- الإعلانات -

شرط نکاح و طلاق اور ہماری بے باکی

سماج معاشرہ اور تہذیبی روایات کو منظم چلانے کےلئے ہر دور میں کسی نہ کسی ربط یا ثقافت کی جھلک ضرور ہو تی ہے ۔ وعدے ، وعید یا معاہدے طے پاتے ہیں ۔ گواہوں تقاضوں کو مد نظر رکھا جاتا ہے کیونکہ انسانی رویے منفی اور مثبت میلان رکھتے ہیں ۔ جذباتی پن کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ جھوٹ بول سکتا ۔ اپنے معاہدے یا زبان سے پھر سکتا ہے ۔ اس کو روکنے کےلئے بزرگوں کی پنچائیت بیٹھا کرتی تھی ۔ ہجروں میں سب کے سامنے معاہدوں کے ہونے یا تحلیل کرنے کے فیصلے ہوا کرتے تھے ۔ اس عدالتی کاروائی سے کسی کی مجال نہ ہوتی کہ مر جائیں کسی فریب کا شکار ہوں ۔ اگروہ انسانوں نے جب مل جل کر رہنا سیکھا تو اس کی آروزو تھی کہ اس نظم کو قائم رکھنے کےلئے ’’دتا لوگوں ‘‘ کی مجلس بنانی ضروری ہے ۔ اس کا نام کو ئی بھی ہو ، اس کی ضرورت تھی ۔[wp_ad_camp_1] اسلام کی جدید تہذیب کا آغاز جب ہوا تو قرآن نے عائلی زندگی سے ’’اسلامی نظام‘‘ کے قیام کے اصول بنائے ۔ کہا گیا اگر انسان ان احکام کو بعینہ اپنی زندگی میں لاگو کر ے گا ۔ تو اس کی انفرادی نشوونما بھی ہوگی اور اجتماعی زندگی جسے ہم معاشرت کہتے ہیں ، رفتہ رفتہ خوشگوار زندگی کی طرف لپکے گی ۔ گھر گھر امن ہوگا ۔ قرآن ہمیشہ اس بات کی تاکید کر تا ہے کہ زندگی کو سچ کا نمونہ بناوَ ۔ جھوٹ، فریب یا دھوکہ مت کرو ورنہ جہنم کا شکار بن جاوَ گے!جب سے دین کو دھتکارا گیا ہے اور مذہب کے نام سے اسلام کو موسوم کیا گیا تو بد ن اپنی جگہ پر رہ گیا اور روح پرواز کر گئی ہے ۔ نماز ، روزہ، حج زکوٰۃ تورہ گئے مگر اس کی روحانی حیثیت اور مقصد سُکڑ کر انفرادی مفاد کا اور نجات میں آکر اٹک کر رہ گیا ہے ۔ لہٰذا اس وقت ہمارا معاشرہ اک ان دیکھے بو جھ تلے دب کر رہ گیا ہے ۔ ہماری ترجیحات بدل گئی ہیں ۔ ہر قسم کے غیر اسلامی روایات بن کر رہ گئے ۔ نکاح عربی کا لفظ ہے جس کا مطلب میچول ایگریمنٹ ہے ۔ دو فریق لڑکا اور لڑکی چاہتے ہیں کہ ان کو بطیب خاطر نکاح کرتا ہے ۔ تو اس ایگریمنٹ کی چند قرآنی شرائط ہیں ۔ جو کہ درجہ ذیل ہیں ۔ نمبر 1 ۔ مہر یا دیگر لوازمات فریقین کے ’’رُوبرو‘‘ طے یا درج کرنے چاہئیں ۔ نمبر2 ۔ نکاح کےلئے بلوغت کا ہونا شرط ہے ۔ بلوغت کا مطلب لڑکا یا لڑکی کا شعوری طور پر اس طرح قابل ہونا کہ دونوں معاملات زندگی خود طے کریں گے ۔ اس طرح طلاق تین مراحل میں بے پاتا ہے ۔[wp_ad_camp_1] پہلی طلاق کا مرحلہ تین مہینے کا موقع ہے ۔ اگر یہ دوبارہ اپنے معاملات کوسُدھار نا چاہتے ہیں تو رجوع کر سکتے ہیں ۔ طلاق اُس وقت قانونی حیثیت اختیار کر جاتی ہے جب آخری اور تیسرے مرحلے کا مقررہ وقت گزر جائے تو طلاق قرار پا جاتی ہے اور یاد رہے کہ دوبارہ ملنے کی شرط یہ ہوگی کہ عورت کسی اور مرد سے شادی کرے گی ۔ مگر یہ موقع ’’دونوں فریقین‘‘ کےلئے استثنیٰ ہے ۔ اس عمل میں کوئی بالیدگی نہیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ کسی حادثاتی امکان کا پیدا ہوجا نا ہو!ہمارے ہاں دیگر دینی احکام کا مذاق جس طرح عام ہے ۔ نکاح اور طلاق کے احکامات سے بھی وہ روح نکل چکی ہے ۔ جو سیرت محمدیﷺ کے تقاضے ہیں ۔ ’’نکاح نامہ‘‘ جس انداز سے مرتب کیا گیاہے ۔ اس میں قرآنی دفعات کو نظر انداز کیا گیا ہے ۔ اس باب میں ایک خطرہ یہ آن پہنچا ہے کہ نکاح یا طلاق ایک بنیادی مسئلہ ہے جب بنیاد ہی کاغذ کا ایک ٹکڑا لگاکر صرف سماجی اور معاشرتی ذہنی غلام بن کر رہ گیا ہے ۔ اخلاق، معاملہ فہمی، سنجیدگی نہ رہی ، بلکہ روایات کی تقلید میں گھر گھر تباہی مچی ہوئی ہے ۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے ۔ نہ تو نکاح کے فریقین کو آگہی ہے اور نہ ہی نکاح کی تقریب میں شرکاء نہ ہی معاشرہ اور نہ ہی حکومت وقت!اشرافیہ جو کہ دولت کے پل لوتے پر اپنی زندگی کے معاملات طے کر تے ہیں ۔ شادی یا نکاح ان کےلئے بعینہ فارملٹی نکاح کرتے ہیں ۔ وہ اسے ویسا ہی ایگریمنٹ سمجھتے ہیں ۔ جس طرح یورپ میں ایک کاغذ پر خود ہی چند شرائط طے کر کے ایک کمرے میں دوست بن کر رہتے ہیں جب جی چاہے الگ ہو جاتے ہیں ۔ یہ معاہدہ خالصتاً جنسی ضرورتوں تک ہی رہتا ہے ۔ ہمارے ہاں دو طرفہ تماشہ ہے ۔ معاشرہ کے افراد اسی جیسے معاہدے کو ’’قرآنی نام‘‘ نکاح دید یتے ہیں ۔ بزعم خویش مطمئن رہتے ہیں ۔ کہ ہم مسلمان ہیں اس رویے نے گھر گھر ماتم مچا رکھا ہے ۔ یورپ میں اور ہمارے ہاں طلاق کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔ ایسا معاہدہ جس میں بظاہر نکاح یا طلاق کا نام استعمال کیا جائے ۔ شعور ی یا لا شعوری طور پر انتشار، فساد اور نفسیاتی بیماریوں کا جنم لیتا ہے ۔[wp_ad_camp_1] ایسا نکاح جو قرآنی اصولوں کیخلاف ہو وہ معاشرہ جہنم میں ہوتا ہے ۔ اولاد تک اس قسم کے گناہ کی یاداش میں جیتے ہیں ۔ پروفیسر ڈاکٹرانون! نے اپنی معروف کتاب جو کہ 80 تہذیبوں کی طرز زندگی کا نچوڑ ہے ۔ لکھا ہے کہ’’وہ معاشرے جہاں مونوگیمی کی روایات ہوں ۔ یعنی ایک بیوی کا تصور ہو اور شادی سے پہلے اورما بعد عصمتیں محفوظ ہوں ۔ تو اُس معاشرے میں توانائی ہوتی ہے ۔ مگر وہ معاشرہ جہاں جنسیات بد لگام ہو وہ کتنی ہی خوشحال تہذیب ہو ۔ 100 سال کے عرصے میں مٹ جاتے ہیں ۔ اخلاق ، اقدار اور جنسی اعتدالی ایسے معاشروں سے قوت ارتکاز چھیں لیتی ہے ۔ باعصمت معاشرے بلندی کی طرف اُٹھتے ہیں کیونکہ ان کی توانائی مضبوط اور مستحکم بنیاد فراہم کرتی ہیں ۔ اگلی نسلوں کو یہ روایات جاری رہے تو دنیا کے ممتاز معاشرے بن جاتے ہیں ‘‘ ڈاکٹر انون کے تجزیے کے روشنی میں ۔ پاکستانی معاشرہ جنسیات کی زد میں ہے ۔ نکاح تک بد اخلاقی کی نظر ہو چکا ہے ۔ لڑکا لڑکی اور لڑکی لڑکے شادی پہلے اور مابعد پُر خلوص نہیں رہتا ۔ اندر سے کچھ باہر سے کچھ! دھوکہ اور فریب رہ ایک کر جاتا ہے ۔ یہ ایک معاشرتی و سماجی ابلیگیشن ہے ۔ اگرچہ قرآن اس کی ضرورت کے بارے یہ فیصلہ دیتا ہے کہ فریقین جب تک نکاح کے قبل و ما بعد ان تقاضوں پر پورا نہیں اُترتا ۔ سنجیدہ نہیں ہوتا اور اپنی ذات میں مستحکم نہیں ۔ تو وہ اپنی جنسی قوتوں کو قابو میں رکھیں تا وقتیکہ وہ اس کے معیار کے قابل بن سکیں کیونکہ اس کا تعلق مستقبل سے ہے!آج کے مسلمان جو کہ جنس زدہ ہیں اپنی جنسی قوتوں کے استعمال کےلئے نکاح کے لبادے میں ننگے اخلاق کا شکار ہو جاتے اوریوں بہت جلد مایوسی کے دلدل میں گھر جاتے ہیں ۔ دباوَ، تناوَ بیروزگاری ،جذباتی چرکوں سے لہولہان ہو جاتے ہے ۔ آزاد روی کی شکار عورتیں اور مرد جنس مخالف کی آغوش کی آسودگی میں اپنے مرکز سے کھسک جا تے ہیں ۔ بیوی کا خُلع لینا یا شوہر کا طلاق دینا گیا اک مذاق بنا دیا خود کوسُنتے آئے ہیں کہ !جی میں نے غصے میں طلاق کا لفظ کہا تھا لہٰذا یہ طلاق نہیں ہوئی ۔ یہ سارے معاملات انسان کے رویے سے متعلق ہیں ۔[wp_ad_camp_1] اس کا اسلام یا دین سے کوئی علاقہ نہیں ۔ کردار عصمتیں محفوظ ہو تو قلیل قوت میں تہذیب عروج پا جاتی ہے ۔ اس کے برعکس وہ معاشرہ جن کی عصمتیں بے لاگ ہوتی ہیں ، بقول ڈاکٹر انون وہ سو سال کے اندر تخریب کا شکار ہو جاتے ہیں ۔