- الإعلانات -

معاشی بدحالی مگر کیوں !

عاشی عدم مساوات نے لوگوں کی زندگی اجیرن کردی ہے ہر فرد طبقاتیت اور استحصال کے جبر سے تنگ ہے اور ان کو راہ فرار نظر نہیں آتا ہے ۔ ملک میں امیر دن بدن امیر ہوتا چلا جا رہا ہے اور غریب دن بدن غریب ہوتا چلا جا رہا ہے غریب عوام برداشت نہیں کر رہے ہے ہیں کہ امرا کے پالتو کتے مکھن روٹی کھارہے ہیں اور غریب لوگوں کو پیٹ بھرنے کے لئے دو نوالے بھی بمشکل میسر نہیں آرہے ہیں ۔ دولت کی غیر منصفانہ تقسیم یا دولت کا چند ہاتھوں میں ارتکاز سرمایہ دارانہ معیشت کا قدرتی مظہر ہے ۔ سرمایہ دارانہ معیشت میں معاشی نظام کے بنیادی مسائل کو نفع کے محرک کے تحت قیمتوں کی میکانیت کے ذریعے حل کیا جاتا ہے ۔ جاگیرداروں ، سرمایہ کاروں ،[wp_ad_camp_1]تاجروں اور آجروں کو پیداواری عمل کو منظم کرنے کے عوض منافع حاصل ہوتا ہے ۔ عاملین پیدائش کے سستا ترین اشتراک کو ممکن بنا کر ایک خاص حد تک منافع کا حصول کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار کرتا ہے ۔ اسلام ایک نظام حکومت و سیاست، نظام معاشرت و اقتصادیات رکھتا ہے اور جب تک کسی ملک میں مسلمانوں کو اقتدار حاصل نہ ہو وہ اسلام کے اجتماعی تصورات پر عمل نہیں کر سکتے لیکن ہماری 67 سالہ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان میں آج تک ہمارے حکمرانوں نے پاکستان میں عدل پر مبنی اجتماعی نظام قائم کرنے اور اسے ایک فلاحی اسلامی ریاست بنانے میں کبھی کوئی سنجیدہ اور موثر کوشش نہیں کی ہے اس کے نتیجے میں انارکی کا ماحول ہے غریبوں اور امیروں میں بدترین عدم مساوات ہے ۔ بقول فیض

یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر

وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں[wp_ad_camp_1]

ملک راءج نظام میں محنت کش طبقہ کو انتہائی قلیل معاوضہ دیا جاتا ہے اور جاگیر دار اور سرمایہ دار ہمیشہ وارے میں رہتے ہیں اور صنعتکاروں ، تاجروں ، سرمایہ کاروں کے نیارے ہوتے ہیں کیونکہ ان کو نہایت سستے داموں مزدور مل جاتے ہیں محنت مزدور کرتے ہیں اور ان کی محنت سے صنعت کاروں اور تاجروں کو کئی ہزار گنا فالتو منافع حاصل ہے جبکہ ان اشیاء کی پیدائش عمل میں حصہ لینے والے اہم عامل محنت یعنی مزدور کو اپنی محنت کا جائز معاوضہ نہیں ملتا کیونکہ سرمایہ دارانہ معیشت میں ہر شے کی قدر اور ان کے معاوضوں کا تعین طلب و رسد کی قوتوں کے باہمی تعامل سے ہوتا ہے چونکہ ان ممالک میں مزدوروں کی رسد ان کی طلب سے زیادہ ہوتی ہے لہٰذا انکو اپنی محنت کے عوض کم معاوضہ ملتا ہے اور وہ اپنے قلیل معاوضے سے اپنے ہی ہاتھوں سے تیار کردہ مصنوعات کو اپنی آمدنی سے خریدنے سے قاصر رہتے ہیں اور ہمیشہ وہ محنت کی چکی میں پستے رہتے ہیں ۔ جس ملک کی معیشت بھی سرمایہ پرست انہ نظام پر استوار ہوتی ہے وہاں پر دولت چند ہاتھوں میں ضرور مرتکز ہو جاتی ہے ۔ معاشرہ امیر اور غریب طبقوں میں بٹ جاتا ہے ۔ ایسے میں مغربی ممالک کی فلاحی ریاستیں امراء کی آمدنی پر زیادہ ٹیکس عائد کرتی ہیں اور غریبوں کو لازمی روزگار، صحت، تعلیم اور رہائش کی مفت سہولتیں فراہم کرتی ہیں بلکہ ان ممالک کے امراء خود رضاکارانہ طور پر حکومت کوزیادہ ٹیکس دیتے ہیں جیسا کہ امریکہ میں 2008ء میں کساد بازاری کا جو بحران آیا تو وہاں کے امراء خصوصاً وارن بفٹ اور بل گیٹس نے حکومت کو آفر کی کہ امراء کی آمدنیوں پر ٹیکسوں کی شرح بڑھا دی جائے بلکہ یہ دونوں حضرات اپنی آمدنی کا 75 فیصد تیسری دنیا میں پولیو اور ایڈز کی روک تھام پر ’’امیلڈ اور بل گیٹس‘‘ فاءونڈیشن کے ذریعے خرچ کرتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں کے امرا اول تو حکومت کو براہ راست ٹیکس ہی نہیں دیتے دوسرا ان کی دولت غیر ملکی بنکوں میں ہوتی ہے ۔[wp_ad_camp_1] تیسرا وہ چند کروڑ کی خیرات اور فلاحی کاموں پر ذاتی تشہیر کے لئے خرچ کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان سے اربوں روپوں کے ٹیکس اور سرکاری زمینوں ، جس کی وجہ سے جائیدادوں اور سرکاری وسائل پر قبضے کے متعلق پوچھنے کی کوئی جرات نہیں کرتا اور یہ اس لئے بھی ہے کہ وہ نظام پر قابض ہوتے ہیں ۔ سرمایہ پرست نظام میں مزدوروں ، کاشتکاروں ، ہاریوں ، ہنرمندوں اور کاریگروں کا استحصال ہوتا ہے اور ان کی محنت سے تیار کردہ مصنوعات ملک میں فروخت کرنے اور دوسرے ممالک میں برآمدات سے سرمایہ دار اور کاروباری حضرات اپنی دولت کو خوب بڑھا لیتے ہیں ۔ ویسے بھی منڈی کی معیشت کا یہ اصول ہے کہ وہی عامل پیدائش معاوضے کی صورت میں تقسیم دولت میں سے زیادہ حصہ حاصل کرتا ہے جو کمیاب ہوتا ہے یعنی اس کی طلب اس کی رسد سے زیادہ ہوتی ہے چونکہ سرمایہ دارانہ معیشت میں آجر یا تنظیم کمیاب ہوتی ہے تو اس وجہ سے وہ عاملین پیدائش کے اشتراک سے پیدا ہونے والی دولت میں زیادہ حصہ حاصل کرتی ہے حالانکہ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ وہ عامل پیدائش دولت کا زیادہ حصہ حاصل کرے جس کا دولت کی پیدائش میں زیادہ اہم کردار ہے مگر سرمایہ دارانہ معیشت میں ایسا اصول نہیں ہوتا ہے ۔ اسلامی نظام معیشت میں نظام زکوٰۃ قائم ہوتاہے ان نظام کے تحت زکوٰۃمالداروں سے لی جاتی ہے اور غریبوں پر خرچ کی جاتی ہے مگر زکوٰۃ کے اس نظام کو موجودہ نظام کا حصہ نہیں بنایا گیا ہے ۔ یہاں وہ ہوتا ہے جو اشرافیہ چاہتا ہے[wp_ad_camp_1] اور طبقہ اشرافیہ کرپشن اور ناجائز طریقوں سے کمایا گیا کالادھن کاروبار میں لگاتے ہیں ۔ فارن کرنسی میں تبدیل کرکے کرنسی ڈیلرز کے ذریعے ہنڈی کے استعمال سے اس کو باہر ممالک میں بھیجتے ہیں ۔ دوبئی، امریکہ، لندن میں اس کی سرمایہ کاری کرتے ہیں اور پھر جب یہ دیکھتے ہیں کہ پاکستان میں روپیہ کی قدر میں کمی واقع ہو گئی ہے تو اس کو غیر ملکی ترسیلات کی شکل میں پاکستان واپس لا کر نہ صرف اپنی ناجائز کمائی کو سفید کر لیتے ہیں بلکہ اس پر بے تحاشا منافع بھی کما لیتے ہیں اور اس کے نتاءج ہولناک ہوتے ہیں اورامیر امیر تر ہوتا جاتا ہے اور غریب غریب تر اور اس پر مستزاد فرسودہ مذہبی طبقہ غریب ہی کو اس کا ذمہ دار قرار دیتا ہے اور یہ پٹی پڑھاتا ہے کہ اس کی قسمت ہی خراب ہے ۔