- الإعلانات -

مقبوضہ کشمیر میں بگڑتی صورتحال ، عالمی برادری آواز اٹھائے

بھارت کی خطے میں چیرہ دستیاں دنیا بھر کے سامنے واشگاف ہوچکی ہیں ، مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم انتہا کو پہنچ چکا ہے دنیا کی سب سے بڑی جیل میں مودی سرکار کسی کو جانے کی اجازت نہیں دیتی کیونکہ اس کے ایسا کرنے سے اس کے ظالمانہ اقدام اور بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے آنے کا خدشہ ہے اسی لئے وہاں پر کسی کو جانے کی اجازت نہیں ۔ بھارت سے ڈی پورٹ ہوکر پاکستان دورے پر آنے والے برطانوی آل پارٹیز پارلیمانی کشمیر گروپ کے اراکین نے کہاکہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق تمام ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کیخلاف آواز اٹھائیں ۔ لیکن نامعلوم کیا وجوہات ہیں کہ دنیا اپنے ذاتی مفادات کی وجہ سے اس مسئلے پر آنکھیں بند کیے بیٹھی ہے ۔ برطانوی پارلیمانی گروپ نے وادی کے حالات کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ پوری دنیا متحد ہوکر کشمیر میں انسانی حقوق کی حمایت میں آواز اٹھائے جبکہ وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ بھارت کشمیر سے عالمی توجہ ہٹانے کیلئے جھوٹا آپریشن کرسکتا ہے ۔ برطانوی پارلیمانی وفد نے وزیراعظم سے ملاقات کی اور ملاقات میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ وزیراعظم نے وفد کو وادی کے حالات سے آگاہ کیا ۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کہاکہ 5اگست کے بھارتی غیر قانونی اورغیر انسانی اقدام کے بعد سے اب تک مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ ہے ۔ عالمی برادری اور اقوام متحدہ کشمیریوں سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل کرائے ۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں اندھیر نگری مچا رکھی ہے ۔ وادی کی آواز کو بیرونی دنیا تک پہنچنے ہی نہیں دیا جارہا ۔ نامعلوم دنیا کس لمحے کا انتظار کررہی ہے ۔ دونوں ممالک ایٹمی صلاحیتوں کے حامل ہیں اگر خدانخواستہ بھارتی اقدامات کی وجہ سے کوئی بھی سانحہ رونما ہوتا ہے تو اس سے پوری دنیا متاثر ہوگی ۔ دنیا آگے بڑھے اور بھارت کو لگام ڈالے تاکہ کسی بھی ناقابل برداشت صورتحال سے بچا جاسکے ۔ پاکستان ہمیشہ امن کا داعی رہا صرف خطے کے ہی مسائل نہیں دنیا بھر کے مسائل کو مذاکرات سے حل کرنے پر زور دیا ۔ مسئلہ کشمیر ہو، افغانستان کا مسئلہ ہو، فلسطین کا مسئلہ ہو، امریکہ اور ایران کی چپقلش ہو، غرض کہ کوئی بھی مسئلہ درپیش ہو ، کسی کا بھی حل فوجی حل نہیں ہوتا آخر کار مذاکرات سے ہی معاملات باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے حل کیے جاتے ہیں ۔ وزیراعظم اور برطانوی پارلیمانی وفد کی ملاقات کے بعد جو اعلامیہ جاری کیا گیا اس کے مطابق وزیراعظم نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ کشمیری عوام کی جدوجہد اور حق خودارادیت کیلئے پاکستان اپنی حمایت کے عزم کا اعادہ کرتا ہے ۔ جموں وکشمیر تنازع پر گروپ کی مستقل توجہ اور وادی میں انسانی حقوق کی صورتحال پر گروپ کی رپورٹس کے کردار کی تعریف کی ۔ واضح رہے کہ یہ رپورٹ بھارت کے منہ پر طمانچے کے مترادف اور بین الاقوامی برادری کی مسئلہ کشمیر کے حوالے سے آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے ۔ وادی میں کشمیریوں سے انسانی حقوق اور آزادیاں چھین لی گئی ہیں ۔ بی جے پی حکومت آر ایس ایس سے متاثر ہوکر ہندوتوا نظریے کے تحت کشمیریوں کی نسل کشی کررہی ہے ۔ ہندوتوا نظریہ ہندوستان کی اقلیتوں کےلئے بھی جگہ محدود کررہا ہے ۔ اس موقع پر ہم یہاں یہ بات ضرور کہیں گے کہ اس وقت انسانی حقوق کی علمبردار تنظی میں کہاں ہیں ، دنیا کی سپر پاورز جو بنیادی انسانی حقوق کے ٹھیکیدار ہیں وہ کہاں پر گم ہوچکی ہیں ۔ کیا ان کا فرض نہیں بنتا کہ وہ آگے بڑھیں ، مودی کو روکیں ، وادی کے کشمیریوں کو بنیادی حقوق دلوائیں ۔ ادھر وزیراعظم نے مزید کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کیلئے بھارت کوئی بھی قدم اٹھا سکتا ہے ۔ عالمی برادری انسانیت کیخلاف بھارتی جرائم کے حوالے سے شعور کو اجاگر کرے اور جموں کشمیر سے متعلق سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کرائے ۔ بعدازاں برطانوی پارلیمنٹرینز نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے بھی ملاقات کی اور مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے برطانوی وفد نے مطالبہ کیا کہ بھارت ہ میں مقبوضہ کشمیر میں جانے کی اجازت دے ،وفد کی سربراہ ڈیبی ابراہم نے کہاکہ ہم ایک غیر جانبدار اور آزاد گروپ ہیں ، ہم پرو پاکستان یا اینٹی انڈیا نہیں بلکہ پرو ہیومن راءٹس گروپ ہیں اسی لئے بھارت سے کہتے ہیں کہ ہ میں وہاں جاکر صورتحال کا جائزہ لینے دے ۔ 30 ہزار سے زائد نوجوانوں کو بھارت نے گرفتار کررکھا ہے، انسانی حقوق تمام افراد اور قوموں کا حق ہے، ہم برطانوی حکام پر دباءو جاری رکھیں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر پر بات کرے ۔

مہنگائی کنٹرول کرنے کیلئے عملی اقدامات کی ضرورت

بڑھتی ہوئی مہنگائی کے حوالے سے نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کے اجلاس میں بھی اس بات کا اعتراف کیا گیا کہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہونے سے معاشرے میں بدامنی پھیلتی ہے جبکہ سیکرٹری خزانہ نے مہنگائی کنٹرول کرنے کی ذمہ داری صوبوں پر منتقل کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کی آئینی ترمیم کے تحت قیمتوں پر کنٹرول صوبائی ذمہ داری ہے ۔ ہم سیکرٹری خزانہ کی بات سے اتفاق کرتے ہیں لیکن انہیں یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ جب آرڈر اوپر سے آئیں تو ان پر عملدرآمد بہترین انداز سے ہوتا ہے جہاں تک اختیارات نچلی سطح پر منتقلی کی بات ہے تو وفاق اور صوبائی حکومتوں کو یہ بھی جان لینا چاہیے کہ پرائس کنٹرول کمیٹیاں قطعی طورپر غیر فعال ہیں ۔ بہت زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں حکومت کی جانب سے ملک بھر میں لگائے گئے مختلف سستے بازاروں تک میں اشیاء خوردونوش ، سبزیوں اور دیگر اشیاء کی قیمتیں یکساں نہیں ہیں ۔ یعنی کہ مصداق اس کہ چراغ تلے اندھیرا ہے ۔ باقی کسی کو کیا کہنا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہوشربا مہنگائی نے عوام کی چیخیں نکال دی ہیں ۔ گزشتہ سال جنوری کے مقابلے میں جنوری 2020ء میں مہنگائی بڑھنے کی شرح14;46;5فیصد ریکارڈ کی گئی ۔ اِدھر کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے کاشتکاروں سے 1365 روپے فی 40 کلو گرام امدادی قیمت کی بنیاد پر 82لاکھ 50ہزار ٹن گندم خریدنے کی منظوری دیدی ہے ۔ جبکہ پیاز کی برآمد پر پابندی بھی عائد کی گئی ہے ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مہنگائی کنٹرول نہ کرنے والے افسران کیخلاف کارروائی ہوگی ۔ یہاں یہ ہم وضاحت کرتے چلیں کہ ایک روز قبل وزیراعظم نے بھی یہی کہا تھا کہ جو افسران مہنگائی کیخلاف کارروائی نہیں کریں گے ان کیخلاف کارروائی ہوگی ۔ بات صرف کارروائی تک محدود نہیں ہونی چاہیے عملی اقدامات سامنے لانا انتہائی ضروری ہیں ۔

سچی بات میں ایس کے نیازی کے حکومت کو کلیدی مشورے

پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے کہاکہ حکومت اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرے گی ۔ وزیراعظم عمران خان بڑے لیڈر ہیں اور ان کے بڑے پن کا یہ ثبوت ہے کہ وہ اپنی غلطی بھی تسلیم کرتے ہیں ۔ ایس کے نیازی نے حکومت کو تجویز دی تھی کہ غذائی اجناس کو ٹرکوں کے ذریعے پہنچایا جائے ۔ نیز انہوں نے کہا کہ ملاوٹ مافیا کیخلاف مسلسل اور متواتر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ ایس کے نیازی کی یہ بات سولہ آنے درست ہے جب تک ملاوٹ مافیا کیخلاف کارروائی نہیں کی جائے گی اس وقت تک درپیش بحران حل نہیں ہوسکتے ۔ نیز جہاں تک ٹرکوں کے ذریعے اشیائے خوردونوش پہنچانے کی تجویز ہے تو یہ بھی ایک انتہائی سنہرا مشورہ ہے ۔ کیونکہ دور دراز علاقوں میں یوٹیلٹی سٹور جیسی سہولیات میسر نہیں پھر ہوتا یوں ہے کہ اکثر دکاندار یوٹیلٹی سٹورز سے بھاری مقدار میں ارزاں نرخوں پر اشیائے خوردونوش خرید کر لے لیتے ہیں اور اسے اوپن مارکیٹ میں مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں ۔ نیز جن علاقوں میں یوٹیلٹی سٹورز جیسی سہولیات موجود نہیں ہیں وہاں پر ٹرکوں کے ذریعے ہی اشیائے خوردونوش عوام الناس تک پہنچائی جاسکتی ہیں ۔ یہ وہ بنیادی نکات ہیں جن کو ایس کے نیازی نے اپنے پروگرام’’سچی بات‘‘ میں اجاگر کیا ۔ ایک اچھے کہنہ مشق اور وطن کا درد رکھنے والے محب وطن صحافی کا یہی فرض ہوتا ہے کہ وہ حکومت کو جہاں مسائل درپیش ہوں ایک تعمیری ناقد کے تحت صحیح اور مثبت تجویز دے اور ایس کے نیازی اپنے پروگراموں ،کالموں کے ذریعے کلمہ حق کہتے رہتے ہیں اور اسی خاصا نے انہیں دنیا صحافت میں ایک ممتاز حیثیت سے جِلا دے رکھی ہے ۔