- الإعلانات -

اقوام متحدہ مہاجرین کی واپسی یقینی بنانے کیلئے اقدامات کرے

پاکستان میں افغان مہاجرین کے قیام کے 40 سال کے موضوع پر عالمی کانفرنس سے خطاب میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ گزشتہ 20سال سے انتہائی مشکل معاشی حالات کے باوجود پاکستان نے افغان مہاجرین کی میزبانی کی ہے ، تمام تر مشکلات کے باوجود افغان مہاجرین کی میزبانی جاری رکھی ۔ نائن الیون کے بعد مغربی دنیا میں اسلامو فوبیا سے مسلمان مہاجرین کے مسائل میں بہت اضافہ ہوا اور مغرب میں رنگ کی بنیاد پرلوگوں کو مارا پیٹا جاتا رہا ۔ افغانستان میں پرامن حل کےلئے پاکستان میں حکومت اور تمام ادارے ایک صفحہ پر ہیں اور افغانستان میں پائیدار امن کے خواہاں ہیں ۔ وزیراعظم نے بھارتی رویے پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ بھارت کاجنگی جنون ، کنٹرول لائن پرجنگ بندی کی بڑھتی ہوئی خلاف ورزیاں اوردیگرجارحانہ اقدامات خطے کی امن وسلامتی کےلئے خطرے کاباعث ہیں ۔ وزیراعظم نے بجافرمایا ہے کیونکہ بھارت نہیں چاہتا کہ پاکستان میں امن قائم ہو،دہشت گردی کے پیچھے بلاشبہ بھارت کا ہاتھ ہے ۔ افغانستان بھی بھارت کا ہمنوا اور پاکستان میں دہشت گردی کیلئے اپنی سرزمین استعمال ہونے دیتا رہا ہے ۔ افغان مہاجرین کی پاکستان نے 40سال مدد کی، ان میں کچھ لوگ پاکستان کا کھاتے اور اسی کیخلاف سازشوں میں ملوث رہے ہیں ۔ ;200;ج بھی کئی افغان مہاجر دہشت گردوں کی سہولت کاری کرتے ہیں ۔ پُرامن افغان مہاجرین پاکستان کے مہمان ہیں جبکہ تخریب کاری، جرائم اور دہشت گردی میں ملوث ہر کردار ناقابل برداشت ہے ۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوٹریس نے کہا کہ40 سال سے افغان عوام مسائل کا شکار ہیں ، پاکستان نے ہمیشہ افغان مہاجرین کےلئے اپنے دروزے کھلے رکھے ہیں ، پاکستان نے اپنے اندرونی مسائل کے باوجود افغان مہاجرین کےلئے ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا ۔ افغان مسئلہ کا تمام تر حل افغان قیادت کی مشاورت میں ہی پنہاں ہے، افغانستان میں امن کے ذریعے لاکھوں انسانوں کی زندگیاں تبدیل کی جاسکتی ہیں جس سے خطے کی ترقی اور خوشحالی پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونگے ۔ دوسری جانب سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس نے جی ایچ کیو کا دورہ کیا، جہاں پر سیکرٹری جنرل یواین نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی ۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور خطے کی مجموعی صورتحال پر بات چیت کی گئی، دونوں میں مسئلہ کشمیر کی موجودہ صورتحال ، افغان مہاجرین کی واپسی اور افغانستان میں امن عمل سے متعلق بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ خطے میں امن واستحکام کیلئے پاکستان کی کوششیں قابل تقلید ہیں ۔ یہ حقیقت ہے کہ جنوبی ایشیا کا امن کافی حدتک افغانستان سے جڑا ہوا ہے ۔ بدقسمتی سے یہ ملک طویل عرصے سے خانہ جنگی کا شکار ہو کر بدحالی کی انتہا کو پہنچ چکا ہے ۔ افغان طالبان اور امریکی حکومت کے درمیان طویل جنگ کے بعد بالآخر امن مذاکرات شروع ہوئے تو اس میں اتار چڑھاو آتا رہا، دونوں فریق ایک دوسرے پر مذاکرات کی خلاف ورزی کے الزام لگا کر بات چیت بھی معطل کرتے رہے ۔ اب پچھلے دنوں دونوں فریقوں کے درمیان سات روزہ جنگ بندی پر اتفاق ہوا جو ایک اچھی پیشرفت ہے یقینا اس سے خطے میں امن و استحکام آئے گا ۔ پاکستان نے تو متعدد بار واضح کیاہے کہ وہ نہ توکسی کی دھمکی میں آئے گا اورنہ کبھی افغان جنگ کاحصہ نہیں بنے گا ۔ پاکستان افغانستان کی سلامتی کی عزت کرتا ہے جواباً افغانستان بھی پاکستان کی سالمیت کا احترام کرے ۔ پاکستان نے کئی دہائیوں سے 30 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کابوجھ برداشت کیاہے ۔ اس وقت بھی آدھا افغانستان دہشت گردوں کی آماجگاہ ہے ۔ پاکستان کو دہشت گردی میں بہت زیادہ نقصان ہوا ۔ پاکستان کے ستر ہزار سے زائد لوگ شہید ہوئے ہیں ۔ پاکستان میں افغان مہاجرین کے قیام کے بعدمعیشت کو بھی شدیددھچکالگاہے جس سے بیروزگاری اورمہنگائی میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ امیدکی جارہی ہے کہ افغانستان میں امن کی کوششیں آگے بڑھیں گی ۔ افغانستان میں امن ہوگا تو مہاجرین اپنے وطن لوٹ جائیں گے ۔ لہٰذا امریکہ اورافغان طالبان کے درمیان مذاکرات جاری رہنے چاہئیں تاکہ افغانستان میں امن بحال ہو اور افغان مہاجرین پرامن طریقے اپنے وطن لوٹ جائیں ،اس سلسلے میں بنیادی ذمہ داری اقوام متحدہ کی ہے کہ وہ مہاجرین کی واپسی کو یقینی بنانے کے اقدامات کرے ۔

کوءٹہ میں دہشت گردی کا افسوسناک واقعہ

بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوءٹہ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے میں 2 پولیس اور ایک لیویز اہلکار سمیت 8افراد شہید اور25 شہری زخمی ہو گئے ،دھماکہ اس وقت ہوا جب عدالت روڈ پریس کلب کے سامنے ایک مذہبی جماعت کی جانب سے ریلی تھی ،دھماکے سے متعدد گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے کوءٹہ میں دھماکہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ۔ وزیراعظم نے دھماکہ میں زخمی ہونے والوں کو بہترین طبی امداد کی فراہمی کی ہدایت کی ہے ۔ دوسری جانب وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کوءٹہ کے عدالت روڈ پر ہونے والے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے فوری طور پر بم دھماکے کی رپورٹ طلب کی ہے ۔ پاکستان کے سیکیورٹی اداروں نے دہشت گردی کےخلاف آپریشن میں بیشمارقربانیاں دی ہیں اورملک میں امن قائم کیاہے اب دشمن نہیں چاہتا کہ پاکستان میں امن برقرار رہے ۔ بزدل دہشت گرد ایک مرتبہ پھر شہر اور صوبے کا امن خراب کرنا چاہتے ہیں ۔ اسلام امن کادرس دیتا ہے، دہشت گردانہ کارروائی کرنے والاکبھی مسلمان نہیں ہوسکتا ۔ ہمارے جوان ابھی بھی پُرعزم ہے اور چھپے دہشت گردوں کا آپریشن کرکے اُن کاقلع قمع کیا جارہاہے ۔ پاک فوج کے آپریشن ضربِ عضب اور ردالفساد نے شرپسندوں اوردہشت گردوں کے مذموم مقاصدکوخاک میں ملادیا ہے ۔ ابھی بھی بچے کھچے دہشت گرد پڑوسی ممالک میں پناہ لئے ہوئے ہیں ان کو جب بھی موقع ملتا ہے دہشت گردی کی وارداتیں کرتے ہیں ۔ بلوچستان میں علیحدگی پسند بھی سرگرم ہیں ان کو قومی دھارے میں لانے کی کوششیں ہو چکی ہیں مگر کچھ راہِ راست پر ;200;نے کیلئے تیار نہیں ایسے لوگ کسی نرمی کے حقدار نہیں ، پاک فوج ان کامقابلہ کررہی ہے ۔ لہٰذادہشت گردوں کے ساتھ ساتھ سہولت کاروں کیخلاف بھی سخت کارروائی کی ضرورت ہے ۔

ذخیرہ اندوزی اورمہنگائی پرقابوپانے کےلئے حکومت کے بروقت فیصلے

گزشتہ روز بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے حوالے سے منعقدہ جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے گندم ، پیاز، ٹماٹروغیرہ کی اسمگلنگ روکنے،ذخیرہ اندوزوں کیخلاف انتظامی اقدامات تیز کرنے کی ہدایت جبکہ چینی کی قیمت مقرر کرنیکا فیصلہ کرتے ہوئے کہاہے کہ غریب عوام پر مہنگائی کابوجھ کم کیا جائے ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبہ پنجاب اور خیرپختونخوا کی صوبائی حکومتیں فوری طور پر گندم کی قیمتوں میں کمی لانے کے حوالے سے تجاویز کا جائزہ لیں ۔ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ گندم ، پیاز ، ٹماٹر اور دیگر اشیاء کی مشرقی و مغر بی سرحدوں کے ذریعے سمگلنگ کی روک تھام کو یقینی بنایا جائےگا ۔ اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کی حوصلہ شکنی او ر روک تھام پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ جن عناصرنے ملک میں آٹا اور چینی کا بحران پیدا کرنے کی کوشش کی ان کے خلاف فی الفورکارروائی کی جائے ۔ بہرحال حکومت کے بروقت فیصلے سے سمگلنگ کی روک تھام ممکن ہوئی ۔ اب ذخیرہ اندوزوں اور غیر قانونی طورپر اشیائے ضروریہ کو سرحد پار بھیجنے والوں کو جب خطرہ ہواکہ اگراب سمگلنگ کی تو قانون حرکت میں آئے گا ۔ عوام خصوصاً کم آمدنی والے طبقے اورغریب عوام کوسہولتوں کی فراہمی اور صنعتوں کوفروغ دیناحکومت کی اولین ترجیح ہوتی ہے تاکہ معیشت کاپہیہ چلتارہے ۔ عام آدمی اس وقت مشکل حالات سے دوچار ہے کیونکہ اشیائے ضروریہ کے نرخ آسمانوں سے باتیں کررہے ہیں ۔ گزشتہ حکومتوں کے توانائی کے شعبوں میں معاہدوں کے باعث بجلی اور گیس کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کی وجہ سے عوام کومشکلات کاسامناہے ۔ مہنگائی کی وجہ ذخیرہ اندوزی اوراسمگنلگ بھی ہے حکومت جب تک ذخیرہ اندوزی ختم کرنے کےلئے موثر اقدامات نہیں کرتی تب تک مافیاسرگرم رہے گا اورمن مانی کرتا رہے گا ۔ حکومت کو چاہیے کہ کنٹرول پرائس کمیٹیوں کومتحرک کرے جوروزانہ کی بنیاد پر بازاروں کو چیک کریں ۔