- الإعلانات -

مظلوم کشمیری پون صدی سے اقوام متحدہ کی طرف دیکھ رہے ہیں

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اتوار کے روز دفتر خارجہ میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور خصوصاً پاک بھارت کشیدگی، مسئلہ کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ ملاقات کے بعد وزیر خارجہ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے مقبوضہ جموں و کشمیر اور لائن ;200;ف کنٹرول پر جاری کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں دونوں ملکوں سے مستقل تحمل کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت پرزور دے رہا ہوں ۔ اقوام متحدہ کے چارٹر اور سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے مطابق صرف ڈپلومیسی اور مذاکرات سے ہی امن اور استحکام ممکن ہے اور اگر دونوں ملک چاہیں تو میں اس سلسلے میں کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہوں ۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش ہے کشمیرسے متعلق اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل کیا جائے ۔ یو این سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کا یہ دورہ بہت اہمیت کا حامل ہے ۔ بحیثیت سیکریٹری جنرل ان کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ ہے ۔ ایک ایسے وقت میں وہ پاکستان آئے ہیں جب پاکستان دشمن قوتیں اور لابیاں دنیا کو یہ باور کرانے کی کوششوں میں مصروف ہیں کہ پاکستان خطے میں دہشت گردی پھیلا رہا ہے ۔ اگرچہ ان قوتوں کی منصوبہ بندی ناکام ہو چکی اور یورپ امریکہ سمیت اقوام متحدہ دہشت گردی اور قیامِ امن کیلئے پاکستان کی قابلِ قدر کوششوں کا برملا اعتراف کر رہے ہیں ۔ تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ انہیں تصویر کا درست اور اصل رخ دکھایا جائے،خصوصاً مقبوضہ کشمیر پر جامع بریفنگ دی جائے کیونکہ دوسری طرف بھارت کی ہٹ دھرمی کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ۔ گزشتہ روز بھی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اپنی ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں عالمی دباءو کی پروا نہیں اور کشمیر سے متعلق وہ اپنا فیصلہ نہیں بدلیں گے،بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر وارانسی میں اپنے حلقے میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ کشمیر سے متعلق آرٹیکل 370 کے خاتمے اور متنازع شہریت قانون پر قائم رہیں گے ۔ ایسے بیانات خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کی بجائے بڑھاوا دیتے ہیں ۔ ملاقات میں وزیر خارجہ نے بتایا کہ سیکرٹری جنرل سے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو ہوئی اور انہیں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے متعلق ;200;گاہ کیا گیا ہے ۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں 200دن سے لاک ڈاءون جاری ہے، سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں پر عملدر;200;مد کی ضرورت ہے، اقوام متحدہ بھارت کے ساتھ 2003 کے فائر بندی معاہدے کو یقینی بنائے اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کمیشن کو رسائی دی جائے ۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یو این سیکریٹری جنرل نے کہا کہ پاکستان اور بھارت ایل او سی اور ورکنگ باونڈریز پر تحمل کا مظاہرہ کریں ،دونوں ملکوں میں امن کی بحالی کیلئے اقوام متحدہ کردار ادا کر سکتا ہے ۔ سیکریٹری جنرل نے یہ بھی کہا کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کی کامیابیاں قابل تعریف ہیں ، اسلامو فوبیا ناقابل برداشت ہے، اس حوالے سے سخت اقدامات کی ضرورت ہے ۔ انتونیو گوتریس اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے پاکستان تشریف لائے ہیں پاکستان کی یہی ترجیح ہونی چاہئے کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر ماضی میں جو انہوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے وہ اس قسم کے بیانات کو پھر دہرائیں تاکہ بھارت پر سفارتی دباوَ بڑھے ۔ یہ دورہ اس حوالے سے کافی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ مقبوضہ کشمیر میں اس وقت صورتحال کافی خراب ہے جسکا اثر خطے میں پڑرہا ہے، دنیا بھر میں حل طلب متنازعہ ایشو پر ان کا موقف ہمیشہ سخت رہا ہے ۔ کچھ عرصہ قبل جب امریکی صدر ٹرمپ نے یروشلم کو دارالحکومت تسلیم کرنے کی بات کی تو انہوں نے امریکی صدر ٹرمپ پر تنقید کی تھی ۔ اسی طرح روہنگیا مسلمانوں پر میانمار کی فوج کے ظلم و ستم پر بھی سخت موقف اختیار کیا تھا ۔ مسئلہ کشمیر بھی ستر سال سے حل طلب مسئلہ ہے اور بھارت مسلسل یو این کی قرار دادوں کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں کر رہا ہے ۔ امید ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے مظلوم کشمیریوں کو بھارت کی جبری غلامی سے نکالنے کیلئے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کروانے کا کوئی روڈ میپ دیں گے ۔ 80لاکھ سے زائد کشمیری پون صدی سے اقوام متحدہ کی طرف دیکھ رہیں ہیں کہ کب انہیں اپنے مستقبل کے انتخاب کا موقع دیا جائےگا ۔

کراچی، زہریلی گیس پھیلنے کا افسوسناک واقعہ

کراچی کے علاقے کیماڑی میں مبینہ طور پر پراسرار زہریلی گیس پھیلنے کے ایک افسوسناک واقعہ میں پانچ افراد کی اموات ہوئی ہیں ،اس حوالے سے ابھی تک یہ تعین نہیں ہو سکا کہ یہ زہریلی گیس کہاں سے لیک ہوئی اور اس کی اصل وجہ کیا ہے ۔ واقعے کی ممکنہ وجوہات کے حوالے سے پولیس کا کہنا تھا کہ ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ جیکسن مارکیٹ کے قریب بندرگاہ میں ایک جہاز لنگرانداز ہوا تھا اور اطلاعات کے مطابق اس جہاز میں سبزیاں لائی گئی تھیں اور جب اسکو کھولا گیا تو اندر سے دھواں اٹھا جسکے باعث شہریوں کو سانس لینے میں تکلیف کا سامنا کرنا پڑا ۔ تاہم نیوی ذراءع اس کی تردید کر رہے ہیں ،اور ان کا کہنا ہے کہ واقع کی تحقیقات کر رہے ہیں ۔ واقعے میں دم گھٹنے سے 2خواتین سمیت5 افراد جاں بحق اوربچوں سمیت 100سے زائد افرادبے ہوش ہوئے، متا ثرہ افراد کو کلفٹن میں واقع نجی اسپتال منتقل کیا گیا ، جہاں تمام متاثرہ افراد کو طبی امداد دی جارہی ہے ۔ ایسے المناک واقعات پاکستان میں معمول بنتے جا رہے ہیں ،اور اصل حقائق کا علم نہیں ہو پاتا جس سے مستقبل میں ایسے ناگہانی واقعات کی روک تھام بھی نہیں ہوتی ۔ جگہ جگہ چھوٹے چھوٹے بازاروں میں گیس اور دیگر زیریلے مواد کے ڈپو بنے ہوئے ہیں ۔ اس پہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ حفاظتی انتظامات بھی نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں ،اس سلسلے میں مکمل نگرانی کی ضرورت ہے تاکہ انہیں آبادیوں سے دور منتقل کیا جا سکے ۔

ٹڈی دَل حملہ،کسانوں کے نقصان کا ازالہ کیا جائے

گزشتہ کچھ عرصہ سے ٹڈی دل سے پاکستان میں فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے ،اور ابھی تک مختلف علاقوں اس کے حملے جاری ہیں ۔ اس سلسلے میں حکومت نے بعض اقدامات اٹھائے ہیں جو ناکافی ہیں ۔ وفاقی وزیر برائے تحفظ خوراک و تحقیق خسرو بختیارنے ٹڈی دل حملے کو حکومت کے لئے چیلنج قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اس پر فوری قابو نہ پایا گیا تو اس کے برے اثرات مرتب ہوں گے تاہم ان کا دعویٰ تھا کہ اب تک صورتحال پر 85فیصد قابو پا لیا گیا ہے ۔ پاکستان پر 27سال بعد ٹڈی دل کا حملہ ہوا ہے لیکن متاثرہ کاشتکاروں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ فصلوں کی ہونے والی تباہی کا تخمینہ لگانے کی ہدایت کردی گئی ہے ۔ وفاقی کابینہ کا مکمل فوکس ٹڈی دل کے خاتمے پر مرکوز ہے ۔ موجودہ حالات کا بھرپور طریقے سے مقابلہ کریں گے اور ہماری کوشش ہے کہ نقصان کم سے کم ہو بلکہ نہ ہی ہو ۔ ملک بھر میں ٹڈی دل کے حملے کی نوعیت خطرناک ہے ۔ بروقت اقدامات سے ٹڈی دل کو تلف کر کے فصلوں کو نقصانات سے بچایا جا سکتا ہے ۔ جہاں تک تعلق ہے حفاظتی انتظامات وہ بھی لازمی ہیں تاہم جن کسانوں کا اس آفت میں نقصان ہوا ہے اس کا ازالہ بھی ضروری ہے ۔ وفاقی وزیر برائے تحفظ خوراک و تحقیق خسرو بختیارنے فصلوں کی ہونے والی تباہی کا تخمینہ لگا کر ازالے کا عندیہ دیا ہے ۔