- الإعلانات -

کرونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے

گزشتہ سے پیوستہ

ڈاکٹر آصف محمود جاہ نے ہمیشہ کی طرح مسیحائی کے نئے انداز اپنائے اور ڈینگی جیسی موذی مرض کے زہر کا بھی تریاق جس طرح ڈھونڈا تھا بالکل اسی طرح کرونا کی گردن کو اپنی مسیحائی سے دبوچ لیا ہے اور انشاء اللہ پاکستان میں اسے فنا کے گھاٹ اتار دیا جائے گا ۔

کوئی کرے تو کہاں تک کرے مسیحائی

ایک زخم بھرے دوسرا دہائی دے

اِن حالات میں ڈاکٹر آصف محمود جاہ کا وجدان جاگ اٹھا ہے اور وہ قول سے نہیں اپنے عمل سے ثابت کرتے ہیں کہ

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی

یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

مولانا فضل رحیم نے اپنے صدارتی روشن کلمات میں اُن چند گمراہ عورتوں کو ملت کی بیٹیاں قرار دیا اور انتہائی احترام اور خوش نظری کا انہیں سزاوار قرار دیتے ہوئے اس بیماری کی تشخیص کی جو اِن عورتوں کو لاحق ہے ۔ آپ نے اخلاق کے مضبوط ویپن سے جب تبلیغ کی تو یقین جانئے ہمارے ٹی وی اینکر پرسنز کی تنقید دھری کی دھری رہ گئی آپ نے کہا کہ ہ میں نفسیاتی مریضوں کو نہیں کوسنا ہم نے مرض کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے ۔ آپ نے گمراہ عورتوں کو راہ راست پر لانے اور سیدھا راستہ دکھانے کےلئے ابریشم سے زیادہ نرم لہجے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہ میں مریض سے نہیں الجھنا بلکہ مرض کے خلاف پوری قوم کو سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جانا ہے ۔ یہ مرض ہماری آنے والی نسلوں کی فصلوں کو خراب کرے گا جس کا تدارک وقت کی ضرورت ہے ۔ آپ نے ڈاکٹر آصف محمود جاہ اور اُن کی پوری ٹیم کو صالح معاشرے کی تشکیل میں شاندار کردار ادا کرنے پر مبارک باد دی اور انہیں قابل تقلید قرار دیتے ہوئے ان کی ہمت پامردی مومن کے عزم بالجزم کی تعریف کی ۔ آخر میں مولانا فضل رحیم نے اپنی رندھی ہوئی آواز میں امت مسلمہ کےلئے اور پوری انسانیت کے صحت مند ماحول کےلئے دعائیہ کلمات میں پورا سمندر قطرے میں انڈیل دیا ۔ میری دلی دعا ہے کہ مولانا فضل الرحیم ، آصف جاہ اور مولانا عبدالرءوف ملک جیسے ملت کے درد مندوں کو اللہ تعالیٰ ظفر مندیوں سے ہمکنار فرمائے(آمین) ۔ ہمارے دوست ہمدم دیرینہ ملک ریاض اپنی تمام تر نیک خواہشات کے ساتھ موجود تھے اور اپنے رفیق صادق فاروق تسنیم کو ڈھونڈ رہے تھے ۔ بالآخر آپ نے سٹیج پر آکر ڈاکٹر آصف محمود جاہ کا شکریہ ادا کیا اور برقی ذراءع ابلاغ نے ان متحرک لمحات کو اپنے کیمرے کی آنکھ میں قید کر لیا ۔ مشاق صورت گر فرحان یوسف کی فرض شناسی میں بھی ہ میں یادگار تصاویر ملیں ۔ پروفیسر ڈاکٹر رفرف کے انتہائی حساس اور بے انتہا ضروری’’میرا جسم میری مرضی‘‘ کے موضوع پر خصوصی لیکچر کا بھی اعلان کر دیا گیا ۔ تادم تحریر آپ کی تقریر کی تاثیر میں اکسیر نتاءج برآمد ہورہے ہیں ۔ ایسے نابغہ لوگ قوم کی تقدیر اور ملت کی پیشانی کا جھومر ہوا کرتے ہیں ۔ آپ کی ہر بات میں ایک بات اور ہر بات میں ایک کہانی اور ہر کہانی میں ایک حیرانی اور ہر حیرانی میں ایک جاودانی اور ہر جاودانی میں ایک زندگانی اور ہر زندگانی میں فروغِ خوش بیانی اور فصاحت و بلاغت کے دریا بہہ رہے تھے ۔ ڈاکٹر آصف محمود جاہ کو اللہ تعالیٰ اپنی حفاظت میں رکھے ایسے لوگ قسمت سے قوموں کو ملتے ہیں قیمت سے نہیں :

آباد ہم آشفتہ سروں سے نہیں ہے مقتل

یہ رسم ابھی شہر میں زندہ ہے کہ تم ہو

برداشت کرنا بزدلی نہیں بلکہ زندگانی کا ایک اہم اصول ہے کیونکہ جس شخص کے پاس قوت برداشت ہے وہ کبھی ہار نہیں سکتا ۔ ڈاکٹر آصف محمود جاہ کے پاس قوت برداشت کا ذخیرہ ہے ایسی ذخیرہ اندوزی پر کوئی پابندی نہیں ہے ۔ ہمارے ٹی وی اینکر پرسن اور تیز طرار گفتگو طرازوں کو اپنی قوت برداشت میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ مجھے بڑے دکھ اور درد سے کہنا پڑ رہا ہے کہ وقت کی نزاکت اور تصویر کا رخ دیکھ کر اس کی مناسبت سے اگر اپنی آواز کی لرزش اورلغزش پر قابو پا یا جائے تو وہی بہادر انسان ہے ۔ کرونا سے اموات کے واقعات کو اینکر پرسنز ہنس ہنس کر بیان کر رہے ہیں یہ کوئی ہنسنے والا منظر تو نہیں ہے اس پر غالب کی روح بھی بے چین ہوگئی ہوگی

تُو وہ بد خُو کہ تحیر کو تماشا جانے

غم وہ افسانہ ہے جو آشفتہ بیانی مانگے

آخر میں صلوٰۃ عشا کے بعد عشائیہ کا اہتمام اشفاق احمد کے حسن انتظامات کا شاہد تھا