- الإعلانات -

میرا جسم میری مرضی ہو ہی نہیں سکتی

نہ کر بندیا میری میری ،نہ تیری نہ میری ۔ تین گز دا توں مالک بندیاں ا و وی خاک دی ٹھہری ۔ اس شعر کے بعد بھی اگر کوئی کہتا ہے کہ میرا جسم میری مرضی تو پھر ایسوں کو سمجھانا کیا جن کو یہ شعور ہی نہیں ہے کہ جس وجود کا یہ دعویٰ حق مالکیت کا کر رہی ہیں کر رہے ہیں وہ وجود ان کی اپنی ملکیت ہی نہیں ۔ پھر ان کی مرضی کیسے ہو سکتی ہے ۔ جس جسم کا مالک ہونے کا یہ دعویٰٰ کر رہے ہیں کیا یہ انسانی جسم ان کا اپنا بنایا ہوا ہے ۔ جبکہ ایسا نہیں ہے ۔[wp_ad_camp_1] ایک ڈاکٹر کے سامنے تو ان کی اپنی مرضی تو نہیں چلتی ۔ جب ڈاکٹر انہیں آپریشن تھیٹر میں ان کے ہوش ہواس میں اس کے تن پر لگا قیمتی سے قیمتی لباس اتروا دیتا ہے اور سادہ سی ایک چادر ڈال کر اس کا آپریشن کر تا ہے ۔ اگر آپریشن نا کام ہو جاتا ہے تو پھر اسے کفن کی سادہ سی چادر میں لپیٹ کر منوں مٹی کے نیچے سب کے سامنے دفنا دیا جاتا ہے ، ہندو ہو تو اسے جلا دیا جاتا ہے اور اگر پارسی ہو تواسے اونچی جگہ پر چیلوں گدوں کے کھانے کےلئے رکھ دیا جاتا ہے ۔ کیا یہ ایسا ان کی مرضی کے مطابق ہو رہا ہوتا ہے جبکہ ایسا سب کچھ ان کی مرضی کے خلاف ہو رہا ہوتا ہے ۔ یہ اپنے ساتھ اپنے قیمتی لباس پہن کر نہ یہ دنیا سے رخصت ہوتا ہے اور نہ دنیا میں اکٹھی کی ہوئی جائیدادیں ، سامان ، گاڑیاں ، جہاز اپنے ساتھ لے جا نے کی طاقت رکھتا ہے ۔ نہ ہی اس کے پاس موت کو روکنے کا کوئی اختیار ہے اور نہ ہی اپنی پسند کا رزق کھانے کا اختیار رکھتا ہے ۔ اسے تو اپنا کچھ پتہ نہیں کہ کب تک وہ زندہ ر ہے گا کب کیا کھائے گا کیا پیئے گا ۔ یعنی انسان بے بس ہے ۔ اگر ایسا ہے تو اس کے باوجود اگر کوئی پھر بھی یہ نعرہ لگاتا ہے کہ میرا جسم میری مرضی تو اس کےلئے شجاع شاکر کی شاعری پیش خدمت ہے ۔ نہ جسم تینڈا نہ جان تیڈی ، اے ترکہ رب رحمان دا ہے ۔ اوندے حکم بغیر تو بے بس حس، اے فیصلہ پڑھ قران دا ہے ۔ میڈے جسم تے میڈی مرضی ہے ، اے وہم گمان انسان دا ہے ۔ تیڈی روح ہے شاکر مالک دی ، تیڈا ڈھانچہ قبرستان دا ہے ۔ یہ خوبصور شعر احمد مجتی نور جج نے پوسٹ کئے تھے ۔ اگر پھر بھی کوئی کہتا ہے لکھتا ہے میرا جسم میری مرضی تو اس کے لئے ہدایت کی ہی دعا ہی کر سکتے ہیں ۔ ۸ مارچ کو پاکستان سمیت دنیا ساری میں عورتوں کے انسانی حقوق کا دن منایا جاتا ہے ۔ لہٰذا یہ دن پاکستان میں بھی منایا جانے لگا ہے ۔ یہاں کیوں منایا جاتا ہے ۔ تفری کےلئے یا اپنے حقوق کےلئے ۔ کسی کو معلوم نہیں ۔ ہمارے ہاں بھی عورتوں کے ساتھ ناروں سلوک ہوتا ہے ۔ انہیں مارا پیٹا جاتا ہے ۔ تیزاب پھینکا جاتا ہے انہیں انسان نہیں سمجھا جاتا ہے ۔ اس کےلئے قانون میں تبدیلیاں لانے کی اشد ضرورت ہے کہ ان ظالم درندوں کو ایسا کرنے سے روکا جا سکے ۔ جو مسائل دنیا کے دیگر ممالک کی خواتین کے ہیں ویسے مسائل ہمارے ہاں کی خواتین کے نہیں ہیں ۔ جو سلوگن یورپ اور امریکہ کی خواتین کے ہیں وہ کسی دوسرے ملک کی خو اتین کے نہیں ہو سکتے ۔[wp_ad_camp_1] ان کے مسائل ہم سے مختلف اس لئے ہیں کہ ان کا مذہب ، ان کا کردار ، ان کی سوچ ان کا قانون ، ان کا معاشرہ اور ان کے رسم ورواج ہم سے مختلف ہیں لیکن ہم پاکستان میں یورپ امریکن سلوگن ، بینرز لگا کر اپنے درپیش خواتین کے مسائل کی عکاسی کر رہے ہوتے ہیں ۔ آپ اگر کہہ دیں کہ یہ سلوگن یہ بینر یہ لانگ مارچ ،یہ ہلا گلا یورپ یا امریکہ کی خواتین کے حقوق کےلئے اظہار یکجہتی کے لئے ہم بھی مناتے ہیں تو بات سمجھ میں آتی ہے ۔ اگر یہ امریکن خواتین کے حق میں ایسا کر رہی ہیں تو انہیں یہ یاد رکھنا چائیے کہ ہم ایسا کر کے اپنی توانائی ضائع کر رہے ہیں ۔ جلوس نکالیں ، احتجاج کریں مگر اپنے ملک کی خواتین کے مسائل کے حوالے سے تانکہ ہمارے ہاں کی خواتین کو فائدہ ہو ۔ ایک تازہ امریکن سروے کے مطابق اس وقت امریکہ میں چالیس فیصد بچے وہ ہیں جن کے والدین کا کچھ پتہ نہیں ۔ اسلئے امریکہ میں بچے کے نام کے ساتھ والد کی جگہ اس کی والدہ کا نام لکھا اور بولا جاتا ہے ۔ یہ امریکن معاشرے کے مسائل ہیں ۔ ہ میں اس ۸ مارچ کے روز ان خواتین کے مسائل کو اجاگر کرناچاہیے جو کہ ان کی ترقی اور ان کے حقوق کی راہ میں حائل ہیں ۔ وراثت میں حصہ دو ، تعلیم حا صل کرنے کا حق دو، با عزت روز گار، کاروکاری سے نجات دلاءو ،چھوٹی عمر کی شادیوں پر پابندی لگاءو ۔ وغیرہ وغیرہ ۔ خواتین سب کو بتائیں کہ قوموں کی عزت ہم سے ہے ۔ بے ہودہ ڈراموں گانوں ، اشتہارات میں آنے سے روکیں ، اچھی خواتین راءٹر کی حوصلہ افزائی کریں تانکہ خواتین کے مسائل پر وہ لکھ سکیں لیکن یہاں تو جس طرح سے یہ دن منایا جاتا ہے ان کا اپنے یہاں کے مسائل سے کوئی تعلق دکھائی نہیں دیتا ۔ کوئی سلوگن ان کا ا پنا نہیں تھا اگر ایسا کریں گے تو پھر ہر کوئی یہی کہے گا کہ کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا ۔ اس وقت تک ہر کوئی ٹھیک رہتا ہے جب ہر کوئی اپنی چال چلتا ہے ۔ آج کے عورتوں کے اس دن موقع سے جو جلوس ہمارے ہاں نکالے جاتے ہیں اس سے تو یہی پتہ چلتا ہے یہ جنگ عورت کی مرد سے آزادی کےلئے لڑ رہی ہے ۔ یہ کہہ رہی ہیں کہ مرد ہ میں ترقی نہیں کرنے دیتے ۔[wp_ad_camp_1] جبکہ ایسا نہیں ہے ۔ ہر جگہ مرد اور عورت چادر اور چاردیوری میں اکٹھے ہیں ۔ جہاں کی عدالتوں سے انصاف مل رہا ہوتا ہے وہاں حقوق کی پامالی نہیں ہوتی ،وہاں کوئی قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لیتا ۔ اگر کسی نے جلوس نکالنا ہے معاشرے کو ٹھیک کرنا ہے تو عدالتی نظام کو ٹھیک کرنے کی آواز اٹھائیں تانکہ کسی کا کچھ تو فائدہ ہو ۔ عورت کو اپنے مطلق بھی سوچنا ہو گا کہ وہ اپنی عزت کےلئے کیا کر رہی ہیں ۔ ہ میں اس وقت بانو قدسیہ جیسی شخصیات کی اشد ضرورت ہے جو سچ لکھ سکے ۔ یہاں بانو قدسیہ آپا کا اس حوالے سے مضمون ان عورتوں کے نام جو مسائل میں مردوں کو ہی قصور وار سمجھتی ہیں ۔ خوبصورت مضمون مرد ہوس کا پچاری کی چند سطریں آپ کی نذر کرتا ہوں ۔ آپ لکھتی ہیں مرد باپ کے روپ میں بیٹی کو سینے سے لگاتا ہے ۔ مرد بھائی کے روپ میں بہن کو تحفظ فراہم کرتا ہے ۔ مرد شوہر کے روپ میں بیوی کو محبت دیتا ہے ۔ ماں کے قدموں کے نیچے جنت دیتا ہے ۔ اسی عورت کی خاطر مرد اندلس فتح کرتا ہے اور اسی ہوس کی خاطر 80 فیصد مقتولین عورت کی عزت کی خاطر مرد موت کی نیند سو جاتے ہیں ۔ واقعی ہی مرد ہوس کا پجاری ہے لیکن جب ہوا کی بیٹی کھلا بدن لئے چست لباس پہنے گھر سے باہر نکلتی ہے اور اسکو اپنے سحر میں مبتلا کر دیتی ہے تو یہ مرد واقعی ہی ہوس کا پچاری بن جاتا ہے اور کیوں نہ ہو ۔ کھلا گوشت تو آخر کتے بلیوں کےلئے ہی ہوتا ہے ۔ جب عورت گھر سے باہر ہوس کے پچاریوں کا ایمان خراب کرنے نکلتی ہے تو روکنے پر یہ آزاد خیال عورت مرد کو تنگ نظر اور پتھر کے زمانہ کا جیسے القابات سے نواز تی ہے کہ کھلے گوشت کی حفاظت کےلئے ہ میں کتوں بلیوں کے منہ سینے ہونگے ۔[wp_ad_camp_1]

(باقی;58;سامنے والے صفحہ پر)