- الإعلانات -

علامہ اقبال کا تاریخی خطبہ الہ آباد

1930ء کو مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس الہ آباد ڈاکٹر سر محمد اقبال;231; کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں اپنے صدارتی خطبے میں انہوں نے بڑی وضاحت سے ہندوستان کے حالات، مسلمانوں کی مشکلات، ان کے مستقبل اور مسلمانان ہند کی منزل کی نشان دہی کی ۔ کانگریس جس طرح ماضی میں مسلمانوں کے وجود سے انکاری ہوئی تھی اس سے انکار ممکن نہیں تھا ۔ ان دنوں لندن میں گول میز کانفرنس ہو رہی تھی لیکن علامہ اقبال گاندھی کی ہٹ دھرمی کے پیش نظر جانتے تھے کہ کوئی بھی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلے گا اور مسلمانوں کی منزل ایک علاحدہ مملکت ہی ہے ۔ کانگریس کوشاں تھی کہ ہردواقوام ملکر انگریز کو نکالیں ۔ پھر دونوں اقوام اکٹھی رہیں یوں ہندو اکثریت مسلمان اقلیت پر اپنا اقتدار قائم رکھے گی ۔ اگرچہ سرسید احمد خان نے اپنی تحریک کے آغاز میں ہی یہ واضح کردیا تھا کہ ہندو اور مسلمان دوالگ اقوام ہیں جو اکٹھی نہیں رہ سکتیں ۔ سرسید احمد خان نے کہا تھا ۔ ’’اگرآج انگریز ملک چھوڑ کر چلے جائیں تو مسلمانوں کا کیا بنے گا;238; سرسید احمد خان نے مسلمانوں کی سماجی تعلیمی اور معاشی حالت بہتر بنائی ۔ علامہ اقبال بھی ان اکابر میں تھے جوپہلے متحدہ جدوجہد کے قائل تھے اور ان کا یہ ترانہ زبان زدوخاص وعام تھا ۔ اقبال;231;نے اس بات کا ادراک کر لیا تھا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے مسائل کا حل ایک علیحدہ ریاست کا قیام ہے ۔ انہوں نے اپنے خطبے میں واضح کر دیا کہ اگر مسلمانوں کے جائز مطالبات پورے نہ کیے گئے تو وہ متحد ہو کر کوئی آزادانہ سیاسی قدم نہیں اٹھائیں گے ۔ مسلم مملکت کا میرا یہ مطالبہ ہندو اور مسلمان دونوں کےلئے منفعت بخش ہے ۔ ہندوستان کو اس سے حقیقی امن و سلامتی کی ضمانت مل جائے گی ۔ اسی لیے آپ نے اپنے اس خطبہ میں ایک نئی سکیم پیش فرمائی کہ ’’ میں یہ چاہتا ہوں کہ صوبہ پنجاب، صوبہ شمال مغربی سرحد، سندھ اور بلوچستان کو ایک ریاست کی شکل دی جائے یہ ریاست برطانوی ہند کے اندر اپنی حکومت خوداختیاری حاصل کرے‘ خواہ اس کے باہر ۔ مجھے تو ایسا نظر آتا ہے کہ شمال مغربی ہندوستان کے مسلمانوں کو آخر ایک منظم اسلامی ریاست قائم کرنا ہی پڑے گی ۔ ‘‘علامہ کا کہنا تھا کہ ہم محض مذہب کی بنا پر الگ قوم کا دعوی نہیں کرتے بلکہ ہمار موقف ہے کہ اسلام جاندار اور آفاقی مذہب ہے اور دنیا بھر کے مسلمان ایک ملت اور اسلام پر یقین نہ رکھنے والے دوسری قوم ہیں ۔ اسلام ریاست اور فرد دونوں کی زندگی میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے‘ دستور حیات ہے اور ایک نظام ہے جس شخص کو آپ نے آل انڈیا مسلم لیگ کی صدارت کے اعزاز سے نوازا وہ اب بھی اسلام کو ایک طاقت سمجھتا ہے اور یہی طاقت انسان کے ذہن کو وطن اور نسل کے تصور کی قید سے نجات دلا سکتی ہے ۔ اقبال;231; کا یہ ماننا تھا کہ ہندوستان کے مسلمان اپنے تہذیب و تمدن، ثقافت اور اسلام کی وجہ سے یہاں کی دوسری قوموں سے مختلف ہیں ۔ ہندوستان مختلف اقوام کا وطن ہے جن کی نسل، زبان، مذہب سب ایک دوسرے سے الگ ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان میں وہ احساس پیدا نہیں ہو سکا ہے جو ایک ہی نسل کے مختلف افراد میں ہوتا ہے ۔ ہندو اور مسلمان دو الگ قو میں ہیں ، ان میں کوئی بھی قدر مشترک نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ گزشتہ ایک ہزار سال میں اپنی الگ حیثیت قائم رکھے ہوئے ہیں ۔ ایک ہی ملک میں رہنے کے باوجود ہم میں یک جہتی کی فضا اس لیے قائم نہیں ہو سکی کہ یہاں ایک دوسرے کی نیتوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور ہماری یہ کوشش ہوتی ہے کہ کس طرح فریق مقابل پر غلبہ اور تسلط حاصل کیا جائے ۔ انگریز کا تصور جمہوریت ہندواکثریت کو ساتھ ملاکر عددی اکثریت سے مسلمانوں کو مطمئن کرکے ہمیشہ کےلئے مجبور ومحکوم بنانا ہے ۔ بقول اقبال اس تصور حکومت میں بندوں کوگنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے ۔ بلاشبہ یہ تصور اس ملک میں مفید ثابت ہوسکتا ہے جہاں ایک ہی عقیدہ وملک کے لوگ اور قوم آباد ہوں مگر ملک جہاں مختلف اقوام آباد ہوں یہ تصوراکثریت کو اقلیت پر حکمرانی کا کھلا موقع دیتا ہے ۔ حکیم الامت علامہ اقبال اسلامیان برصغیر کے وہ عظیم رہنما ہیں جنہوں نے نہ صرف فکری رہنمائی کی بلکہ اسلامیان برصغیر کےلئے ایک الگ وطن کی نشاندہی کی تاکہ وہ اس خطہ ارض میں اپنی تہذیب وثقافت کو فروغ دے سکیں اور دنیائے اسلام کی رہنمائی ہو ۔ علامہ اقبال نے مسلمانان برصغیر پاک وہند کےلئے صرف الگ وطن کا تصور پیش نہ کیا بلکہ اس عظیم قائد کی بھی نشاندہی کی کردی جو اس مقصد عظیم کے حصول کےلئے جملہ صلاحیتوں اور خوبیوں سے مالا مال تھا ۔ ملت نے علامہ اقبال کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر حضرت قائداعظم کی قیادت میں اس تصور کو عملی جامہ پہنایا اور اس وقت کی دنیا کی سب سے بڑی مملکت اسلامی پاکستان قائم ہوئی ۔ راقم الحروف جو کہ علامہ اقبال سے گہری محبت رکھتا ہے اور اسی حوالے سے ممبر بورڈ آف گورنربزم اقبال بھی ہے، اقبال;231; کے حوالے سے ہونی والی ہر تقریب میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے اور کوشش ہوتی ہے کہ علامہ کے پیغام کو نئی نسل تک بالکل اصلی اور درست حالت میں پہنچایا جائے تاکہ نئی نسل بھی اس پیغام اور علامہ کے افکار سے روشناس ہو سکے ۔ اس دفعہ چونکہ کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے تقریبات پر پابندی ہے لہٰذا ضروری ہے کہ پرنٹ میڈیا ، الیکٹرانک میڈیا اور کتب کے ذریعے اقبال ;231; کی ملی خدمات پر ان کو بھرپور خراج عقیدت پیش کیا جائے ۔ آج 21 اپریل کو شاعرِ مشرق، مفکرِ اسلام اور مصورِ پاکستان علامہ اقبال کا 82واں یومِ وفات عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جارہا ہے ۔ آج پھر برصغیر اور خاص طورپر ہندوستان کے مسلمانوں کو ایک اقبال;231; کی ضرورت ہے ۔ آج مودی کی شکل میں مسلمانان ہند پر جو عذاب مسلط ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ۔ کشمیر میں جو ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھائے جا رہے ہیں وہ سب کے سامنے ہیں ۔ حضرت علامہ اقبال ;231; کا تعلق محض اس لیے کشمیر سے نہیں تھا کہ خطہ کشمیر، ارض خداوندی پر ایک جنت نظیر وادی ہے، بلکہ علامہ کے اجداد بذات کشمیری تھے اور یوں اْن کی رگوں میں رواں رہنے والا خون خالص کشمیری ہی تھا ۔ کشمیر سے اپنے تعلق پر اقبال;231; ہمیشہ فخر کرتے اور کشمیرسے جدائی کا احساس رکھتے تھے ۔ اس موقع پر اسلامیانِ پاکستان اور کشمیری عوام کے علاوہ بھارت، ایران، افغانستان، ترکی،برطانیہ، جرمنی اور دوسرے ممالک میں مقیم اقبال کے عقیدت مند انہیں مختلف تقاریب کے ذریعے ہدیہ عقیدت و محبت پیش کرتے ہیں ۔