- الإعلانات -

بھارت سلامتی کونسل کا مستقل رکن بننے کے قابل ہے

 اقوام متحدہ میں بین الحکومتی مذاکرہ میں پاکستان اور اٹلی کی زیرقیادت گروپ نے سلامتی کونسل کے مستقل ارکان میں اضافے کی مخالفت کی ۔ دوسری جانب بھارت، برازیل، جاپان، جرمنی نے مستقل ارکان کی تعداد بڑھا کر 10 کرنے پر زور دیا ۔ اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ عالمی ادارے کی ساکھ اور قانونی حیثیت بہتر بنانے کیلئے منتخب ارکان میں اضافہ کرنا ہوگا لیکن مستقل ارکان میں اضافہ سلامتی کونسل کی کارکردگی کو تباہ کردے گا ۔ بعض ممالک کے پورے خطے کی نمائندگی کے دعوے بے بنیاد ہیں ۔ مستقل ارکان میں اضافہ سلامتی کونسل کی غیر فعالیت کو بڑھائے گا اور مسائل بڑھیں گے ۔ پاکستان سلامتی کونسل میں غیر مستقل نشستوں میں اضافے کا حامی ہے ،اس سے سلامتی کونسل کے کردار میں بہتری ائے گی ۔ دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل ارکان کی تعداد بڑھانے سے روایتی امن کونقصان پہنچے گا ۔ سلامتی کونسل کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے ۔ کشمیرکا مسئلہ کشمیریوں کو حق خودارادیت دینا ہے جس پر اقوام متحدہ کی بیس قراردادیں موجود ہیں ۔ بھارت غاصب ہے جو اپنے سابق وزیراعظم نہرو کے بیانات نہیں مانتا کہ کشمیر کا فیصلہ کشمیریوں کی مرضی کے مطابق کیا جائے ۔ بھارت کو سلامتی کونسل کا مستقل رکن بنانے سے کونسل میں اصلاحات کاعمل متاثر ہو گا کیونکہ عالمی طاقت بننے کی خواہش رکھنے کے باوجود بھارت کے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ تعلقات کبھی اچھے نہیں رہے جبکہ جموں و کشمیر کے حل کے لیے سلامتی کونسل کی قراردادوں کی بھی وہ مسلسل خلاف ورزیاں کر رہا ہے ۔ اقوام متحدہ1945 میں قائم ہوئی ۔ اس وقت اقوام متحدہ کے ارکان کی تعداد51 اور سلامتی کونسل کے ارکان کی تعداد11 تھی ۔ گویا مجموعی ارکان کا22 فیصد سلامتی کونسل میں شامل تھا ۔ آج اقوام متحدہ کے ارکان کی تعداد 291ہو چکی ہے لیکن سلامتی کونسل کے ارکان کی تعداد صرف51 ہے، جو مجموعی تعداد کے8 فیصد سے بھی کم ہے ۔ چنانچہ بہت سے ارکان محسوس کرتے ہیں کہ سلامتی کونسل میں ارکان کو مناسب تعداد میں نمائندگی حاصل نہیں ۔ سلامتی کونسل کے ارکان میں طاقت کا توازن بھی درست نہیں ۔ ارکان کی تعداد عالمی آبادی کی مناسبت سے بھی بجا نہیں ۔ بھا رتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل نشست کیلئے بھیک نہیں مانگ رہا، بلکہ یہ اس کا حق ہے ۔ بھارت کی سلامتی کونسل کا مستقل رکن بننے کی دیرینہ خواہش ہے ۔ بھارت خود کو دنیا کی بڑی جمہوریت اور سیکولر سٹیٹ باور کراکے سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کا حقدار ہونے کا دعویدار ہے ۔ سیکولرازم کا تصور تو اب صرف بھارتی قیادت کے نعروں تک ہی محدود ہے ۔ حقیقت میں بھارت میں سیکولرازم موجود نہیں ہے ۔ مسلمانوں ‘ سکھوں اور عیسائیوں کی عبادت گاہوں کو جلانے کے واقعات بھارتی سیکولرازم پر بدنما دھبہ ہیں ۔ مذہبی امتیاز پر بھی نام نہاد سیکولر انڈیا میں اقلیتوں کو ہزاروں کی تعداد میں گولیوں سے اڑایا اور آگ میں جلایا جاتا رہا ہے ۔ بھارت کے رویوں سے ہمیشہ پاکستان کیلئے بغض و عناد کا اظہار ہوتا ہے ۔ اکھنڈ بھارت کے ایجنڈے کے تحت پاکستان کا وجود اس کیلئے ناقابل برداشت ہے ۔ اس نے پاکستان کیخلاف تین مرتبہ جارحیت کی ۔ 71ء میں پاکستان کو جارحیت اور سازش کے ذریعے دولخت کر دیا ۔ پاکستان کو مسلسل عذاب میں مبتلا رکھنے کیلئے مسئلہ کشمیر کھڑا کر دیا ۔ اس کا حل اقوام متحدہ نے اپنی قراردادوں میں تجویز کیا‘ اس پر بھارت71 سال سے عمل کرنے میں ٹال مٹول کررہا ہے ۔ پاکستان کو زچ کرنے کیلئے ممبئی حملوں کا الزام پاکستان پرلگایا گیا ۔ اسے بے بنیاد الزام اس بنا پر کہا جائیگا کہ دنیا کے سامنے اسکے ثبوت نہیں رکھے گئے ۔ سمجھوتہ ایکسپریس کی آتشزدگی کا الزام بھی پاکستان پر لگایا گیا‘ خود انڈین ایجنسیوں کی تفتیش میں اس المناک سانحہ کا ذمہ دار کرنل پروہت کو قرار دیا گیا جس نے برملا اعتراف بھی کیا ۔ بھارت کے پاکستان میں دہشت گردی اور بلوچستان میں مداخلت اور علیحدگی پسندوں کی مدد کے ثبوت پاکستان نے امریکہ اور بھارت کے سامنے رکھے ہیں ۔ لائن آف کنٹرول پر اسکی اشتعال انگیزی جاری رہتی ہے ۔ بھارتی سکیورٹی فورسز نے ایک بار پھر سیز فا ئر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نکیال سیکٹر میں بلا اشتعال فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 13 سالہ لڑکا شدید زخمی ہو گیا ہے ۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت کے خواستگار بھارت سے پاکستان ہی کو تحفظات نہیں ہیں ‘ دیگر پڑوسی ممالک کے ساتھ بھی بھارت کا رویہ دوستانہ نہیں ہے ۔ چین کے ساتھ اسکے سرحدی تنازعات ہیں ‘ سری لنکا‘ بھوٹان‘ مالدیب‘ میانمار اور بنگلہ دیش کے ساتھ بھی بھارت کے خوشگوار تعلقات نہیں ہیں ۔ پاکستان کی طرح بنگلہ دیش کے ساتھ بھی بھارت کا پانی کا تنازع ہے ۔ بھارت کے اندر صرف مقبوضہ کشمیر اور مشرقی پنجاب کی آزادی کی تحریکیں ہی نہیں چل رہیں ‘ ناگالینڈ‘ میزورام‘ تامل ناڈو اور آسام سمیت درجن بھر آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں جن کو دبانے کیلئے بھارت ہر ستم روا رکھ رہا ہے ۔ ایسا ملک جو سیکولرازم کا لبادہ اوڑھ کر اقلیتوں کو کچلنے کی پالیسی پر گامزن ہو‘ جس کے اندر تشدد سے آزادی کی تحریکوں کو کچلا جا رہا ہو‘ جس کے کسی ہمسایہ ملک کے ساتھ اچھے تعلقات نہ ہوں ‘ اقوام متحدہ کی رپورٹس میں کہا جائے کہ دنیا میں انسانی حقوق کی سب سے زیادہ پامالی بھارت کے زیر کنٹرول کشمیر میں ہوتی ہے جہاں سات لاکھ بھارتی مہلک اسلحہ کے ساتھ تعینات ہیں ۔ مزیدبراں جوملک خود اقوام متحدہ کی قراردادوں کا مذاق اڑائے تو ایسا ملک اقوام متحدہ کی ایسی کونسل کا مستقل رکن کیسے ہوسکتا ہے جس نے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرانا ہوتا ہے ۔ سلامتی کونسل کے رکن ممالک کی تعداد 15 ہے جن میں سے 5 مستقل اراکین جب کہ 10 منتخب ارکان ہوتے ہیں ۔ 5 مستقل اراکین میں امریکہ، چین، برطانیہ، فرانس اور روس شامل ہیں جنہیں ویٹو پاور حاصل ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ کسی بھی فیصلے اور قراداد کو مسترد کرسکتے ہیں ۔ بھارت، جاپان، جرمنی اور برازیل سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت حاصل کرنے کے لیے کوششیں کررہے ہیں ۔