- الإعلانات -

دیرینہ مخمصہ ۔ نئی دہلی الزامات پر مصر

آرایس ایس اور بجرنگ دَل نے اپنے سیاسی فیسنگ فوکل پرسن یعنی بی جے پی کواقتدار کے مرکزی سنگھاسن پر لاکر ’’ہندوازم‘‘ کی زہریلی جنونیت کی ایسی سلگتی ہوئی چنگاریوں میں گھیردیا ہے کہ بھارت کا سارا سیاسی اور سرکاری ڈھانچہ لڑکھڑاتا ہوا صاف ہر کسی کو اب دکھائی دینے لگا ہے ، آرایس ایس اوربجرنگ دَل کے پہلے سے بدنام پنڈتوں اور جوگیوں نے دیش کے سرکاری عہدوں پر جب سے بیٹھنا شروع کیا ہے دیش کا کوئی ایسا شعبہ باقی نہیں رہا جہاں معمول کی زندگی رواں دواں ہو;238; ہرجگہ پر جھوٹ صرف جھوٹے دعووں کے ببولے پھوٹتے دکھائی دے رہے ہیں ، کسی کو فکر نہیں ہے بھارتی عوام میں بڑھتی ہوئی غربت، بھوک وافلاس،بیماری وتنگ دستی سماجی ذلت اورسماجی جہالتوں کا ایک جہان مودی نے بسانا تھا سو بسا دیا اور دنیا بھر میں بھارتی جمہوریت کی ناک ہی کٹوادی، ایسے ایسے من گھڑت اور بے سروپا جھوٹ گھڑے جارہے ہیں جو مہذب اور متمدن دنیا کےلئے اب کھلے تماشا بننے لگے ہیں دہلی کی سطح پر ایک جھوٹ کی ابھی صفائی مکمل نہیں ہوپاتی کہ اچانک سے نئی دہلی کو ایک اور جھوٹ کا سہارا لینا پڑجاتا ہے بھارتی عوام کی ایک بہت بڑی اکثریت جو زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم،زندگی کی پے درپے اذیتوں کو سہے چلی جارہی ہے روز حکومت اپنے دیش کے ایسے عوام کو کوئی نیا ’’جھوٹا جنونی لولی پاپ‘‘ دے دیتی ہے جنونی بے خبرے بھارتی عوام اور جنونی بھارتی میڈیا یہی لولی پاپ اْس وقت تک چوستے رہتے ہیں جب تک کوئی نیا مودی ساختہ لولی پاپ ان بھارتی ’’مِتروں ‘‘کو نہیں دیا جاتا ’’ہندو اور مسلمان‘‘اور پاکستان مخالفت‘‘ کے سستے لولی پاپوں میں گھرے ہوئے ’’ہندوتوا‘‘کے جنترمتر کے گھن چکروں میں چکراتے بھارتی عوام کو پتہ چلتا ہی نہیں کہ اْن کےلئے اچھی صحت اور بنیادی تعلیم نام کی بھی کوئی شے کی اْنہیں ضرورت ہے وہ تو ’’مودی کی بڑکیں ‘‘سن کر سمجھتے ہیں ’’مودی جی! پاکستان کو ضرورسبق سکھائیں گے;238;‘‘جب پاکستان کی طرف سے جواب جاتا ہے اور اْن کے ہواباز پاکستانی بارڈر میں گرائے جاتے ہیں تب مودی کی ’’آئیں بائیں شائیں ‘‘دیکھنے اور سننے جیسی ہوتی ہیں افسوس ہے کہ بھارتی طرز حکومت کا سیاسی ڈھانچہ’’ہندوتوا‘‘کی اس زہریلی جنونیت میں روزبروز کھنڈر ہوتا جارہا ہے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت دنیا کے طاقتور ممالک کی بے حسی پرہم پاکستانیوں اور اہل کشمیر کو یہ سوچنے پر لاکھڑا کیا ہے کہ ’’اقوام عالم تو ایک طرف یہ اقوام متحدہ کا ادارہ کب ہوش کے ناخن لے گا;238;یہاں ہمارا مدعا یہ نہیں کچھ اور ہے، لیکن پھر اگر بات چل نکلی ہے تو کرلیتے ہیں بھارتی لوک سبھا میں شہریت کے ترمیمی بل کے تنازعہ پر بھارتی مسلمانوں نے اپنے برحق جن تحفظات کا اظہارکیا جس کے نتیجے میں نئی دہلی میں ہندومسلم فسادات ہونا شروع ہوئے بھارتی نژ اد مسلمانوں کی طرف سے یہ معاملہ جب بھارتی سپریم کورٹ کے روبرو آگیا تو یہ کیا مذاق ہے کہ ’’اقوام متحدہ جیسا خودمختارعالمی ادارہ جس کی عالمی پوزیشن ایک تسلیم شدہ ریاست کی سی ہے وہ بھارتی سپریم کورٹ کے اس کیس میں ایک فریق بننا چاہ رہی ہے;238; ہ میں نہیں علم یہ بات اب کہاں تک پہنچی لیکن اقوام متحدہ جیسے عالمی ادارہ کو کسی جارح ملک’’بھارتی سپریم کورٹ‘‘ میں ایک ’’متاثرہ فریق‘‘کی صورت میں جانے کی اس ادا کو کوئی کیا نام دے بھئی، اورکیوں ;238; ہاں ،دنیا کے طاقتور ممالک نے پاکستان کے ممکنہ خدشوں اور اندیشوں پر کوئی نوٹس نہیں لینا، پاکستان کب سے عالمی طاقتوں اوراقوام متحدہ کی توجہ اس جانب مبذول کرارہا ہے،مجال ہے کسی کے کانوں پرجوں تک بھی رینگی ہو;238; پلوامہ حملے اور گزشتہ برس فروری کی27 تاریخ کو پاکستان اور بھارت عین جنگ کے نزدیک آگئے تھے;238; دو ایٹمی پڑوسی ملک مسلم دشمن اور خصوصا پاکستان مخالف عالمی طاقتوں کی مکمل شہ بھارت کو حاصل تھی ایسے نازک ترین کٹھن آزمائش کے لمحات میں پاکستانی فضائیہ کے شاہنیوں نے دنیا کو اپنی پیشہ ورانہ جرات مندی اورجاں فروشانہ دلیری سے سکتے کی سی کیفیت میں مبتلا کردیا تھا پلوامہ کا واقعہ کشمیری مزاحمت پسندوں کی مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی بڑھتی ہوئی انسانیت سوز مظالم کی کارروائیوں کا ایک نتیجہ تھا کشمیری کسی صورت بھارتی غلامی کو قبول کرنے پر تیار نہیں ہیں ایسا ہی ایک واقعہ2016 نومبر میں مقبوضہ جموں کے علاقہ ناگروٹا میں واقع ایک فوجی کیمپ پر کشمیری مزاحمت پسندوں کے حملہ کی صورت میں رونما ہوا تھا جس میں مقامی ساختہ آئی ای ڈی کی بڑی مقدار بھارتی سیکورٹی اداروں کے ہاتھ آئی تھی اور اس واقعہ میں بھی بھارتی فوج کے ایک افسر سمیت سات جوان موقع پر ہلاک ہوئے،جبکہ بھارتی سیکورٹی اداروں نے دعویٰ کیا تھا کہ اْنہوں نے تین عسکریت پسندوں کو جاں بحق کیا اْن دنوں دہشت گردی کے اس واقعہ کے بعد علاقہ کوریڈ الرٹ کرکے گھر گھر تلاشی کا عمل شروع کیا گیا تھا اور تحقیقات کی غرض سے ایک کمیٹی تشکیل دیدی گئی تھی اس تحقیقاتی کمیٹی نے کیا کارروائیاں کیں ;238; کتنی شہادتیں جمع کی گئیں ;238; چارساڑھے چار برس بیت گئے، بھارتی اورغیر ملکی میڈیا کل تک بالکل لاعلم رہے آجکل جب بھارت میں ’مودی سرکار‘کی اپنی نا اہلی اور جلدبازی کے فیصلوں کے نتیجے میں پورے دیش میں شہریت کے متنازعہ ترمیمی بل کے خلاف نئی دہلی کے اس فیصلے کے خلاف لوگوں کی واضح اکثریت سراپا احتجاج بنی ہوئی آرایس ایس اور بجرنگ دَل کےخلاف بھارت کے بڑے شہروں میں احتجاج ہورہے ہیں مودی،امت شا اوراجیت ڈوبھال پر کھلی زوردار تنقیدیں ہورہی ہیں تو اچانک سے امریکی ٹی وی نیوز سی این این کے ذریعے یہ نئی خبر سامنے آئی کہ ’’ناگروٹا فوجی کیمپ حملہ‘‘ میں پاکستان ملوث تھا ;238;جو عسکریت پسند مارے گئے وہ ’’درانداز‘‘ تھے;238; نئی دہلی کو پاکستان پر الزامات کی عیارانہ سیاست کب تک کرنی ہے دنیا پوچھ رہی ہے نئی دہلی کو آج یا کبھی نہ کبھی جو اب تو دینا ہے کیونکہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کیخلاف کمربستہ آخر ہیں کون;238; مقبوضہ وادی میں کچھ ہوتا ہے الزام پاکستان پر ;238; 5 اگست گزشتہ برس مقبوضہ وادی کی خصوصی حیثیت کا بل ختم کیا گیا چھ سات ماہ تک کشمیرکو لاک ڈاوَن کیوں کیا گیا مقبوضہ وادی کا رابطہ دنیا سے کیوں توڑا گیا 80 لاکھ کشمیریوں کو گھروں میں محصور کیوں کیا گیا سوال پیدا ہوتا ہے کیا 80 لاکھ کشمیری عوام ’’پاکستانی درانداز‘‘ہیں جو بھارتی فوج کی کشمیر میں موجودگی کو کسی صورت قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہورہے;238;نئی دہلی یوں ہر بات پر ہر واقعہ کی آڑ لے کر پاکستان کی جانب انگشت نمائی کرنے کی اپنی کہنہ فرسودہ عادت اب چھوڑ دے دنیا نے مقبوضہ کشمیر تا آسام تک اپنی نگاہیں بھارت کے اندر فوکس کردی ہیں روس اور چین سمیت علاقائی اہم ممالک چاہتے ہیں کہ جنوبی ایشیا سمیت پورا ایشیا علاقائی سرحدی تنازعات ایشیا میں ہی طے کریں کسی بھی غیر ایشیائی ممالک کو ایشیا کا ٹھیکیدار بننے کی کوئی ضرورت نہیں ہے بھارت کو بھی اب ایشیا کی ترقی میں غیر متعصبانہ رول ادا کرنے کےلئے اپنی متعصبانہ سفارتی پالیسیاں بدلنی ہونگی یہی سبق کافی ہے نئی دہلی کےلئے ۔