- الإعلانات -

سوشل میڈیائی دانشوروں کی روزی روٹی خطرے میں

زادی اظہار کےلئے سماجی رابطوں کی ویب ساءٹس ایک اہم پلیٹ فارم سمجھی جاتی ہیں ، جہاں ;200;پ اپنا مافی الضمیر ;200;زادانہ طریقے بیان کر سکتے ہیں ۔ یہی ان ساءٹس کا نہایت مضبوط مثبت پہلو ہے جو ان کی مقبولیت اور اہمیت کو بڑھاتا ہے ۔ اس کا اندازہ ;200;پ اس سے لگا سکتے ہیں کہ تھوڑے ہی عرصہ میں سوشل ساءٹ وٹس اپ کے صارفین کی تعداد 2 ارب سے بڑھ چکی ہے، فیس بک ڈیڑھ ارب ، جبکہ انسٹاگرام ساءٹ ایک ارب صارفین کو سہولت دے رہی ہے ۔ یوں دیگر ساءٹس سمیت دنیا کی نصف سے زائد ;200;بادی سوشل میڈیا ساءٹس کو استعمال کرتی ہے لیکن ہر گزرتے دن کےساتھ سوشل میڈیا کا غلط استعمال بھی بڑھ رہا ہے جس سے کئی سماجی مسائل بھی جنم لینے لگے ہیں ۔ بڑھتے ہوئے ان سماجی مسائل کو کنٹرول کرنے کےلئے کئی ممالک میں قانون سازی کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے جبکہ کئی ممالک قوانین بنا بھی چکے ہیں ۔ پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جو سوشل میڈیا کے مسائل سے دوچار ہے اور اس کی نگرانی کی ضرورت یہاں بھی ایک عرصہ سے محسوس کی جا رہی ہے ۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں تعلیم اور شعور کی پہلے ہی کمی ہے سوشل میڈیا کو مدر پدر ;200;زادی نہیں دی جا سکتی ۔ اسی نکتہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے وفاقی کابینہ نے شتر بے مہار سوشل میڈیا کو کسی ضابطے قاعدے میں لانے کےلئے نئے رولزکی منظوری دیتے ہوئے عالمی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی پاکستان میں رجسٹریشن لازمی قرار دی ہے ۔ اس سلسلے میں حکومت نے قومی سلامتی ، دہشت گردی ، انتہا پسندی، نفرت انگیز تقریر، بدنامی اور جعلی خبروں سے متعلق ;200;ن لائن مواد کی روک تھام کو یقینی بنانے کیلئے سٹیزن پروٹیکشن(اگینسٹ ;200;ن لائن ہارم)رولز 2020 کا نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے ۔ اسکے تحت اب یوٹیوب، فیسبک، ٹویٹر سمیت تمام کمپنیاں رجسٹریشن کرانے اور کمپنیوں کیلئے تین ماہ میں وفاقی دارالحکومت میں دفتر قائم کرنا لازمی قرار دے دیا گیا ہے، جبکہ انہیں ایک سال میں ڈیٹا سرور بھی بنانا ہوں گے، علاوہ سوشل میڈیا کمپنیوں پر پاکستان میں رابطہ افسر تعینات کرنے کی شرط بھی عائد کی گئی ہے ۔ اس سلسلے میں کےلئے نیشنل کو ;200;رڈی نیشن اتھارٹی بھی بنائی جا رہی ہے جو ملکی اداروں کو نشانہ بنانے، ممنوعہ مواد اور ہراسگی کی شکایت پر اکاونٹ بند کر سکے گی ۔ اتھارٹی سوشل میڈیا کمپنیوں کےخلاف ویڈیوز نہ ہٹانے پر ایکشن لے گی ۔ سوشل میڈیاکمپنیوں کی طرف سے عدم تعاون اور قوانین کی پابندی نہ کرنے کی صورت میں ان پر پچاس کروڑ روپے کا جرمانہ ہو سکے گا، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کی طرف سے جاری ایس ;200;ر او میں کہا گیا ہے کہ سٹیزن پروٹیکشن کا اطلاق فوری طور پر ہو گا ۔ بلا کسی شک و شبہ گزشتہ کچھ عرصے میں انرائیڈ موبائل فون اور انٹرنیٹ تک ;200;سان رسائی ممکن ہونے کے بعد سے سوشل میڈیا کے استعمال میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے ۔ جس سے جہاں رابطوں میں تیزی، حقوق سے ;200;گاہی سمیت کئی مثبت سماجی پہلو سامنے ;200;ئے ہیں وہاں اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ سوشل میڈیا جھوٹی خبروں ، نفرت انگیزی پھیلانے اور لغو پروپیگنڈے کے ہتھیار کے طور پر بھی اس کے استعمال میں ہوشربا اضافہ دیکھا گیا ہے ۔ اس وقت اپنی شناخت مخفی رکھتے ہوئے سوشل میڈیا پر بلا کسی خوف و خطرے کے ذاتی و سیاسی مقاصد کی تشہیر ، مذہبی منافرت پھیلانا اور کسی کی عزت و ناموس اور ملکی سلامتی کے ضامن اداروں کیخلاف زہر اگلناکتنا ;200;سان ہے ۔ حیران کن حد تک ایسے لاکھوں کی تعداد میں پیجز متحرک ہیں جن پر پاکستان اور افواج پاکستان کی ساکھ پر حملے اور اسلاموفوبیا کو ہوا دی جا رہی ہے،اور ان سب کو بیرون ملک سے ;200;پریٹ کیا جا رہا ہے ۔ ملکی قوانین اور کمپنیوں کے دفاتر کی ملک کے اندر عدم موجودگی کی وجہ سے پاکستان انکے خلاف ایکشن بھی نہیں لے سکتا ۔ قبل ازیں ایف آئی کا سائبر کرائم ونگ اس سلسلے میں کام کررہا تھا لیکن نتاءج حوصلہ افزا ء سامنے نہیں آ رہے تھے ۔ کیا ہم نہیں جانتے کہ بلوچستان میں علیحدگی پسندعناصر کو کون مالی تعاون دے رہا ہے اور وہ اس وقت کہاں بیٹھے ہیں ،اسی طرح فاٹا میں پی ٹی ایم کیوں لانچ کی گئی اور اس کی فنڈنگ کہاں سے ہو رہی ہے،کیا ہم نہیں جانتے کہ یہ گل بخاری کون ہے اور اسے پی ٹی ایم سے کیا ہمدردی ہے اور ان دنوں وہ کہاں سے پاک فوج کیخلاف مورچہ زن ہیں ،سب کچھ جاننے کے باوجود ان کے پھیلائے گئے زیر کا تریاق اس لئے ممکن نہیں کہ ان سوشل میڈیاساءٹس کا کوئی رابطہ آفس پاکستان میں ہے اور نہ ان پر ملکی قوانین اثر انداز ہوتے ہیں ۔ پچھلے دنوں گل بخاری صاحبہ جب ایسے ٹوءٹس کئے کہ انکے خلاف وفاقی تفتیشی ادارہ ایف آئی اے جوابدہی کےلئے قانونی نوٹس بھیجا توانکے ملکی اور غیر ملکی فنانسر مینڈکوں کی طرح ٹرائیں ٹرائیں کرنے لگے ۔ ایف آئی اے کے انسداد دہشت گردی ونگ نے گل بخاری کوریاست مخالف سرگرمیوں میں براہ راست ملوث ہونے پر نوٹس بھیج رکھا ہے، جس میں ایف ;200;ئی اے کے انسدادِ دہشت گردی ونگ نے انہیں ایک ماہ کے اندر پیش ہو کر اپنی صفائی دینے کے لیے کہا ہے اور متنبہ کیا ہے کہ اگر انھوں نے ایسا نہ کیا تو ان کے خلاف سائبر کرائم کے قوانین اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ قائم کیا جا سکتا ہے ۔ ایف ;200;ئی اے کے انسدادِ دہشت گردی ونگ نے ایسے ملک دشمن عناصر کے خلاف جو کہ قومی سلامتی اداروں ، عدلیہ اور حکومت مخالف اشتعال انگیز پروپیگنڈے میں ملوث ہیں ، 35انکوائریاں شروع کر رکھی ہیں جس میں سے بیشتر کا تعلق سائبر دہشت گردی سے ہے ۔ یہ اہم تحقیقات بلوچ لبریشن ;200;رمی اور حقانی نیٹ ورک کے علاوہ ان عناصر کے خلاف ہیں جو بیرون ملک بیٹھ کر اشتعال انگیزی پھیلا رہے ہیں ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان نوٹس سے ان کا کیا بگڑے گا،ان کے نہ تو سوشل میڈیا سے وہ بیانات یا ویڈیو پیغامات ہٹائے جا سکتے ہیں اور نہ ہی ان کو گرفتار کیا جاسکتا ہے کیونکہ ان میں سے بیشتر آج کل لندن میں مقیم ہیں اور مہربانوں کا دست شفقت ان کی پشت پر ہے ۔ ایسی کئی مثالیں ہیں کہ بیرون ملک سے پاکستان کےخلاف جاری مہم کا موجودہ صورتحال میں کسی قسم کا تدارک کیا جا سکا ہو ۔ چنانچہاسی پہلو کو پیش نظر رکھتے ہوئے حکومت کو یہ اقدام اٹھانا پڑا ہے، جو وسیع تر ملکی مفاد میں بہتر ہے،دنیا بھر میں سوشل میڈیا کے حوالے سے قوانین سخت بنائے جا رہے ہیں جبکہ کئی ممالک میں اس پر سخت پابندیاں بھی عائد ہیں ۔ مثلاًچین کے ;200;ن لائن صارفین کا شمار دنیا کے زیرک ترین سوشل میڈیا کے صارفین میں ہوتا ہے ۔ انٹرنیٹ کے چینی صارفین کی تعداد 800 ملین سے زیادہ ہے ۔ تاہم، چینی حکومت نے اس حوالے سے سخت قوانین بنا رکھے ہیں ۔ امریکہ کے سلامتی کے ادارے دہشت گردی کے حوالے سے امریکی شہریوں اور ذراع ابلاغ اور خاص طور پر سوشل میڈیا کی نگرانی کرتے ہیں ۔ بھارت اس سلسلے میں ہم سے بہت آگے ،تمام کمپنیوں کے دفاتر وہاں موجود ہیں ، بجائے اس کے ان قوانین کے منفی پہلو اجاگر کرنے کے تمام سیاسی جماعتیں ، سنجیدہ و دانشور حلقے اور میڈیا حکومت کے ساتھ مل کر ان قوانین کو موثر بنانے میں تعاون کریں تاکہ مذہبی منافرت،جھوٹے الزامات من گھڑت خبروں اور ;200;زادی اظہار کے نام پر جو ہڑبونگ مچا ہوا ہے اس بروقت اور موثر ترین سدباب ہو سکے ۔ اس سے نہ صرف ملک کا وقار بلند ہو گا بلکہ ;200;ئندہ نسلیں بھی تباہی سے بچ سکیں گی ۔