- الإعلانات -

پاک فوج کی قربانیاں

خیبر پی کے کے جنوبی شہر ڈیرہ اسمٰعیل خان کے قریب ٹانک میں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کی بڑی کارروائی ناکام دی ۔ اس کارروائی میں دو دہشت گرد ہلاک کر دئیے گئے جو ہائی ویلیو ٹارگٹ تھے لیکن فائرنگ کے شدید تبادلے میں پاک فوج کے کرنل مجیب الرحمن شہید ہوگئے ۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ٹانک، جنوبی خیبر پی کے میں ڈیرہ اسماعیل خان کے بعد دوسرا بڑا شہر ہے جو جنوبی وزیرستان کا دروازہ بھی کہلاتا ہے ۔ یہاں مقامی آبادی کے علاوہ بڑی تعداد میں محسود قبائل بھی مقیم ہیں تاہم جنوبی وزیرستان میں شورش سے پہلے بھی محسود شہری علاقوں میں رہائش اختیار کرنے کیلئے ٹانک کا ہی رخ کرتے تھے ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم متحد اور پرعزم ہے ۔ فورسز نے بے پناہ قربانیاں دے کر دہشت گردی کو ختم کیا ہے ۔ پوری قوم مسلح فورسز اور سکیورٹی اداروں کی قربانیوں کو تسلیم کرتی ہے ۔ بے مثال قربانیوں کے نتیجے میں دہشت گردی کا خاتمہ ہوچکا ہے اور امن بحال ہے ۔[wp_ad_camp_1] افغانستان میں امریکی آمد کے بعد ہماری سرزمین بدترین دہشت گردی کی لپیٹ میں آئی جس سے نہ صرف ہماری معیشت کا بیڑہ غرق ہوا بلکہ جانی و مالی نقصان الگ اٹھانا پڑا ۔ پاک فوج نے اس بدترین دہشت گردی سے خلاصی پانے کیلئے سخت اور بلا امتیاز اپریشن شروع کئے جن کے ذریعے دہشت گرد اور انکے سہولت کاروں کا صفایا کیا گیا ۔ ان اپریشنز کے دوران ہمارے پاک فوج کے کئی افسر اور جوان بھی شہید ہوئے ۔ آج پوری قوم مسلح فورسز اور سکیورٹی اداروں کی قربانیوں کو تسلیم کرتی ہے جن کی بے مثال قربانیوں کے نتیجے میں دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہوا اور ملک میں امن بحال ہے ۔ آج ہم دہشت گردی کے خلاف سب سے بڑی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ اس جنگ میں پاکستانی معیشت کو 120 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ۔ اس پر کوئی یہ کہتا ہے کہ ہم دہشت گردوں کو پال رہے ہیں تو وہ مبالغے سے کام لے رہا ہے ۔ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ دنیا اس بات کا ادراک کرے کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے آگے ہیں ۔ امریکی انتظامیہ افغانستان میں دہشت گردوں کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہوئی ہے جو آج سرحد پار سے پاکستان پر حملے کرتے ہیں ۔ افغانستان میں ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالا جاتا ہے ۔ دہشت گردی کے مسئلہ کے حل کے لیے عسکری کے ساتھ سیاسی حل بھی ہونا چاہئے ۔ پاکستان امن کیلئے عالمی برادری کے ساتھ مل کرکام کرنے کو تیار ہے ۔ امریکا سے باہمی احترام پر مبنی تعلقات چاہتے ہیں ۔[wp_ad_camp_1]

گزشتہ 4 سال میں دہشت گردی اور فرقہ واریت کے واقعات میں 80 فیصد سے زائد کمی ہوئی ۔ کراچی میں امن واپس آگیا ہے اور وہاں 95 فیصد جرائم کاخاتمہ ہوگیا ۔ بلوچستان میں تخریب کاروں نے امن کو نقصان پہنچانے کی ناکام کوششیں کیں اور وہاں ترقی کی نئی لہرشروع ہوچکی ہے ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیاب تجربات کا دنیا کو فائدہ دینا چاہتے ہیں ۔ دہشتگردی کے خلاف پوری قوم نے مل کرجنگ لڑی اورنیشنل ایکشن پلان کے ذریعے پوری قوم نے دہشت گردی کونا سور قراردیا ۔[wp_ad_camp_1]

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے پاکستان نے ہر رنگ و نسل کے دہشتگردوں کیخلاف آپریشنز کیے جبکہ افغانستان میں امن کیلئے پاکستان سے زیادہ کسی ملک کو دلچسپی نہیں ۔ آرمی چیف نے امریکہ کیساتھ تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا دہشت گرد ی کیخلا ف جنگ میں قربانیاں تسلیم کی جائیں ۔ دنیا امن کیلئے کئی عشروں کی خد ما ت کا اعتراف ، خطے میں امن و استحکام کیلئے پاکستان کے طویل تعاون کی قدر کرے ۔ مالی اور مادی تعاون سے زیادہ پاکستان کی کاوشوں کو سر اہنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ پاکستان ہی ہے جس نے خطے کے امن کیلئے سب سے بڑھ کر کردار ادا کیا ۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ افغانستان میں بھارتی قونصل خانے دہشت گردی کی تربیت گاہ بنے ہوئے ہیں اور افغانستان کی سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے لئے استعمال ہورہی ہے ۔[wp_ad_camp_1] اس صورتحال میں افغان حکومت کودوسروں پر بے بنیاد الزام تراشی کے بجائے اپنے معاملات درست کرنے کی ضرورت ہے جس میں پہلی ترجیح اپنے ملک کو بھارت جیسے دہشت گرد ملک کے دباءو اور اثر سے آزاد کرانا ہونی چاہئے ۔ یو این او کی نمائندہ تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ افغانستان کے شہر کندھار میں بھارت کے 65قونصل خانے ہیں جن میں اسرائیلی ، بھارتی اور افغانی خفیہ ایجنسی سے تعلق رکھنے والے ٹاپ ایجنٹ دہشت گردوں کوٹریننگ دے کر پاکستان کے دیگر شہروں میں بھیج کر دہشت گردی کے واقعات کرواتے ہیں جس سے اب تک سینکڑوں معصوم لوگ بم بلاسٹ ، خود کش دھماکوں میں اپنی زندگی گنوا بیٹھے جبکہ پولیس فورس اور پاک فوج کے جوان بھی جاں بحق ہوئے ۔ تمام نیٹ ورکس کا سربراہ کلبھوشن سدھیر یادیو کی گرفتاری کے بعد بھار ت کی کمر تو ٹوٹ گئی مگر دہشتگردی کا نیٹ ورک تاحال ختم نہ ہوسکا جس کے باعث بھارت اسرائیل ، افغانستان کی مدد سے پاکستان میں دہشتگردی کے منصوبوں پر گامزن ہیں ۔[wp_ad_camp_1]

پاکستان کی یقین دہانیوں کے باوجود امریکہ یہ زور دیتا آ رہا ہے کہ وہ اپنے ہاں مبینہ طور پر موجود عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں خاص طور پر دہشت گرد گروپ حقانی نیٹ ورک کے خلاف بھرپور کارروائی کرے ۔ جبکہ دوسری طرف امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اس جنگ میں پاکستانی فوجی اہلکاروں اور شہریوں نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں ۔ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے میں بہت دلچسپی رکھتا ہے ۔ افغان مسئلے کا سیاسی حل نہ صرف پاکستان بلکہ امریکا اور پورے خطے کے مفاد میں ہے ۔ امریکہ کے محکمہ دفاع نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ خود پاکستان کے مفاد ہے ۔[wp_ad_camp_1]

بلوچستان اور کے پی کے میں تسلسل کے ساتھ ہونے والے دہشت گرد حملوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ شدت پسندوں کی شہری علاقوں میں مضبوط جڑیں ہیں ۔ ہر پرتشدد واقعے کے بعد شدت پسند آسانی سے اس لیے فرار ہو جاتے ہیں کیونکہ انہوں نے عام لوگوں کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی ادارے شہریوں کی جان ومال کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے سنجیدہ اور دور اندیشی پر مبنی اقدامات اٹھائیں تاکہ لوگ از خود امن مخالف عناصر کی سرکوبی کے لیے ان کے ساتھ تعاون کریں ۔[wp_ad_camp_1]