- الإعلانات -

کچھی کینال سے سبز انقلاب

 سے لڑانے میں مصروفِ عمل رہی ہیں ۔ بعض اوقات تو انتہائی حالات خراب کر دئیے گئے ۔ یہاں تک کہ کر کٹ گراوَنڈ میں پاکستان مخالف نعرے ہوائی جہاز کے پیچھے بینر لکھ کر میڈیا کو دکھایا گیا ۔ دشمنانِ پاکستان کا سب سے بڑا نشانہ خیبر پختونخواہ کے کچھ علاقے اور بلوچستان کے بھی چندڈویژن شامل تھے ۔ اس میں مذہبی تفرقہ بازی پھیلانے کےلئے بے گناہ ایک مخصوص فرقے کے لوگوں کو شہید کر کے خوف و ہراس پھیلایا گیا ۔ شاید کسی حد تک ہماری سابقہ حکومتیں بھی حالات کو کنٹرول کرنے میں ناکام تھیں یا دوسرے لفظوں میں ان کی ادھرتوجہ ہی نہ تھی ۔ بلوچستانی لوگوں کو بنیادہی سہولتوں سے محروم رکھا گیا اور بلوچستان میں ملک دشمنوں کا پیچھا بھی اس طرح نہ کیا جس طرح ملک شمن کا مقابلہ کرنا چاہیئے لیکن 2015ء سے اب تک کے حالات سے میں مکمل طور پر مطمئن ہوں اور حالات دن بدن بہتری کی طرف جا رہے ہیں ۔ 2015ء کے بعد حالات معمول پر آنا شروع ہوئے ۔ آج چونکہ میں ڈیرہ بگٹی ، سوئی اورکوہلو کے حالات کے ساتھ کچھی کینال کے اثرات کا ذکر کرنا چاہتا ہوں ۔ ڈیرہ بگٹی ، سوئی میں نواب اکبر بگٹی کی سخت مزاجی سے ان کی زندگی میں ہی حالات بہت خراب ہو گئے ۔ وہاں ایسے حالات پیدا کئے گئے کہ بگٹی قبیلے کے تین بڑے قبائل ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو گئے ۔ حتیٰ کہ کلپر قبیلے کے کئی ہزار لوگوں کو اپنا علاقہ چھوڑ کر پنجاب میں آکر آباد ہونا پڑا ۔ اکبر بگٹی کے قتل کے بعد یہ لوگ واپس اپنے علاقوں میں شفٹ ہوئے ۔ کلپر قبیلے کے ساتھ میسوری قبیلے کے سیاسی حالات بھی خراب کئے گئے ۔ یہ ایک تفصیلی بحث ہے جس کا میں اپنی کتاب میں بڑی تفصیل کے ساتھ ذکر کر چکا ہوں ۔ جب میں 2015;47;2016ء میں اپنی کتاب بلوچستان ’’عکس اور حقیقت‘‘کےلئے بلوچستان کے شہر شہر اور گاؤں گاؤں گھوم رہا تھا تو چند دن سوئی ڈیرہ بگٹی میں بھی قیام کرنے کا موقع ملا ۔ حالات اس وقت بھی کشیدہ ضرور تھے لیکن جتنا میڈیا نے دنیا بھر میں واویلا مچا رکھا تھا ایسے بھی حالات نہیں تھے ۔ لیکن یہ حقیقت ہے بلوچستان کے حالات درست کرنے کےلئے نالائق ڈاکٹرو ں کی طرح کوئی سیاست دان مرض کی تشخیص ہی نہیں کر سکا ۔ سب سے پہلے بلوچستانیوں کی نبض پر ہاتھ رکھ کر جنرل ناصر خان جنجوعہ نے مرض کی تشخیص کی اور آئی جی ، ایف سی میجر جنرل شیر افگن نے اس کو عملی جامہ پہنایا ۔ جرنل شیر افگن بہت مثبت سوچ رکھنے والے صاف ، کھرے اور بہادرانسان تھے جنہوں نے خلوصِ نیت ، پوری محنت اور لگن سے کام کیا ۔ انہوں نے عام بلوچستانی کےلئے اپنے دروازے کھول دئیے ۔ ہر ایک کی فریاد سنی ۔ پھر ہر لحاظ سے ان کی داد رسی کی ۔ جس کی وجہ سے دن رات بدلنے لگے اور حالات ٹھیک ہونا شروع ہو گئے ۔ اس کے بعد جنرل عامر ریاض کا بھی بہت اچھا دور رہا ۔ مجھے ان کے دور میں متعدد بار بلوچستان جانے کا اتفاق ہوا ۔ آئی جی ایف سی ندیم احمد انجم نے خوبصورت وقت گزارا اور مضبوط گرفت رکھی ۔ دسمبر2019ء میں مجھے ایک بار پھر کوءٹہ جانے کا موقع ملا تو جنرل محمد وسیم اشرف کمانڈر سدرن کمانڈ سے کوءٹہ ان کے دفتر میں ایک طویل ملاقات کا موقع ملا ۔ بحیثیت صحافی ان کے ساتھ سوال و جواب کے بعد ان کی شخصیت کو جانچنے ، پرکھنے اور سوچنے کا موقع ملا ۔ بلاشبہ وہ ایک بہادر ، دلیر اور دوراندیش جرنیل ہیں ۔ وہ جہاں کمانڈ کرنے کی بادرجہ اتم صلاحیت سے مالا مال ہیں وہاں وہ اپنی ملن ساز طبیعت سے لوگوں کے دلوں کو محبت اور پیار سے فتح کرنے کی بھی بے پناہ صلاحیت رکھتے ہیں ۔ انہوں نے بحیثیت کمانڈر سدرن کمانڈ چارج سنبھالتے ہی بلوچستان بھر کا دورہ کیا ۔ تمام کمانڈر اور کما نڈنٹس سے ملاقاتیں کیں ۔ ان کے علاقے کے زمینی حالات اور افسران کی کمانڈ کا جائزہ لیا اور اپنی عقل و دانش کے مطابق انہیں احکامات جاری کئے ۔ حال ہی میں پانچ اور چھ مارچ کو ان کا ڈیرہ بگٹی ، سوئی اور کہان کا دوسرا دورہ تھا ۔ جہاں وہ وہاں کے قبائل کے سرکردہ رہنماؤں سے ملے وہاں کے حالات سے آگاہی حاصل کی ۔ ان کے اس دورے کی سب سے کامیاب بات یہ تھی کہ چھوٹے چھوٹے بگٹی قبائل کے ساتھ کلپر، میسوری اور کھیتران بگٹی قبیلوں کے تمام سرکردہ رہنما موجود تھے ۔ سوئی میں میسوری قبیلے کے سربراہ سینیٹر میر سرفراز بگٹی ، کلپر قبیلے کے سربراہ میر جما ل بگٹی اور کھیتران قبیلے سے نواب اکبر بگٹی کے پوتے میر طلال بگٹی کے چھوٹے بیٹے ممبر قومی اسمبلی نواب شاہ زین بگٹی کے بھائی اور مقامی ایم پی اے میر گہرام بگٹی کمانڈر سدرن کمانڈ جنرل محمد وسیم اشرف کے ساتھ موجود تھے ۔ یہ دن بلوچستان اور خصوصاً ڈیرہ بگٹی ، سوئی کے علاقے اور بگٹی خاندان کےلئے ایک تاریخی دن تھاجسے مورخ اپنی تاریخ میں سنہری الفاظ میں لکھیں گے ۔ اس دن کو دیکھنے کےلئے سینیٹر میر سرفراز بگٹی کی کوششوں اور کاوشوں کی داد نہ دینا زیادتی نہیں بلکہ ظلم ہو گا ۔ بلاشبہ وہ حالات ٹھیک کرنے کےلئے پاکستان آرمی اور ایف سی کے ساتھ قدم ملا کر چلے ۔ مجھے ابھی تک یاد ہے جب مستونگ کے قریب کھڈ کوچہ کے مقام پر 21 مسافروں کو بس سے اتار کر ایک پہاڑی کے پیچھے لے جا کر گولیوں سے بھون دیا گیا تھا ۔ اس وقت میر سرفراز بگٹی صوبائی وزیر داخلہ تھے ۔ جب انہیں اس واقعے کی اطلاع ملی تو رات کی تاریکی میں یہ خود اپنی گاڑی ڈرائیو کر کے سب سے پہلے موقع واردات پر پہنچ گئے تھے ۔ سیاسی طور پر اتنے محب ِ وطن اور قابلِ اعتماد سیاستدان ہیں کہ ان کے کندھوں پر جتنی بھی ذمہ داری ڈالی جائے یہ اس کو سنبھالنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں ۔ سوئی اور ڈیرہ بگٹی میں بلوچ کلچر ڈے کے حوالے سے اس تقریب کا اہتمام ایف سی گراوَنڈ میں کیا گیا تھا اور یہ تقریب رات گئے تک جاری رہی ۔ جس کا ڈیرہ بگٹی اور سوئی کے علاقے میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھاکہ رات کی تاریکی میں سوئی ڈیرہ بگٹی جگمگا رہا ہوگا اور لوگ لطف اندوز ہو رہے ہو نگے ۔ کھیلوں کے اس کامیاب میدان کو سجانے کےلئے تمام قبائل کے ساتھ محبت کے تعلقات استوار کرنے میں ایف سی کے سیکٹر کمانڈ ر بر گیڈئیر نوید چیمہ کا اہم کردار رہا ہے ۔ برگیڈئیر نوید چیمہ وہاں کے حالات پر بہت گہری نظر رکھتے ہیں اور مضبوط کمانڈ کے ساتھ مقامی ہر سردار، نواب اور وڈیرے کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں ۔ صرف یہ ہی نہیں غریب عوام کی مدد کےلئے بھی ہر وقت ان کے دروازے کھلے رہتے ہیں ۔ موجودہ کمانڈر سدرن کمانڈ جنرل محمد وسیم اشرف کے دور میں بلوچستان امن، صلح ، محبت اور بھائی چارے کے بہت سے میدان فتح رہے ہیں ۔ کوءٹہ میں میں نے اپنی طویل ملاقات کے بعد جنرل وسیم اشرف کی مردم شناس شخصیت سے متاثر ہو کر پوچھا کہ کیا آپ کو اپنے کالمز اور خبروں میں ’’عوامی جرنیل ‘‘ لکھا جا سکتا ہے تو انہوں نے قہقہ لگا کر ایک ہی جواب دیا ۔ ’’آپ کا قلم ۔ آپ کی مرضی‘‘ ۔ جرنل محمد وسیم اشرف نے ڈیرہ بگٹی میں قبائلی تنازعات کے حل کےلئے مصالحتی جرگہ کمیٹی تشکیل دی ہے اور انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ کمیٹی کے فیصلوں پر ہر صورت عمل کرایا جائیگا ۔ کمیٹی کا فیصلہ نہ ماننے والوں کےخلاف سخت قانونی کارروائی ہوگی ۔ کمانڈر نے اپنے دورے میں کچھی کینال کو بہت اہمیت دی ، کہا بلاشبہ کچھی کینال عوام کی خوشحالی کی نوید ہے ۔ کچھی کینال صرف ڈیرہ بگٹی نہیں بلکہ پورے بلوچستان میں خوشحالی لائے گی ۔ اللہ اس خطے میں خوشحالی لائے اور ہر خاندان اپنا رزق کمانے کے قابل ہو سکے ۔