- الإعلانات -

پاکستان کا ایک روشن چہرہ یہ بھی ہے

گزشتہ برس دسمبر کے ;200;خر میں پہلا کرونا وائرس کا کیس چین کے شہر ووہان میں سامنے ;200;یا تو تب کسی کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ ;200;نے والے دنوں میں یہ وائرس پوری دنیا کے لئے تباہی کا پیغام لے کر ;200;ئے گا ۔ ابتدا میں اسے چین کا مرض سمجھا گیا مگر بعد میں یہ بیماری دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے 200ممالک میں پھیل گئی اور اب تک پونے دو لاکھ انسان موت کے منہ میں جا چکے ہیں جبکہ تقریباً اڑھائی ملین افراد دنیا بھر میں اس کا شکار بنے ہوئے ہیں ۔ چین نے اس بیماری کو احتیاطی تدابیر اور ڈاکٹروں کی انتھک محنت کے ذریعے محدود اور قابو کیا مگر باقی دنیا کے لئے ابھی بھی کڑا امتحان بنی ہوئی ہے ۔ کووڈ نائنٹین کا سب بڑا منفی پہلو یہ ہے کہ ابھی تک اس کا علاج دریافت نہیں ہو سکا اور اس سے بھی زیادہ بھیانک بات یہ کہ علاج معالجہ کرنے والے بھی اس سے محفوظ نہیں ہیں ۔ چین میں 3400سے زائد ڈاکٹر اور نرسیں اس کا شکار ہوئی جن میں سے 13کی ڈیتھ ہو گئی، اُس ڈاکٹر کی بھی ڈیتھ ہو گئی جس نے پہلی بار اس کی تشخیص کی اور اپنی چینی حکومت کو ;200;گاہ کیاجبکہ 9 اپریل تک دنیا بھر میں 200ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل سٹاف جاں بحق ہو چکے ہیں ۔ اس سلسلے میں سب سے زیادہ 120اموات اٹلی میں ہوئی ہیں ۔ پاکستان میں بھی ایک ڈاکٹر کی اس میں جان جا چکی ہے ۔ ایک طرف یہ جان لیوا خطرہ ہے تو دوسری طرف ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل سٹاف دن رات اس وباء سے لڑنے میں مصروف ہے یہی وجہ ہے کی فرنٹ لائن کے ان سپاہیوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے ۔ اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان میں ابھی تک صورتحال گھمبیر نہیں ہوئی ہے اور ہسپتالوں پر بھی مریضوں کا دباوَ اتنا نہیں جتنا بیرون دنیا میں دیکھنے میں ;200; رہا ہے ۔ جدید طبی سہولیات کے باوجود ہر جگہ ڈاکٹرز اور دیگر پیرا میڈیکل سٹاف کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ یقینا یہ جنگ تنہا نہ ڈاکٹر لڑ سکتے ہیں نہ تنہا کسی حکومت کے لئے ممکن ہے ۔ اس کےلئے اجتماعی کوشش ہی سود مند ہے ۔ جسکے پاس جو اہلیت ہے وہ برو کار لائے، بلاتفریق کسی مذہب انسانیت کی خدمت کا یہی ایک بڑا اچھا موقع ہے ۔ خدمت خلق کی جب بات کی جائے تو پاکستانیوں نے ہمیشہ پاکستان کا نام روشن رکھا ہے ۔ دنیا بھر سے یہ اطلاعات سامنے ;200; رہی ہیں کہ مصیبت کے ان لمحات میں جہاں جہاں بھی پاکستانی موجود ہیں وہ دامے درمے سخنے ہر طرح کی خدمت میں مقامی ;200;بادی کی مکمل مدد کر رہے ہیں ۔ چین میں جب یہ وباء پنجے گاڑنے لگی تو وہان میں موجود ایک پاکستانی ڈاکٹر نے رضاکارانہ طور اپنی خدمات چینی حکومت کو پیش کیں ۔ اس پر بعدازاں پاکستان میں قائم چینی سفارت خانے کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب ساءٹ ٹوءٹر میں ستائشی پیغام میں کہا گیا کہ ہم ڈاکٹر محمد عثمان جنجوعہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے ایک غیر ملکی ڈاکٹر کی حیثیت سے چین میں کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں رضاکارکے طور شمولیت اختیار کی ۔ اسی طرح امریکہ برطانیہ اور دیگر ممالک میں پاکستانی ڈاکٹر بھرپور تعاون کر رہے ہیں ۔ برطانیہ میں کورونا وائرس کے مریضوں کی جان بچاتے بچاتے پاکستانی ڈاکٹر حبیب زیدی اس مہلک وائرس کا شکار ہو کر اپنی زندگی کی بازی ہار گئے ۔ 76سالہ ڈاکٹر حبیب زیدی 50 سال قبل برطانیہ آئے تھے اور ایسکس میں رہائش پذیر تھے ۔ ڈاکٹر حبیب زیدی بطور جنرل فزیشن کام کررہے تھے اور ایسٹ ووڈ گروپ پریکٹس کے منیجنگ پارٹنر بھی تھے ۔ برطانیہ میں کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کرنے والوں میں پاکستانی ڈاکٹر ہراول دستے کا کردار ادا کرتے ہوئے اب بھی مریضوں کی دیکھ بھال میں رات دن مصروف ہیں ،صرف ڈاکٹر ہی نہیں پیرا میڈیکل اسٹاف بھی پیش پیش ہے ۔ کرونا وائرس کی وجہ سے پوری دنیا میں طبی سہولیات کا فقدان ہے اور خاص کر ترقی یافتہ ممالک میں بھی اس کی کمی ہے ۔ ایسے میں ایک پاکستانی ڈاکٹر نے چار لوگوں کے لیے ایک وینٹی لیٹر کو قابل استعمال بنا کرقابل فخر کارنامہ انجام دیا، پاکستانی ڈاکٹر نے مانچسٹر میموریل ہسپتال میں وینٹی لیٹر کو چار مریضوں کےلئے قابل استعمال بنایا تھا ۔ اس کارنامے کے بعد مقامی پولیس اور مکینوں کی بڑی تعداد اپنی گاڑیوں کا ہارن بجاتے ان کے گھر کے باہر پہنچ گئی اور منفرد انداز میں قطار میں چلتی گاڑیوں نے پاکستانی ڈاکٹر کو خراج تحسین پیش کیا ۔ اُدھر اسپین کے شہر بارسلونا میں پاکستانی ٹیکسی ڈرائیوروں نے مقامی میڈیکل اسٹاف اور نرسز کےلئے اپنی ٹیکسی سروس مفت کررہے ہیں ، پاکستانی ٹیکسی ڈرائیورز ہسپتالوں کے باہر ان کا انتظار کرتے ہیں تاکہ وہ انہیں مفت سروس فراہم کر سکیں ۔ بارسلونا میں پاکستانی ڈرائیورز کا کہنا ہے کہ سینکڑوں پاکستانی ٹیکسی ڈرائیورز اس وقت بارسلونا میں سوشل سروس فراہم کر رہے ہیں ۔ اسپین وہ تیسرا ملک ہے جہاں یہ وبا سب سے زیادہ پھیلی ہے ایسے میں پاکستانی ٹیکسی ڈرائیورز نے فیصلہ کیا کہ ہم یہاں کے میڈیکل اسٹاف کو مفت سروس فراہم کریں گے ۔ ان کا کہنا ہے کہ نہ صرف کورونا وائرس کی وبا کے دنوں میں بلکہ اس سے قبل بھی ایسے ہی مشکل حالات میں پاکستانی ٹیکسی ڈرائیورز انتظامیہ کا ساتھ دیتے ہیں ۔ جہاں پاکستانی ٹیکسی ڈرائیورز بارسلونا میں طبی عملے کو مفت پک اینڈ ڈراپ کی سہولت فراہم کر رہے ہیں ، وہیں وہ ہسپتالوں میں ادویات کی مفت فراہمی سمیت وہاں کی پولیس کے ساتھ مل کر طبی عملے کی حوصلہ افزائی کے لیے بھی خدمات سر انجام دے رہے ہیں ۔ بارسلونا میں اسپین کا ایک بڑا شہر ہے تقریباً 43ہزار پاکستانی یہاں ;200;باد ہیں جب کہ اسپین بھر میں 90ہزار کے قریب پاکستانی رہتے ہیں جو مشکل کی اس گھڑی میں اسپین کی انتظامیہ کا ساتھ دے رہے ہیں ۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اشیائے خوردونوش فروخت کرنے والے مخیر حضرات بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں ۔ مخیر حضرات راشن کے پیکٹ بنا کر ان ڈرائیوروں کو دے دیتے ہیں جو مستحقین میں تقسیم کردیتے ہیں ۔ اسپین میں قائم اسلامک کلچرل سینٹر بھی طبی عملے کے لئے ماسک اور حفاظتی سوٹ بنانے میں مصروف ہے ۔ اس طرح کی بیسیوں مثالیں دی جا سکتی ہیں جس میں عام حالات بھی پاکستانی انسانیت کا بھرم رکھتے ہیں ۔ مثلاً چند ماہ قبل دبئی میں پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور نے دیانت داری کی مثال قائم کرتے ہوئے بھارتی لڑکی کو تلاش کرکے اس کے گمشدہ قیمتی کاغذات اور رقم واپس کردی ۔ بھارت سے تعلق رکھنے والی راشیل برطانوی جامعہ کی طالبہ تھی، چار جنوری کی صبح وہ مدثر کی ٹیکسی میں بیٹھی لیکن اترتے ہوئے عجلت میں وہ اپنا پرس ٹیکسی میں بھول گئی ۔ راشیل کے پرس میں برطانوی ویزا، امارتی شناختی کارڈ اور ڈرائیونگ لائسنس، ہیلتھ انشورنس کارڈ، کریڈٹ کارڈ اور ایک ہزار درہم کے لگ بھگ رقم بھی موجود تھی ۔ دعاہے بیرون ملک مقیم ہمارے لاکھوں پاکستانی بھائی خدمت خلق کے ایسے جذبے سے مالا مال رہیں اور پاکستان کا نام روشن رکھنے میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں ۔