- الإعلانات -

اللہ بہادر لوگوں کو پسند کرتا ہے

ُٓپاکستان اس وقت انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے ۔ جہاں ہم بہت سارے اندرونی مسائل کا شکار ہیں وہاں سب سے زیادہ پاکستان کے لئے ہندوستان کا خطرہ ہے ۔ ہندوستان پاکستان دشمنی میں پاگل ہوا جا رہا ہے ۔ وہ کسی بھی وقت کسی بھی حد تک جانے کےلئے گریز نہیں کرے گا ۔ اس نے بلوچستان میں خونخوار پنجے گاڑنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی ۔ بدقسمتی سے اس کے اشاروں پر ناچنے والے چند ایک مفاد پرست نوابوں اور سرداروں کی اولاد ہندوستانی پیسے کے بل بوتے پر ہر وقت مظلومیت کا لبادہ اوڑھ کر بلوچستان اور پاکستان پر خطرے کی تلوار لٹکائے رکھتے ہیں ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اب بلوچستان کے عوام ان کے شکنجے سے نکل چکے ہیں ۔ خواتین کے عالمی دن کے موقع پر بھی چند پاکستانی گمراہ خواتین کے ذریعے بدامنی پھیلانے کی کوشش کی گئی ۔ ہر شخص خدا کو حاضر و ناظر جان کر اپنے آپ سے سوال کر ے کہ کیا یہ خواتین کا عالمی دن حضرت فاطمۃ الزہرہ ;230;[wp_ad_camp_1] حضرت عائشہ صدیقہ;230;، حضرت خدیجۃ الکبریٰ ، حضرت زینب ;230;، حضرت رابعہ بصری، بی بی پاک دامن، حضرت بی بی فاطمہ;230; یا بی بی نانی ’’ بلوچستان‘‘ کی روایات کے مطابق تھا ۔ وہ تو خیر بہت ہی بڑی ہستیاں تھیں ، یہ دن تو اپنی ماں ، نانی اور دادی کی روایات کے مطابق بھی نہیں ہوا اوراس کو مٹھی بھر لوگوں نے متنازعہ بنانے کی کوشش کی ۔ جن کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں تھی ۔ پاکستان اور اسلام میں ’’میرا جسم ۔ میری مرضی ‘‘ والا نعرہ نہیں چل سکتا ۔ اگر جماعت اسلامی ، جمعیت علمائے اسلام ، منہاج القرآن اور دیگر کچھ تنظی میں اس مارچ کا اہتمام نہ کرتیں تو بہت شرمندگی ہوتی ۔ لیکن آج میں اپنے کالم کو مذہبی رنگ دینے کی بجائے موجودہ دور کی ایک نوجوان افسر کے حوالے سے کالم لکھ کر بتانا چاہتا ہوں کہ آج کے دور میں بیوروکریٹ خواتین اسلام اور پاکستان کا کس طرح نام روشن کر رہی ہیں ۔ کچھ دن پہلے بلوچستان کی ایک اسسٹنٹ کمشنر عائشہ زہری کے متعلق خبر شاءع ہوئی کہ انہوں نے موسم سرما کی سرد ترین رات کو ضلع چاغی دالبندین کے خوفناک پہاڑوں میں جا کر انتہائی خطرناک ڈاکووَں اور سمگلروں کے ساتھ لیوی فورسز کے ساتھ بذاتِ خود شریک ہو کر سمگلروں سے کروڑوں روپے کی منشیات پکڑ لی ۔ یہ کالم لکھنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ بلوچستان میں جس تبدیلی کا سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا وہ تبدیلی آ گئی ۔ سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ کبھی بلوچستان میں بھی کوئی بلوچ لڑکی مقابلے کا امتحان نمایاں نمبروں سے پاس کر کے پھر بلوچستان میں ہی بحیثیت بیوروکریٹ اسسٹنٹ کمشنر جیسی اہم ذمہ داری سنبھال کربیٹھی ہوں گی ۔ صرف یہی نہیں پھر ایسی دلیری ، ہمت، جراَت اور بہادری کے جوہر بھی دکھائے گی ۔ بلوچستان میں عورت کمزور ترین جنس سمجھی جاتی ہے [wp_ad_camp_1]۔ وہاں عورت کو ئی رائے دینے کی حیثیت ہی نہیں رکھتی ۔ اس کارنامے کے بعد چاہیئے تو یہ تھا کہ اس لڑکی کی حوصلہ افزائی کی جاتی لیکن بدقسمتی سے اس کی حوصلہ شکنی کی گئی ۔ پہلے تو سینئر بیوروکریٹ نے شاباش دینے کے بجائے اسے یہ کہا کہ عائشہ تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے;238; ان سمگلروں کے ہاتھ بہت لمبے ہوتے ہیں ۔ تمہاری جان کو خطرہ ہے اور گورنمنٹ نے تمہیں کچھ نہیں دینا وغیرہ وغیرہ ۔ صرف بات وہاں ختم ہو جاتی تو اور بات تھی ۔ بات سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی تک آن پہنچی ۔ انکوائریاں شروع ہو گئیں کہ عائشہ زہری نے ٹھیک کیا ہے یا نہیں ۔ سمگلروں کے ساتھ فائرنگ کے مقابلے کے صرف چند دن بعد بلوچستان اسمبلی میں ایک ممبر صوبائی اسمبلی نے حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیاکہ دالبندین بازار سے ایک مشہور تاجر کے بیٹے عبدالہادی کو اڑھائی ماہ پہلے تاوان کے لئے اغواء کیا گیا ہے ۔ اس لڑکے کو برآمد کیا جائے ۔ اس سے اگلے دن اغواء کاروں نے مغوی عبدالہادی کے گھر پیغام بھیجا تھا کہ ایک ہفتے کے اندر ہ میں چار کروڑ روپے بھجوا دو ورنہ ہم عبدالہادی کے ہاتھ کاٹ کر آپ کو بھیج دیں گے ۔ اس کے بعد عائشہ زہری سارے کام چھوڑ کر مغوی عبدالہادی کو ڈھونڈنے لگ گئی ۔ اس کی ذاتی کوششوں کی وجہ سے مخبر نے آ کر عائشہ کو اطلاع دی کہ آج کی رات عبدالہادی کو فلاں پہاڑی میں رکھا جائے گا ۔[wp_ad_camp_1]