- الإعلانات -

امن معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے درپے کون

ایک جانب دنیا بھر میں کرونا وائرس نے عجب خوف و ہراس پھیلا رکھا ہے تو دوسری جانب لگتا یہ ہے کہ راء اور این ڈی ایس کی شہہ پر خطے میں امن دشمن نئی صف بندی کر رہے ہیں ۔ یاد رہے کہ چند روز قبل کابل میں برسی کی تقریب کے دوران فائرنگ سے 32افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوگئے ۔ تقریب میں سابق صدر افغانستان حامد کرزئی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ بھی موجود تھے ۔ طالبان نے ا س حملے سے مکمل طور پر لاتعلق ہونے کا اظہار کیا ہے ۔ افغان طالبان جب بھی ایسے حملے کرتے ہیں تو فوری طور پر ذمہ داری قبول کرتے ہیں مگر اس حملے پر انہوں نے اس کی مذمت کی اور یہ کہا کہ جس طرح حملہ کیا گیا، وہ ان کا طریقہ کار نہیں ہے ۔ مبصرین کے مطابق اگر طالبان کی طرف سے یہ حملہ نہیں کیا گیا تو پھر کون اس واقعہ کے پیچھے ہوسکتا ہے;238; یہ ایسی بحث ہے جس پر کئی قیاس آرائیاں جاری ہیں ۔ سبھی جانتے ہیں کہ سافغانستان میں داعش بھی سرگرم ہے، اس کی طرف سے براہ راست حملہ ہوسکتا ہے یا اسے حملے کیلئے استعمال کیا گیا ۔[wp_ad_camp_1] داعش نے یہ حملہ براہ راست کیا یا کسی کے ایماء پر کارروائی کی، یہ افغان امن عمل اور امن معاہدے پر حملہ ہے اور اس کے پیچھے وہی قوتیں یقینا کارفرما ہیں جن کے مفادات پر زد پڑ رہی ہے اور وہ آج کی اشرف غنی انتظامیہ اور بھارت ہی ہو سکتا ہے یعنی این ڈی ایس اور ’’را‘‘ کا گٹھ جوڑ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ۔ اشرف غنی کی طرف سے نہ صرف امریکہ طالبان مذاکرات کی شدید مخالفت کی گئی تھی بلکہ انہوں نے امریکہ طالبان امن معاہدے کو بھی کھلے دل سے تسلیم نہیں کیا ۔ انہوں نے معاہدے کی اس شق پر بھی عمل سے انکار کر دیا جس کے تحت طالبان قیدی رہاکئے جانے تھے ۔ اس پر طالبان کا سخت ردعمل کے ساتھ افغان افواج پر حملوں کا سلسلہ شروع ہوا، جواب میں امریکہ نے بھی طالبان کے ٹھکانوں پر بمباری کی، امن معاہدہ برقرار رہا ۔ ان حملوں کی طالبان نے ذمہ داری قبول کی مگر وہ برسی کے حملے سے لاتعلقی کا اظہار کر رہے ہیں ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے خبردار کیا ہے کہ حملے کے پیچھے وہی قوتیں ہیں جو امن معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہیں ۔ شاہ محمود قریشی نے درست کہا ہے اور وہ قوتیں اب بے نقاب بھی ہیں ۔ اشرف غنی انتظامیہ امن معاہدے کے خلاف ہے اور انہی کے ساتھ انٹرا افغان مذاکرات ہونے ہیں جن کے مستقبل کا اندازہ آسانی سے ہوسکتا ہے ۔ افغانستان میں امن کے قیام اور باعزت واپسی کیلئے امریکہ کو ان لوگوں پر نظر رکھنی ہوگی جو امن معاہدے سے تکلیف میں ہیں ۔ انٹرا افغان مذاکرات افغان انتظامیہ کے رحم و کرم پرچھوڑ ے گئے تو یہ ناکام ٹھہریں گے ۔[wp_ad_camp_1] امریکہ خود ان مذاکرات کا حصہ بن کر ان کو منطقی انجام تک پہنچائے ۔ امریکہ کی امن معاہدے پر سنجیدگی کا اظہار ٹرمپ کے اس بیان سے ہو جاتا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ مزید 20سال ہم افغانستان میں نہیں رہ سکتے، اس کے ساتھ طالبان بھی امن کیلئے سنجیدہ ہیں ، خرابی افغان انتظامیہ اور بھارت پیدا کر رہا ہے جس پر امریکہ آسانی سے قابو پاسکتا ہے ۔ افغانستان میں امن قائم ہونے کی امید پیدا ہو رہی تھی، گذشتہ ہفتے امریکہ اور طالبان نے اس معاہدے پر دستخط کئے تھے جو طالبان اور افغان حکومت کی ٹیم کے درمیان وسط مارچ میں مذاکرات کی راہ ہموار کرنے والا ہے ۔ اب امید ہو چلی ہے کہ شاید اس طویل اور خونی جنگ کا خاتمہ ہو جائے گا مگر کچھ شر پسند عناصر کو یقینا یہ امن پسندی ایک آنکھ نہیں بھا رہی ۔ اگر ان مذاکرات کے نتیجے میں امن قائم ہو جاتا ہے تو ان دونوں فریقوں کو اپنے آئندہ ہونے والے مذاکرات اور ان کے نتاءج کے بارے میں واضح طور پر سوچنے کی ضرورت ہے ۔ شاید طالبان انسانی حقوق، افغان حکومت کے اپنے عوام کے ساتھ تعلقات اور مستقبل میں افغان حکومت اور عالمی برادری کے تعلقات کے حوالے سے انتہائی الجھاءو کا شکار ہیں ۔ راء اور این ڈی ایس کی سازشوں اور پراپیگنڈنے طالبان اور افغان حکومت کے حامی گروہوں میں امن مذاکرات کے حوالے سے مخصوص رویوں کو پروان چڑھا دیا ہے ۔ اب مسئلہ افغانستان کے حل کے امکانات روشن ہو چکے ہیں مگر کچھ قوتیں امریکہ طالبان معاہدے کو سبوتاژ کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں تا ہم اس معاملے کا اطمینان بخش پہلو یہ ہے کہ امریکہ کا افغانستان میں بدستور واضح عمل دخل ہے اور وہ شاید امن دشمن قوتوں کو اپنے مفادات کیلئے راہ راست پر لانے کی پوزیشن میں ہے ۔ سبھی جانتے ہیں کہ اپنا کام نکل جانے کے بعد امریکہ نے پوری دنیا میں طالبان کو دہشتگردوں کے طور پر پیش کیا تھا، کچھ برس بعد طالبان نے خود کو دوبارہ منظم کیا اور اتحادی فوج کے ٹھکانوں پر حملے شروع کر دیئے ۔ سابق امریکہ صدر باراک اوبامہ نے 2014 میں انخلا کا اعلان کیا لیکن وہ اس کیلئے کوئی موثر انتظام نہیں کر پائے ۔ جب ٹرمپ منتخب ہوئے تو انھوں نے ایک بار پھر افغانستان میں فوجی دستوں کی تعداد بڑھا دی تاہم انھیں جلد اندازہ ہو گیا کہ افغان جنگ امریکی معیشت کو تیزی سے تباہی کے دہانے کی طرف لے جا رہی ہے ۔ 2018 میں انھوں نے امن معاہدے کے امکانات پر کام شروع کیا ۔ نائن الیون کے بعد امریکہ نے پاکستان کو جس طرح جبراً اپنا اتحادی بنایا تھا وہ بھی ایک ناخوشگوار تجربہ تھا ۔[wp_ad_camp_1] بھارت نے اس آگ کو مزید بھڑکایا اور پاکستان اور امریکہ ایک دوسرے سے دور ہوتے چلے گئے مگر جب صدر ٹرمپ کو انخلا کیلئے مدد کی ضرورت پڑی تو ایک بار پھر پاکستان یاد آ گیا ۔ امریکہ کی یہ بے بسی عبرت کا نمونہ ہے ۔ امریکہ نے پاکستان سے مدد کی درخواست کی، کھربوں ڈالر خرچ کرنے اور ہزاروں فوجی مروانے کے بعد امریکہ نے بالآخر طالبان کی شرائط تسلیم کرتے ہوئے افغانستان سے انخلا کا معاہدہ طے پانے کا اعلان کیا ۔ یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ افغانستان کی صورتحال نے پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کیا، پاکستان کے پر امن ماحول میں اسلحہ، منشیات، لاکھوں پناہ گزین اور سماج میں پرتشدد رویوں کا ظہور افغان تنازعہ کا مرہون منت ہے ۔ پاکستان نے طالبان کو امن معاہدے پر راضی کر کے ثابت کیا ہے کہ وطن عزیز اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ مساوات اور برابری پر مبنی پر امن تعلقات کا حقیقی خواہاں ہے ۔