- الإعلانات -

اقوام متحدہ کے قیام کا جواز ۔۔۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل در آمد کی ضرورت ہے ۔ اسی کے ساتھ ساتھ انتونیو گوتریس نے اقوام متحدہ امن مشنز میں پاکستان کی خدمات اور انسداد دہشت گردی میں پاکستان کی غیر معمولی کامیابیوں کو تسلیم کیا ۔ علاوہ ازیں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ مستحکم اور پر امن پاکستان کے حصول کےلئے پرعزم ہیں اور اس کےلئے تہیہ کیے ہوئے ہیں ۔ سبھی جانتے ہیں کہ پاکستان میں افغان مہاجرین کی میزبانی کے 40 سال پورے ہونے پر مختلف کانفرنسز اور پروگرام منعقد کئے گئے ۔ 16 تا 17 فروری اسلام آباد میں ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد بھی کیا گیا جس میں وزیراعظم عمران خان ، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گتریز ، اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین فلپو گرانڈی، امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد دیگر اہم مہمانوں نے شرکت کی ۔ یہ امر بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ عرصہ دراز سے دنیا میں بعض ترقی یافتہ ممالک میں تارکین وطن اور مہاجرین کے خلاف نفرت انگیز اور امتیازی قوانین بنائے جا رہے ہیں اور نسل پرست ان پر حملہ آور ہےں ، مگر گذشتہ 40 برسوں میں افغان مہاجرین کی میزبانی کے دوران وطن عزیز میں ان کے خلاف نفرت انگیز جرم کا ایک بھی واقعہ پیش نہیں آیا اور ان کے ساتھ مثالی رویہ روا رکھا گیا جس کا معترف ایک زمانہ ہے ۔ ماہرین کے مطابق اقوام متحدہ کے قیام پر نگاہ ڈالیں تو اگرچہ اس کے کریڈٹ پر کافی اچھے کام بھی ہیں مگر بد قسمتی سے سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود سب سے پرانا مسئلہ یعنی تنازعہ کشمیر تا حال حل طلب ہے اور اسی کی وجہ سے جنوبی ایشیاء مستقل کشیدگی کی آماجگاہ بنا ہوا ہے اور بجا طور پر کشمیر کے مسئلے کو دنیا بھر میں ’’ نیو کلیئر فلیش پوائنٹ ‘‘ کے طور پر جانا جاتا ہے ۔ یہ امر بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ کشمیر کا مسئلہ حل نہ ہونے کی بنیادی وجہ ایک جانب بھارتی ہٹ دھرمی ہے تو دوسری طرف عالمی برادری کی موثر قوتوں کی بے حسی ۔ مگر اسے تاریخ کی ستم ظریفی ہی کہا جا سکتا ہے کہ دہلی سرکار کی جانب سے کشمیر کے مسئلے سے توجہ ہٹانے کی جتنی بھی کوششیں کی جا رہی ہے ، ان کے بر عکس یہ تنازعہ حالیہ دنوں میں بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنتا جا رہا ہے ۔ اسی پس منظر میں انسان دوست حلقوں نے کہا ہے کہ پاکستان نے عالمی امن کے قیام کے سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں بھر پور انداز میں ادا کی ہیں جس کا ثبوت اقوامِ متحدہ کی امن فوج میں شامل پاکستانی دستوں کی شاندار کارگردگی ہے ۔ مبصرین نے کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی فوج میں دنیا کے مختلف حصوں میں امن قائم کرنے کے حوالے سے پاکستان کا شمار پہلے نمبر پر کیا جاتا ہے جس کا اعتراف 13 اگست 2013 کو اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل (سابقہ ) ’’بانکی مون ‘‘نے کیا جب وہ اسلام آباد اپنے دو روزہ دورے پر آئے اور ’’ ;67;enter ;70;or ;73;nternational ;80;eace ;65;nd ;83;tability(;67738083;) کا افتتاح کیا ۔ واضح رہے کہ یہ تحقیقی مرکز ;78858384; سے ملحقہ ہے اور اس کا اجراء اقوامِ متحدہ نے عالمی امن کے قیام میں پاک فوج کے کردار کے اعتراف کے طور پر کیا ۔ 1960 سے اب تلک افواجِ پاکستان کے 151505 افسروں اور اہلکاروں نے 23 مختلف ممالک میں 41 مشن انجام دیئے ہیں اور اس وقت بھی 4000 پاک افواج کے افسر اور جوان یو این مشن میں 3 مختلف براعظموں میں عالمی امن کے قیام کےلئے خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ پاک افواج نے اس ضمن میں پہلا مشن 1960 میں کانگو میں انجام دیا تھا (اگست 1960 تا مئی 1964 ) ۔ کمبوڈیا (مارچ 1992 تانومبر1993 ) ،ایسٹ تیمور،انگولا(فروری1995 تا جون 1997 )،ہیٹی(1993 تا1996 )، لائیبیریا(2003 تا تاحال)،ایسٹرن سلووینیا (مئی 1996 تا اگست 1997 ) ، آئیوری کوسٹ،روانڈا(اکتوبر1993 تا مارچ 1996 )،صومالیہ(مارچ1992 تا فروری1996 )،سوڈان(2005 تا تاحال)،سیرا لیون (اکتوبر 1999 تا دسمبر 2005 ) ،کویت(دسمبر1991 تا اکتوبر1993 )،بوسنیا(مارچ 1992 تا فروری1996 )، برونڈی (2004 تا تاحال)،کوٹے ڈی لورے (2004 تا تاحال)، نانمبیا(اپریل1989 تا مارچ 1990)،ویسٹ نیو گیانا (اکتوبر 1962 تا اپریل 1963 )اور دیگر کئی ملکوں اور مختلف براعظموں میں پاک فوج عالمی امن کی بحالی کےلئے خدمات انجام دیتی رہی ہے،ان خدمات کے دوران159 اہلکار اور 22 افسر شہید بھی ہوئے ۔ بہرکیف ایسے میں بجا طور پر توقع کی جا سکتی ہے کہ افغان مہاجرین کی میزبانی کے 40 سال مکمل ہونے پر اقوام متحدہ پاکستان کی خدمت کا مزید موثر ڈھنگ سے نہ صرف اعتراف کرے گی بلکہ تنازعہ کشمیر کو حل کر کے اپنے قیام کا جواز بھی ثابت کرے گی ۔