- الإعلانات -

سی پیک سے پہلے کرونا کی آمد

سانس کی نالی کا یہ وائرس چین سے origniateہوا ہے ۔ آخر چین سے ہی کیوں ;238; کیا دنیا کے دیگر ممالک اور اس کے ماحول میں اس وائرس کی نشوونما کی فضا ساز گار نہ تھی;238; اب تک 96000مریض ساری دنیا میں تشخیص کئے گئے ہیں ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک میں اس جان لیوا وائرس نے کیسے سفر کیا ۔ یہ امکان ضرور ہے کہ دنیا اس وقت ’’ دیہات‘‘ کی شکل میں نظر آتی ہے ۔ رسل وسائل ، ذراءع آمدورفت بھی اس قدر برق رفتار ہیں ۔ اس کرونا وائرس کا انتقال لازمی تھا ۔ بدن میں اس جراثیم کی حرکت اور اس کی نمو جاری تھی ۔ اور یہ بھی ہے کہ نزلہ، زکام یا بخار سمجھ کر متاثرہ افراد نے ہیلتھ کئیر کا ۔ خیال نہ کیا ( لا علمی بھی تھی)یہ وہ اسباب ہیں کہ آج 3300افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں ۔ اور دنیا میں ایک خوف وہراس پھیل چکا ہے ۔ اب نارمل زکام بھی خوف میں مبتلا کردیتا ہے ۔ ایران، اٹلی، امریکہ تک اس کی زد میں آچکے ہیں ۔ امریکہ میں 160افراد کرونا وائرس کے مریض کنفرم ہوگئے ہیں ۔ اب یہ بحث لاحاصل ہے ۔ اگر بروقت اس بیماری یا اس کے امکانات معلوم کرلئے جاتے تو اس قدر تباہی کا موجب نہ ہوتا ۔ یہ پہلے ریسرچ کیوں نہیں کی گئی;238; کہ اس کرونا وائرس پہلے جانور اور پھر انسان کو متاثر کیاہے ۔ کرونا وائرس نے کی چار اقسام بھی تبادی گئی ہیں ۔ جس ;83658267; ;83;yndrineکہا گیا ہ ۔ 2012 میں اس ;83;yndrnulنے دوبئی، سعودی عرب اور چین میں 774افراد کو لقمہ اجل بنایاہے ۔ آخر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چین اور دیگر ممالک کے شعبہ طب وتحقیق پیش آمدہ امکانات کو کسی قابل نہ سمجھا ۔ یا وہ مطمئن ہوگئے اور جب 774افراد جاں سے گئے ۔ اتو سمجھ لیا کہ’’ان مریضوں ‘ کے ساتھ ہی یہ وائرس فنا ہوگا ۔

آج 2020 میں کرونا ;83658267;ایک خطرناک صورت لیکر پھرسے غددار ہوا ہے ۔ چین ہی وہ ملک ہے جہاں آبادی دنیا کے تمام ممالک سے زیادہ ہے ۔ اور دنیا میں معاشی قوت بننے جارہاہے ۔ آپ مت بھولئے اور یہی حقیقت ہے کہ چین ایک نئی تہذیب اور معاشی قوت کے طور دنیا میں ابھر رہا ہے ۔ ان کی ثقافت ، تہذیب اور اقدار کافی پرانی ہیں ۔ مگر ’’ماوَزے تنگ‘‘ کے نظریات اور تصورات کے بھی پیروکار ہیں ۔ ’’کنفیوشس‘‘ کے عقائد اور نظریات ان کی قدیمی افکار ہیں ۔ یہ قوم ’’افیوں ‘‘ زدہ قوم تھی ۔ ’’ماوزے تنگ کے ‘‘ شرخ انقلاب نے ان افیون زدہ اور بے عمل قوم کے اندر روح پھونکی;238; ان کو عمل ہر آمادہ کرنے کے لیے چین کی سیاسی معاشی نظام کو مستحکم ہونے میں 50سال سے لگے ۔ یہ اک مسلسل تحریک تھی مگر یہ سب کچھ ’’مادی تصور‘‘ تھا ۔ آج چین اپنی ’’مادی تصور‘‘ کو عالمی سطح پر متعارف کر چکے ہیں ۔ یورپی طرز معشیت کو اپنے ہاں راءج کیا ۔ اور ایک منظم تحریک اختیار کر گئی ہے ۔ دنیا بھر میں اپنے ہاں کے اس نئے نظام معشیت کے لیے سردھڑ کی بازی لگا بیٹھے ہیں ۔ چین اب ایک سرمایہ دار قوت بن چکا ہے ۔ مگر ان کی بے رحمی ، ایک میٹھی تلوار کر پسماندہ قوموں کو کاٹ رہی ہے ۔ چین کے عوام اور حکمران اس وقت چین کو عالمی معاشی قوت بنانے میں مصروف ہیں ۔ مگر حالات زندگی کو خطر ے بھی لاحق ہیں ۔ یہ قوم چمگاڈر، بلی ، کتے اور سانپ شوق سے کھاتے ہیں ۔ بلکہ یہ ان کے مجموعی کلچر کا حصہ ہے ۔ دنیا کی تاریخ یکتا پھرایک بار پھر پلٹا کھارہی ہے ۔ پاکستان چین کو دوست کہتے نہیں تھکتا ۔ یہ ان کی نا اہلی ہے، چین کیسے ان کا دوست ہوسکتا ہے ;238; اپنے مفاد کو خاطر میں لاتے ہیں ان کا مفاد ;67806967;ہے جو رستہ پاکستان مہیا کررہا ہے ۔ اس کا 90فیصد براہ راست فائدہ چین ہی لے گا ۔

یہی وہ نکتہ ہے کہ دوراندیشی کی ضرورت ہے پاکستان ایک غریب ملک ضرور ہے، اس کے 70فیصد افراد مفلسی وتنگدستی کا شکار ہیں ۔ امکان یہ ہے کہ 5تا 10سالوں میں ;67698067;روٹ برق رفتاری سے متحرک ہوچائیگا ۔

پاکستان کا سماج اس میں کھو جائیگا ۔ سانپ، بچھو، کتے اور سور کھانے والے،پاکستانیوں کو سرمایے کی آٹ میں ان کی عجور یوں سے خواب فائدہ آٹھا سکے ۔

یہ میں تجربے کی بات کررہا ہوں جب میں کوریا کی کمپنی میں ملازم تھا تو کمپنی کے کورین جنرل منیجر مجھے چکری سے لیکر چکوال لے گئے ۔ کیونکہ ہم نے موٹروے کے اگلے سیکشن کا اندازہ لگانا تھا ۔ تھوڑی دیر بعد کچی سٹرک اور ویران جگہ میں اس نے زوردارکا نعرہ لگایا اور ;83;top ;73;tکہا ۔ میں نے کہا کیا ہوا ;238;کچھ بولے بغیر اترا اور کتے کے پیچھے بھاگنے لگا ۔ آپ یقین نہیں کرینگے کتا جیسے سحرزدہ ہوگیا جنرل منیجر کے پاؤں میں ڈھیر ہوگیا ۔

آپ کیا کہتے ہیں ۔ یہ کیوا ہوا;238; سنیے آپ کی جو بھی خوراک ہے اگر آپکے کا چر کا حصہ ہے تو آپ کا مزاج بھی ولیے ہی کا ۔ تو وہ آپ کی مرغوب غذا ہوتی ہے ۔ کتے ، بلیاں اور سانپ ان کی مرغوب غذا ہے یقین کیجئے سانپ ان کو نہیں کاٹتے کیونکہ یہ سانپوں سے ڈرتے نہیں ۔ جس دن ان کو سانپ کاٹ لے کر یہ کبھی نہیں کھائیں ۔ ان کے ہاں حلال و حرام کا تصور نہیں ۔ قرآں نے ان کو کھانے سے منع کیا ہے ۔ کیونکہ چونکہ جو حرام ہے وہ بدن، سوچ، عقل شعور کو ہر قسم کی انسانیت سے بے گانہ کردیتے ہیں ۔

چینی جب یہ سب چیزیں کھاتے ہیں ۔ تو قرآن کے مطابق یہ سب جانوروں سے بھی پست درجے پر ہیں ۔ رہی ترقی تو یہ پر اس قوم کو ملتی ہے جو حرکت میں ہوں ;238; ہمارے قوم پاکستانی 70سال سے سورہی ہے ۔ حکمران تو ان کے مفاد ات کے ترجمان ہیں ۔ حکمت یا بصیرت سے کام نہیں لیتے ۔ جراثیم یا وائرس، غربت وافلاس سے نہیں ، بدکرداری ، بداخلاقی اور غیر انسانی حرکات سے پیدا ہوتے ہیں ۔ چینی تہذیب غیر انسانی ہے ۔ ہمارے بچے وہاں پڑھنے جاتے ہیں ۔ یقین کیجئے وہ نفسیاتی طور پر ان کی ترقی اور ان سے متاثر ہو جاتے ہیں حالانکہ چین اسی ترقی کو مذید کیش کررہا ہے ۔ اور ہر شعبہ حیات کے لیے پاکستان سے اپنی درس گاہ ہے ارطوں ڈالرز کمارہے ہیں ۔ جب تک آپ اپنے وسائل پر انحصار نہیں کرتے ۔ اور خود کو ترقی یا فتہ نبانے کے لئے آپ ان سے مدد لیتے ہیں جو انسانیت کے درجے سے لیت ہیں ۔ کرونا ہی حملہ کر لگا ۔ پاکستان کے ہر شہر میں چینی یہ دندنا رہے ہوں گے سمجھ کر کرونا لینا وائرس کے سر چشمے ہماری تہذیب کو کھا جاتے رہیں ۔ کیونکہ ’’سرمایہ‘‘ اک خدا ہے‘‘ 10، 10روپے پر مفلس ومفلوک الحال پاکستانیوں سے ان کے گردے خرید کر اپنی کمائی اور بزنس کی میعاد بڑھائیں گے ۔ یہ کوئی فرضی بات نہیں ۔ یہ ہو کر رہے گا ۔ انسانی اعضا کا بزنس ان کے ہاں ایک عالمی نیٹ ورک کا حصہ ہے ۔

دور مت جائیے پچھلے سال کئی پاکستانی لڑکیوں سے شادی، اور پھر ان کے اعضاء نچے لئے ۔ اور پھر پاکستان کے چھوٹے بیوپاری ان کے نمائندے بن جاتے ہیں ۔ کیا کرونا سے خطرناک حالات ہمارے سامنے پیش نظر نہیں ہورہے ہیں ;238;

میں یہاں یہ کسے کہوں کہ جاگ جاوَ، بس 70سال گزرنے کے بعد ہم سو رہے ہیں تو آنے دو عذاب جو چینیوں کی شکل میں ہو یا کرونا ، کرونا وائرس ۔ کی صورت میں ہمارے سامنے ہے ۔

دیکھتے آئے ہیں کہ ایسی سازش امریکہ ، یورپ سے پہلے آیا کرتی تھی اب چین بھی ساہو کار بن گیا ہے ۔ خدا چینیوں کی غلامی سے محفوظ رکھے ۔ اگر ان کی نظر انسان پر پڑی تو یہ بے رحم، انسانوں کا سوپ بنا کر پیش کریگے ۔ اس تحریر کو انسانیات ہا نفسیات کے تناظر میں دیکھیں یہ دوستی کا طوق اتار پھینکیں ۔ کلمہ گو ہی دوست ہوسکتا ہے ۔ یہ قرآن کا حکم ہے آپ کافر سے متاثر ہیں تو آپ کافر ہی ہوگئے ۔ مفاد تم لوگوں کا مشن ہے ۔ اسی لیے غلام بن گئے ۔ انسانوں کے تصورات کی تقسیم سے ۔ آپکی طرز زندگی ثقافت، امدار اور سنو ہے ۔ کا انداز بھی بدل جاتا ہے قوم کی کی ترقی یا انسانوں کے روپے ۔ کہ عام انسانی فطرت ہے ۔ مگر حقیقی ترقی وہ ہوتی ہے ۔ جس میں انسانیت کی چز ہو ۔ چین میں سنکیانگ صوبے میں کثیر آبادی مسلمانوں کی ہے ۔ چینوں نے انکو کافی تنگ کر رکھا ہے ۔ نظاہر آپ کو چینی ایک محنت کش قوم ہے ۔ یا ترقی یافتہ قوم نظر آتی ہے ۔ مگر حصوصا مسلمانوں کے لئے تنگ دل رکھتے ہیں ۔ بے رحم لوگ ہیں ۔ پاکستانی عوام اور حکومتیں جو چین کے بارے حیالات رکھتے ہیں ۔ بہت لاعلم ہیں ۔ چینی کی نفسیات اور طرز زندگی قطعی غیر انسانی ہے ۔