- الإعلانات -

نئے صوبے جنوبی پنجاب کے قیام کےلئے خوش آئند پیشرفت

جنوبی پنجاب کے عوام کے برسوں پرانے خواب نئے صوبے کے قیام کو اب تعبیر ملنے جا رہی ہے ۔ حکومت نے خوشخبری سنائی ہے کہی کم جولائی سے نئے صوبے لئے سیکرٹریٹ کام شروع کردے گا ۔ ایک میڈیا ٹاک میں ہفتے کے روز وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمودقریشی نے واضح کیا کہ جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کا فیصلہ ہوچکا ہے ۔ صوبے کا قیام تحریک انصاف حکومت کے منشور کا حصہ ہے ۔ انہوں نے کہاکہ دارالحکومت کہاں ہوگا اس بارے میں ایسی خبریں درست نہیں ہیں کہ جنوبی پنجاب صوبے کا سیکرٹریٹ بہاولپور میں قائم کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنوبی پنجاب صوبے کے دارالحکومت کا فیصلہ اسکی منتخب اسمبلی کرے گی ۔ دارالحکومت کونسا شہر ہو گا اس بارے یہ فیصلہ درست ہے کہ یہ معاملہ اس خطے کے منتخب نمائندوں پر چھوڑ دیا جائے تاکہ کسی کی دل ;200;زاری نہ ہو ۔ اس ضمن میں تمام فیصلے مشاورت سے کیے جائیں اور کسی پر کوئی رائے مسلط نہ کی جائے ۔ تاکہ صوبے کے قیام کی جانب تیزی سے پیش رفت ہو سکے ۔ ملتان ہو یا بہاولپور ،دونوں بڑے اور تاریخی اہمیت کے شہر ہیں لیکن اس معاملے کی اولین ترجیح عوام کی سہولت ہونی چاہئے ایسا نہ کہ صوبے کی عوام کی رسائی پہلے مقابلے مزید بڑھ جائے ۔ مشاورتی اجلاس میں یہ فیصلہ بھی درست ہے کہ ابتدائی طور پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری ساتھ ملتان میں اور ایڈیشنل ;200;ئی جی ساتھ بہاولپور میں کام کرے ۔ یہ دو افسر سیکرٹریٹ کے قیام کے لیے اقدامات کریں گے ۔ حکومت چاہتی ہے کہ یکم جولائی سے یہ سیکرٹریٹ ملتان اور بہاولپور میں کام شروع کریں تاکہ اس بجٹ میں اس خطے کے لیے رقم بھی مختص کی جائے ۔ یہ بہت ہی بنیادی قسم کام ہے اصل کام اگلے مرحلہ میں صوبے کے قیام کے حوالے سے قانون سازی کا ہے ۔ حکومت کو اپوزیشن جماعتوں کو بھی اعتماد میں لینا ہے تاکہ قانون سازی کا عمل جلد ممکن ہو سکے ۔ حکومت نئے صوبے کے قیام کے حوالے اب تک کے اقدامات سے واضح ہوتا ہے کہ پارٹی منشور کے تحت اپنا وعدہ پورا کرنے میں پور ی طرح سنجیدہ ہے ۔ قبل ازیں ماضی میں حکومتیں صرف لالی پاپ تک محدود رہتیں ۔ پنجاب میں نئے صوبے کا قیام دیرینہ مطالبہ رہاہے ۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کو دو دو تین تین بار حکومتیں ملیں لیکن علاقے کی محرومی کے خاتمے کے لئے اس بنیادی مطالبے کو بھاری پتھر سمجھ کر ایک طرف رکھتی رہیں ہیں ۔ تحریک انصاف کو اقتدار ملا تو اس نے اس کو عملی جامہ پہنانے کے لئے فوری طور پر اقدامات لینا شروع کر دیئے جن کے نتیجے میں ;200;ج جنوبی پنجاب کے عوام کی امیدیں بر ;200;ئی ہیں ۔ اب یہ علاقے کے منتخب نمائندوں کی بھاری ذمہ داری ہے کہ وہ وسیع تر عوامی مفاد میں اتفاق رائے پیدا کریں ۔ ملتان ہو ، بہاولپور ہو یا رحیم یار خان، سب اپنے شہر ہیں ،سب ایک دوسرے کی ترقی کے ضامن ہیں ۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی ایسی ہی بات کی ہے کہ ملتان کی ترقی بہاولپور کی ترقی کے ساتھ منسلک ہے ۔ اسی طرح بہاولپور کی ترقی ملتان،رحیم یارخان اور ڈیرہ غازی خان کی ترقی کے بغیرممکن نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ میں نے وزیراعظم عمران خان کےساتھ اس معاملے پر بات کی ہے اور ان سے بات کرنے کے بعد میں ;200;ج ;200;پ سے مخاطب ہوں ۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ ماضی میں بھی صوبے کے قیام کے لیے کوششیں کی گئیں لیکن جب بھی بات ;200;گے بڑھی تو اختلافات کو ہوا دے دی گئی ۔ جنوبی پنجاب صوبے کا قیام اس خطے کی عوام کا حق ہے ۔ ہم نے یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ مستقبل میں جنوبی پنجاب کےلئے مختص رقوم یہیں خرچ ہوں گی ۔ 1970سے 2019تک جو بھی حکومتیں رہیں ان کے اعداد وشمار دیکھ لیں ہر دور میں جنوبی پنجاب کواس کاپورا حق نہیں ملا ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں اعداد وشمار کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ غربت بھی اسی خطے میں ہے ۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ سب متحد ہو کر اس سمت میں پیش قدمی کریں تاکہ اس خواب کو عملی تعبیر دی جاسکے ۔

کورونا وائرس،وزیراعظم کا قوم کے نام حوصلہ افزاء پیغام

دنیا بھر میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کی وجہ سے ایمرجنسی کی سی صورتحال ہے ۔ اقوام متحدہ اور ورلڈ ہیلتھ ;200;رگنائزیشن بار بار ہنگامی اقدامات کی اپیل کر رہے ہیں ۔ ایسے میں پاکستان نے بھی ہنگامی اقدامات اٹھائے ہیں ۔ پاکستان میں اگرچہ صورت حال ابھی تشویش ناک نہیں ہے اور خدا کرے کہ ;200;ئندہ بھی نہ ہو تاہم عوام میں کسی حد تک خوف سا پیدا ہو چکا ہے ۔ اس صورتحال کے پیش نظر وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب ساءٹ پر ٹوءٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا سے ڈرنے کی نہیں لڑنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کے اقدامات کی ذاتی طور پر نگرانی کر رہا ہوں اور جلد صورتحال پر قوم سے خطاب کروں گا ۔ قوم سے درخواست ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں ، احتیاط کی ضرورت ہے، گھبراہٹ کی نہیں ۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے خطرات سے ;200;گاہ ہیں اور نمٹنے کے لیے موثر اقدامات اٹھائے ہیں ، عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے اقدامات کو سراہا ہے ۔ ملک میں کورونا وائرس کے سامنے ;200;نے والے کیسز کی مجموعی تعداد 31 ہو چکی ہے ۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کےلئے پرائیویٹ اور سرکاری اسپتالوں میں بہترین تشخیصی سہولتیں اور ;200;ئسولیشن وارڈز بنائے گئے ہیں ، لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ بڑے بڑے شہروں کے سرکاری اسپتالوں میں مزید تشخیصی سہولتیں مہیا کی جائیں تاکہ بڑے پیمانے پر مریضوں کے اسپتالوں میں ;200;نے کی صورت میں فوری طور پر ان کے ٹیسٹ کیے جا سکیں ۔ چین میں کورونا وائرس کی وبا ء پھیلنے کے بعد پاکستان نے فوری اقدامات کئے اور وباء سے نمٹنے کے لیے قومی رسپانس پروگرام ترتیب دیا گیا ہے جو کہ دنیا کا بہترین پروگرام ہے، پاکستان میں اس وقت سات لیباٹریاں کورونا وائرس کی تشخیص کی صلاحیت رکھتی ہیں ، جہاں پر اس وقت 15000ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت موجود ہے، ملک میں اس وقت2000 ;200;ئسولیشن بستر تیار رکھے گئے ہیں جو کہ موجودہ صورتحال میں کافی بڑی تعداد ہے ۔ اس کے باوجود صورتحال کر دیکھتے ہوئے مزید انتظامات وقت کا تقاضا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان کایہ پیغام حوصلہ افزا ہے کہ وہ معاملے کی خود نگرانی کر رہے ہیں ۔ یہاں عوام اور قومی میڈیا کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ خوف پھیلانے کی بجائے صرف احتیاطی تدابیر کی تشہیر کریں ۔ اس سے بڑھ کر تاجر طبقے سے اپیل ہے کہ ماسک اور ایسی دیگر اشیا پر دگنے منافع سے اجتناب کریں ۔

والدین پولیو کےخلاف جنگ میں حکومت سے تعاون کریں

خیبرپختونخوا محکمہ صحت نے صوبے میں پولیو کے مزید 13کیسز کی تصدیق کر دی ہے جبکہ سندھ میں پولیو کا ایک اور کیس سامنے آگیا ہے،اسی طرح بلوچستان میں بھی کیسز سامنے آتے رہتے ہیں ۔ خیبر پختونخوا محکمہ صحت کے مطابق ضلع خیبر سے7پولیو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ مردان، نوشہرہ، باجوڑ اور دیرلوئر سے ایک، ایک پولیو کیس رپورٹ ہوا جبکہ لکی مروت اور بنوں سے بھی ایک ایک پولیو کیس کی تصدیق ہوئی ہے ۔ یوں صوبے میں پولیو کیسز کی تعداد28ہوگئی ہے جبکہ ان کیسز میں پولیو وائرس پی ون اور پی ٹو شامل ہیں ۔ سندھ میں بھی نئے پولیو کیس کی تصدیق ہوئی ہے، جس کے بعد صوبہ بھر میں متاثرہ بچوں کی تعداد9 ہوگئی ہے ۔ پولیو ایک موذی مرض ہے اس بچوں کا مستقبل ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تباہ ہو جاتا ہے ۔ حکومتی سطح پر پولیو کے خلاف مہم جاری ہے لیکن بدقسمتی سے شعور کی کمی کی وجہ سے کم پڑھے علاقوں میں والدین کوتاہی کے مرتکب ہوتے ہیں اور کسی کے بہکاوے میں آکر پولیوڈراپ بچوں کو نہیں پلاتے،یہ سرا سر جرم ہے ۔ عوام میں شعور کی پیداری کے لئے خصوصی مہم چلانے کی بھی ضروری ہے تاکہ اب تک کی گئی کوششیں غارت نہ چلی جائیں ۔ والدین اپنے بچوں کی خاطرپولیو کےخلاف جنگ میں حکومت کے ساتھ تعاون کریں ۔