- الإعلانات -

وفاقی کابینہ کے اہم ترین فیصلے

ملکی ترقی اورروزگارکے مواقع پیدا کرنے کےلئے ایسے ادارے جوکہ اس وقت قطعی طور پر مفلوج ہوچکے ہیں لیکن ان کی حیثیت کروڑوں اربو ں سے بھی زیادہ ہے ان پرتوجہ دینے کی انتہائی ضرورت ہے کیونکہ جب یہ ادارے چلیں گے تو وہاں پر نہ صرف ملازمت کے مواقع میسر ہوں گے بلکہ ملکی پیداواری صلاحیت میں بھی اضافہ ہوگا اورمعیشت اپنے پاءوں پرکھڑی ہوسکے گی ۔ یہ اقدام انتہائی ضروری ہے اس سلسلے میں حکومت کو چاہیے کہ وہ درآمدات پر پابندی ہونی چاہیے اپنی ملکی پروڈکشن سے فائدہ اٹھایاجائے اُن کی تیارکردہ اشیاء کی ملک میں خریدوفروخت ہواس طرح ملکی خزانے کو بھی فائدہ ہوگا اوربیرون ملک سے منگوائی گئی اشیاء پربھی انحصارختم ہوجائے گا ۔ اسی سلسلے میں حکومت نے مختلف سولہ اداروں کی نجکاری کی منظوری دی ہے چونکہ پرائیویٹ سیکٹرکا اصول ہے کہ وہاں پرتب ہی ادارے چل سکتے ہیں جب وہاں ملازمت کرنے والے صحیح معنوں میں محنت سے اپنی ڈیوٹی سرانجام دیں گے وفاقی کابینہ نے فیصلہ کرتے ہوئے اداروں کی نجکاری کی منظوری دی ہے ادھردوسری جانب وفاقی کابینہ نے موسم گرما میں ڈینگی کے خطرے پر قابو پانے کےلئے بھارت سے چند ضروری ادویات درآمد کرنے کی ایک دفعہ کی اجازت دینے کی تجویز مسترد کر دی اور 16 قومی اداروں کی نجکاری کی منظوری دے دی ۔ وفاقی کابینہ نے ماسک اور دستانوں کی برآمد پر پابندی عائد کردی ۔ وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ اس وقت ملک کا سب سے بڑا چیلنج توانائی کے شعبہ سے متعلقہ معاملات ہیں ۔ وزیراعظم نے کابینہ کے ارکان کو ہدایت کی کہ توانائی کے شعبے کے حوالے سے حقائق عوام کے سامنے رکھے جائیں ۔ ڈاکٹر عشرت حسین کمیٹی کی تیسری رپورٹ کابینہ کے سامنے پیش کی گئی جس میں 46 اداروں کی نجکاری کی تجویز پیش کی گئی جن میں سے 16 اداروں کی مکمل طور پر نجکاری جبکہ دیگر 30 اداروں کی نجکاری یا سرمایہ پاکستان کو منتقل کرنے کی سفارش کی گئی ہے ۔ وفاقی کابینہ نے چینی کے معاملے کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کو پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت کمیشن آف انکوائری کے اختیارات دینے، ہر سال پروف آف لونگ (زندہ ہونے کا ثبوت)کے ضمن میں نادرا کی بائیو میٹرک ویری فکیشن نظام کو راءج کرنے، وفاقی دارالحکومت کی حدود میں واقع اداروں میں گریڈ ایک سے 15 تک کی آسامیوں کیلئے اسلام آباد ڈومیسائل کے حامل افراد کا کوٹہ 50 فیصد مختص کرنے، مختلف اداروں میں تعیناتیوں کی منظوری دے دی ۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بریفنگ دیتے ہوئے میڈیاکو بتایا کہ چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ زبیر گیلانی کا استعفیٰ بھی منظور کر لیا گیا ۔ سیکرٹری داخلہ نے چینی مہنگی ہونے سے متعلق کابینہ کو آگاہ کیا ۔ آٹے چینی بحران کی رپورٹ پیش نہ کرنے پروزیراعظم سخت برہم ہوئے اورانہوں نے کمیٹی کو ایک ہفتے کے لئے پابندکیاساتھ ہی اسے با اختیاربھی بنایا کہ اس بحران میں جو بھی ملوث ہوں انہیں ہرصورت سزا دی جائے گی ۔ نیز بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظروزیراعظم نے جائزہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی جس میں پٹرولیم مصنوعات کے حوالے سے سیرحاصل گفتگوکی گئی ۔ وزیراعظم نے کہاکہ حکومت چاہتی ہے کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات میسر ہوں اور جو بھی مثبت اقدامات ہیں اس کے ثمرات عوام تک پہنچنالازم ہے کیونکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے حوالے سے بہت زیادہ گنجائش موجود ہے ۔ ہماری ناقص رائے کے مطابق تیس سے چالیس روپے تک پٹرول سستا ہوجائے تو بھی حکومت کے لئے قابل برداشت ہے جب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ارزاں ہوتی ہیں ہرچیزپراس کامثبت اثرپڑتاہے اورچیزیں بھی سستی ہوتی ہیں ۔ لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ وہ اس جانب خصوصی توجہ دے اوربین الاقوامی مارکیٹ میں جب قیمتیں تاریخ سازگررہی ہیں تو ملک کے اندربھی اس کافائدہ عوام کوپہنچناچاہیے ۔ وزیراعظم عمران خان کی خواہش ہے کہ وہ ہرطرح سے عوام کے مطالبات کوپورا کریں اسی وجہ سے وہ اپنے جماعت کے منشور جس میں انہوں نے عوام سے وعدے کئے تھے مکمل کرنے کے لئے گامزن ہیں ۔

عثمان بزدارسے ملاقاتیں ،کریڈٹ عمران خان کوجاتاہے

وزیراعلیٰ عثمان بزدار سے مسلم لیگ (ن)اور پیپلز پارٹی کے ارکان پنجاب اسمبلی نے ملاقات کی ۔ ارکان اسمبلی نے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ۔ ملاقات میں سیاسی صورتحال اور اہم امو پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ ملاقات کرنےوالے ارکان پنجاب اسمبلی نے حکومت کی غیر مشروط حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا ۔ ملاقات میں صوبے کے عوام کی خدمت کیلئے ملکر کام جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ۔ عثمان بزدار سے ملاقات کرنےوالوں میں نشاط احمد ڈاہا ،محمد غیاث الدین چوہدری اشرف علی محمد فیصل خان نیازی غضنفر علی خان محمد ارشد اظہر عباس اور یونس علی انصاری شامل تھے ۔ پنجاب میں وزیراعلیٰ عثمان بزدار سے مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی کے ارکان کی ملاقات اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ ان دونو ں سیاسی جماعتوں کی ملک کے سب سے بڑے صوبے میں گرفت کم ہوتی جارہی ہے تاہم بزدار سے ہونےوالی ملاقات کاکریڈٹ وزیراعظم عمران خان کو جاتا ہے ۔ یہ بات پاکستان آف نیوزپیپرز کے چیف ایڈیٹراوروزنیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے بھی اپنے معروف پروگرام سچی بات میں کہی اس میں کوئی شک بھی نہیں ہے کہ جب کپتان کے سیاسی اقدامات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہوں تو پھرخودبخوددیگرسیاسی کارکنوں اوررہنماءوں کاجھکاءوپی ٹی آئی کی طرف ہوجانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں جبکہ مسلم لیگ نون نے ان اراکین کیخلاف تادیبی کارروائی کاعندیہ بھی دیاہے ۔ حمزہ شہبازنے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اس سلسلے میں پارٹی اجلاس بلایاجائے گا اورجوبھی فیصلہ ہوگا اس پرعملدرآمدبھی کیاجائے گاچونکہ سیاست اورصحافت میں کوئی بھی حرف آخرنہیں ہوتا ۔ لہٰذا اگرکوئی سیاسی وفاداریا ں تبدیل کرتاہے تو اس سلسلے میں انگشت بدنداں ہونے کی ضرورت نہیں ۔ عثمان بزدار نے کہا کہ پنجاب کے عوام کی خدمت کے سفر میں سب کو ساتھ لیکر چلیں گے ۔ عوام کی خدمت کے سفر میں کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی ۔

افغان امن معاہدہ،قیدیوں کی رہائی کاسلسلہ مثبت اقدام

آخرکارپا ک امریکہ افغان معاہدے پرعملدرآمدشروع ہوگیاہے اوراشرف غنی نے طالبان قیدیوں کی رہائی کابھی فیصلہ کرلیا اس کے ساتھ ہی امریکی افواج کا انخلاء بھی شروع ہوچکاہے ۔ یہ انتہائی خوش آئنداقدام ہے اس سے خطے میں امن کی فضاء قائم ہوگی اورافغانستان میں بھی دہشت گردی کی بیخ کنی ہوگی ۔ اصل مسئلہ یہ درپیش ہے کہ ایک جانب اشرف غنی اوردوسری جانب عبداللہ عبداللہ افغان صدرہونے کادعویٰ کررہے ہیں جبکہ طالبان نے بھی اپنی سیاسی سربراہی کا اعلان کرتے ہوئے ہیبت اللہ کوافغانستان کاسربراہ بنانے کا اعلان کردیاہے ۔ یہ اعلانات کچھ مناسب نہیں گوکہ یہ کوششیں جاری ہیں کہ کسی نہ کسی طر ح اشرف غنی اورعبداللہ عبداللہ میں رضامندی ہوجائے لیکن طالبان کی جانب سے اعلان بھی کوئی معمولی بات نہیں ۔ غیرملکی افواج کے انخلاء کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ تمام فریقین عنان اقتدارکے حوالے سے بیٹھ کرباہمی فارمولاطے کریں کوئی ایک متفقہ سربراہ ہواورپھراس کوفالو کیاجائے گوکہ ابھی تک اشرف غنی ہی افغانستان کے صدرہیں بین الاقوامی برادری بھی ان کو ہی تسلیم کررہی ہے پاکستان نے بھی انہیں مبارکبادکاپیغام بھیجاہے اب دیگردوافرادجنہوں نے افغان صدرہونے کادعویٰ کیاہے انہیں سمجھانے کی ضرورت ہے کہ وہ ملک میں انارکی پھیلانے کے بجائے قیام امن وامان کے لئے اپناکردارداکریں تاکہ دودہائیوں سے جاری یہ جنگ ختم ہوسکے اورامریکہ بھی یہاں سے نکل جائے ۔ افغانستان کے شہری اپنی قسمت کافیصلہ خودکریں نہ کہ کسی دوسری جانب سے کوئی ڈکٹیشن آئے ۔ لہٰذا قیدیوں کی رہائی کاسلسلہ شروع ہونابہت مثبت اقدام ہے اس کے بدلے طالبان بھی کچھ قیدی رہا کریں گے جو ان کی قید میں ہیں جب فریقین مل کر معاہدے کے تحت عملدرآمدکریں گے توپھرحالا ت خودبخودبہتری کی جانب گامزن ہوجائیں گے ۔