- الإعلانات -

حکومت کے اچھے اقدام

مہنگائی کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیراعظم نے پندرہ ارب روپے سے یوٹیلٹی سٹورز کو مزید فعال بنانے کا عندیہ دیا ہے ۔ لیکن گھی اور چینی کی قیمتوں میں اضافے سے ان سرکاری سٹورز سے ملنے والے یہ دو آءٹمز مزید مہنگے ہوگئے ۔ فوڈ سیکورٹی کے محکمے کو یہ دیکھنا پڑے گا کہ کن محرکات کی وجہ سے گھی کی قیمت میں پانچ روپے اور چینی کی قیمت میں دو روپے فی کلو اضافہ کردیا گیا ۔ عوام کی یہ حالت ہے کہ حکومت کو کوس رہے ہیں اور اپنے نئے تجربے پرکف افسوس مل ر ہے ہیں ۔ سچ پوچھیں تو چوائس بھی نہیں تھی ن لیگ نے تین دفعہ عنان حکومت سنبھالی اسی طرح پیپلزپارٹی نے لوگوں کو حلال کیا ۔ ان دونوں سیاسی جماعتوں کی باریاں لگی ہوئی تھیں یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف میدان میں بائیس سالوں سے آنے کی کوشش کررہی تھی لہذا لوگوں نے ان دونوں سے جان چھڑانے کیلئے تحریک انصاف کو ترجیح دی ۔ اگرچہ انہیں ایک بڑی عدد برتری دکھانا چاہیے تھی لیکن جیسے تیسے انہوں نے پالا مار ہی لیا ۔ اکثریت میں آنے اور حکومت سازی میں دیگر سیاسی جماعتوں نے ساتھ دیا لہذا حکومت بن گئی ۔ بذات خود وزیراعظم ایماندار محنتی مشکلات کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے شکست دینے والے لیکن ان کی ٹیم ناتجربہ کار لوگوں پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود قابل ستائش رزلٹ نہیں دے سکی ۔ وزیراعظم نے حکومت سنبھالتے ہی یہ حقائق عوام کو بتانا شروع کردئیے تھے کہ انہیں تباہ حال معیشت ورثے میں ملی ہے جسکو سدھارنے کیلئے وقت درکار ہوگا ۔ حکومت ایسے فیصلے کرتی رہی جسکو عام پذیرائی نہ مل سکی لیکن عوام نے کڑوی گولیاں اس لئے نگلیں کہ آنے والا وقت بہتر ہوگا ۔ پیٹ کی آگ تو روزانہ بجھانی ہوتی ہے ۔ اگر عام استعمال کی اشیاء ان کی دسترس میں نہ رہیں تو پھر اسکا ری ایکشن بھی شدید ہوتا ہے ۔ پٹرول، ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ہر چیز متاثر ہوتی ہے ۔ مشکل ترین حالات میں لوگوں نے مہنگائی کو برداشت کیا ۔ اب جبکہ وزیراعظم نے خود یہ بیان دینا شروع کردئیے کہ مشکل وقت گزر گیا آئندہ چھ ماہ میں حالات بہت اچھے ہو جائیں گے ۔ وہ کرکٹ میچوں کا حوالہ دے دے کر انتخابات کو معقول اور وزنی بناتے رہے حالات سے بھرپور فائدہ اٹھانے والوں نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر نہ صرف سمگلنگ شروع کردی بلکہ اندرون ملک آٹا اور چینی کا بحران پیدا کرنے کی سرتوڑ کوشش کی بہرحال حکومت کی بروقت مداخلت سے اور اس عہد سے کہ ایسا کرنے والوں کو سخت سزا دی جائے گی ۔ ذخیرہ اندوزوں اور غیر قانونی طورپر اشیائے صرف کو سرحد پار بھیجنے والوں کو جب یہ محسوس ہونے لگا کہ حکومت حالات کو گرفت میں لانے کے لئے ہر حربہ استعمال میں لائے گی تو ان کے حوصلے شکست خوردہ نظر آنے لگے ۔ حکومت نے یہ اعلان کیا ہے کہ یوٹیلٹی سٹورز مزید کھولے گی تاکہ عوام کو اشیائے صرف سستے داموں ملتی رہیں اس اعلان کے ساتھ ہی یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن نے گھی اور چینی کی قیمتوں میں اضافہ کردیا کیا ان کا یہ فیصلہ وزیراعظم کے ریلیف دینے کی پالیسی کے برعکس نہیں ۔ بجلی اور گیس نے نرخوں میں بھی کمی کی خبریں گردش میں ہیں چار ہزار یوٹیلٹی سٹورز کھلیں گے ۔ رمضان شریف کی آمد کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے پانچ ارب روپے کی مدد یا سہولت اشیائے خورد پر دینے کا اعلان کیا ہے جوکہ یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کے ذریعے سے فراہم کی جائے گی ۔ کامیاب نوجوان پروگرام کے تحت دوہزار یوتھ سٹورز کھولنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے ۔ اس سلسلے میں بلاسود قرض فراہم کیے جائیں گے ۔ اس طرح بیروزگاری کے خاتمے کی طرف بھی قدم اٹھائے گئے ہیں ۔ اگلے دو برسوں میں ایسے سٹورز کی تعداد پچاس ہزار تک پہنچ جائے گی ۔ اگر یہ منصوبے اپنی اصل روح کو برقرار رکھ سکے تو عوام کی شکایات کم سے کم ہونے کے مواقع پیدا ہوں گے ایک بات بہت ضروری ہے کہ جب تک با اثر افراد پر مشتمل مصنوعی قلت پیدا کرنے والے کارٹل کا قلمع قمع نہیں کیا جائے گا اس وقت تک خاطر خواہ نتاءج پیدا ہونا مشکل ہو جائے گا ۔ مافیا حکومت کی اچھی پالیسیوں کو ناکام بنا کر کمزور کرنے کی کوشش میں ہوتا ہے ۔ عوامی فیصلوں کے ثمرات بھی عوام تک یقینی طورپر پہنچنے چاہئیں ۔ راشن کارڈ سے یہ ہوگا کہ ہر خاندان کو بنیادی اشیاء مثلاً آٹا، چینی وغیرہ کنبے کے افراد کے مطابق پندرہ یوم کیلئے فراہم ہوں گی جس طرح پہلے ہوتا آیا ہے لیکن پیداوار میں خاطر خواہ اضافے کی وجہ سے یہ سلسلہ بند کردیا گیا ۔ اب پھر وہ سسٹم حالات کی مجبوریوں کیوجہ سے انٹروڈیوس کیا جارہا ہے ۔ ڈپو ہولڈرز کو تو ایک قسم کے سیلف ایمپلائیمنٹ کی سہولت ہوتی تھی ۔ اس سسٹم میں لوگوں کو ڈپو کے کئی چکر بھی لگانا پڑتے تھے ڈپو ہولڈرز جو گلی محلے میں ہوتے تھے ذخیرہ اندوزوی بھی کرتے تھے ۔ سپلائی اینڈ ڈیمانڈ میں تفاوت کیوجہ سے وہ اشیاء مہنگے داموں بیچتے ۔ اس طرف بھی توجہ اور نگاہ رکھنا پڑے گی ۔ محکمہ خوراک کو سپرائز وزٹ کے ذریعے سپلائی شدہ آءٹمز کا باقاعدہ اندراج اور ڈسٹری بیوشن کا ریکارڈ بھی چیک کرنا ہوگا تاکہ حکومت عوام دوست فیصلے ناکام نہ ہوسکیں ۔ حکومت کے اچھے فیصلوں کی پذیرائی ہونی چاہیے عوام کی مشکلات سے اگرچہ حکومت واقف ہے اور وہ ان مشکلات کو دور بھی کرنا چاہتی ہے لیکن مڈل مین کا جو کردار ہوگا اسی پر کڑی نگاہ بھی رکھنے کی ضرورت ہوگی جلد بازی کے اعلانات کے نتاءج بھی ویسے ہی نکلتے ہیں ۔ بلدیاتی ادارے بھی اگر با اختیار کردئیے جائیں تو وہ بھی مہنگائی کو کسی حد تک ختم کرنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں ۔ ہمارے ہاں تو مسائل کے انبار لگے ہیں ملک مسائلستان بنا ہوا ہے ۔ آئی ایم ایف فرماتا ہے کہ چین پر انحصار کم سے کم کریں اور دیگر ممالک سے تعلقات استوار کرکے معاشی استحکام کیلئے کام کیا جائے ۔ امریکہ اور بڑے مالیاتی اداروں کو سی پیک کی بہت تکلیف ہے ۔ وہ چاہتے ہیں پاکستان ماضی کی طرح صرف اور صرف امریکہ کے گرد گھومتا رہے ۔ امریکہ نے ہی ہمارا آدھا ملک الگ کروا دیا لیکن ضرورت کے باوجود ان کا بحری بیڑہ نہ پہنچ سکا ۔ ہ میں اپنے ہمسایوں سے تعلقات مضبوط اور با اعتماد بنانے چاہئیں ۔ چین سے ہماری پرانی دوستی ہے ۔ مشکل مرحلوں پر ہم ایک دوسرے کے ساتھ رہے ہیں ۔ سی پیک گیم چینجر ہے اس کے ذریعے ہر طرح کی ترقی رونما ہوگی ۔ ہماری معاشی حالت مضبوط ہوگی ۔ پاکستان کے عوام کا بھی مستقبل روشن ہو گا ۔ امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان اسی کے گرد پروانوں کی طرح منڈلاتا رہے ۔ ہر ملک کو حق ہے کہ وہ اپنے ملک کی آزادی اور معاشی صورتحال کو بلاخوف،خطر مضبوط سے مضبوط تر بنائے ، مقتدر ریاست دوسروں کے رحم، کرم پر نہیں چلتی بلکہ اپنی پالیسیوں میں آزاد اورخودمختار ریاست کی جھلک نظر آنی چاہیے ۔ اللہ ہمارے ملک کی حفاظت فرمائے دشمنوں کے ناپاک عزائم خاک میں ملتے رہیں اورپاکستان ہر دن ترقی کی منازل طے کرتا رہے ۔ آمین