- الإعلانات -

سی پیک میں گوادر پورٹ کی اہمیت

پاک چین اقتصادی راہداری سی پیک ملکی تاریخ کا انتہائی ا ہمیت کا حامل منصوبہ ہے جو کہ مختلف مراحل میں تکمیل کی جانب تیزی سے گامزن ہے ۔ سی پیک منصوبہ نہ صرف چین اور پاکستان کے مابین زمینی راستے کا منصوبہ ہے بلکہ یہ روس‘ ایران‘ افغانستان سمیت مشرق وسطیٰ ممالک کے علاوہ دیگرممالک کی دلچسپی کا مظہر ہے ۔ سی پیک دنیابھرکیلئے گیم چینجرہے ۔ مستقبل میں گوادر دنیا کا بہترین پورٹ سٹی ہوگا اور سی پیک میں ساٹھ ممالک شامل ہونگے ۔ چائنا اقتصادی راہداری کوئی نیامنصوبہ نہیں بلکہ گوادررپورٹ کی تعمیر سمیت یہ برسوں پرانا منصوبہ ہے جس کامقصد روس اور چین کی گرم پانی کے سمندر تک رسائی ہے ۔ 1999ء میں گوادربندر گاہ کی تعمیر کا کام تیز ہوا ۔ 20 مارچ 2007ء میں گوادر پورٹ کا افتتاح ہوا اور اس کو چلانے کا ٹھیکہ ملائیشیا کی ایک کمپنی کو دیا گیاتاہم فروری 2013ء میں گوادربندرگاہ کی تعمیر کا ٹھیکہ چین کو دیاگیا ۔ گوادر پورٹ کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ یہ قدرتی طور گہرے پانی کی بندرگاہ ہے ۔ عام طور پر بندرگاہوں کو سمندر میں نیچے گہرا کرنے کےلئے کھدائی کی جاتی ہے مگر گوادر ان چند بندرگاہوں میں سے ایک ہے جو گہرے پانی میں واقع ہے ۔ قریب کی دوسری بندرگاہوں سے اگر مقابلہ کر کے دیکھا جائے تو ان کی سمندر میں گہرائی عموماَ نو یا دس میٹر ہوتی ہے ۔ ان میں کراچی (9;223;10)، چاہ بہار (11)، بندرعباس(9;223;10)، جبل علی (15;223;16)، اومان (10)، دمام (9)، دوحہ (11;223;12) گہرے ہیں جبکہ گوادر (17;223;18) میٹر گہری ہے ۔ بندرگاہوں میں دوسری بڑی ضرورت یہ ہوتی ہے کہ اس کے لئے سمندر میں ہتھوڑے کے سرے جیسی جگہ مصنوعی طریقے سے بنانی پڑتی ہے تاکہ سمندری پانی کا کٹاوَ روکا جا سکے جبکہ گوادر میں یہ ہی مر ہیڈ بھی قدرتی طور پر بنا ہوا ہے ۔ گوادر کی تیسری بڑی خصوصیت اس کا تزویراتی محل وقوع ہے ۔ گوادر، خلیج اومان اور خلیج فارس کی تمام بندرگاہوں کے سرے پر واقع ہے ۔ اس زون میں اومان، مسقط، دوبئی، عجمان، قطر، بحرین، سعودی،کویت، عراق اور ایران کی کم و بیش ساٹھ بندرگاہیں ہیں جن میں چاہ بہار، بندر عباس، اومان، دوبئی، جبل علی،پورٹ خلیفہ، شاہ عبداللہ ، دمام، ودحہ، شویک اور ام قصر وغیرہ شامل ہیں ۔ چین اور مشرقی ایشیا سے مغرب کی طرف جاتے ہوئے گوادر ان تمام بندرگاہوں کے سرے پر واقع ہے ۔ گوادر پورٹ سی پیک کاگیٹ وے ہے ۔ چین نے اپنے مغربی حصے میں 2001 سے تقریباَ 320 بیلین ڈالر کے میگا پراجیکٹس شروع کر رکھے ہیں ۔ سینکیانک ہی سے چین گوادر تک آئے گا ۔ چونکہ سی پیک کی بنیادی اکائی گوادر بندرگاہ ہے اس لئے چین کےلئے یہ ایک گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے ۔ چین تائیوان کے قریب اپنے جنوب مشرقی ساحلوں سے اگر مسقط تک، ملاکا سے ہوتے آتا ہے تو اسے 4600 ناٹیکل میل سے زیادہ کا فاصلہ طے کرنا پڑے گا ۔ جبکہ گوادر سے یہ فاصلہ 208 ناٹیکل میل بنتا ہے ۔ ادھر چین کو کاشغر سے گوادر تک 2700 سے 3000 کلومیٹر کا زمینی فاصلہ طے کرنا پڑے گا ۔ اسی راستے کا نام سی پیک ہے ۔ مگر سی پیک صرف راستہ نہیں ہے ۔ یہ ہائی ویز، موٹرویز، ریل، تیل اور گیس کے پاءپ لائنوں کا ایک جال ہے ۔ یہ سب کچھ گوادر پورٹ کے گرد گھوم رہا ہے ۔ سی پیک 45;46;69 بلین ڈالر کا منصوبہ تھا ۔ جس میں حال ہی میں 5;46;5 بیلین ڈالر کا مزید اضافہ ہوا ہے جو لاہور، کراچی ریلوے لائن کےلئے ہے ۔ 33;46;79 بیلین ڈالر توانائی کےلئے ہیں ۔ 5;46;9 بیلین ڈالر سڑکوں کےلئے ہیں ۔ 3;46;69 بیلین ڈالر ریلوے لائنزکےلئے ہیں ۔ 66 ملین ڈالر گوادر پورٹ کےلئے ہیں ۔ 4 ملین ڈالر فائر آپٹکس کےلئے ہیں ۔ اگرچہ سی پیک سے پاکستان کی معیشت کو بھر پور فائدہ ہوگا پاکستان میں عوام کور وزگار کے لاکھوں مواقع میسر ہوں گے لیکن عالمی سطح پرکھیلے جانے والے شطرنج کے کھیل پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔ پاک چائنا اقتصادی راہداری اگرچہ ملک و قوم کے مفاد میں ہے ۔ دوسری جانب خارجہ اورداخلی امور‘ ملک میں امن وامان‘ سیاسی ومذہبی‘ ملی و قومی یکجہتی مستقبل کے اہم ایشوز ہیں ‘ جنہیں کسی طور نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی راہداری منصوبے کے اعلان کے بعد بھارت کی مسلسل یہ کوشش ہے کہ کسی طرح پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ کامیابی سے ہمکنار نہ ہو جس کیلئے بھارت ہر طرح کے گھناءونے ہتھکنڈے استعمال کررہا ہے ۔ ایرانی بندرگاہ چاہ بہار کے ذریعے ’’را‘‘ کے ایجنٹ کل بھوشن یادیو کی پاکستان مخالف سرگرمیاں بھی اسی سلسلے کی کڑی ہیں کیونکہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ بھارت کو ایک آنکھ نہیں بھارہا ۔