- الإعلانات -

’’عیش پرست بلوچ طبقات ‘‘ کا بائیکاٹ کیاجائے

ایک دوست بڑے باخبر صحافی دانشمندانہ تجزیاتی گفتگوکا اْن کا اپنا ایک دلپذیر انداز ہے ایک روز ہم نے اْن سے پوچھ لیا ’’ذرا یہ توبتائیے آخر بلوچستان کا مسئلہ کیا ہے;238; ‘‘اْنہوں نے فورا کہا ’’پہلے ایک تصحیح کردوں یہ جو بار بار بلوچستان کے عوام کوہم ’’بلوچی‘‘کہہ کرمخاطب کرتے رہتے ہیں ،جناب والہ! ہ میں اپنے طرز تخاطب کی اس بے گانگی کو فی الفور بدلنا ہوگا ’’بلوچی،بلوچی‘‘کہہ کہہ کر ہ میں یہ احساس ہی نہیں رہتا کہ ’’بلوچی‘‘ہونے کے ساتھ پہلے وہ ’’پاکستانی‘‘ ہیں پھر ’’بلوچی‘‘ جیسے صوبہ خیبر پختونخواہ کے رہنے والے ’’پٹھان،صوبہ سندھ کے رہنے والے سندھی اورصوبہ پنجاب کے رہنے والے پنجابی ہیں ، یہ چاروں صوبے ان صوبوں کی ثقافتی وسماجی رنگا رنگیوں کی شناختیں دنیا بھر میں ایک متحدہ اور خود مختارمسلم ریاست پاکستان کی پہچان کو اجاگرکراتیں ہیں ‘‘جب تک آپ انہیں ’’پاکستانی‘‘ کے بجائے صرف ’’بلوچی‘‘کے نام سے پکارتے رہیں گے بلوچی عوام اپنے آپ کو قومی دھارے کا حصہ نہیں سمجھیں گے جس کسی نے بھی نجانے کب یہ ریت روایت پروان چڑھائی ’’بلوچی عوام ۔ بلوچی عوام ‘‘ پاکستان کا اہم ترین صوبہ بلوچستان ملک کے دیگر صوبوں سے کٹتا چلا گیا یوں یہ ایک امتیازی رویہ ہماری قومی سیاست کا جزو بن گیا ’’بلوچستان کی محرومیاں ، بلوچستان کے مسائل‘‘اکہتربرس ہوچکے ہیں ان گزرے ہوئے اکہتر برسوں میں مارشل لاوں کا دور ایک طرف کریں اگر مارشل لاز کے عہد میں دیکھا جائے تو بلوچستان میں ’’بلوچستانی عسکری جنرلز وہاں تعینات کیئے گئے،جمہوری ادوار میں بلوچستانی سیاستدانوں نے گورنرز اور وزارت اعلیٰ کے قلمدان سنبھالے اعداد وشمار نکال لیں قلات کے خوانین نے کتنے عرصہ تک صوبہ بلوچستان کی صوبائی حکومت کی باگ دوڑ سنبھالی ہیں سوال پیدا ہوتا ہے کہ انیس سواکہتر کے بعد ایسے وہ کون سے سیاسی اختلافات بہت زیادہ ابھرکر سامنے آئے کہ اْس وقت کے اعلیٰ مقتدر بلوچ قبائل کے سردار یکدم ’’پاکستان مخالفت‘‘کے راستے پر چل نکلے اوروہ پہاڑوں پر جابیٹھے;238; سب سے پہلے یہ سوچیں کہ مرحوم اکبربگٹی پہاڑوں پر جابیٹھنے والے اْس وقت کے بلوچ قبائل کے’پاکستان سے ناراض سرداروں ‘ کے مسائل پاکستان کی مرکزی حکومت سے خوش اسلوبی سے طے کرانے میں اپنا آئینی فرض نبھانا تو رہا ایک طرف’’زمینی فرض‘‘ادا کرنے میں بھی سیاسی مفادات کی ڈنڈیاں مارنے میں اپنا سارا ٹائم ہی گزاردیا صرف بگٹی قبیلہ نے نہیں ہر اہم بلوچی قبیلے کے سردار نے قوم پرستی کی بلادستی کی صدیوں کی اپنی لڑائیوں میں اپنا ’’حصہ بقدرجسہ‘‘ضرورڈالے رکھا یہی وجوہ رہی ہے کہ بلوچستان میں قبائلی تنازعات کی وجہ سے نچلے طبقہ کے غریب بلوچ عوام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے ’’نہیں کی گردان کرنے والے نہیں نہیں کرتے رہیں گے‘‘ لیکن زمینی سچ ماننا پڑے گا کہ ایک قبائلی معاشرہ ہونے کے ناطے بلوچستان میں قبائلی لڑائیوں میں لوگوں کی کل بھی ہلاکتیں ہوتی رہیں آج بھی ہورہی ہیں ،تعلیم اورشعور کے فقدان نے ثابت کیا ہے کہ’’اگر قبائلی تنازعات میں کوئی مارا جاتا ہے تو مارنےوالا آگے بڑھ کراپنا سینہ تان کر اس کی ذمہ داری قبول کرتا ہے‘‘ تونتیجے میں مقتول قبائل والے قاتل قبائلی کی نشاخت ہونے کے بعد اس قتل کا بدلہ ضرور لیتے ہیں موقع کی تلاش میں رہتے ہیں ، لیکن بلوچستان کے قبائلی تنازعات میں ’’بچاو‘‘کا ایک نیا’’عیارانہ پہلو‘‘ خودبخود اْس وقت مغرب کے سامنے آیا جب بلوچستان کے زمینوں اور پہاڑوں کے اندر چھپی بے پناہ قیمتی دولت کے وسائل سے مغربی دنیا کے آقا آشنا ہوئے امریکا بلوچستان کولالچائی ہوئی نظروں تاکنے لگا پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کو بلوچستان کے پیچھے لگادیا جب سے گوادر بندرگاہ کامسئلہ علاقائی کے ساتھ ساتھ عالمی ایشو کے طور پر سامنے آیا تو پاکستان فوج اپنا آئینی دفاعی فرض اداکرنے پر کمربستہ ہوئی اور دفاعی نکتہ نظر سے پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی اہمیت وفوقیت بڑھی تو پاکستان کے جانے مانے دشمنوں نے ایک تیر سے کئی شکار کرنا شروع کردئیے شائد فروری 2011 کی بات ہے راقم کو صحافیوں کے ایک وفد کے ساتھ بلوچستان جانا پڑا، لورالائی بلوچستان میں اْس وقت کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ’’کاساہل پراجیکٹ لورالائی‘‘کا افتتاح کرنا تھا راقم اس اہم تقریب میں شریک تھا جہاں بلوچستان کے کئی نامی گرامی صحافی اور سماجی کارکنوں سے ملاقات کاموقع ملا تو باہمی گفتگو کی نشست میں یہ سن کر بڑی حیرت ہوئی واقعہ کچھ یوں تھا ’’چند ماہ قبل ہمارے اماراتی اسلامی ریاستوں کے شہزادے بلوچستان کے علاقہ میں شکار کے لئے آئے، جنہیں مکمل پروٹوکول دیا گیا ،جن سرکاری ریسٹ ہاوسنز میں عربی شہزادوں کو ٹھہرایا گیا تھا رات گئے اچانک کھلبلی مچ گئی اْن عربی شہزادوں میں سے دو شہزادے اپنے ریسٹ ہاوس سے غائب پائے گئے بلوچستان کی مقامی انتظامیہ میں سراسیمگی پھیل گئی اعلیٰ سیکورٹی ادارے چوکنا ہوگئے فونز بجنے لگے فوجی،ایف سی اور پولیس حکام کی گاڑیاں دوڑنے لگیں اعلیٰ سطحی بھگدڑ کے نتیجے میں دوگھنٹوں کے اندر ہی غائب عربی شہزادوں کی یازیابی ممکن ہوئی جوکہ زیریں بلوچستان کے ایک علاقہ سے کالعدم بلوچ تنظیم کے ایک اہم رہنما کے گھرموجود پائے گئے جہاں وہ تین بریف کیس میں لاکھوں ڈالرکے ساتھ موجود تھے عقدہ کھلا ’’ہمارے ہی اسلامی بھائی مالک گوادر سی پورٹ کی تکمیل کے خلاف ’’ناراض بلوچ بھائیوں ‘‘کو رشوت دیتے ہوئے دیکھے گئے‘‘ یہ معاملہ فورا ًہی دبا دیا گیا اور صبح کی پہلی فلاءٹ سے ’’شکاری عرب شہزادوں ‘‘ کو واپس روانہ کردیاگیا اب پتہ چلا کہ بلوچستان میں لوگ لاپتہ کیوں ہوتے ہیں جناب والہ!لاپتہ ضرور ہوتے ہیں گمنامی میں مارے جاتے ہیں نہ اْن کی لاشیں مسخ کی جاتی ہیں ’’را‘‘ اور امریکی ایجنسی ’’سی آئی اے‘‘نے یہ ’’گْر‘‘ بلوچوں کو بخوبی سمجھادیا ہے کہ اب قبائلی تنازعات میں باہمی قتل وغارت گری میں ’’غیرت مندی اور بہادری‘‘کا تماشا کیوں لگا یاجاتا ہے;238;سیدھی سیدھی’’خاموشی‘‘سادھ لی جائے، ہ میں گمنام ہونے والوں کا قصہ بتادیا کریں ، ہم یہ ملبہ پاکستانی سیکورٹی اداروں پر ڈال دیا کریں گے یوں پاکستانی فوج صفائیاں دیتی رہے گی ہم مانیں گے آپ کے قبائلء تنازعات کی دشمنیاں بھی یونہی چلتی رہیں گی اور بلوچستان کی نام نہاد محرومیوں کے نام پر قبائلی سرداروں کے لڑکوں کی بیرون ملک عیاشیوں کا سلسلہ بھی جاری رہے گا‘‘ لہٰذا عام بلوچ لوگوں کو چاہئے کہ وہ تعلیم، صحت اور دیگر وسائل کی بہتری کےلئے جدوجہد کریں نہ کہ گوادر میں چند معمولی عہدوں کےلئے کیونکہ اس کوشش میں ہوگا یہ کہ عام آدمی کوعہدے ملنے کے بجائے سرداروں کے عیش طبیعت لڑکوں کو اْن کے چند قریبی دوستوں کو بڑے عہدے مل جائیں گے پاکستان میں ویسے بھی سرداروں ‘ خوانین‘ ملکوں ‘ چودھریوں ، سندھ کے پیروں وڈیروں ، ا سٹبلیشمنٹ کے سیاسی نمک خوار افسروں اور چند کرپٹ سیاست دانوں نے ملک کے ہزاروں اور لاکھوں تنگ دست محنت کشوں کے بنیادی حقوق پرپہلے ہی قبضہ کیا ہوا ہے، جبکہ بلوچ قبائلی اشرافیہ بلوچستان کے مستحق افراد کی قیمت پر خوب لطف اندوز ہورہے ہیں عام بلوچ پاکستانی عوام آج بیدار نہیں ہونگے تو پھر کب اپنے حقوق کے حصول کےلئے بلوچ سرداروں کے عیش طبیعت لڑکوں کی غلامی سے آزاد ہونگے