- الإعلانات -

جاوید چودھری کی کتاب کی تقریب کی روداد

یلے نے کہا تھا کہ ہم ایک ایسے زمانے میں رہ رہے ہیں جو کتابوں کا نہیں اخباروں کا ہے ۔ شیلے کے نزدیک کتابیں پڑھنے کی چیز ہیں لیکن لوگ پڑھتے نہیں اور اخبار پڑھنے کی چیز نہیں لیکن لوگ ہر صبح ان پر پتنگوں کی طرح ٹوٹے پڑتے ہیں ۔ میں نے شیلے کے قول سے اس لئے اپنے کالم کا آغاز کیا ہے کہ آج جس لکھاری کی کتاب کی تقریب رونمائی اور پذیرائی کی رسم ادا کی گئی ہے وہ روایتی رواجوں میں جکڑی ہوئی اہتمامی تکلفات سے بہت دور اور سادگی اور پرکاری میں بڑی دلفریب تھی ۔ لاہور کو یوں ہی تخلیقی شہر قرار نہیں دیا گیا اس کے خمیر و بنیاد میں ادب و فصاحت اور بلاغت کے دریابہہ رہے ہیں ۔ یہ کوئی معمولی خراج تحسین نہیں ہے کہ جنوبی ایشیا کے اس اد ب پرور شہر کی شاموں کو شاعرو ں نے آباد اور فنکاروں نے شاد رکھا ہوا ہے ۔ ہمارے ملک کے ایک ایسے ہی لکھاری جنہوں نے زبان غیر سے شرح آرزو کی جستجو میں گفتگو کا سلیقہ اور قرینہ سیکھا ۔ گزشتہ سال بھی آپ کی ایک کتاب کی تقریب انعقاد پذیرہوئی اور امسال تو دو ایسی نادر خیالات اور نایاب کمیاب انداز میں جذبات و احساسات سے لبریز کتابیں منصہ شہود پر زرقا پبلیکیشنز نے لائی ہیں ۔ جن کی تقریب جاوید منزل اقبال میوزیم کے تاریخی ہا ل میں ہونا جاوید چوہدری کے لئے بہت بڑا اعزاز، سعادت اور شرف کی بات ہے ۔ تقریب کا آغاز حیدری باباکی معصومانہ اداءوں اور اخلاص کی منتہا کو پہنچے ہوئے جذبات و احساسات کی لَو میں ہوا ۔ شمع فروزاں کی گئی اور امن کے پرندے کبوتر کی پرواز فضا میں دکھائی گئی ۔ یوں تو تقریبات بہت زیادہ ہم نے دیکھی ہیں مگرزرقا پبلشرز نے جو انداز اپنایا ہے وہ سب سے جدا، الگ اور دلفریب تھا ۔ مہمانوں کی آمد اور اُن کے استقبال کا پورا اہتمام جاوید منزل کے انچارج ڈاکٹر رستم خان نے بھرپور کیا اور ہمارے انتہائی نیک طینت دوست پروفیسر ڈاکٹر نذر بھنڈر کا منصوبہ ساز ذہن اس تقریب کے انعقاد کے عقب میں خاموش مگر بڑی سرگرمی سے فعال تھا ۔ نذر بھنڈر جیسے عظیم انسانوں کا بہت قحط ہے اور اس قحط الرجالی پر تو ڈاکٹر محمد اقبال نے بھی زور دار ماتم کیا تھا:

پھر نہ اٹھا کوئی رومی عجم کے لالہ زاروں سے

وہی آب و گل ایران وہی تبریز ہے ساقی

میں اس تقریب کو پُر شکوہ مقام عطا کرنے پر ڈاکٹر رستم خان کو خراج تحسین پیش نہ کروں تو یہ نا انصافی ہوگی ۔ آپ نے دل کھول کر عالی ظرفی کا ثبوت دیا ۔ زرقا نسیم نے اپنے انداز و اسلوب سے نقابت کے فراءض بھی سر انجام دیئے اور تقریب کو چار چاند لگانے کےلئے بے پناہ ہمت اور مہارت کا ہی ثبوت نہیں دیا بلکہ گراں قدرروپیہ بھی صرف کیا جس پر سب مہمانوں نے زرقا نسیم کی اس تقریب کو کامیاب قرار دیا اور لکھاری جاوید چوہدری کی دیدہ زیب کتاب کے ٹاءٹل اور اس کی اعلیٰ درجہ کی طباعت کو اپنی طبع نازک پر رعنائی خیال قرار دیا ۔ چوہدری الیاس کی صدارت اس تقریب کی بہت بڑی کرامت اور نیک شگونی کا پہلو لئے ہوئے تھی ۔ الیاس چوہدری جیسے فرزند قوموں کی تقدیر بدل دیتے ہیں ۔ آپ کی دیانت داری اور فرض شناسی کی بلائیں لینے کو جی چاہتا ہے ۔ سادگی کی منتہا کو چھوتی ہوئی شخصیت کا نکھار کردار کی بلندی سے ہوتا ہے ۔ آپ جب حاضر سروس تھے تو آپ سے ملنے کےلئے جب کوئی آدمی جاتا تو آپ کے ساتھ بھی ایسا ہی واقعہ رونما ہوتا جس طرح چیف جسٹس رستم کیانی کے ساتھ ہوتا تھا ۔ وہ اپنے گھر کے باہر قینچی سے باڑ کاٹ رہے تھے تو وہاں سے ایک کاروالے نے پوچھا مالی ہ میں شادی والے گھر جانا ہے اس کا ایڈریس بتاءو تو جسٹس صاحب قینچی ہاتھ میں لے کر گاڑی کے آگے آگے چلتے گئے اور اپنے دوست کے بیٹے کی شادی والے گھر چھوڑ آئے بعد میں خود بھی پینٹ کوٹ میں اس تقریب میں شادی والوں کی خواہش پر دلہن اور دلہا کے ساتھ تصویر بنوا رہے تھے ۔ ایسا ہی واقعہ الیاس چوہدری صاحب کے ساتھ بھی کئی بار ہوا ہے کہ ایک صاحب نے کہا کہ میں نے چوہدری الیاس صاحب کو ملنا ہے تو آپ نے کہا کہ بتائیے کیا کام ہے انہوں نے کہا کہ تم ہ میں الیاس چوہدری سے ملوا دو اُن کو ہم بتائیں گے کہ کیا کام ہے ۔ الیاس چوہدری اپنے دفتر کا ایک چکر لگا کر آکر کہنے لگے کہ اب بتاءو کیا کام ہے ۔ میں ہی الیاس چوہدری ہوں تو انہوں نے زیرو میٹر گاڑی کی چابی دی جو آپ نے واپس کر دی اور پھر جو ردِ عمل الیاس چوہدری صاحب کا تھا یہ آپ اُن سے پوچھ لیں اس وقت تو بات زرقا پبلیکیشنز کی تقریب کی ہورہی ہے جس کی صدارت کا شرف آپ نے بخشا اور یہ تقریب کو فضیلت ملی ۔ صاحب کتاب سے زیادہ مجھے الیاس چوہدری صاحب نے متاثر کیا اور پھر کتابوں کا بہ نظر غائر مطالعہ فرما کر شیریں گفتگو کرنے والی ابریشم سے زیادہ نرم لہجے کی مالک، لالہ و گل کی نزاکتوں کی محرم اور رعنائی خیال کو شاندار الفاظ کا لباس پہنانے والی شیریں گل رعنا نے حق ادا کردیا اور یہ حقیقت ہے کہ آپ کی تقریر انعام یافتہ قرار پائی اور صاحب کتاب ابھی تک ورطہَ حیرت میں گم ہیں ۔ کتاب پر اظہار خیال کرنے والوں میں مہمانِ اعزاز محترمہ روبیہ جیلانی ، انگلش ادب کی بہت بڑی سکالر اور ایک انگریزی جریدہ کی مدیرہ کی تقریر بھی دونوں کتابوں کا احاطہ کر رہی تھی ۔ علامہ احمد حسن زیدی بلا کے خطیب، ادیب اورسب سے بڑھ کر ایک عظیم انسان ہیں ۔ آپ کا اسلوب بیان سب سے جدا تھا ۔ جناب ڈاکٹر رستم خان تو واقعی رستمِ کتب ہیں آپ کا مطالعہ عمیق مشاہدہ اور تجربہ پورا ایک مدرسہ ہے ۔ اقبال راہی کی فراست کو کوئی بخاری ہی پہنچ سکتا ہے ۔ دونوں کی موجودگی بھی آسودگی فراہم کر رہی تھی ۔ اقبال راہی ، سید فراست بخاری ، حیدری بابا، نذر بھنڈرسب نے زرقا نسیم کی اس کاوش کو خراج تحسین پیش کیا ۔ پروفیسر عدیم افتخار کی گفتار میں ایک مضبوط کردار کی جھلک فروزاں تھی آپ کا قوموں کی تہذیبوں کا قریب سے مطالعہ اور مشاہدہ بلا کا تھا ۔ عاجزی اور انکساری کوئی عدیم کے افتخار سے سیکھے ۔ کرنل تنویر کا پس منظر میں شاندار کردار قابل تحسین رہا جنہوں نے اس مشکل گھڑی میں اپنا وقت دیا ۔ سید فدا حسین شاہ اور میاں صلاح الدین دونوں انگلش زبان میں بہت مشاق ہیں ۔ میاں صلاح الدین کی نظم اور شاہ جی کی نثر کے حسین امتزاج سے بھی سامعین بہت محظوظ ہوئے ۔ زرقا نسیم نے جس خود اعتمادی کا ثبوت دیا اور اپنی تمام تر توانائیاں اور صلاحیتیں اس تقریب کی کامرانی پر نچھاور کر دیں ۔ جرمنی کی کہاوت ہے سونے کی بیساکھیوں سے صحت مند پاءوں اچھے ہیں :

رہ حیات چمک اٹھے کہکشاں کی طرح

اگر چراغ محبت کوئی جلا کے چلے

جاوید چوہدری ہمیشہ جو بات کرتے ہیں وہ تمیز اور شائستگی کا دامن نہیں چھوڑتے اور اعتراض دلیل سے کرتے کیونکہ زبان تو حیوانوں کے منہ میں بھی ہوتی ہے مگر وہ علم اور سلیقے سے محروم ہوتے ہیں :

میں نہیں مانتا کاغذ پہ لکھا شجرہَ نسب

بات کرنے سے قبیلے کا پتہ چلتا ہے

(باقی;58;سامنے والے صفحہ پر)