- الإعلانات -

جان کی بازی لگا بیٹھے ہیں کیا

بچے یا بچی کی پیدائش پر والدین ، گھر والے، محلے والے دور دراز اس خوشخبری کو پھیلا پھیلا کر ، مبارکیایاں وصول کی جا تی ہیں ۔ خوشیوں کی لہر چہروں کو پُر مسرت بناتی ہے ۔ پہلے تو یہ روایت کا فی مشہور تھی کہ لڑکے کی پیدائش پر والد اور دوستوں کی بندوقیں تن جا تی تھیں اور ہر طرف دھماکوں کی گونج گویا اعلان ہو تا تو ہے کہ کسی کے ہاں ’’لڑکے کی پیدائش‘‘ ہوئی ہے ۔ ’’لڑکی کی پیدائش‘‘ پر صف ماتم بچھ جا تا تھا ۔ آج کے پختونخواہ میں اب بھی اس قسم کا شغل کسی کسی علاقے میں مروج ہے ۔ چونکہ موبائل نے بندو ق کی جگہ لے لی ہے ۔ ۱۲ ویں صدی میں نئے رواج نے جگہ لے لی ہے ۔ اب بچے یا بچی کی پیدائش پر موبائل کے ذریعے دنیا جہاں ننھے مُنے معصوم پر ندوں کی تصاویر ارسا ل کر دی جا تی ہیں ۔ جن کو آگے جا کر قید حیات کی تقدیر سے گزرنا ہوتا ہے ۔ دوسرا رُ خ یہ بھی ہے کہ ہمارے معاشرے کا مزدور طبقہ یا متوسط افراد کا نظریہ عجیب و غریب ہے ۔ اس ملک کی آبادی کا سبب یہی طبقہ ہے ۔ غربت بھو ک افلاس اور دوسری طرف اشرافیہ کی لوٹ مار بھی عام ہے ۔ وہاں ان غریب گھر انے والے تنگدستی میں گزر بسر کر رہے ہیں ۔ ان کی قوت مزاحمت بھی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے ۔ 10ہزار تنخواہ میں رات آرام کی نیند کر لیتے ہیں ۔ گویا امیر گھرانوں کی نسبت باوجود غربت کی چکی میں گرداب کے باوجود کے صحتمند رہتے ہیں ۔ بیماری سے مامون رہتے ہیں ۔ بس طبعی موت کا اطلاق تو تمام انسانوں کےلئے عام سی بات ہے ۔ مگر ایک تباہ کن تصور حیات ہے کہ یہ بلا سوچے سمجھے اس کا شکار رہتے ہیں ۔ ہر سال بچے پیدا کرنا ان کی ایسی عادت بن گئی ہے ۔ کہ اللہ کا شکر بھی ادا کر تے اور ایک ہی جواب ہوتا ہے ان کے پاس اللہ کی دین ہیں ۔ ایسا ہی ایک بندہ جو کہ ٹرک ڈرائیور تھا اک غیر رسمی ملاقات ہوئی ۔ باتوں باتوں میں پوچھا کہ ٓپ تنخواہ کتنی ہے;238; اس نے جواب دیا 20ہزار روپے;238;پھر میں نے سوال کیا ۔ بچے کتنے ہیں ۔ اس نے داڑھی کھجائی اور زیر لب تبسم پیش کرتے ہوئے گویا ہوا ، جی بس اللہ کا مال ہے ۔ 8 بچے ہیں ۔ ماشاء اللہ ۔ میں نے قدرے حیرت اور قہر آفریں نگاہوں سے کہا ۔ لا حولہ ولا قوۃ ۔ یہ تم نے پیدا کئے ہیں اور نام لیتے ہو اللہ کا، عقل کے اندھے قرآن میں واضح حکم ہے کہ جب نکاح کے قابل نہ بن جاوَ شادی مت کرنا اور بچے اس وقت پیدا کریں ہیں ۔ جب آپ تربیت کرنے کے قابل بن سکیں !دوستو اس وقت ملک کی آبادی 22 کروڑ ہے ۔ کوئی اندازہ کر سکتا ہے کہ غربت کے ستائے پاکستانی اپنی فرسٹریشن میں بچے پیدا کرتے پر تاکیداً عمل کر تے ہیں ۔ جب آپ کے 8 بچے ہیں ۔ اور تنخواہ بیس ہزار ہے ۔ تو گھر کی معیشت ضروریات زندگی بچوں کی تعلیم کیو نکہ پوری ہو سکیں کی ۔ یہی بچے باپ کی وفات کے بعد سٹرکوں بازاروں ، چوراہوں بھیک مانگے نظر آتے ہیں ۔ بعینہ یہی حال حکومت کا ہے ۔ ریاستی اداروں کا ہے ۔ 70 سال میں جب ’’چین ‘‘ 1949 میں قیام پاکستان کے بعد آزاد ہوا ۔ کہاں ہے چین اور پاکستانی معیشت کی سوراخ زدہ بوری کو بھرنے کے لیے ’’بین الاقوامی بھکاری بن چکے ہیں ‘‘ ۔ یعنی جیسی مایا ویسی جایا، کمال ہے ان کی طبیعتوں کا ، مزاجوں کا ، بے فکر ی اتنی کی انہیں 10 سال بعد کیا ہونے والا ہے ۔ چھوڑیں کل کی فکر تک بھی نہیں ۔ کہ معاشی مسائل، غربت بھوک افلاس اور بین الاقوامی سطح پر ان کو اپنی تذلیل کا کوئی پاس ہوا ۔ سمجھ نہیں آتی جب یہ ;737770; یا ورلڈ بنک کے پاس کا سہ لیکر جا تے ہیں تو ان کے ہونٹ اور ٹانگیں کپکپاتی ضرور ہو نگی ;238; مگر نہیں جب معاہدے ہو جا تے ہیں اور سرما یہ دار جب ان سے شرائط پر ستخط کرواتے ہیں تو وہ اندر سے خوب کھچ کھچ کے ہنستے ہیں ۔ کہ چلو یہ پرندہ اب 20 سال کےلئے قید ہو گیا ہے ۔ اب یہ مذدور ی کرینگے اور ہمارے پیٹ بھرتے چلے جائیں گے ۔ سڑک پر بھیک مانگنے والا بچہ، عورت جس کی گود میں گرد سے اٹا ہوا ہے بچہ جب پر ہماری نظر پڑتی ہے ۔ تو اپنی ایئر کنڈیشنز گاڑی میں بیٹھے اراد بچے اور مجبور عورت کے بھیک کےلئے اُٹھے ہوئے ہاتھوں کا جائزہ لیتے ہیں ۔ تکبر اور غرور سے نفرت انگیز نگاہوں سے ان کے سینوں کو چیرتے ہوئے کہتے ہیں ۔ کہ کام کیوں نہیں کر تے کہ بھیک مانگتے ہوچونکہ تکریم انسانیت کے درجے سے گر ے ہو ئے ہو تے ہیں ۔ وہ چپ ہونٹ سیئے کھسک جا تے ہیں ۔ کہ کہیں ایسا نہ ہو یہ میڈم گھر لے جا کر کام نہ کروائیں ۔ یعنی دونوں جانب سے ہڈ حرامی قابل دید ہے ۔ میڈم صاحبہ اپنے شوہر کی ناجائز کمائی کے طفیل اپنی فزیہی اور دو موٹے موٹے بیٹوں کو پیار سے دیکھ کر ڈرائیور کو جانے کا کہتی ہے ۔ جب تک اس قوم کا ’’قومی کردار‘‘ نہیں بنتا ۔ صاحب ثروت اور غریب ’’ھیجان ‘‘ میں رہیں گے ۔ آخر الامر یہ حقیقت سبھی جانتے ہیں کہ موت کا ایک دن معین ہے ۔ مگر سماج میں جینے کی وجہ پیسہ ہے اور ہمارے پاس اتنا ہے کہ 3 نسلیں آرام سے کھائیں گی یہاں پر یہ غور نہیں کرتے کہ جب موت کی سختی کا سامنا ہو گا تو اُس وقت بیوی بچے رشتہ دار سبھی کے ہوتے ’’جان پر بن آتی ہے‘‘یہ جان نکلنے والی ہو تی ہے ۔ تو اس کے سامنے سارا پچھلا منتظر فلم کی سکرین کی طرح تیرتے لگتا ہے ۔ کبھی غور کیا ہوگا ۔ کچھ لوگ سالہا سال نزع کے عالم میں پڑے رہتے ہیں ۔ بیوی یا بچے ان کی خدمت سے اکتا جا تے ہیں ۔ دن رات دل میں یہ دُعائیں موجزن رہتی ہیں ۔ کہ اللہ اسے واصل جنگ کرے یہی باپ تھا جس نے حرام کی کمائی اور تین نسلوں کے لیے حفاظت کا سامنے کر رکھا تھا ۔ اس کی اپنی بیوی اب اس کے جینے سے تنگ ہے ۔ قیامت انفرادی سخت عذاب ہے ۔ کوئی انسان یہ نہ سمجھے کہ اللہ سویا ہوا ہے قانون مکافت ، خیر اور شر ذرہ ذرہ ہر بات کا حساب کرتا ہے ۔ لیکن وہ قوم یا معاشرہ جو قوانین کی اطاعت کرتے ہیں ۔ یوں اُصول معاشرت سماج ارتقاء کی طرف بڑھتا ہے ۔ غربت افلاس جس معاشرے میں مسکن اختیار کرلے ۔ وہ جرائم اور خرافات کی آماجگاہ بن جاتا ہے ۔ پاکستان جیسے معاشرے میں اس وقت انفرادی دوڑ لگی ہوئی ہے ۔ ذمہ داری اُٹھانے کا جذبہ تب بیدار ہوتا ہے جب حکمران اور عوام قوانین کی پابندی کریں ۔ 2050ء تک اگر آبادی جسے میں ’’جان کی بازی‘‘ کہتاہوں ۔ مسلسل میدان عذاب بن جائیگا ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ دوسرے جہنم کے قابل ہی نہ ریں ایسی قوم، افراد اور معاشرہ اللہ کی نگاہوں میں پست ترین درجے پر ہوتا ہیں ۔ ان کےلئے یہاں بھی بھوک ہے اور وہاں بھی کھولتا ہوا گرم پانی ہے ۔ قوم حکمت سے بنتی ہے ۔ حکومت وقت ہر شعبہ حیات پر ایمرجنسی لگادے ۔ یہ جو ہر ٹی وی ٹاک پر مجمع لگتا ہے کس قدر واہیات قسم کی گفتگو ہوتی ہے ۔ روم جل رہا ہے اور یہ حضرات بانسری بجا رہے ہیں ۔ سالہا سال سے کرپشن اور سپریم کورٹ سیاستدان، حکومت ، اپوزیشن یہ آٹا چوری ہوا یا منی لانڈرنگ و دیگر موضوعات لیکر دوکان سجائے بیٹھے ہیں ۔ حکومت کا نمائندہ بھی بے کار وپست ذ ہن قوم کے درد سے بے نیاز اپوزیشن نے تو سارا مال کھا کر ڈکار بھی نہیں ماری ۔ مجال ہے کہ ان کے چہروں پر شرم وحیا نام کی کوئی شے ہو ۔ بلکہ بے غیرتی کی عمدہ مثال بن کر اپنی چوری پر بے معنی ہنسی اُڑا لیتے ہیں ۔ ہر سال اس ملک میں نئی آفتیں سامنے آرہی ہیں اور ہم ذہنی، فکری طور پر ماوَف پڑے ہوتے ہیں ۔ ہر فرد کو یہ تعلیم دنیا بہت ضروری ہے ۔ لیکن کسی فرد کے کان میں جوں نہیں دینگی ۔ ہینڈز فری لگائے ہر بندہ کسی خیالی دنیا میں مگن ہے ۔ موبائل نے پر جواں اور برے کو جذب میں مبتلا کردیا ہے ۔ اب نہ بچہ پڑھتا ہے نہ جوان بات کرتا ہے ۔ میاں کوئی بات کر تے ہی نہیں ۔ اپنا سیٹ تھامنے اپنے کمروں میں لطف اندوز ہو رہے ہے ۔ یعنی حکومت وقت اگر اپنے سائل اور ضلعی حکومتوں کے تحت ;65;waracne ;83;ocial پروگرام کیوں لانچ نہیں کرتا ۔ ;67;ounils تشکیل دیں جس میں ;83;tudents ;67;ivil socity اور عام لوگ شرکت کریں تاکہ ان کو آگاہی مل سکے کہ ہر شے کے استعمال سے پہلے اس کی معلومات اور استعمال کے دورانیے منطم کر لیں ۔ ذمہ داری بن جائیں لیکن یہ ;87;ill ہو تو ممکن ہے ۔ ;67806967; کے آنے سے چینی بزنس مین کا آسیب سر پر کھڑا مکرا رہا ہے کہ اس قوم کو ہڑپ کرنا ہے ۔ یہ تو مادر پدر آزاد ہیں ۔ انسانیت کے سارے نقوش مٹاتے جا رہے ہیں ۔ جوان، بوڑھا، مرد ، عورت کس قدر بیوقوفی سے اپنی جان کو اپنے ہی جذبات ، خواہشات اور مفاد پرستی سے انسانی توانائی کو اتنا سستا بیچ رہا ہے جبکہ واپسی کا راستہ نہ ہوگا اب بھی ہم بھکاری ہیں اور اعضائے جسمانی بیچنا رواج پا جائیگاکیونکہ کھانے کےلئے پیسوں کی ضرورت پاکستانی عوام کو ضرور ہوگی ۔