- الإعلانات -

سید جاوید اقبال بخاری سے ملاقات

بچے ماں باپ کو جان سے زیادہ عزیز ہوتے ہیں اور سپیشل بچوں سے تو والدین کچھ زیادہ ہی پیار کرتے ہیں تاکہ ان کو معذوری کا احساس نہ ہو یہ بات خوش آئند ہے کہ حکومت پنجاب ان خصوصی بچوں کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دے رہی ہے اوراس حوالے سے متعدد انتظامات کئے ہیں تاکہ یہ بچے معاشرے میں ایک مفید شہری کا کردار ادا کرنے کے علاوہ ذاتی طور پر بھی بہتر زندگی گزار سکیں اور گھر والوں پر بوجھ نہ بنیں حکومت نے پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار سپیشل ایجوکیشن پالیسی کا اجراء کیا ہے اور ان بچوں کی نگہداشت کے لئے ہیلپ لائن 1162قائم کی ہے علاوہ ازیں پنجاب بھر کے سپیشل تعلیمی اداروں میں اساتذہ اور دیگر سٹاف کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے بائیو میٹرک سسٹم متعارف کرایا گیا ہے اور خصوصی بچوں کے نئے داخلے، والدین کی رہنمائی اور جدید تعلیم کے لیے سپیشل ایجوکیشن موبائل ایپ (;77;obile ;65;pp)اور سکول انفارمیشن سسٹم جاری کیا ہے اور ساتھ ہی عوام الناس کی راہنمائی اور شکایات کے فوری ازالہ کیلئے خصوصی بچوں کے والدین کی کونسلنگ کا اہتمام بھی کیا ہے یہ تمام تفصیلات مجھے سید جاوید اقبال بخاری سیکرٹری سپیشل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ حکومت پنجاب نے ایک ملاقات میں بتائیں ۔ بخاری صاحب جو مختلف سرکاری محکموں میں اعلی عہدہ پر فائز رہے ہیں اور انتظامی امور کا گہرا اور وسیع تجربہ رکھتے ہیں انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں سپیشل بچوں کے ادارے بڑی تعداد میں ہیں مگر سٹاف کم ہے مگر ہم خوش اسلوبی سے یہ ادارے چلا رہے ہیں جن کے خاطر خواہ نتاءج برآمد ہورہے ہیں انہوں نے بتایا کہ پچھلی حکومتوں کی نسبت موجودہ حکومت خصوصی بچوں کے امور، اداروں اور ان کی کارکردگی کو بہتر سے بہتر بنانے پر خصوص توجہ دے رہی ہے سیکرٹری سپیشل ایجوکیشن نے جب طلبہ اور اداروں کی تعداد بتائی تو بے اختیار دل انہیں داد دینے کو چاہا کہ کم وسائل کے باوجود وہ بڑی مہارت سے اپنے ماہرانہ انتظامی تجربو ں کو بروئے کار لاکر ماضی کے مقابلے میں پہلے سے کہیں بہتر کارکردگی دکھا رہے ہیں جو قابل ستائش ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ نصابی تعلیم کے علاوہ ہم سپیشل بچوں کی غیر نصابی اور کھیلوں کی سرگرمیوں پر بھی زیادہ توجہ دے رہے ہیں اور بچوں کو ان میں مصروف رکھتے ہیں اور ان کی فٹنس کا خاص خیال رکھا جاتا ہے ۔ جاوید اقبال بخاری نے بتایا کہ ماضی میں سپیشل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے انتظامی امور، معیاراور ضرورت کے مطابق نہیں تھے ۔ اس حوالے سے کئی قسم کی رکاوٹیں ، پابندیاں اور اعلی سطح پر عدم تعاون بھی تھا جس سے کئی مشکلات پیدا ہوتی تھیں جو محکموں کی کارکردگی پر اثر انداز ہوتی تھیں مگر موجودہ حکومت نے یہ سب رکاوٹیں اور پابندیاں دور کر دی ہیں اور ہ میں اختیار دیا ہے کہ ہم میرٹ کے مطابق کام اور فیصلے کریں ۔ جس کے باعث محکمہ کی کارکردگی بہت بہتر ہوئی ہے انہوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ماضی میں محکمہ کے ملازمین کے تبادلوں پر پابندی عائد تھی مگر پنجاب کی اعلی سطح پر اپنے مقربین کو نوازنے کےلئے خاص لوگوں کو خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے یا تو تبدیل کردیا جاتا ہے یا پھر کئے گئے تبادلوں کو منسوخ کرنے کے احکامات جاری کئے جاتے تھے انہوں نے مزید بتایا کہ ماضی کی حکومتوں کے منظور نظر افراد پندرہ پندرہ سال سے ایک ہی جگہ پر تعینات تھے جس کے باعث ان کی کارکردگی پر برا اثر پڑ رہا تھا انہوں نے کہا کہ پانچ سات سال ایک جگہ پر تعیناتی اور متعلقہ اہلکار کی کوئی مجبوری ہو تو اسے نظر انداز کیا جاسکتا ہے مگر طویل عرصہ اور بغیر کسی معقول وجہ کے ایک ہی جگہ پر تعیناتی سمجھ سے بالا تر ہے ۔ یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ راقم الحروف کی موجودگی کے دوران بھی ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا کہ ایک صاحب 13سال سے زیادہ ایک ہی جگہ پرتعینات بعض سفارشی حوالوں کے ذریعے اپنے تبادلے کو رکوانے کےلئے بخاری صاحب کے پاس آئے مگر انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ خود ہمارے تبادلے دو تین سال میں ہوتے ہیں آپ 13سال سے ایک جگہ پر ہی تعینات ہیں اور مزید بھی وہاں رہنا چاہتے ہیں جو ممکن نہیں میں ایسا نہیں کر سکتا ۔ سید جاوید اقبال بخاری نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالی نے مجھے موقع دیا ہے کہ میں سپیشل بچوں کی زیادہ سے زیادہ خدمت کر سکوں اور ان کی بہتری کےلئے بہترین سٹاف اور اساتذہ کا تقرر کروں اوران کو بہتر سہولیات فراہم کروں تاکہ سپیشل بچوں کی بہتر سے بہتر خدمت ہوسکے ۔ بخاری صاحب کی گفتگو سے ان کے دل کا درد جھلک رہا تھا اور ان کے دل کی تڑپ محسوس ہورہی تھی جس میں سپیشل بچوں کی فلاح و بہبود، تعلیم وتربیت اورانہیں ذمہ دار اور فعال شہری بنانے کا احساس نمایاں طور پر ظاہر ہورہا تھا ۔ ہم یہاں وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سے یہ بات کرنے میں حق بجانب ہیں کہ سید جاوید اقبال بخاری جیسے درد مند دل رکھنے اور مخلص و فعال شخصیات کی صوبہ پنجاب کو سخت ضرورت ہے اور وہ ان کو تلاش کریں تاکہ پنجاب اپنے عوام کی زیادہ سے زیادہ خدمت سرانجام دے سکے جس سے ان کی بھی نیک نامی ہوگی ۔ یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ حکومت اکیلے کچھ نہیں کرسکتی اس سلسلے میں مخیر حضرات اور اداروں کو بھی اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے اورخصوصی بچوں کی دعائیں لینا چاہئیں کہ ان بچوں کے دل سے نکلی ہوئی دعائیں براہ راست عرش بریں تک جا پہنچتی ہیں ۔ راقم الحروف جو خود بھی ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال سے منسلک ہے نے بخاری صاحب کو بتایا کہ ہمارا ہسپتال بھی ایک رفاہی ادارہ ہے اور ہم باہمی مشاورت سے کوئی ایسا لاءحہ عمل ترتیب دیں گے جس سے ہم بھی خصوصی بچوں کی خدمت کر سکیں ۔