے کےلئے دنیابھر میں پروپیگنڈا کیاگیا ۔

نعیم الحق کا سانحہ ارتحال

پاکستان تحریک انصاف کے بانی رکن اور وزیراعظم عمران خان کے قریبی ساتھی نعیم الحق کینسر کے عارضے میں مبتلا ہوکر70برس کی عمر میں انتقال کر گئے ۔ ان کا سانحہ ارتحال جہاں ان کی فیملی کے لئے صدمہ ہے وہاں پی ٹی آئی بھی کے لئے بھی ایک بڑا نقصان اور ان کا خلا برسوں پُر نہیں ہو سکے گا ۔ وہ پیشے کے اعتبار سے ایک بینکر تھے اور حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے شریک بانیان میں سے ایک تھے جو پارٹی کے نظریے کے مطابق پاکستان میں حقیقی تبدیلی کےلئے پیش پیش تھے ۔ بطور ایک نوجوان بینکر وہ نیو یارک میں قائم ہونے والی نیشنل بینک کی برانچ کےلئے تیار ہونے والی ٹیم کا حصہ تھے، اس کے بعد وہ 1980 میں لندن چلے گئے جہاں انہوں نے بطور بینکر اوریئنٹل کریڈٹ لمیٹڈ میں ملازمت اختیار کی ۔ لندن میں 1980 کی دہائی میں اپنے کیریئر کے دوران ان کی وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے دوستی ہوئی ۔ نعیم الحق پاکستان کی خدمت کرنے کے جذبے سے سرشار تھے اور انہیں یقین تھا کہ ملک میں مثبت تبدیلی صرف جمہوری سیاسی نظام کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔ عمران خان نے جب 1996 میں سیاست میں قدم رکھا اور پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد رکھی تو نعیم الحق بھی ان کے ساتھ اس پارٹی کو بنانے والے بانی رہنماؤں میں شامل ہو گئے ۔ انہوں نے پارٹی کے امور چلانے اور 1997 اور 2002 کے انتخابات میں پارٹی کو پے درپے ناکامیوں کو قابو پانے میں ان کی مدد کی ۔ 2008 میں اہلیہ کے انتقال کے بعدخود کو تحریک انصاف کےلئے وقف کردیا تھا جہاں وہ اس پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات کے عہدے پر فائز ہوئے 2012 میں پارٹی چیئرمین کا چیف آف اسٹاف مقرر کیا گیا جس کے بعد وہ کراچی سے اسلام آباد منتقل ہوگئے اور آخر دم تک پارٹی کے ساتھ رہے ۔ ان کے انتقال پر وزیر وزیر اعظم عمران خان نے دلی دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ;39;دیرینہ دوست نعیم الحق کے انتقال پر غمزدہ ہوں ۔