- الإعلانات -

شکست ذات بُری بلا ہے!

غرور تکبر اور نخوت اک جذباتی اور نفسیاتی عارضہ ہے ۔ اس صفت کی خرابی یہ ہے کہ انسان کبھی بھی شکست کو تسلیم نہیں کرتا ۔ یہ ہمہ وقت علاقے یا آبادیوں کو فتح کرنے کے بارے سوچتا یا چڑھ دوڑتا ہے ۔ جوں جوں اس کی خواہشات و جذبات پرستی کی سلطنت کا دائرہ وسع تر ہو تا جاتاہے ۔ توں توں انتہاؤں تک پہنچ جاتا ہے ۔ آگے جب کوئی حد ، سرحد یا علاقہ نظر نہیں آتا تو یہ پہاڑ کی چوٹی سے اُترنے لگتا ہے ۔ مگر دل میں نا آسود گی لئے ہوئے ۔ چونکہ اس کے دل و دماغ میں فتح کا گمان رہتا ہے ۔ یوں میں دو مختلف رستے بنناشروع ہوجاتے ہیں ۔ یعنی سوچ کی وجہ سے تضاد کا شکار ہو جاتا ہے ۔ یوں مایوسی کی لہروں سے ٹکر ائے چلا جاتا ہے ۔ پے درپے تفکر دل میں لے کر اس کے پاؤں ڈولتا شروع ہو جاتے ہیں ۔ اپنی فتح کی اگلی منزل تک نہ پہنچنے کے سبب اس کو اپنی خدائی پر شک ہونے لگتا ہے ۔ یہ اب بھی مغرور ، متکبر اور وحشی ہوتا ہے ۔ مگر کسی کے سامنے اس کیفیت کو ظاہر نہیں کرنا چاہتا یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے کہ یہ بے خبر اپنی شکست کی طرف ڈھل یا اتر رہا ہوتا ہیں ۔ اُترتے وقت کسی پتھر پہ پیر آجانے سے ، یہ گرتے گرتے بچ جاتا ہے ۔ بچ تو جاتا ہے ۔ مگر اس بے دھیانی کے عمل سے اس کی شخصیت کی اک پرت نظر آجاتی ہے ۔ کہ پہلے اگر یہ گھوڑے سے بھی گر جاتا تو ندامت محسوس نہ ہوتی تھی ۔ مگر شکست اور خود کی اس کیفیت میں رہ کر وہ لوگوں سے قلبی میلان چھپاتا ہے ۔ تاکہ تکبر، غرور کا بھرم قائم رہے ۔ اندر کس نے دیکھا ہے ۔ ظاہری طور پر کوئی مجھے کمزور یا شکست خوردہ نہ سمجھے ۔ ورنہ جو ملکیت کسی بھی شکل میں ہو میر ے پاس آئی ہے ۔ وہ لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ رہے ۔ تاکہ یہ سب مجھے وہی مغرور ، متکبر اور ظالم ہی سمجھیں ۔ انسان ایسے ہی خیالات، جذبات کی وجہ سے انتہاؤں سے پستی کا سفر طے کرتا ہے ۔ مگر غیر محسوس طریقے سے اگر محسوس کرلے تو شکست کو بھی کامیابی سمجھ لے ۔ ظلم، جبر تکبر کی نفسیات یہ ہے کہ بزدل انسان ان جرائم کو اپنے قلب سے پالتے ہیں ۔ قوت اختیار حاصل ہوتی ہے ۔ تو اک نیا رویہ اپنا لیتا ہے ۔ چونکہ کمزور انسانوں یا رشتوں کی کمی نہیں ہوتی ۔ لہٰذا اس کی قوت یا نخوت کے سامنے ڈھیر ہو جاتے ہیں ۔ اور سب کا کمزور ہوکر ان کی مجبوری اور پھر غلامی میں بدل جاتی ہے ۔ شخصیت کے بارے میں ایسے رجحانات کے حامل انسانوں کو ;80;hychotic کہا جاتا ہے ۔ یہ نفسیاتی مریض ہو تے ہیں ۔ ان کی خوشی کی انتہائیں ان کی فتح پانے میں پوشید ہوتی ہیں ۔ اور ان کی مایوسی کے ڈوبتے تارے ان کے اوسان خطا کرلیتی ہے ۔ فتح اور شکست دونوں انسان کی اپنی ذاتی افعال ہیں ۔ سب دونوں کا ایک ہی ہے ۔ کہ فتح کےلئے کو شش جائز یا نا جائز طریقے بھی کیوں نہ ہو ۔ اس کا نتیجہ قانون فطرت کے مطابق مرتب ہوتا ہے ۔ شکست کے اسباب بھی وہی ہیں ۔ حکمت و منصوبہ بندی کے بغیر اگلی منزل تک پہنچنے کےلئے ضروری ہے ۔ کہ آپ کا دھیان سو فیصد فتح ہی حاصل کرنا ہے ۔ تو آپ کی توجہ بٹ جا تی ہے ۔ دنیا میں جتنی بھی جنگیں ہو ئیں اپنی کامیاب حکمت عملی سے فتح یاب ہوئی ہیں ۔ جنگ اُحد کی شکست اور پھر فتح حکمت کی ایک مثال ہے ۔ یہ سب رویے کے بدلاوَ کا نتیجہ ہوتا ہے ۔ قرآن میں ارشاد ہیں ۔ ’’کہ مومن کو فتح یا کامیابی ملتی ہے،تو وہ آپے سے باہر نہیں ہوتے ، حتیٰ کہ وہ شکست اور تکالیف میں بھی مستحکم نظر آتے ہیں ۔ بلکہ مطمئن ہوتے ہیں ;238;کیوں ;238;وہ اس لئے کہ کام کوئی عظیم نہیں ہوتابلکہ اس کا مقصد عظیم ہوتاہے ۔ یہ صفت صبر و استقلال کی علامت ہے ۔ آج کے عہد میں انسانوں کو یہی عارضۃ لاحق ہے ۔ تنخواہ 20 ہزار سے دس لاکھ تک پہنچتی ہے تو اہ آپے سے با ہر ہو جا تے ہیں ۔ تکبر، غرور اور دکھاوَئے کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ اور یوں اپنے گھر ، عہدے اور سماجی کردار کے مقصد سے بیگانہ ہو جا تے ہیں ۔ اپنا رویہ ا اور زندگی کا ;80;attern بدل دیتے ہیں ۔ یہ گھر گھر کی کہانی ہے ۔ ہر صاحب اقتدار اور محکوم طبقات کی ہے ۔ کیو نکہ خواہشات ان کو کچھ دکھاتی ہیں ۔ دیکھ یہ لے لو، وہ لے لو! بچوں کا مستقبل، بیوی کیلئے لرزہ خیز تمنائیں ، معاشرے میں ;83;tatus کی آرزوئیں سب ان کے دشمن بن کر آگے پیچھے لشکر کی طرح گھیرا ڈالے ۔ اس کو بڑھتے ہی بڑھتے جانے کا دیتے جا تے ہیں ۔ ا س کو مزے، لذتیں اور شاندار مستقبل کے خواب آنے لگتے ہیں بلکہ یقین محکم ہوتا ہے کہ یہ میری عقل مند ی کا کرشمہ ہے ۔ یہ بھول جاتا ہے کہ اس کی یہی عقل اس کے اندھے جذبات کی پیروی میں ، اسے جہنم رسید کر دیتا ہے ۔ یہی فریب نفس ہے ۔ جسے قرآن نے کُھلا ہوا د شمن اور شیطان قرار دیا ۔ ہمارے ہاں شیطان کو اک وجود کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ۔ حالانکہ انسان کے اپنے ہی ’’سر کش جذبات‘‘ ہیں جو یہ کرتا ہے ۔ اس کے یہی جذبات اس سے یہ کرواتے ہیں ۔ چونکہ شیطنت یا سرکش جذبات تکبر، غرور اور نحوت تخیلاتی محل میں پرواں چڑھتے ہیں ۔ لہٰذا اس کے حصول کےلئے اس نے ہر قانون کو توڑتے جا نا ہے ۔ معاشرے کا تجویز کردہ قانون ان کے سامنے مطیع ہو جاتا ہے ۔ اور یہ انسان سے حیوان بن جا تے ہیں ۔ مگر قانون فطرت کا اٹل نتیجہ جب سامنے آتا ہے ۔ جس کا تعلق ان کی ذات سے ہو تا ہے ۔ تو آگے چلنے کے راستے مسدود ہو جا تے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ ’’غرور کا سر نیچا‘‘ یا ہر کما ل کو زوال ہے ۔ کی مصداق اوندھے منہ گر جا تے رہیں ۔ فتح کے بعد یہ دور ا بتلا ہے ۔ اس میں انسان کی ذات چوٹی سے ڈھلوان کی طرف سفر طے کر تی ہے ۔ اور اس کا سر جھکنے لگتا ہے ۔ یہ ’’مایوسی‘‘ کو بڑھاتی جا تی ہے ۔ حتیٰ کہ آج کی نفسیات اسے ;68;epression کہتی ہے ۔ اس ما یو سی کے عالم میں اس کو جان کے لالے پڑ جا تے ہیں ۔ یہ اپنی واماندگی سے بے حد پر یشان ن ہو جا تا ہے ۔ تب اس کے مکر کے وہ منصوبے سامنے آتے ہیں کہ ’’معافی ‘‘ مانگ کر اپنی جان چھڑاوئی جائے ۔ یہ رب سے بھی ہو سکتی ہے ۔ یا معاشرے یا افراد کے خلاف اپنی نخوت کے دوران کسی انسان سے بھی ہو سکتی ہے ۔ مگر چونکہ اس کو اپنی جان کی فکر ہو تی ہے جیسا کہ دوران تکبر اپنے ہی مفادات کے حصول کےلئے کرتا آرہا ہے ۔ اس کا اک رویہ دھپ جاتا ہے ۔ کہ اپنی جان بچانے کےلئے یا اختیار بڑھانے کےلئے شعلہ زبان ، شعلہ بیان، اور سر کش ہو جاوَ ۔ یہ شیطانیت ہے ۔ انسانی ذات کےلئے بھڑ کےلئے جذبات اور دوسرا پہلو جب یہ ما یو س ہو جا تا ہے ۔ تو معافیوں پر اُتر آتا ہے ۔ عربی میں ابلیس (ب، ل، س) مارے سے ہے ٹھکرایا ہوا، مایوس، نادم، پر یشان، بزدل وغیرہ ۔ یہ نفسیاتی امراض ہیں یعنی ظاہر کچھ اور باطن میں کچھ ۔ قول و فعل میں تضاد ۔ قرآن نے اسے ’’منافقت‘‘ قرار دیا ہے ۔ اور منافقت کےلئے ’’معافی‘‘ ہر گز نہیں ۔ دراصل یہ دو ;69;xtremists ہوتے ہیں ۔ سر کشی اور اس کے نتیجے میں مایوسی سب قانو ن فطرت کے تقاضوں سے بغاوت ہے ۔ اس کا نتیجہ وہی مرتب ہو تا ہے ۔ چا ہے کوئی نبی ہو یا عام انسان ۔ لا مبدل لکمت اللہ’’اللہ کے قانون میں سختی ہے یہ بدل نہیں سکتا ۔ حتیٰ کہ اللہ خود بھی اپنے قوانین کا پابند ہے‘‘لچک وہاں پر آجاتی ہے کہ جب انسان اپنی ’’اصلاح‘‘ خود شروع کردے ۔ تو اس کے بار یاب ہونے کے امکانات روشن ہیں ۔ مگر ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ انسان اپنی طنت ظاہری طور پر بد لنا چا ہتا ہے ۔ آپ نگاہ اُٹھاکے دیکھ لیجئے ۔ آپ کے اندر بھی ایسا ہی انسان چُھپ کر تاک لگائے بیٹھا ہے ۔ جو سرکش بھی ہے اور مایوس بھی ہے ۔ سر کشی کی کیفیت کے دوران مایوسی نظر نہیں آسکتی ہے ۔ کیونکہ لذت اور خوشی میں کہاں دُکھ ، آفت یا مصیبت محسوس کی جا سکتی ہے اور جب مایوسی عذاب بنکر گھیر لیتی ہے تمنا شدید تو ہو سکتی ہے ۔ مگر اس سے نکلنے کےلئے اپنی ذات کے خلاف جہاد کرنا پڑتا ہے ۔ اپنے نفس ، خواہشات اور بے لگامی کی اطاعت میں کئے گئے جرائم من سے ، دل سے، سچے عمل سے کر کے دکھانا ہوگا ۔ تبھی تو بار یاب ہو جا سکتا ۔ لہٰذا فریب نفس سے نکلنا ضروری ہے ۔ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے ۔ یہی تو بات ہے جو سمجھ میں نہیں آتی ۔