- الإعلانات -

پی ای سی کا ادارہ مقاصد کے حصول مےں ناکام

اےک قومی روزنامے کی خبر کے مطابق پنجاب اےگزامےنےشن کمےشن کے زےر اہتمام ہونے والے امتحانوں مےں بھی غےر قانونی ہتھکنڈوں کا استعمال عام ہے خاص طور پر امتحانی مےٹےرےل کی سےکورٹی کا مسئلہ سامنے آ رہا ہے ۔ اگر ہشتم کے امتحانات مےں سنجےدگی نہےں دکھائی جا سکتی تو کےا جواز ہے کہ اس سے اوپر کی سطح کے امتحانات پوری طرح شفاف انداز مےں لئے جاتے ہوں گے ۔ معزز قارئےن ےہ تو حالےہ پےک کے زےر اہتمام ہونے والے ہشتم کے امتحان کے حوالے سے اےک خبر تھی لےکن حکومت پنجاب نے بتدرےج پےک کے زےر اہتمام ہونے والے امتحانات کے خاتمے کا اعلان کر دےا ہے ۔ اس بار پنجم کے امتحان سے پنجاب اےگزامےنےشن کمےشن نے ہاتھ اٹھا لےا ہے اور اگلے سال ہشتم کا امتحان بھی اس ادارے کے زےر اہتمام نہےں ہو گا ۔ مےرے معزز قارئےن کے علم مےں ہو گا کہ پنجاب گورنمنٹ نے طلبا ء کےلئے اندرونی جائزے اور امتحانات کا نےا انقلابی نظام پہلی جماعت سے آٹھوےں جماعت تک متعارف کراےا ۔ اس تبدےلی کےلئے ڈاےرےکٹورےٹ آف سٹاف نے پورے اےک سال تک کام کےا اور ےہ نظام ےکم اپرےل 2002ء سے نافذالعمل ہوا ۔ اس جائزے کے نئے نظام مےں بغےر امتحان کے طالب علموں کو اگلی جماعت مےں ترقی دےنا مقصد ٹھہرا ۔ لےکن اس نظام کے ناکام ہونے پر پھر پاس فےل سسٹم کو لاگو کرنا پڑا ۔ پاکستان مےں اصلاح نظام تعلےم سے وابستہ ارباب اختےار کا کہنا تھا کہ اس نئے نظام کا مقصد طلبہ کو اپنی صلاحےتوں سے آگاہی حاصل کرنے مےں مدد دےنا اور ملک کی معاشرتی و معاشی ترقی مےں باعمل کردار ادا کرنے کےلئے متحرک انسان بنانا ہے ۔ ہمےشہ وطن عزےز مےں بےشتر فےصلے اکابرےن اختےار اپنی صوابدےد کے مطابق کرتے آئے ہےں ۔ زمےنی حقائق سے ہمےشہ چشم پوشی کی جاتی رہی ۔ نتےجتاً خلفشار پےدا ہونا ےقےنی امر تھا ۔ پالےسےاں بنانا چنداں مشکل نہےں ہوتا ،چند بےورو کرےٹس اور سےاسی زعمابےٹھ کر حسےن پالےسےاں بنا لےا کرتے ہےں لےکن بڑے فےصلے خواہ وہ تعلےمی حوالے سے ہوں ےا اقتصادی حوالے سے مکالمے کی فضا چاہتے ہےں ۔ اےسے فےصلے ہی دےرپا اور استحکام بخش ہوتے ہےں اس طرح اجتماعی دانش کو بروئے کار آنے کے مواقع ملتے ہےں ۔ مشاورت سے کئے گئے فےصلے صحت مند توازن کو قوت فراہم کرتے ہےں اور جو بحران پےدا ہی نہےں ہونے دےتے ۔ نظام تعلےم کے حوالہ سے حکومت پنجاب نے جو نےا انقلابی نظام متعارف کراےا ،تعلےم پورے ملک کا مسئلہ ہے نہ صرف صوبہ پنجاب کا ۔ اگر امتحانات کا ےہ منصوبہ مفےد تھا تو اسے پورے ملک مےں اےک ساتھ نافذ کرنے کی ضرورت تھی ۔ لےکن نہ جانے کن وجوہات کی بنا پر صوبہ پنجاب کو ہی کےوں پہلی تجربہ گاہ کے طور پر منتخب کےا گےا ۔ پھر اس جائزے کے نئے نظام کے حوالہ سے اےسی خبرےں اخبارات کی زےنت بنتی رہےں کہ پنجاب اےگزمےنےشن نے آٹھوےں جماعت کے امتحان مےں تمام پرچوں سے آءوٹ رہنے والی طالبہ کو اول پوزےشن سے نواز دےا ۔ ہماری ےہ عادت ہے کہ ہم مغرب کے ہر عمل کی بغےر جانچے پرکھے نقل کرتے ہےں ۔ ہمارے پالےسی سازوں کو اپنے ملک کے حالات ،ماحول ،وسائل اور اقتصادی حالات کو مد نظر رکھ کر پالےسےاں مرتب کرنے کی عادت ہی نہےں ۔ کےا راقم اپنے پالےسی ساز ارباب اختےار سے ےہ پوچھنے کی جسارت کر سکتا ہے کہ آےا جن ممالک سے ےہ جائزے کا نظام لےا گےا ان جےسی سہولتےں پاکستان مےں موجود ہےں ۔ وطن عزےز مےں اےسے تجربات پر اربوں روپے کا اصراف ہوتا ہے اور جب ےہ نظام فےل ہوتا ہے تو اس ناکامی کی ذمہ داری قبول کرنے کےلئے کوئی تےار نہےں ہوتا ۔ کوئی بھی ذی ہوش وطن عزےز کے اکثر سکولوں اور خصوصاً پرائمری سکولوں کی حالت زار دےکھنے کے بعد اےسے غےر دانشمندانہ تجربات کی اجازت نہےں دے سکتا ۔ خاطر خواہ عمارات ہےں نہ صحت مند ماحول ۔ بےشتر سکول بنےادی سہولےات پانی بجلی اور لےٹرےن سے محروم ،کئی سکول سنگل ٹےچر چلا رہے ہےں ،دور افتادہ دےہات مےں بچےوں کے پرائمری سکول بند پڑے ہےں ۔ پاکستان کا المےہ رہا ہے کہ ہم مغرب کے ہر عمل کی بغےر جانچے پرکھے نقل کرتے ہےں ۔ معزز قارئےن ےہ بات اچھی طرح ذہن نشےن کرنے کی ہے کہ تہذےب و ثقافت کے امتےازی پہلو ہم مےں ےہ شعور پےدا کرتے ہےں کہ ہم دوسروں سے جدا ہےں اور کس طرح اپنے انفرادی کردار کو محفوظ رکھ سکتے ہےں کسی فرد کا وجود اسے تب ہی ممتاز کرتا ہے کہ اس مےں ےہ شعور اجاگر ہو کہ واقعی مےں اےک وجود ہوں منفرد اور ممتاز کسی ہےت اجتماعےہ کا وجود اس شعور پر منحصر ہے کہ ہم دوسروں سے جداگانہ مخصوص اور انفرادی صفات ملی و معاشری کے حامل ہےں اگر کسی معاشرہ سے ےہ شعور چھےن لےا جائے تو اس معاشرہ کا باقی رہنا محال ہے ۔ ارباب اختےار جو مغرب کی بغےر سوچے سمجھے نقالی پر کمر بستہ ہےں اس کی تہہ مےں ےہی منصوبہ کارفرما نظر آتا ہے اور دکھائی اےسا دےتا ہے نہ ہمارا ماضی ہے نہ ہماری پشت پر کوئی تارےخ ہے ،اگر کسی کا ماضی لائق تحرےر و بےان ہے تو اقوام مغرب کا مستقبل ہے تو ان کا ،تارےخ ہے تو ان کی ،ثقافت ہے تو ان سے ،فلسفہ ہے تو ان کا،علوم ان کے اور فن ہے تو انہی کا،ادب ان کا ،تہذےب ان کی اور ظاہر ہوتا ہے کہ ہم مغربی تہذےب کی کمخواب مےں ٹاٹ کا پےوند ہےں ۔ (باقی;58;سامنے والے صفحہ پر)