- الإعلانات -

تعلےمی نظام کی ابتر صورتحال اور ےکساں نصاب

وفاقی وزےر سائنس و ٹےکنالوجی فواد حسےن چوہدری نے پی ٹی آئی حکومت کے اس عزم کو دہراےا ہے کہ 2021ء مےں شروع ہونے والے تعلےمی سال سے پورے ملک مےں مےٹرک تک اےک ہی نصاب راءج ہو گا جو سرکاری و پرائےوےٹ سکولوں کے ساتھ ساتھ دےنی مدارس مےں بھی نافذالعمل ہو جائے گا ۔ ےہ اےک مستحسن اقدام ہے جس کی ضرورت اس وقت سے محسوس کی جارہی تھی جب سے ےکساں نصاب ختم کر کے دہرا اور تہرا نظام راءج کےا گےا تھا ۔ ملک مےں تعلےم کی رو بہ زوال صورتحال کا اندازہ اس حقےقت سے بخوبی لگاےا جا سکتا ہے کہ ےہاں 45فےصد طالب علم کسی نہ کسی مرحلے پر سکول جانا ترک کر دےتے ہےں اور سکول جانے کی عمر کو پہنچنے والے تمام بچوں مےں سے چالےس فےصد کسی سکول مےں داخلہ نہےں لےتے ۔ ےونےسکو کا کہنا ہے کہ ہر ملک کو اپنے جی ڈی پی کا کم از کم چار فےصد تعلےم کے شعبہ پر خرچ کرنا چاہیے لےکن پاکستان اس بے حد اہم شعبہ پر صرف2;46;7فےصد خرچ کرتا ہے ۔ اےک محتاط اندازے کے مطابق ملک کے بڑے شہروں مےں پرائمری سطح پر سکول جانے والے بچوں کی شرح مےٹرک مےں پہنچنے تک 80اور انٹر مےڈےٹ مےں پہنچنے تک بمشکل 30فےصد رہ جاتی ہے اور تعلےم چھوڑ دےنے والے افراد ذہنی الجھنوں اور طرح طرح کے مسائل کا شکار ہو کر رہ جاتے ہےں ۔ ےہ بھی اےک حقےقت ہے کہ ہم گزشتہ سالوں سے تعلےم کے شعبہ کو بہتر بنانے کےلئے صرف کانفرنسےں منعقد کر رہے ہےں ،تعلےم کے مسائل کا جائزہ لےتے آئے ہےں ،تحقےق کرتے اور سفارشات مرتب کرتے آئے ہےں لےکن اس مشق کو ہزار بار دہرانے کے باوجود اصل مسئلہ جوں کا توں ہے ۔ ہر حکومت تعلےمی نظام کو بہتر بنانے کا دعویٰ کرنے کے ساتھ ےہی مضحکہ خےز مشق دہراتی ہے اور کوئی نتےجہ فراہم کئے بغےر رخصت ہو جاتی ہے ۔ آج ہمارے سکولوں مےں تعلےم کا معےار اس حد تک پست ہوچکا ہے کہ ہمارے عام طالب علم کےلئے کسی بےن الاقوامی تعلےمی نظام کے تحت منعقد ہونے والے امتحان مےں شرےک کرنا ممکن ہی نہےں رہا ہے ۔ ہمارے ملک مےں تعلےم کے شعبے مےں نت نئے تجربے کئے جاتے ہےں ۔ ہمارے ہر صوبے مےں علےحدہ نصاب پڑھاےا جا رہا ہے ۔ ہر علاقے مےں الگ طرح کے امتحانات منعقد کئے جا رہے ہےں ۔ اساتذہ طالب علموں کو تعلےم فراہم کرنے مےں مخلصانہ دلچسپی سے کام نہےں لےتے ۔ محکمہ تعلےم کے اہلکار اپنے فراءض انجام دےنے سے گرےزاں ہےں ۔ سرکاری سکولوں کی اس ناکامی نے اےک اور المےہ کو جنم دےا ہے ۔ لوگوں نے اپنے بچوں کو پرائےوےٹ اسکولوں مےں بھےجنا شروع کر دےا ہے اور سرکاری نظام تعلےم پر عدم اعتماد کا ےہ عالم ہو گےا ہے کہ پاکستان کے لگ بھگ 50فےصد طالب علم اب نجی اسکولوں مےں تعلےم حاصل کر رہے ہےں ۔ ےہ نجی اسکول بھی دو قسم کے ہےں اےک تو وہ معروف اور مہنگے اسکول ہےں جن کا الحاق غےر ملکی تعلےمی بورڈز سے ہے اور جہاں طالب علموں کو گےارہ برس کی تعلےم کے بعد او لےول کے امتحانات دےنے ہوتے ہےں اور دوسرے وہ چھوٹے نجی اسکول جو خود کو انگرےزی مےڈےم اسکول قرار دےتے ہےں مگر ان کے طلبہ مقامی بورڈز مےں ہی رجسٹرہوتے ہےں ۔ نجی اسکول مےں پڑھنے والے بچوں کے والدےن مہنگی فےس ادا کرتے ہےں اور دےگر اخراجات کا بوجھ برداشت کرتے ہےں کےونکہ وہ سرکاری نظام تعلےم کے تحت چلنے والے اسکولوں سے ماےوس ہو چکے ہوتے ہےں اور انہےں ےقےن ہوتا ہے کہ نجی شعبہ کے کسی اسکول کے ذرےعے ہی ان کے بچے بہتر تعلےم حاصل کر سکےں گے ۔ ےوں ملک مےں وہی دہرا نظام تعلےم نافذ ہے جس مےں اےک جانب افسر تخلےق کئے جاتے ہےں اور دوسری جانب کلرکوں کے ڈھےر لگائے جاتے ہےں ۔ اختےارات اور وسائل رکھنے والے لوگ اپنے بچوں کو مہنگے اسکولوں مےں پڑھاتے ہےں تا کہ وہ مستقبل مےں حاکم بن سکےں اور عام غرےب لوگ اپنے بچوں کوسرکاری تعلےمی اداروں کے حوالے کر دےتے ہےں تا کہ ملک کے آقاءوں کو ملازمےن کی کبھی قلت محسوس نہ ہو ۔ آج سے کوئی چالےس سال پہلے متعدد ترقی ےافتہ ممالک نے اپنے تمام اسکولوں کےلئے اےک اےسا ےکساں نصاب تعلےم ترتےب دےا تھا کہ اگر کوئی طالب علم دارالحکومت کے اےک شہری اسکول کو تعلےمی سال کے درمےان چھوڑ کر دور دراز کے کسی دےہی اسکول مےں داخلہ لے تو دےہی اسکول مےں بھی ان دنوں وہی نصاب پڑھاےا جا رہا ہو جو دارالحکومت مےں پڑھاےا جا رہا تھا ۔ ےہ انتظام کاری کا ا ےک سادہ طرےقہ تھا جسے اپنا کر ان ممالک نے اپنی نئی نسل کو کامےابی کی شاہراہ پر گامزن کر دےا تھا ۔ پاکستان کےلئے بھی اب ےہ بے حد ضروری ہوتا جا رہا ہے کہ وہ اپنے تعلےمی شعبہ مےں انقلابی اور موثر تبدےلےاں لائے ۔ ہمےں نظام تعلےم کی خود کار مشےن سے آقا اور غلام پےدا کرنے کے بجائے عہد جدےد کے تقاضوں سے ہم آہنگ اور تعلےم کے ہتھےار سے لےس نوجوان طلبہ و طالبات پےدا کرنے چاہئےں ۔ اس کےلئے ضروری ہے کہ ہم اپنے نصاب کو ےکساں اور جدےد بنائےں اور اساتذہ کو بہتر بنائےں ۔ تعلےم کے شعبہ پر بےن الاقوامی پےمانے کے مطابق وسائل خرچ کرےں اور بہتر تعلےم کے مفت مواقع مہےا کرےں ۔ تب ہی ہم اکےسوےں صدی کے چےلنجز سے عہدہ برآ ہو سکےں گے ۔ 1960ء کی دہائی تک اگرچہ ملک مےں اردو انگرےزی مےڈےم سبھی اسکول موجود تھے لےکن ان مےں نصاب ےکساں تھا البتہ مےٹرک کے بعد تعلےم جاری رکھنے والے طلبہ و طالبات کےلئے ےہ مشکل پہلے بھی موجود تھی اور آج بھی اسی طرح ہے کہ آگے چل کر سائنس گروپ کا ذرےعہ تعلےم ےکسر انگرےزی ہو جاتا ہے جس مےں بہت بڑی تعداد مےں نوجوان ےا تو تعلےم کو خےر باد کہہ دےتے ہےں ےا آرٹس کے مضامےن اختےار کر لےتے ہےں اس طرح بے شمار اذہان زنگ آلود ہو جاتے ہےں ۔ ےکساں نصاب لانے سے اب دےنی مدارس کے بھی لاکھوں طلبہ قومی دھارے مےں شامل ہو سکےں گے اور دوسروں کے شانہ بشانہ ہائر اےجوکےشن تک پہنچےں گے ۔ پورے ملک مےں ےکساں نصاب راءج کرنے کا تجربہ ماضی مےں بھی ہو چکا ہے جسے کامےابی نہ مل سکی ۔ اس لحاظ سے حکومت وقت کےلئے ےہ کسی چےلنج سے کم نہےں ۔ تعلےم کے ساتھ وقتی چھےڑ چھاڑ کرنے سے تبدےلی نہےں لائی جا سکتی ۔ اس کےلئے دور رس اور دےر پا تبدےلےاں بنانے کی ضرورت ہے ۔ آئندہ نسلےں پاکستان کے مستقبل کا مظہر ہےں ۔ ہمےں ان کی بنےادوں کو مضبوط طور پر استوار کرنا ہو گا ۔ ہمےں نظام الملک طوسی کے اس کارنامے کو ہمےشہ پےش نظر رکھنا چاہیے کہ جب اےرانی بادشاہ نے ان سے کہا کہ ملک کے دفاع کےلئے قلعے تعمےر کروائے تو نظام الملک طوسی نے پورے ملک مےں دھڑا دھڑ سکول کھول دئیے ۔ چند برس بعد بادشاہ نے پوچھا کہ مےں ان قلعوں کا معائنہ کرنا چاہتا ہوں جن کی تعمےر کا مےں نے حکم دےا تھا ۔ وزےر اعظم نظام الملک طوسی نے بادشاہ کو نئے سکول دکھائے اور کہا کہ ےہی ملک کے حقےقی قلعے ہےں اور ان سے فارغ التحصےل ہونے والے طالب علم اس ملک کا ےقےنی دفاع کرےں گے ۔ ہمےں بھی اس مثال کے پےش نظر اپنے تعلےمی اداروں کی ترقی و بہتری کی طرف توجہ مرکوز کرنا ہو گی اور آئے روز چھےڑ چھاڑ سے گرےز کرنا ہو گا ۔