- الإعلانات -

آنکھ مچولی!

بچپن سے لے کر جب ٹیلی ویژن بلیک اینڈ واءٹ ہوا کرتا تھا، ہم بچے سب اپنے اپنے گھر ، کارٹون دیکھا کرتے تھے ۔ اس وقت بچوں کا فیورٹ کارٹون ;84;he ;80;opy ;83;ailor بہت معروف کارٹون ہوا کرتاتھا ۔ پوپائے کی کہانی آجکل کے تناظر میں دیکھا جائے، تو حالات کے برعکس نظر آئے گی ۔ یعنی نا ممکن کو ممکن بنانے کی جستجو! بچے تخلیقی اور نا ممکن کےلئے جستجو ! کو بے حد تجسس سے دیکھا کرتے اور خوب ;65;muse ہوتے تھے اور اختتام پر ہیروہ ;80;opyکی کامیا اس بی پر تالیاں بجاتے پوپائے ہر کارٹون میں ، اپنی مغوی محبوبہ کو شیطان صفت کردار سے سے بازیاب کرانے کےلئے ’’پالگ کا ساگ‘ ‘ یعنی ;83;panichکھا کر اپنی قوتوں میں حیرت انگیز اضافہ کرتا تھا اور دیو قامت دشمن کے چنگل سے اپنی محبوبہ کو آزاد کرا لیتا تھا ۔ آنیوالی اقساط میں کردار وہی ہوتے تھے ۔ مگر کہانی کا انجام مختلف ہوتا ہے ۔ مگر اس کی روح وہی کہ ;83;panich ضرور کھانا ہے ۔ تاکہ ’’بچوں ‘‘ کےلئے زندگی میں مختلف نا ممکنات سے ۔ آزما ہونے کی تعلیم دی جاسکے ۔ اس سے اگلے دور میں جسکو ہم 80کی دہائی کہتے ہیں ۔ ;80;ink ;80;antherنے دھوم مچا ئی ۔ جس میں ’’جیمزبانڈ‘‘ کا میوزک پس منظر میں بج رہا ہوتا تھا ۔ اس کرادر کو جاسوس کردار کہاجائے تو بہتر ہے ۔ لیکن اس کردار کے ذریعے ، انسانی، بچوں کی اندر تجسس اور ذہانت کا رجحان پیدا کیا جاتا تھا ۔ میں خود ;80;ink ;80;antherاور پوپائے کارسیا تھا تیسرا دور جوانی کا تھا ۔ ہماری جوانی کے دور میں چونکہ خرافات کم تھیں ۔ لہٰذا غیر ضروری ;65;ctivities کیلئے مواقع کم ملا کرتے تھے ۔ میرا مقصد میڈیا کا کردار پہلے کیا تھا ۔ اور آج جب کہ ہر کسی کے ہاتھ میں ۔ ایک ’’میڈیا ہاوَس‘‘ آگیا ہے ۔ اور کمال یہ ہے کہ موبائل کے اس آلے میں ، بچوں ، بڑوں سب کےلئے، انکی دلچسپی کا سامان فراہم ہے ۔ محدود ے چند کے، باقی اس آلے سے، خرافات ہی سیکھتے ہیں ۔ شعوری یا لاشعوری طور پر! میں اپنے مشاہدے کی بات بتا رہا ہوں ۔ کہ ایک نوجوان ۔ ریلوے ٹریک پر موبائل کا ’’ ;72;ands ;70;ree‘‘لگائے بے نیاز انہ طور پر چلے جارہا تھا ۔ عقب سے ٹرین آرہی تھی ۔ میں دور تھا اور اسے بلند آواز سے مسلسل چیخ رہا تھا ۔ مگر ٹرین اسے کچل کر گزر گئی ۔ اس نوجوان کا مغزٹریک کے اندار پڑا ہوا تھا;238; جدید سائیکیالوجی یہ کہتی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اگرچہ ضروری ہے، جس سے ارتقاء کی رفتار تیز ہوگئی ہے ۔ مگر اس دوڑ میں بہت کم انسان یا معاشرے فٹ ہورہے ہیں ۔ یہ کیسے ممکن ہے، کہ ’’ریس کوریس‘‘ میں گھوڑوں کے ساتھ گدھوں کو بھی دوڑایا جائے ۔ یہ اک مثال دی گئی ہے کہ ہمارے جیسے معاشرے میں جہاں تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے ۔ اگر کوئی تعلیم یافتہ ہے تو وہ شعور سے بیگانہ ہے ۔ اگر شعور یا،عقل کا مالک ہے تو وہ اکثریت جہلا اور محروم طبقات کی محرومیوں سے اپنے مفاد حاصل کرنے میں لگ جاتا ہے ۔ کہتے ہیں کہ فرعون یا جابر حکمران ’’اندھوں کے ریوڑ‘‘ ہی کی وجہ سے بنتے ہیں ۔ بات کہاں سے کہاں چلی گئی ۔ جوانی کا دور ہم نے بھی گزارا ہے ۔ ہمارے پاس وسائل بھی کم تھے ۔ ہر شام دوستوں اور بڑوں کی محفل سجتی تھی ۔ جس میں ;72;uman ;73;nteractionہوتی تھی ۔ کوئی لطیفہ ، شعر ، یا موسیقی سے شام کے اوقات حسن جمال اور تخلیق سے مزین ہوا کرتے تھے ۔ ہمارے لئے یہ ایک لاشعوری عمل تھا ۔ مگربڑے اپنی روایات کو زندہ رکھنے کےلئے، ہم جیسے بچوں کےلئے گویا ایک ’’تربیت گاہ‘‘ کا اہتمام کرتے تھے اور سیکھتے تھے ۔ ہم ’’خودکشی‘‘ یا نفسیاتی امراض جیسے ڈیپریش سے آگاہ ہی نہ تھے ۔ ہمارے ایک دوست کو عین نوجوانی میں ’’اپنی کزن سے محبت ہوگئی ۔ اس دور میں یہی اک خرابی تھی، کہ ہر نوجوان نے کچھ اس قسم کے غم پال رکھا تھا ۔ مگر اس کے باوجود چہروں پر تازگی رہتی تھی ۔ صحت مند تحرک جاری رہتا تھا ۔ لڑکا اس وقت مایوس ہوا جب! امتحان سے پہلے اس لڑکی کی شادی ہوگئی‘‘ یہ صدمہ اور بعد میں ’’ڈیپریشن‘‘ ثابت ہوا ۔ اور وہ فیل ہوگا ۔ ہمارے برصغیر کے ادب اور فنون لطیفہ کا اکثر اوقات قنوطیت کا شکار رہتا ہے ۔ اس ناکامی پر ۔ یہ جوان آرٹ میں دلچسپی لینے لگا ۔ آجکل وہ ایک کامیاب ;65;rchitect اور مصور ہے ۔ اس نے اپنی نامرادی کو اپنی کامیابی اس بدل دیا ہے ۔ اگر ہمارے گاؤں وہ تربیت گاہ نہ ہوتی ۔ جس نے ہمارے ذوق جمال اور تخلیقی توانائی کو سنوارا ۔ انسانی المیے اور حادثے زندگی کا حصہ ہیں ۔ ان کوسکھانے اورکرنے کا ہنر بڑے یا اساتذہ ہی سکھا سکتے ہیں ۔ ہر بچے میں جوہر ہوتے ہیں ۔ اگر استاد یا ماں باپ تعمی سے ان کا مشاہدہ کریں ، اور انکے لئے گھر یا سکول میں اہمتام کریں ۔ تو آج کل دیکھا جارہا ہے یہ ہر گز نہ ہوتا ۔ ہر دور میں ، دور کی روایات کے مطابق آئیڈیلز ہوتے ہیں ۔ آج کا مرکزی آئیڈیل اور محبوب شغل’’موبائیل پرستی ‘‘ ہے 2سال کے بچے سے لے کر60یا 65سال کے بوڑھے تک، رات کو سونے سے پہلے اور صبح جاگتے ہی، اپنے محبوب کو تکیے سے تلاشی میں لگ جاتے ہیں ۔ سارا دن گاڑی، سائیکل یا پیدل ۔ مشاہدہ کیا جاسکتا ہے کہ ہمہ وقت بات چیت جاری رہتی ہے ۔ اس وقت ہمارا پورا ’’نظام زندگی‘‘ موبائیل یا سوشل میڈیا کی زد میں ہے ۔ تو ایسے میں طالب علم کس وقت اپنا ریسرچ ورک کرسکے گا ۔ اکثریت موبائل استعمال کرنےوالے ۔ ان پڑھ، بے شعور ہوتے ہیں ۔ کم آمدنی والے افراد کے پاس بھی 10ہزار سے 20 ہزار کا موبائل ہاتھ میں ہوتا ہے ۔ اک افراتفری ہے ۔ مہنگائی کی چیخ پکار بھی ہوتی ہے ۔ مگر بے حسی کا یہ عالم ہوگیا ہے ۔ کہ ایک شوہر نے اپنی بیوی کو اس لئے ’’طلاق‘‘ دیدی ۔ کہ واشنگ مشین‘‘ میں شوہر کے کپڑے دھونے سے ، اس کا موبائیل پانی میں خراب ہوگیا ۔ کچھ غور کیا جائے تو ان جدید سائیکالوجسٹ کی بات کس قدر معنی بر خیز ہے ۔ کہ ریس کو میں گھوڑوں کے ساتھ گدھوں کو کیونکر دوڑایا جاسکتا ہے ۔ یورپ کا معاشرہ موبائیل اورنئی تکنیک کے متحمل ہیں ۔ انکے وسائل اور طرز زندگی، ان کی مجموعی ترقی میں حائل نہیں ہوتی ۔ بالکل سوشل میڈیا کے زیادہ استعمال نے وہاں بھی بچوں کی تعلیم پر بے حد اثر پڑا ہے ۔ مگر ان کا معاشرہ تعمیر شدہ ہے ۔ ہمارا معاشرہ دیکھئے تو طرز عمل اور سوچ کی بنیاد پر، ابھی 18ویں صدی سے نہیں نکلا ۔ گویا بچے کے ہاتھ میں چھری تھما دی جائے ۔ بچہ ضرور خود کو نقصان پہنچائے گا ۔ آج کل ماں باپ، اپنے بچوں سے زیادہ اس لعنت کا شکار ہیں ۔ سرمایہ دار جب بھی مارکیٹ میں کوئی نیا پروگرام لاتا ہے ۔ تو وہ یہ نہیں دیکھا کہ کون اور کیا ہے ۔ اسکو ’’اپنا سرمایہ ‘‘ واپس لینے کےلئے ۔ ایسی آبادیوں کی رخ کرنا پڑتا ہے جو ہر آسانی سے ان کے شکنجے میں آسکیں ! اس کو ;66;usiness ;80;sycheکہتے ہیں ۔ گویا زیب کاری ہے ۔ مگر فریب کا ر کو فریب کاری کا موقع خریدار ہی مہیا کرتا ہے ۔ کہنے کا مقصد یہ ہے ۔ ہماری معاشرتی و سماجی زندگی ’’جگلبندی‘‘ طرزپر جاری ہے ۔ آواز سے آوا ز ملانا ضروری ہے ۔ اسی لئے خودکشیوں میں اضافہ اور ہر موبائیل کنندہ کا مشاہدہ کیجئے وہ گاڑی میں ہو یا ریڑھی بان ہو ۔ اک عجیب تاسف اور ;65;nxietyکا شکار نظر آتا ہے ۔ بچے تبھی ،تخلیق سے عاری ہوگئے، استعمال درست نہ ہو تو، کسی بھی دور کا نوجوان، اپنی جان سے بھی چلاتا ہے اور وہی ماں باپ ا اپنے بچوں کو ’’ماہرین نفسیات‘‘ کے پاس لیجانے مجبور ہیں افسوس یہ ہے بچے درست ہیں ماں باپ، نفسیاتی مریض ہیں اگر وہ اپنی خواہشات کے آگے بند تعمیر کریں تو معاملہ درست ہوسکتا ہے ۔

بربا د ہو رہی ہے ہر کسی کی ذات

دو طرفہ تماشہ ہے، خوش پھر بھی نہیں ہیں !