- الإعلانات -

اللہ بہادر لوگوں کو پسند کرتا ہے

گزشتہ سے پیوستہ

جوں ہی مخبر نے اسسٹنٹ کمشنر عائشہ زہری کو یہ خبر دی کہ اغواء شدہ عبدالہادی فلاں غار میں ہے تو وہ فوری طور پر لیوی کے چند نواجوانوں کو لے کر رات کی تاریکی میں اس غار کی طرف چل پڑی ۔ ان تاریک اور خطرناک پہاڑوں سے گزر کر آدھی رات کے وقت انتہائی سردی بلکہ منفی ٹمپریچر میں چار گھنٹے پتھریلے پتھروں پر پیدل چل کر عائشہ زہری غار تک پہنچی ۔ مغوی کو دالبندین سے اغواء کر کے ضلع چاغی میں انتہائی دور دراز اور خوفناک پہاڑی علاقے پاک افغان بارڈر کے پاس رکھا گیا تھا ۔ راقم یہ خبر پڑھ کر خود بنفسِ نفیس دالبندین پہنچا اور اسسٹنٹ کمشنر عائشہ زہری سے مالاقات کی تو عائشہ نے بتایا کہ جب ہم وہاں پہنچے تو عبدالہادی کو مضبوط زنجیروں میں جکڑ کر باندھ رکھا تھا اور ہر روز اس پر ظلم کر رہے تھے ۔ اچانک ہم نے غار پر ہلہ بول دیا ۔[wp_ad_camp_1] اس وقت عبدالہادی کے پاس اغواء کاروں کے جو پہرے دار تھے وہ بھاگ گئے اور ہم نے صحیح سلامت عبدالہادی کو رہا کروا لیا ۔ ا س کی زنجیروں کو کاٹا گیا ۔ پھر اسی طرح دوبار ہ شدید سردی میں چار گھنٹے کا پیدل سفرکر کے صبح کی روشنی میں دالبندین پہنچے ۔ اس رات عبدالہادی کو برآمد کرنے والے قافلے میں شریک ایک سپاہی نے رات کے واقعے کی تفصیل پوچھی تو اس نے کہا ’’ہماری میڈم شیرنی ہے شیرنی‘‘ ۔ صبح سویرے معز زین علاقہ اور دیگر افسران کے سامنے عبدالہادی کو اس کے ورثاء کے حوالے کیا گیا ۔ اغواء کاروں نے عبدالہادی کو مار مار کر اس کی یہ حالت کی کہ پہچانا نہیں جاتا تھا ۔ اس وقت عبدالہادی کے ورثاء کی حالت دیدنی تھی ۔ میں نے غار کے اندر عبدالہادی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ویڈیو بھی دیکھی ۔ پھر اس کو اپنے ورثاء کو ملتے ہوئے بھی دیکھا ۔ وہ اتنا جذباتی منظر تھا کہ کوئی بھی شخص اپنے آنسووَں پر قابو نہ رکھ سکا ۔ پھر جس طرح نوجوان لڑکی اسسٹنٹ کمشنر سے خواتین لپٹ لپٹ کر شکریہ ادا کر رہی تھیں الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا ۔ اسسٹنٹ کمشنر عائشہ زہری خود بھی بلوچ اور بہادر قبیلے سے تعلق رکھتی ہیں اس لئے انہوں نے خواتین کو بہت حوصلہ دیا ۔ عائشہ زہری کا سمگلروں سے فائرنگ کے مقابلے کے بعد منشیات بر آمد کرنے سے بھی یہ بڑا کام تھا ۔ لیکن اس کو میڈیا کوریج نہ دی گئی ۔[wp_ad_camp_1] ا گر کوئی الیکٹرانک میڈیا اس خبر کو بمعہ ویڈیو چلانا چاہے تو اس واقعے کی پوری ویڈیو میرے پاس موجود ہے اور وہ حقیقت پر مبنی چونکا دینے والی رپورٹ بن سکتی ہے ۔ صرف چند دنوں میں دو عظیم کارنامے سرانجام دینے والی لڑکی کو انعام دینے کے بجائے انکوائریوں میں الجھا دیا گیا ۔ جو سراسر زیادتی ہے اس سے کام کرنے والے افسروں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے ۔ میرا اصل موضوع یہ تھا کہ جو لوگ ہر وقت بلوچستان کا منفی نقشہ پیش کر رہے ہیں ان کےلئے یہ چونکا دینے والی خبر ہے کہ بلوچستان اب بدل چکا ہے ۔ بلوچستان کے پسے ہوئے طبقے کے مرد وہ ہمت اور حوصلہ نہ کر سکے جو وہاں کی خواتین خود ہاتھوں میں بھاری ہتھیار اٹھا کر میدان میں آگئی ہیں ۔ اس میں خوشی کی یہ بھی بات ہے کہ بلوچستان کی خواتین یہ جان چکی ہیں کہ ہمارا دشمن کون ہے ۔ کس نے اور کیوں ہ میں تعلیم جیسی نعمت سے دور رکھنے کی کوشش کی ۔ بلوچستان کے مظلوم، محکوم اور مجبور طبقے کےلئے یہ خبر انتہائی خوش آئند ہے کہ بلوچستان کی قسمت اور حالات جلد بدلنے والے ہیں ۔ جب اغواء کاروں سے مغویوں کو چھڑانے کےلئے ایک بلوچ لڑکی اتنی ہمت کر سکتی ہے تو اب وہاں بہت بڑا ترقی اور خوشحالی کا انقلاب آنے والا ہے ۔[wp_ad_camp_1] حکومت نہیں بھی کچھ کرتی تو انجمن متاثرینِ دہشت گرداں جیسی تنظی میں بنا کر ایسے دلیر اور بہادر افسروں کی حوصلہ افزائی کریں ۔ میں ذاتی طور پر جتنا جانتا ہوں بہادر، دلیر، غیرت مند، باکردار اور محبِ وطن افسروں کا پاک فوج بھی ساتھ دے گی ۔ کوئی آگے چلے تو سہی جیوے جیوے بلوچستان ۔ جیوے جیوے پاکستان، بلوچستان زندہ آباد ۔ پاکستان پائندہ آباد ۔