- الإعلانات -

پاکستان کے دشمن ۔ عقل کے اندھے

پشتون تحریک کے رکن اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر گزشتہ روز پاکستان کی مغربی سرحد پار کرکے افغانستان کی سرزمین پر پہنچے تو سرحد پار افغان قومی فوج نے اْن کا’استقبال کیا، ایک دورہ ایسے نازک وقت میں جب امریکا اور طالبان کے درمیان افغانستان سے امریکی اور نیٹو کے بچے کچے فوجی دستوں کی واپسی اور افغانستان میں امن کے ،مستقل قیام کو ممکن بنانے جیسے حساس ایشوز پر معاہدہ طے پایا ہے یہ کون نہیں جانتا کہ افغانستان کی غنی انتظامیہ پر بھارتی اثررسوخ کس قدر اپنی گرفت مضبوط کرچکا ہے، کابل انتظامیہ اور اسلام آباد کے مابین اندرونی کھنچاو تناو کی کیفیت میں تلخی کے اثرات برابر محسوس کیئے جاسکتے ہیں ایسے میں ’’سابقہ فاٹا وزیرستان‘‘ جو اب باقاعدہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں ضم ہوچکا ہے،وہاں سے دومنتخب اراکین پارلیمنٹ جوملکی فوج کے خلاف مختلف سرگرمیوں میں ملوث رہے جن پر کئی سنگین مقدمات ہیں ہری پور جیل میں قید بھی رہے ہیں اب ضمانت پر رہا ہوئے وہ افغانستان کا دورہ کررہے ہیں اور کابل انتظامیہ جسے پاکستان کے خلاف سیاسی و سفارتی معاندانہ رویہ رکھنے والی کابل انتظامیہ ہی کہا جائے گا وہ کابل انتظامیہ پی ٹی ایم کے رکن اسمبلی کے مشکوک دورے کے انتظامات میں ایسی مبینہ سرگرمیاں دکھائے یہ انکشاف بھی اب ڈھکا چھپا نہیں رہا کہ امریکی سرپرستی میں بھارتی فوج نے افغان نیشنل آرمی اور افغان خفیہ ادارے ’’این ڈی ایس‘‘کی پیشہ ورانہ تربیت کی ہے ازلی وابدی پاکستان دشمن بھارتی انسٹریکٹرز کی دی گئی تربیت میں ان اداروں کے اہلکاروں نے کیا تربیت حاصل کی ہوگی ;238;جنہوں نے پاکستانی فوج پر فائرنگ جیسی انتہائی اقدام تک اْٹھائے‘پاکستان افغانستان فینسنگ‘کے ابتدائی دنوں میں فینسنگ کے امور انجام دینے والے پاکستانی فوجیوں پربلا اشتعال باقاعدہ فوجی حملہ تک کردیا ہو جس قابل مذمت حملہ میں جوانوں سمیت فوج کے اعلیٰ افسر کی شہادت ہوئی ہو ایسی غیر ذمہ دار افغان انتظامیہ کی غیر پیشہ ورانہ فوج سے پاکستانی قوم دشمنی جیسے ستم رسیدہ احمقانہ اقدامات اُٹھانے کے علاوہ اور کیا توقع کرسکتی ہے;238; افغانستان کے ساتھ ایسے ہر نازک سرحدی تنازعات پر پاکستانی فوج نے ہمیشہ اپنی ساءٹ سے تحمل مزاجی اور برداشت کا مظاہرہ کیا ہے، یہ ماضی کی نہیں حال کی باتیں ہیں ، افغان خفیہ ادارے نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکورٹی’’این ڈی ایس‘‘ کی پاکستان مخالف سرگرمیاں کل بھی جاری رہیں آج بھی اْسی شدومد کے ساتھ پاکستانی فوج کیخلاف یہ سرگرمیاں عام دیکھی جاسکتی ہیں جن کی جتنی بھی مذمت ہو وہ کم ہے جولائی دوہزاراٹھارہ کے عام انتخابات کے بعد ابھی آزاد قبائلی علاقہ جات کا باقاعدہ خیبر پختونخواہ میں ضم کیئے جانے کا فیصلہ نہیں ہوا تھا فاٹا کے قبائلی عمائدین کی واضح اکثریت کا یہ اسلام آباد کی وفاقی حکومت سے مطالبہ تھا کہ آزاد قبائلی علاقہ جات کو خیبر پختونخواہ میں ضم کردیا جائے صوبہ کے اراکین پارلیمنٹ اور قبائلی عمائدین کے دوران اس سلسلے میں کئی جرگے ہوئے بلا آخر یہ باہمی مشاورت سے یہ طے کرلیا گیا کہ قبائلی علاقہ جات کو صوبہ خیبر پختونخواہ میں ضم ہونا چاہیئے علاقہ کے زعماء کے فیصلوں کی روشنی جنوبی اور شمالی وزیرستان کو دیگر فاٹا کے علاقوں کو صوبہ میں جب آئینی طور پر ضم کرلیا گیا تو کابل سمیت امریکا کے غیرریاستی حلقوں نے سخت تحفظات کا کھل کر اظہار کردیا اور یوں بلی اْس وقت تھیلے سے باہر آگئی جب انضمام سے قبل محسن داوڑ اور علی وزیر سابقہ فاٹا کے علاقوں سے بطور آزاد امیدوار رکن اسمبلی منتخب ہوئے اور پھر دونوں نومنتخب رکن اسمبلی نے پی ٹی ایم میں شمولیت اختیار کرلی اگر یہ دونوں افراد داوڑ اور علی وزیر پی ٹی ایم کے امیداوار وں کے طور پر الیکشن میں حصہ لیتے تو پھر ان کی ضمانتیں ضبط ہوجاتیں ، سابقہ فاٹا کے قبائلی عوام کی غالب اکثریت پی ٹی ایم کے ساتھ نہیں ہیں ، قبائلی عوام کا پی ٹی ایم سے ایک ہی سوال ہے کہ یہ لوگ جو آج پاکستانی فوج کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں اس وقت کہاں تھے جب’کالعدم تحریک طالبان پاکستان‘ کے مسلح جنونی دہشت گرد پشتون عوام کی کھلی نسل کشی جیسے جرائم کے اسٹیج سجائے ہوئے پاکستان کے آئین وقانون کی دھجیاں اْڑا رہے تھے سوات، دیر، جنوبی وشمالی وزیرستان میں نہ بچوں کو بخشا جارہا تھا نہ عورتوں اور بزرگوں کو‘پشتون بچیوں کے اسکولوں کو جلایا جارہا تھا ملا ریڈیو کے مظالم نے معصوم اور بے گناہ پشتونوں پر زندگی تنگ کردی تھی آپریشن راہ نجات،آپریشن ضرب عضب،آپریشن خیبرٹو سمیت اب ملک بھر کالعدم ٹی ٹی پی کے ’’سفید کالر سہولت کاروں ‘‘ کیخلاف آپریشن ردالفساد ابھی تک جاری ہے کیونکہ ان دہشت گردوں کے’سونپولے‘اب تک اپنی حیوانی دردندہ صفت کارروائیوں میں ملوث ہیں جہاں انہیں موقع ملتا ہے خونریز واردات کرنے سے چونکتے نہیں ،آج مارچ کی9تاریخ ہے تازہ افسوس ناک اطلاع ملی کہ ڈی آئی خان کے ضلع ٹانک میں ’’معلومات کے نتیجے میں دہشت گردوں کی ایک بڑی تباہ کن کارروائی کو عمل پذیرہونے سے قبل ملکی فوج نے میدان عمل میں اتر کر بڑی دلیری سے ناکام بنادیا، اس کارروائی کی نگرانی فوج کے لیفٹیننٹ کرنل مجیب الرحمان کررہے تھے، دوطرفہ باقاعدہ شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں پاکستانی فوج کے کرنل مجیب الرحمان شہید ہوئے فوج نے سخت گھیراءو کیا دہشت گردوں کی جنونی سراسمیگی کے عالم میں اندھاھند فائرنگ کھول دی اس واقعہ میں فوج نے دودہشت گردوں کا موقع پر ہی جہنم رسید کیا اب کوئی بولے جو فوج کے خلاف نعرے لگاتے ہیں فوجی وردی کے تقدس کو پائمال کرتے ہیں وہ کہاں ہیں وہ سب بھارتی آشیر باد میں کابل کے صدارتی محل کے مہمان بنتے نظرآتے ہیں اب یہ کہنے میں کیاعار ہے کہ ’’این ڈی ایس‘‘ اور بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘پاکستان میں دہشت گردی کو زندہ رکھنے میں مشترکہ مذموم سرگرمیوں میں ملوث نہیں ;238; کوئی ایسا کہتا اور سوچتا ہے تو وہ احمقوں کی دنیا میں رہتا ہے اور یہ باتیں بھی ڈھکی چھپی نہیں رہیں شمالی وزیرستان کے علاقہ کو محسن داوڑ اور علی وزیر امریکی فوجی اڈا بنانے کی سرتوڑ کوششیں کرتے پائے گئے ہیں جس کےلئے پہلے منظور پشتین کو رام کیا گیا پشتونوں کے حقوق کے نعرے لگائے گئے تاکہ جب امریکا کو افغانستان کی سرزمین چھوڑنے پڑے تو امریکا جنوبی وزیرستان میں ہمیشہ کےلئے بیٹھ جائے اور پاکستان کی سرزمین کو افغانستان، روس اور چین کے خلاف استعمال کر ناشروع کردے غیرت مند‘باشعور ایمان افروزدوربینی رکھنے والے قبائلی زعماوں نے غیرریاستی امریکی اور بھارتیوں کے ان اقدامات کی سنگینی کو بھانپ لیاتھا، جنہوں نے پی ٹی ایم سمیت محسن داوڑ اور علی وزیر کی پاکستان دشمن ایسی مذموم کوششوں کو پنپنے سے قبل ملیامیٹ کردیا یہی وجوہ تھی کہ ’’این ڈی ایس‘‘کے سابق سربراہ رحمت اللہ نبیل نے محسن داوڑ اور علی وزیر کی حمایت کرتے ہوئے امریکا سے مدد بھی ما نگی تھی اْن کا کہنا تھا کہ علی وزیراور محسن داوڑ اور اْن کے ساتھیوں کا امریکا ساتھ دے ،یہ باتیں آج کل عالمی میڈیا میں سنی اور غیر ملکی اخبارات میں پڑھی جاسکتی ہیں کہ افغان خفیہ ادارے’این ڈی ایس‘کے سابق سربراہ رحمت اللہ نبیل،محسن داوڑاورعلی وزیر سابقہ فاٹا کے علاوہ وزیرستان کو پینٹاگان کی خواہش کے مطابق امریکی فوجی اڈا بنانا چاہتے تھے، خیال رہے کہ رحمت اللہ نبیل 2010 سے2012 تک افغان خفیہ ادارے ’’این ڈی ایس‘‘کے سربراہ رہے ہیں افسوس ہے اُن پر جو عقلوں کی بجائے خواہشات کے تابع فرمان بن کر اپنے مذموم مقاصد کی بجا آوری میں اپنے ہوش وحواس برقرار رکھنے میں بالکل ہی ناکام ہیں عقل کے ان دونوں اندھوں ‘ لالچ اور طمع کی حرص میں بےقرار ان دونوں نام نہاد پشتون قوم پرستوں کو کابل جانے دیا گیا ،جہاں غنی اور عبداللہ دونوں کے درمیان ’’کابل کی زمام انتظامیہ‘‘ کی لگا میں تھامنے کے تماشے شروع ہیں ، کوئی ان بیوقوفوں سے پوچھے تم یہاں کس سے ملنے آئے ہو;238; ابھی تک تو یہاں اقتدارکا فیصلہ بھی نہیں ہوسکا، کل کلاں اگرکسی ایک کے حق میں فیصلہ ہوبھی گیا تو چودہ ماہ بعد تم جیسوں کا افغانستان میں کیا بنے گا;238; نئی دہلی کی دولت کی شہ پر پلنے والے پاکستانی فوج کے دشمنوں کے بدنام والی وارثوں کا آئندہ کے مسلم افغانستان میں کوئی موثر اور مستقبل کردار باقی نہیں بچا ہے ۔