- الإعلانات -

کشمیری زہریلا پانی پینے سے بیمار

بھارتی حکومت نے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کیلئے مزید حربوں کا استعمال شروع کر دیا ہے ۔ بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر کے تین اضلاع سری نگر ، بارہ مولہ ، بٹ گرام میں پینے کے پانی میں زہریلا کیمیکل ملا دیا جس کے باعث400 کے قریب پانی استعمال کرنے والے کشمیریوں کی حالت بگڑ گئی ۔ پانچ فروری کو حریت پسندوں کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو توڑنے کے اعلان کے بعد مودی ظلم کی انتہا کو پہنچ گئے اور کشمیریوں کی ا زادی کی تحریک کو کچلنے کیلئے مقبوضہ کشمیر کے تین علاقوں جہاں پر سب سے زیادہ مزاحمت کا سامنا تھا،ان علاقوں میں پینے کے پانی میں زہریلا کیمیکل ملا دیا گیا ۔ زہریلا کیمیکل ملا پانی پینے سے بچوں سمیت تین سو سے زائد کشمیری زندگی اور موت کی کش مکش میں مبتلا ہو گئے ۔ ساتھ میں مقامی ہسپتالوں کو بھی واضح طور پر ہدایات بھی جاری کر دی گئیں اور وہاں بھارتی فوجی تعینات کرکے یہ کہہ دیا گیا کہ زہریلا پانی پینے سے بیمار ہو کر آنے والے کسی کشمیری کا علاج نہیں کیا جائے گا ۔ بھارتی فوج اور حکمرانوں کے ظالمانہ اقدام سے ہزاروں کشمیری بیمار ہو گئے ہیں جن میں سے تین سو کی حالت زیادہ خراب ہے ۔ عالمی اداروں ،انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ بھارتی حکومت اس کی افواج اور دیگر اداروں کی دیگر ظالمانہ اقدامات کے ساتھ پانی میں زہریلا مواد شامل کرنے کے اقدامات کا نوٹس لیں تا کہ مسلمانوں کی زندگی محفوظ رہ سکے ۔ چیئرمین آل پارٹیز حریت کانفرنس سید علی گیلانی اس وقت نظر بند ہیں اور اچانک طبیعت بگڑنے کے بعد شدید علیل ہیں ۔ ان کی طبیعت طویل نظربندی کے باعث خراب ہوئی ۔ انہیں پھیپھڑوں میں انفیکشن سے سانس لینے میں مشکلات ہیں ۔ سید علی گیلانی کی طبیعت ناساز ہونے کے باعث ان کے انتقال کی افواہیں گردش کرنے لگی تھیں جس کی تردید ان کے صاحبزادے نسیم گیلانی نے کی ۔ ان کے والد کی نظر بند ہونے کی وجہ سے صرف طبیعت خراب ہوئی ہے ۔ چند روز قبل اپنے گھر میں نظر بند سید علی گیلانی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ کشمیری اپنے خوابوں کی تعبیر حاصل کرنے کےلئے جدو جہد کر رہے ہیں جو کہ پاکستان کی صورت میں اْن کے سامنے موجود ہے ۔ کشمیری عوام پاکستان کے ساتھ اپنا مستقبل بنانے کےلئے مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کی بے جا پابندیوں اور انٹرنیٹ اور فون کی بندش کے باعث کشمیری صحافیوں کے پاس رپورٹنگ کا کوئی ذریعہ نہیں رہا اور وہ بے روزگار ہوگئے اور روزی روٹی کے حصول کےلئے مزدوری کرنے پر مجبور ہوگئے ۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق کشمیر میں 29 سالہ صحافی منیب الاسلام 5 سال سے فوٹو جرنلسٹ کے طور پر کام کررہے تھے ۔ ان کی کھینچی گئی تصاویر نہ صرف بھارت کے اخبارات بلکہ غیر ملکی میڈیا کی بھی زینت بنتی رہیں ۔ لیکن اگست 2019 میں مودی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اسے بھارت میں ضم کرلیا گیا اور احتجاجی مظاہروں کو کچلنے کے لیے کرفیو سمیت سخت پابندیاں عائد کردی گئیں جن میں انٹرنیٹ اور ٹیلی فون کی بندش بھی شامل ہے ۔ منیب الاسلام اور ان جیسے دیگر کشمیری صحافی بھارتی اقدامات کے باعث صرف صحافی ہی بے روزگار نہیں ہوئے بلکہ کشمیر میں ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو معاشی طور پر شدید نقصان پہنچا ۔ منیب کا کہنا تھا کہ میں نے شعبہ صحافت اس لیے اختیار کیا کہ کیونکہ میں اپنے لوگوں کےلئے کچھ کرنا چاہتا تھا، میں نے پوری لگن کے ساتھ کشمیر کے تنازع کی کوریج کی لیکن 5 اگست کے اقدام سے میرا یہ سفر رک گیا ۔ منیب کی اہلیہ بیمار ہیں اور وہ خاندان کی روزی روٹی کا بندوبست کرنے کےلئے 500 روپے دیہاڑی کے عوض زیر تعمیر عمارت پر اینٹیں ڈھونے کا کام کرتے ہیں ۔ منیب کہتے ہیں کہ انٹرنیٹ اور فون پر پابندی کے باعث ان کے پاس رپورٹنگ کا کوئی ذریعہ نہیں رہا ۔ یہ صرف منیب الاسلام کی کہانی نہیں بلکہ مقبوضہ کشمیر میں ہر صحافی کی اس وقت کم و بیش یہی صورتحال ہے ۔ دیگر صحافیوں میں سے کوئی ڈیری فارم پر کام کررہا ہے تو کوئی اسی طرح کے چھوٹے موٹ کام کرکے پیٹ کا ایندھن بھرنے کی کوشش کررہا ہے ۔ مسئلہ کشمیر بھارت خود اقوام متحدہ میں لے کر گیا‘ اس وقت پورا کشمیر پاکستان کی دسترس اور تسلط میں آیاچاہتا تھا ۔ اقوام متحدہ نے فوری طور پر فائربندی کرادی اور اس مسئلہ کیلئے استصواب کی تجویز دی جسے بھارت نے تسلیم کیا لیکن بعد میں اس سے مکر گیا‘ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ کشمیری پاکستان سے الحاق چاہتے ہیں ۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں بدستور موجود ہیں ‘ اسکے باوجود کشمیر کو بھارت اپنا اندرونی معاملہ ہونے کا راگ الاپتا ہے ۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں سے انکاری ہونے کے بعد بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو عالمی قانون کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے اپنی ریاست کا درجہ دے دیا‘ اسی وقت اقوام متحدہ‘ اسکی سلامتی کونسل اور با اثر ممالک کو نوٹس لینا چاہیے تھا مگر انکی طرف سے مکمل خاموشی اختیار کی گئی ۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس آج کل پاکستان کے دورے پر ہیں ۔ حکومتی عہدیداران اور اراکین پارلیمنٹ نے ان سے مسئلہ کشمیر کے حل کےلئے اقدامات کےلئے زور دیا ۔ اراکین پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ جنگی جنون کے موجودہ ماحول میں بھارت کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات نہیں ہو سکتے ۔ بھارتی جنگی جنون کی درپیش صورتحال میں تنازع کشیر کے حل میں اقوام متحدہ کی قیادت کا کردار نہایت اہم ہو چکا ہے ۔ مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارت کی جانب سے کئے جانے والے یکطرفہ اقدامات قبول نہیں ہیں ۔ جموں وکشمیر کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر دیرینہ ترین مسئلہ ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے سیکرٹری جنرل پر زوردیا گیا کہ وہ اپنے منصب کو استعمال کرتے ہوئے ثالثی کرائیں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اس مسئلے پر موجود مختلف قراردادوں اور اقوام متحدہ کے منشورکے تحت کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دلائیں ۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے ارکان اسمبلی سے ملاقات میں مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے حالیہ دورے کا مقصد پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا ہے ۔ کشمیر کا مسئلہ ہمارے لئے بہت زیادہ تشویش کا باعث ہے ۔ تنازع کشمیر کے ضمن میں اقوام متحدہ ثالثی کا کردار ادا کرسکتا ہے ۔ سفارتکاری اور مذاکرات تنازعات کے حل میں اہم ہیں ۔ کشمیریوں کے بنیادی حقوق کو یقینی بنایا جانا چاہیے ۔ پاکستان اور بھارت مکمل تحمل کا مظاہرہ کریں ۔ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پاسداری پر زور دیتے ہیں ۔ امن و سلامتی صرف اقوام متحدہ و سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل میں مضمر ہے ۔ اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کنٹرول لائن پر خدمات سرانجام دیتے رہینگے ۔ پاکستان نے انسداد دہشت گردی کیلئے کلیدی قربانیاں دیں ، دنیا ان قربانیوں کا ادراک کرے ۔