- الإعلانات -

کچھ یادیں کچھ باتیں

یہ سچ ہے کہ جانے والوں کو کہاں روک سکا ہے کوئی ،ان جانے والے وکلا میں مرحوم جسٹس گلزرین کیانی ، مرحوم راجہ بشیر سابق پروسیکیوٹر جنرل نیب ، مرحوم راجہ انور مرحوم جسٹس تنویر بشیر انصاری، مرحوم مولوی سراج الحق ، مرحوم ربنواز نون، مرحوم چوہدری زمرد حسین ،مرحوم مرزا انور بیگ ، مرحوم چوئدری نصرا;203; وڑاءچ ، مرحوم سید کاظم خان، مرحوم چوئدری محمد اشرف والہ، مرحوم جسٹس میاں آفتاب فرخ، مرحوم جسٹس فخرالدین اپراہیم عرف فخرو بھائی، مرحوم شریف الدین پیزادہ ، مرحوم حفیظ پیزادہ ، مرحوم شیخ فرید الدین ، مرحوم خالق حسین بھٹی ، مرحوم خواجہ سعید الدین ، مرحوم چیف جسٹس پنجاب افتخار حسین چوہدری، مرحوم راجہ محمد عجائب ، مرحوم سردار محمداسحاق خان ، مرحوم ملک محمد نواز خان ، مرحوم چوہدری عبدلمناف ،مرحوم چوئدری الظاف حسین ،مرحوم میاں اشتیاق حسین،مرحوم محمد اعظم خان سلطان پوری ، مرحوم میاں ریاض احمد ، مرحوم مرزا محمد عنصر ، مرحوم راءو اقبال ، مرحوم چوہدری لطیف ، مرحوم رانا عارف محمود ، مرحوم سلیم شیرانی ، مرحوم اسلام ، مرحومہ ناہید ہ محبوب الٰہی، مرحوم راجہ عبدالرحیم ، مرحوم ایڈیشنل جج رفاقت اعوان ، مرحوم شفقت خان ، مرحوم ایس پی رضا ، مرحوم تنویر حسین شاہ ، مرحوم عبدالبصیر قریشی، مرحوم ایف کے بٹ ، مرحوم جسٹس عبدل کریم خان کندی ، مرحوم عبدالرحمان صدیقی ، مرحوم چوئدری قیوم ، مرحوم نعیم شیخ ، مرحوم یوسف خان، مرحوم سید انور شاہ ، مرحوم سید المبر دار رضا ، مرحوم برلاس حسین یہ سبھی وکلا ا ;203; کو پیارے ہو چکے ہیں ۔ یعنی کیا کیا صورتیں تھیں جو خاک میں پنہا ہو گئیں ۔ معذرت ان سے جن کے نام یاد نہ رہنے پر یہاں لکھ نہیں سکا ۔ حال ہی میں راولپنڈی کے نہایت پیاری شخصیت ایڈووکیٹ سپریم کورٹ مرحوم آفتاب احمد خان بھی اس دنیا سے اسی ہفتے رخصت ہوئے ۔ ان سب شخصیات کو کوئی کیسے بلا سکے گا ۔ دعا ہے اے ا;203; ان سب شخصیات جو اب ہم نہیں رہیں ان سب کے درجات بلند فرما ۔ میرا آج کا کالم مرحوم سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ کے نام ہے ۔ ملک صاحب کا آبائی شہر ہری پور اور گاءوں سکندر بورہ تھا مگر وکالت آپ کو راولپنڈی اسلام آباد میں لے آئی ۔ اسلام آبا د میں ڈھیرے ڈالے اور بطور فوجداری وکیل کے اپنا لوہا منوایا ۔ سمارٹ ،خو ش لباس ، خوبصورت انسان اور وکالت کے پیشہ میں رزق کے ساتھ وکالت میں اپنا نام بھی کمایا اور شہرت کی بلندیوں کوبھی چھوا ۔ افسوس ہے کہ بے شمار خوبیوں کے مالک ہونے کے باوجود آپ کو جانے سے نہیں روک سکا اور چلے گئے اب ہم میں نہیں رہے ۔ ۱۲ فروری بروز ہفتہ کچھ عرصہ اسپتال رہنے کے بعد اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ۔ اس سے قبل آپ کی زوجہ محترمہ اور ملک فیصل رفیق ایڈووکیٹ کی والدہ بھی کچھ ہی عرصہ قبل اس دنیا سے رخصت ہوئیں تھیں ۔ ملک صاحب اس صدمے سے بھی دوچار تھے اور کچھ عمر کا تقاضا بھی تھا ۔ جس کی وجہ سے جلد ہی یہ بھی دنیا چھوڑ گئے ۔ آپ کے دو بیٹوں میں سے ملک فیصل رفیق ہی اپنے والد کے پیشہ وکالت سے منسلک ہوئے ۔ آپ ایڈووکیٹ سپریم کورٹ اور اے او آر ہیں ۔ مرحوم ملک محمد رفیق سے راقم کی قربت کی ایک وجہ میرا کالم لکھنا بھی تھا ۔ آپ نے پہلی ہی ملاقات پر بتا یا کہ میں کافی عرصے سے آپ کے کالم پڑھ رہا ہوں ۔ مجھے گلے لگا کر بتایا کہ آپ کے کالم دلچسپ ہوتے ہیں ۔ پھرمجھے اپنا فون نمبر دیا اور میرا فون نمبر لیا ۔ اکثر کالم پسند آنے پر خوشی کا اظہار کرنے کےلئے فون بھی کرتے ۔ حو صلہ افزائی بھی کرتے ۔ جس روز آپ کے انتقال کی خبر ملی راقم اپنے دوست بھائی ایڈیشنل اٹارنی جنرل اسلام آباد طارق محمود کھوکھر کے فارم ہاءوس پر چند صحافی و وکلا دوستوں ، میرصاحب ، مطیع ا;203; جان نوائے وقت ، ڈان اخبار کے ناصر اقبال ، جیو کے قیوم صدیقی اور ایکپریس کے ملک احسنات ، سابق اسسٹنٹ اٹارنی جنرل ملک ظہور اعوان سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل خالد عباس خان اور شبیر کھوکھرہم سب دوپہر کے کھانے پر مدعو تھے ۔ کھانا کھانے کے بعد اطلاع ملی کہ ایڈووکیٹ ملک محمد رفیق ا ;203; کو آج پیارے ہو گئے ہیں اور شام کو ہری پورکے گاءوں سکندر پورہ میں نماز جنازہ ادا کی جائے گی ۔ پھر اسی شام ملک ظہوراعوان ایڈووکیٹ کی قیادت میں طارق محمود کھوکھر اور جونیئر وکیل خٹک کے ہمراہ ہری پور کےلئے روانہ ہوئے ۔ جب ہری پور پہنچے تو جنازہ ہو چکا تھا لیکن تد فین کا عمل جاری تھا ۔ آخری دعا میں شامل ہوئے ۔ جنازے میں راولپنڈی اسلام آباد کے وکلا میں ، سنیئر سپریم کورٹ ایڈووکیٹ الیاس صدیقی ہارون رشید ، چوہدری حسیب ، ملک جواو خالد، راولپنڈی بار کے جوانیٹ سیکٹری وقاص کیانی اور منظر شبیر نے بار کی قیادت کرتے ہوئے قبرپر پھول چڑھائے ۔ اس موقع پر وہاں پر موجود ہر ایک کی آنکھ نم تھی ۔ اب آپ ہم میں نہیں رہے مگر آپ کی یادوں کی شمع اب بھی روشن ہے اور ہمیشہ روشن رہے گی ۔ کافی پرانی بات ہے ایک روز ملک صاحب کا مجھے فون آیا کہ ہم اسلام آباد میر کے فارم ہاءوس میں میاں نواز شریف کے ساتھ گپ شپ کریں گے ۔ کھانا کھائیں گے ۔ آپ نے مجھے ضرور آنے کی بار بار تاکید کی ۔ میں نے کہا ایک شرط پر آءوں گا اگر میاں نواز شریف سے آپ مجھے جھپی کا وعدہ کریں تو آپ کی یہ آفر مجھے منظور ہے ۔ کہا یہ شرط منظور ہے ۔ ملک صاحب کے بڑے بیٹے ایڈووکیٹ ملک فیصل کو بتا دیا کہ تمہارا دوست طلعت بھی آ رہا ہے مجھ سے پہلے ملانا ۔ پھر ہم اکھٹے میاں صاحب سے ملنے جائیں گے ۔ پھر ملک فیصل نے ایسا ہی کیا مجھے پہلے اپنے ابو سے ملانے لے گیا ۔ آپ نے دور سے مسکراتے ملے ، گلے لگایا اور ہاتھ سے پکڑا اور میاں نواز شریف کے پاس لے گئے ۔ کہا میاں صاحب آپ نے اس سے ہاتھ ہی نہیں ملانا بلکہ گلے بھی لگانا ہے ۔ تانکہ میرا اس سے کیا ہوا وعدہ پورا ہو سکے ۔ میاں نواز شریف بھی خوشگوار موڈ میں تھے ۔ پہلے مجھ سے ہاتھ ملایا پھر کہا ملک صاحب کا حکم ہے پھر میاں نواز شریف نے راقم کو نہ صرف گلے لگایا بلکہ گلے سے لگا کر دباتے ہوئے کہا کیا مزید دباءو یا اتنا ہی کافی ہے ۔ میں نے میاں صاحب سے کہا میں نے تو مذاق میں ایسی خواہش کا اظہار کیا تھا لیکن یہ ملک صاحب نے سچ کر دکھایا ہے ۔ یہ خلوص پیار ہمیشہ مجھے یاد رہے گا ۔ میاں صاحب کا فیملی فوٹوگرافر بلتی ہوا کرتا تھا جو اب وہ بھی ا ;203; کو پیارا ہو چکا ہے ۔ میاں صاحب نے بلتی سے کہا پہلے ہماری سب کے ساتھ ایک گروپ فوٹو بناءو اور پھر میری اور ملک صاحب کے ساتھ الگ سے فوٹو بناءو ۔ کہا ملک صاحب والی یہ فوٹو بلتی تم نے مجھے فریم کرا کر دینی ہے ۔ میں اس فوٹو کو اپنے آفس میں لگاءوں گا ۔ میاں صاحب نے بھی ملک صاحب سے بھی ایک جھپی ڈالی ۔ جس سے لگ رہا تھا میاں نواز شریف ملک محمدرفیق سے دل سے پیار اور آپ کا دل سے احترام کرتے تھے ۔ ہمارے سینئر ایڈووکیٹ ملک محمد رفیق مرحوم کو کوئی کیسے بلا سکے گا کوئی ، آپ محنتی اور اپنی وکالت کے پیشے سے عشق کرنےوالی شخصیت تھے ، ہمیشہ دوستوں کے دوست رہے ،جونیئر سے پیار سے پیش آتے ۔ کسی جونیئر وکیل نے قانون کے حوالے سے کبھی بھی مشورہ مانگا تو ہمیشہ ان سے خندہ پیشا نی سے پیش آتے ۔ عدالت میں آپ کے پیش ہونے سے جج بھی اتنے ہی خوشی کا اظہار کرتے تھے جتنے آپ کے جو نیئر وکلا اور کلائنٹ ۔ کیونکہ ججز بھی آپ سے سیکھتے تھے ۔ کیس کرتے وقت آپ سے آپ کے مخالف وکیل بھی خوش رہتے ۔ آپ ہر ایک کی عزت کرتے ۔ یہی وجہ تھی نوجوان وکلا کو جب بھی خبر ہوتی کہ ملک صاحب آج فوجداری مقدمہ میں جرح کرنے آئیں گے تو کمرہ عدالت نوجوان وکلا سے بھر جاتی تھی ۔ اگر کہا جائے کہ آپ ایک کرشماتی شخصیت کے مالک اور فوجداری مقد مے میں قانون کی چلتی پھرتی یو نیورسٹی تھے تو غلط نہ ہو گا ۔ آپ کے دنیا سے چلے جانے سے جوخلا پیدا ہوا ہے اسے پورا کرنا نا ممکن ہے ۔ دعا ہے ا;203; آپ کے درجات بلند کرے اور جنت و فردوس میں جگہ دے ۔ امین