- الإعلانات -

کوروناوائرس۔۔۔ مزیدموثراورسخت اقدامات کی ضرورت

کوروناوائرس نے جہاں پوری دنیا کواپنی لپیٹ میں لیاہوا ہے اب پاکستان میں بھی اس کے خطرات سرپرمنڈلارہے ہیں ، صبح سندھ میں تو کافی عرصہ سے اس وائرس کے مریضوں کی تصدیق ہورہی تھی تاہم اب وفاق نے بھی اس حوالے سے انتہائی حفاظتی اقدامات اٹھائے ہیں اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایڈوائزری اپنی جگہ تاہم عوام کی طرف سے بھی تعاون اشدضروری ہے ۔ پرائیوٹ اداروں میں بھی لازمی ہے کہ وہا ں پر بائیومیٹرک حاضری پر پابندی عائد کی جائے نیزحفظان صحت کے اصولوں پرعملدرآمد کیاجائے ۔ وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ملک میں کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی موجودہ صورتحال اوراس کے تدارک کےلئے کئے گئے اقدامات کاجائزہ لیاگیا ۔ قومی سلامتی کمیٹی کے تفصیلی جائزے کی روشنی میں متعددفیصلے کئے گئے جن پرفوری عملدرآمد کیاجائے گا ۔ اجلاس میں ایک قومی رابطہ کمیٹی قائم کرنے کافیصلہ کیاگیا جو کوروناوائرس سے متعلق صورتحال پر نظر رکھے گی اورروزانہ کی بنیاد پرضروری فیصلے کرے گی ۔ قومی رابطہ کمیٹی میں متعلقہ وفاقی وزرا ، وزراء اعلیٰ ، آرمی سرجن ، این ڈی ایم اے ، آئی ایس پی آر، آئی ایس آئی کے نمائندے شامل ہوں گے ۔ اجلاس میں ممبران کے ساتھ ساتھ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی، وزرائے صحت اور آزاد کشمیر کی نمائندگی بھی تھی، اجلاس میں مسلح افواج کے سروسز چیفس، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے سربراہ بھی شریک تھے ۔ اجلاس میں کورونا کے خطرے کے پیش نظر تمام عوامی سیاسی حکومتی پارلیمانی سرگرمیاں محدودکردی گئیں ،23 مارچ کی فوجی پریڈ منسوخ کردی گئی،دوہفتوں کے لئے شادی ہالز میں شادیوں پر پابندی، سینما اورتھیٹروں کوبندکردیا گیا، وفاقی اور صوبائی ثقافتی مراکز بندرکھے جائیں گے ،ادبی سرگرمیاں بھی منسوخ کردی گئیں ، تعلیمی ادارے بھی 5 اپریل تک بند کردیے گئے ،پی ایس ایل کا شیڈول بھی تبدیل کردیا گیا ۔ بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان منسوخ کردیا گیا، آزادکشمیر میں بھی ہیلتھ ایمرجنسی لگانے کافیصلہ کیاگیا اورگیارہ انٹری پواٹنس پرسکریننگ کاعمل تیزکردیاگیا ہے، تاحال پاکستان میں اٹھائیس کروناوائرس کے مریضوں کی تصدیق ہوچکی ہے ۔ نیز کرتارپور راہداری پر پاکستانیوں کے جانے پر پابندی عائد کردی گئی ہے، فیصلوں کا فوری اطلاق ہوگا،فوڈ سیکورٹی پلان بنایا جائے گا تاکہ خوراک کی کمی کے حوالے سے ایمرجنسی بنیادوں پر اقدامات کیے جاسکیں اس حوالے سے حکمت عملی وزارت فوڈ اینڈ ریسرچ وضع کریں گے ۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں میڈیکل ایمرجنسی نفاذپر غور کیا گیا، سندھ میں نیا کیس سامنے آگیا ۔ پاکستان سے باہراٹلی میں ایک روز میں 250اموات دیکھی گئیں جبکہ دنیا میں ہلاکتیں 5ہزار سے تجاوز کر گئیں اور متاثرین ایک لاکھ 42ہزار ہوگئے،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک بھر میں قومی ایمرجنسی نافذ کردی ہے، اور وائرس سے نمٹنے کیلئے 50 ارب ڈالرز کے فنڈز جاری کئے ہیں ۔ عالمی سطح پر کھیلوں کے بڑے مقابلے اور کئی تقریبات منسوخ وملتوی کردی گئیں ،ایران میں بھی لاک ڈاءون کردیا گیا،نیو یارک میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی،پیرس کا آءفل ٹاور بھی بند کردیا گیا، ملکہ برطانیہ کی سرگرمیاں معطل کردی گئیں ۔ کینیڈا کے وزیر اعظم نے شہریوں کو غیرملکی سفر سے گریز کی ہدایت کی ہے جبکہ ترکی اورروس نے یورپی ممالک کیلئے اپنی پروازیں محدود کردی ہیں ،ادھر عالمی ادارہ صحت نے اب یورپ کو وائرس کا مرکز قرار دیدیا ۔ وزیراعظم عمران خان نے قوم پرزوردیاہے کہ وہ کروناوائرس کے پھیلاءو کی روک تھام کے حوالے سے مثبت کرداراداکرنے کےلئے متحدہوجائے ۔ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں اورمتحدہوکرمشترکہ طورپراحتیاطی اقدامات کے ذریعے اس وباء سے نمٹنے کی کوششیں جاری رکھی جائیں ۔ متعلقہ حکام عوام کی صحت کے تحفظ کے لئے جامع اور مشترکہ قومی حکمت عملی وضع کریں ۔ حفظان صحت کے بنیادی اصولوں کی پاسداری اوراحتیاطی اقدامات پرعملدرآمد کیاجائے ۔ یہاں ایک بات اہم ہے کہ موت تو برحق ہے لیکن کہاجاتاہے کہ پرہیزعلا ج سے بہتر ہے ۔ احتیاط لازمی کرنی چاہیے لیکن ہمارا ایمان ہے کہ جو رات قبرکے اندرہے وہ باہرنہیں ۔ تعلیمی اداروں کو بند کرنے کے حوالے سے یہاں ہم ایک بات ضرور کہیں گے کہ جہاں پنجاب میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی، گلگت بلتستان میں بھی ایسے حالات ہیں ، بلوچستان کے حالات بھی کوروناوائرس کے حوالے سے دگرگوں ہیں یعنی کہ پاکستان کاکوئی صوبہ بشمول آزادکشمیر اس وائرس سے محفوظ نہیں ۔ اب دوسر ی جانب ہم نظردوڑائیں تو پتہ چلتاہے کہ برطانیہ میں کوئی سکول بند نہیں کیاگیا ۔ کیا اس بات پرہم یقین رکھ سکتے ہیں کہ سکول کالج ،یونیورسٹیاں بند کرنے سے بچے کوروناوائرس سے محفوظ ر ہ سکتے ہیں جو تعلیمی نقصان ہوگا اس کاکون ذمہ دار ہوگا ۔ اگر پاکستان میں دیکھاجائے تو تعلیم کے حوالے سے ہم بہت پیچھے ہیں ویسے ہی موسم گرما کی چھٹیاں ،موسم سرما کی چھٹیاں ، عیدوں کی چھٹیاں ، دسمبرکی چھٹیاں ،ہفتہ اوراتوارکی چھٹیاں ، مختلف رہنماءوں کے یوم پیدائش اوروفات کی چھٹیاں ،ایمرجنسی کے موقع پرچھٹیاں ،ہڑتالوں اورمظاہروں کے موقع پرچھٹیاں ، غرض یہ کہ تین سوپینسٹھ دنوں میں اگرحساب کتاب کیاجائے تو آدھے سال سے زیادہ تعلیمی ادارے بندرہتے ہیں ۔ کوروناوائرس کی وبا ء آنے پربہتر یہ تھا کہ سکولوں اورتعلیمی اداروں میں سخت ترین حفاظتی اقدامات کئے جاتے،بچوں اورتمام سٹاف کو روزانہ کی بنیاد پرحکومت کی جانب سے این95مارکس،سینیٹائزر اوردیگراشیاء فراہم کی جاتیں ، سپر ے وافرمقدار میں کیاجاتا، ہرادارے ،سکول ،کالج ،یونیورسٹیوں میں چاہے وہ پرائیویٹ ہیں یاسرکاری ، کوروناوائرس کی چیکنگ کے لئے باقاعدہ ایک ڈاکٹرکوتعینات کیاجاتا،کلاسوں کاچیک اپ روزانہ کی بنیاد پر لازمی قراردیاجاتا، بچوں کے سکول ٹائمنگ کے دوران سینیٹائزرسے ہاتھ دھونالازمی قراردیاجاتا ۔ اس ساری گفتگو اورمضمون باندھنے کامقصد صرف یہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں چھٹیاں نہ کی جاتیں ۔ تعلیم کاسلسلہ جاری رہناچاہیے تھا جتنے بھی ترقی یافتہ ملک ہے وہاں پر شاذونازرہی ایسی مثال ملتی ہے جہاں پورے ملک کے ہی تعلیمی ادارے بندکردیے جائیں ، چھٹیوں کے دوران بچوں زیادہ گھروں سے نکلیں گے ان کا اکٹھ ہوگا آپس میں ملے جلیں گے ،گلے بھی ملیں گے ،پھربھی اس وائرس کو کیونکرروکناممکن ہوسکے گا ۔ تاہم حکومتی اقدامات بھی قابل تحسین ہیں ۔

ادارہ شماریات کی رپورٹ۔۔۔کیا مہنگائی کم ہوگئی;238;

ادارہ شماریات پاکستان نے مہنگائی کی ہفتہ وار رپورٹ جاری کردی س جس کے مطابق مہنگائی میں 12;46;4فیصد اضافہ ہوا، 14اشیا کی قیمتیں بڑھ گئیں ، 9سستی ہوگئیں ۔ چکن، آلو، انڈہ، پیاز، دال چنا، مونگ، چینی، دودھ، دہی، آٹا، مٹن اور بیف مہنگا، ٹماٹر، دال مسور، ماش کی قیمتوں میں کمی ہوئی ۔ ملک کے 17بڑے شہروں سے 51اشیا کی قیمتوں کا تقابلی جائزہ لیا گیا جس میں سے 14 اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 9 کی قیمتوں میں کمی جبکہ 28 کی قیمتوں میں استحکام رہا ۔ اس ہفتے میں چکن، آلو، انڈہ ، پیاز، دال چنا، دال مونگ، موٹا لٹھا، چینی، دہی، آٹا، مٹن، دودھ اور بیف کی قیمتوں میں اضافہ جبکہ ٹماٹر، ایل پی جی ، دال مسور، دال ماش، خوردنی تیل، جلانےوالی لکڑی، کیلا، گڑ، لہسن کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ۔ ادارہ شماریات کی رپورٹ کاطائرانہ جائزہ لینے کے بعدپتہ چلتا ہے کہ مہنگائی کچھ ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے، کچھ اشیاء کی قیمتو ں میں اضافہ اورکچھ میں کمی ہوئی ۔ لیکن بات یہ دیکھنے کی ہے کہ جوچیزیں زندہ رہنے کےلئے انتہائی ضروری ہیں کیاوہ سستی ہورہی ہیں تو اس کاجواب اتناحوصلہ افزاء نہیں ، آٹا،دال ،چینی مہنگے ہیں ، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بھی زیادہ، بجلی بھی مہنگی، سوئی گیس ناپید، لہٰذا ان اشیاء پرتوجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ عوام سکھ کاسانس لے سکے پھررپورٹیں پیش کرنے سے یہ ثابت نہیں کیاجاسکتاکہ چیزیں سستی یامہنگی ہوگئی ہیں عملی اقدامات سے یہ چیزثابت کرنا لازمی ہے کہ ثمرات نچلی سطح تک پہنچ رہے ہیں ۔ عام آدمی کو جہاں مہنگائی نے مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے وہےں حکومت کےلئے عوام کو درپےش اس مسئلہ کو حل کرنا اےک ٹےسٹ کےس بن چکا ہے صورتحال ےہ ہے کہ عام آدمی مہنگائی مےں اس حد تک پھنس چکا ہے کہ اسے اشےائے ضرورےہ خرےدنے کےلئے سو بار سوچنا پڑتا ہے ۔ جب تک حکومت عوام کو مہنگائی کے گرداب سے نکالنے کےلئے ٹھوس عملی اقدامات نہےں اٹھائےگی تب تک عام آدمی کی سانسوں پر لگی گرہ نہےں کھل سکتی حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہےں ۔