- الإعلانات -

اب کون محفوظ؟

جتنے بھی اسلام دشمن عناصر ہیں انہوں نے دہشتگردی کے معاملے میں ہمیشہ امت مسلمہ کو مورد الزام ٹھہرایا اور یہ کفار کبھی بھی کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے جس میں وہ مسلمانوں کو کسی نہ کسی طریقے سے دہشتگردی کے واقعات میں ذمہ دار قرار نہ دیں ۔افغانستان ،کشمیر ،بوسنیا،فلسطین،چیچنیا،عراق سمیت جن بھی ممالک میں حالات خراب ہیں وہ تمام کے تمام مسلمان ہیں ۔امریکہ کی یہ حالت ہے کہ وہ اپنے کئی دہائیوں پر مشتمل جن ممالک سے تعلقات نہیں تھے ان سے بھی ہاتھ ملانے کیلئے جارہا ہے جس کی واضح مثال اوبامہ کا کیوبا کا دورہ ہے ۔مگر جہاں مسلمان ممالک ہیں اور اگر وہاں کسی نہ کسی صورت امن وامان قائم ہونے کی کوئی صورت نکلتی ہے تو امریکہ یا اس کے حواری کوئی نہ کوئی ایسا حربہ استعمال کرتے ہیں جس سے تمام معاملات نیست ونابود ہوکر رہ جاتے ہیں ۔زیادہ دورجانے کی ضرورت نہیں افغانستان کی صورتحال دیکھ لی جائے کہ وہاں پر آج تک کسی بھی فریق کے مذاکرات کامیاب نہیں ہوسکے ۔عراق میں آج تک امن وامان قائم نہ ہوسکا ،لیبیا کو تہہ وبالا کرکے رکھ دیا گیا ،فلسطین میں آئے دن قتل وغارت گری جاری رہتی ہے جس کے ذمے دار یہودی ہیں اوراب اس وقت امریکہ کے صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ یہودیوں کا انتہائی چہیتا ہے اور یہی وہی یہودوہنود ہیں جہاں سب سے زیادہ انبیاءکرام کا نزول ہوا ۔لیکن یہ قوم راندِ درگاہ تھی اورراندِ درگاہ رہے گی پھر پوری دنیا کے مسلمانوں کو سوچ لینا چاہیے کہ اگر ٹرمپ جیت جاتا ہے تو پھر کیا حالات پیدا ہوں گے ۔گذشتہ روز دنیا کا محفوظ ترین شہر جہاں پر نیٹو کاہیڈ کوارٹر بھی موجود ہے ،پھر پہلے سے ہی الرٹ بھی تھا اور یہ الرٹ جنگ عظیم دوئم کے بعد غالباً تیسری مرتبہ جاری کیا گیا ہے اس کو الرٹ فور یا فائیو کہا جاتا ہے مگر وہاں پر جب دہشتگرد کارروائیاں ہوئیں تو بیلجیئم کے دارالخلافے برسلز میں کوئی ان دھماکوں کو روک نہ سکا ۔برسلز کا ائیرپورٹ جہاں سے گذشتہ روز تقریباً دوسے اڑھائی کروڑ مسافروں نے سفر کیا وہاں پر پہلے ایک خود کش حملہ ہوا جس نے تباہی مچائی پھر اور دھماکا ہوا اس کے بعد چونکہ پہلے سے ہی ہائی الرٹ تھا ۔رن وے کو بند کردیا گیا ۔رن وے سے دو بم برآمد کیے گئے ،ابھی یہاں پر ہی امدادی کارروائیاں جاری تھیں کہ سب وے میٹرو سٹیشن پردھماکے ہوگئے ،پولیس اس جانب دوڑی تو برسلز میں قائم صدارتی محل کے قریب دھماکا ہوگیا ،اب ان نیٹو سرکار سے کوئی یہ سوال کرنے والا ہے کہ ان یہودوہنود نے پوری دنیا میں دہشتگردی پھیلا رکھی ہے ،آج ان کے اپنے ملک میں اوپر تلے سات دھماکے ہوئے جس کو وہ لوگ چھپا کر صرف تین دھماکوں کا واویلا کررہے ہیں باقی چار دھماکے اس لیے پوشیدہ رکھے جارہے ہیں کہ بیلجیئم میں بہت زیادہ خوف وہراس پیدا نہ ہو ۔مگر چونکہ اس وقت ایک گلوبل دنیا ہے اور ہر ایک کو ہر خبر کا بروقت علم ہوجاتا ہے ۔صبح 8 بجے پہلا دھماکا ہوا اور پھر فوراً ہی دوسرا دھماکا ہوگیا، دونوں دھماکوں میں متعدد ہلاکتیں ہوئیں اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔دھماکے کے بعد ائیر پورٹ پر موجود مسافراوردیگرافراد خوف زدہ ہوکر سرپٹ دوڑ پڑے۔دھماکے برسلز ایئرپورٹ ڈیپارچرہال میں امریکن ائیرلائنزڈیسک کے قریب ہوئے۔ دھماکوں سے قبل فائرنگ بھی کی گئی۔ برسلز ایئرپورٹ سے مزید کئی بم اور تین خود کش بیلٹ بھی برآمد ہوئے۔ابھی ایک گھنٹہ بھی نہ گزرا تھا کہ برسلز کا میٹرو اسٹیشن یکے بعد دیگرے 4 دھماکوں سے گونج اٹھا۔ ایئر پورٹ اور میٹر و اسٹیشنز پر 6 دھماکوں کے بعد صدارتی محل کے قریب ایک اور دھماکا ہوا۔ ایئرپورٹ پر بھگڈر مچ گئی ، ایئرپورٹ کو خالی کرا کر پروازیں معطل کردی گئیں۔دھماکوں کے بعد ایئرپورٹ کی عمارت سے دھواں اٹھتا ہوا دیکھا گیا۔میٹرو اسٹیشن پر ہونے والے دھماکوں کے مقام کے قریب یورپی یونین کے مختلف اداروں کے دفاتر واقع ہیں۔بیلجئیم کے وزیرداخلہ کا کہنا ہے کہ ملک بھرمیں سیکورٹی الرٹ انتہائی حد تک بڑھادیاگیا ہے مزید حملوں کا بھی خدشہ ہے ۔دھماکوں کا یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب 19 مارچ کو بیلجیئم پولیس نے پیرس حملوں کے ماسٹر مائنڈ اور اہم ترین سہولت کار صالح عبدالسلام سمیت 3 ملزمان کو گرفتار کیا۔حکومت نے عوام کے لئے ہدایت جاری کی ہیں کہ اگر وہ گھروں پر موجود ہیں تو وہیں رہیں اور اگر دفاتر میں ہیں تو بھگدڑ کے بجائے اپنے دفاتر میں ہی رہیں۔ بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں ہونے والے دھماکوں کے بعد برطانیہ ، جرمنی اور پیرس سمیت دنیا بھر میں سیکورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے ۔ بین الاقوامی ائیر پورٹس سمیت ریلوے اسٹیشنز کی سیکورٹی بڑھا دی گئی۔برسلز میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے بعد امریکہ ،برطانیہ ، جرمنی ، پیرس نیدر لینڈ اور بھارت سمیت دنیا کے کئی ممالک میں سیکورٹی ہائی الرٹ ہے۔پیرس کے چارلز ڈی گال ائیر پورٹ پر سیکورٹی انتہائی سخت جبکہ بیلجیئم کی سرحدوں پر بھی نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔جرمنی کے فرینکفرٹ ایئر پورٹ پر سیکورٹی سخت اور ریلوے اسٹیشنز پر کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔ لندن کے گیٹ وک ائیرپورٹ پر حفاظتی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں ، عوامی مقامات پر کسی بھی ناگہانی حملے سے بچنے کے لیے سیکورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری تعینا ت کر دی گئی ہے۔ ملک میں 3روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔یہ جو تمام تر دہشتگردی کے واقعات رونما ہوئے ہیں اس کو اگر یورپ کی ناکامی نہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا ۔جو دنیا بھر میں دہشتگردی کو ختم کرنے کا بیڑہ اٹھانے کا دعویٰ کررہے ہیں ان کے اپنے ہی ممالک غیر محفوظ ہیں اور پھر نیٹو ہیڈ کوارٹر کے قریب یکے بعد دیگر ے سات دھماکے ہونا اپنے اندر بہت بڑی کہانی رکھتے ہیں ۔اگر بین السطور معاملات کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ تمام تر خرابی ،امریکہ ،یورپ اور اس کے حواریوں میں ہے ۔اسلام ایک پرامن مذہب ہے اور مسلمان محبت کرنے والی امت ہے ،ان کفار نے بلا وجہ امت مسلمہ کو بدنام کررکھا ہے ۔اپنے گھر کو سنبھالیں بجائے کہ دوسرے کے گھر میں آگ کے حیلے بہانے تراشتے رہتے ہیں ۔