- الإعلانات -

مسئلہ کشمیر بارے ترک صدر کا واضح موَقف

گزشتہ روز ترک صدر رجب طیب اردوان نے پاکستانی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں مسئلہ کشمیر کاذکر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق پرامن طور پر حل ہونا چاہئے ۔ ترکی مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا ہے اور ہ میں یکطرفہ اقدامات کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر کی خراب ہونے والی صورتحال پر انتہائی تشویش ہے ۔ ہم مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی قرارداوں اور کشمیری بھائیوں کی خواہشات کے مطابق پرامن حل چاہتے ہیں ۔ مشترکہ پریس کانفرنس میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں 80 لاکھ کشمیریوں کو آٹھ لاکھ بھارتی فوج نے چھ ماہ سے زائد عرصہ سے محصور کر رکھا ہے ۔ کشمیری قیادت جیلوں میں بند ہے ۔ مقبوضہ کشمیر پاکستان اوربھارت کے درمیان ایک متنازعہ علاقہ ہے ۔ اس حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں جن کے مطابق کشمیر کے عوام کو ان کا حق خودارادیت دینے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن بھارت نے ان کے بنیادی حقوق سلب کر رکھے ہیں ۔ ترک صدر کے مسئلہ کشمیر پر موقف کی ماضی میں مثال نہیں ملتی ۔ مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے ترک صدر نے کہا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74ویں اجلاس میں کشمیر کا دفاع کرتے ہوئے ہم نے اس مسئلے پر ہماری ملک کی حساسیت کا ایک مرتبہ پھر برملا اظہار کیا تھا ۔ ہمارے کشمیری بھائیوں کو سالوں سے درپیش مشکلات میں حال ہی اٹھائے گئے یکطرفہ اقدامات سے مزید اضافہ ہوا ہے جس سے یہ مسئلہ مزید خطرناک صورتحال اختیار کرگیا ہے ۔ پہلے سے ہی مشکل حالات میں کشمیریوں سے آزادی اور حاصل شدہ حقوق کو چھیننا کسی کے مفاد میں نہیں ہوگا ۔ مسئلہ کشمیر کا حل جھڑپوں یا جبری پالیسیوں سے نہیں بلکہ انصاف کے احساس پر مبنی ہے ۔ اس سے قبل ترک صدر رجب طیب اردوان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران مسئلہ کشمیر اٹھایا تھا جس میں انہوں نے دنیا کو یہ باور کرایا تھا کہ جنوبی ایشیاء میں استحکام و خوشحالی کو مسئلہ کشمیر سے الگ نہیں کیا جا سکتا ۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود 80لاکھ افراد مقبوضہ کشمیر میں محصور ہیں ۔ محفوظ مستقبل کےلئے مسئلہ کشمیر کا جنگ کی بجائے مذاکرات سے حل لازمی ہو گیا ۔ گو کہ ترکی کے بھارت کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں مگر صدر طیب اردوان نے کسی بھی تعلق اور مصلحت کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اصولی موقف اختیار کیا اور دوٹوک انداز میں کشمیریوں کی حمایت کی ۔ یہ پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کو ظاہر کرنے کے ساتھ ساتھ ان مسلم ممالک کےلئے لمحہ فکریہ بھی ہے جو بھارت کی ناراضی کے خدشے کے باعث کشمیریوں پر بھارتی بربریت کے خلاف بات کرنے پر تیار نہیں ہیں ۔ مسئلہ کشمیر وفلسطین ستر سال سے حل طلب ہے ۔ ان خطوں میں بسنے والے مسلمان مسلسل عذاب میں مبتلا ہیں ۔ طیب اردوان نے اقوام عالم پر واضح کیا کہ ہم مقبوضہ کشمیر سے عوام کے حقوق اور مقبوضہ بیت المقدس کی حفاظت کےلئے کسی دھمکی اور دھونس کی پروا نہیں کرینگے ۔ 60 کے قریب مسلم ممالک متحدہ ہو کر اس جذبے کے ساتھ سامنے آئیں تو کشمیر اور فلسطین کی آزادی کیساتھ مسلمانوں کے د یگر تنازعات بھی طے ہو سکتے ہیں ۔ بھارت نے درحقیقت کشمیری عوام کے حق خودارادیت کیلئے اقوام عالم اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباءو کو ٹالنے کیلئے پاکستان کیخلاف جارحانہ کارروائیوں کا سازشی منصوبہ طے کیا ہے جس کی بنیاد پر کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی میں انکی عسکری معاونت کے حوالے سے پاکستان پر دراندازی اور نان سٹیٹ ایکٹرز کے ذریعے دہشت گردی کے بے سروپا الزامات عائد کرکے مودی سرکار دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی ناکام کوشش کرتی ہے تاہم کشمیری نوجوانوں نے دنیا بھر میں ہر عالمی فورم اور انسانی حقوق کی عالمی اور علاقائی تنظیموں کا دروازہ کھٹکھٹا کر اور سوشل میڈیا کے ذریعہ مسئلہ کشمیر اور بھارتی جبرو تسلط کو اجاگر کرکے عالمی رائے عامہ کو اپنے حق خودارادیت کے ساتھ ہم آہنگ کر دیا ہے ۔ آج جس طرح اقوام عالم کی جانب سے کشمیریوں کے حق خودارادیت کیلئے بھرپور آوازیں اٹھ رہی ہیں ‘ یواین سلامتی کونسل‘ یورپی پارلیمنٹ‘ امریکی کانگرس‘ برطانوی پارلیمنٹ اور او آئی سی سمیت تمام نمائندہ فورموں اور مسلسل پانچ بار ثالثی کی پیشکش کی صورت میں امریکی صدر ٹرمپ اور دوسری عالمی قیادتوں بشمول چین‘ روس‘ ترکی‘ ملائیشیا کی جانب سے مسئلہ کشمیر کے حل اور مقبوضہ وادی میں حالات معمول پر لانے پر زور دیا جارہا ہے ۔ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے عالمی سنجیدگی کا ہی عکاس ہے جبکہ مسئلہ کشمیر کے حل کی راہ خود بھارت کی مودی سرکار نے اپنے ننگ انسانیت اور انتہاء پسندانہ اقدامات کے ذریعے ہموار کی ہے ۔ پاکستان اور ترکی نے مقبوضہ کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کشمیری بھائیوں کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا ۔ ہم کشمیریوں پر ظلم کیخلاف آواز اٹھانے پر ترک صدر کے شکر گزار ہیں ۔