- الإعلانات -

چین کےخلاف بھارتی زہر افشانی کیوں

پاک چین دوستی کو حرف تنقید بنایا جائے ،ان دونوں (یعنی امریکہ اور بھارت) کو نہ تو کسی اخلاقی ضابطے کی پرواہ ہے اور نہ ہی مروجہ سفارتی روایات کا احترام ۔ تبھی تو پچھلے ایک ہفتے سے بھارتی اور امریکی میڈیا نے چین کےخلاف جھوٹی اور بے نبیادخبروں پر مشتمل طوفان بدتمیزی بر پا کیا ہوا ہے اور ’’کار خیر‘‘ میں دہلی سرکار کوخطے کے بعض دیگر ممالک کی معاونت بھی حاصل ہے ۔ اسی تناظر میں رواں ہفتے ’’جاپان ٹائمز‘‘ نے ایک تحریر میں پاکستان اور چین کیخلاف انتہائی اشتعال انگیزی پر مبنی لغو بیانی کی ۔ مذکورہ اخبار نے ایک سٹوری شاءع کی جس میں یہ فسانہ تراشا گیا کہ کرونا وائرس حقیقتاً چین اور پاکستان نے پوری دنیا میں پھیلایا ۔ سنجیدہ حلقوں کا کہنا ہے کہ اپنے عناد کو بنیاد بنا کر کرونا وائرس جیسی خطرناک وبا کی آڑ میں اس قسم کی اشتعال انگیزی کسی طور قابل رشک قرار نہیں دی جا سکتی ۔ دوسری جانب بھارتی اور امریکی حکمران یوں تو ایک دوسرے کی دوستی کا دم بھرتے نہیں تھکتے لیکن دونوں فریق ایک دوسرے کیخلاف بھی ریشہ دوانیوں سے باز نہیں آتے ۔ ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات ان دنوں خاصی کشیدگی کا شکار ہیں اور بھارتی میڈیا نے ہندوستانی مسلمان، پاکستان اور چین کے ساتھ ساتھ اب امریکہ کو بھی اپنے نشانے پر رکھ لیا ہے ۔ امریکہ نے بھارت آ رہی 4 لاکھ کرونا ٹیسٹنگ کٹس کی کھیپ کو روک لیا ، یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے چین سے چار لاکھ ریپڈ ٹیسٹنگ کٹ کی کھیپ تامل ناڈو پہنچنی تھی لیکن یہ کھیپ امریکہ کی جانب روانہ کر دی گئی ۔ مبینہ طور پر امریکہ کی جانب سے کٹ بھیجنے والی کمپنی پر دباءو ڈالا گیا ۔ اس کے علاوہ چند روز پہلے بھارت کی جانب سے ہائیڈروکلوروکوائن دوا کو امریکہ بھیجنے سے انکار کر دیا گیا تھا جس کے بعد امریکہ نے دہلی کے حکمرانوں کو دھمکی دی کہ اگر 24 گھنٹوں کے اندر پابندی کو نہ اٹھایا گیا تو سخت اقدامات کئے جائیں گے ۔ مجبوراً بھارتی حکمران ٹولے کو مذکورہ دوا کی برآمد پر عائد پابندی ہٹانا پڑی ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 25 فروری کو ٹرمپ نے بھارت کا دورہ کیا تھا جسے مبینہ طور پر انتہائی کامیاب قرار دیا گیا تھا ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم اور امریکی صدر مزاج کے اعتبار سے خاصی مطابقت رکھتے ہےں اور اکثر اوقات بے سروپا باتیں کرنے کی خصوصی مہارت سے لیس ہےں ۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ ایک طرف کورونا نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے مگر اس مرحلے پر بھی امریکہ نے اس خونی وبا کے خاتمے کے حوالے سے چین کے خلاف خاصی منفی روش اپنا رکھی ہے تو دوسری جانب بھارت اپنی ازلی جبلت کے تحت مسلم دشمنی کی دیرینہ روش پر رواں دواں ہے ۔ یوں بھی بھارتی میڈیا کی مسلم دشمنی اب کسی دلیل کی محتاج نہےں رہ گئی ہے ،الیکٹرانک میڈیا سے پرنٹ میڈیا تک کھل کر مسلم دشمنی کا ایجنڈا چلایا جارہا ہے ۔ کانگریسی حکومتوں میں قدرے جھجھک تھی لیکن گزشتہ دو پارلیمانی الیکشن میں بی جے پی کی لگاتار کامیابی کے بعد زیادہ تر بھارتی میڈیا ہاوسز اور اینکرز نے وہ تکلف بھی بالائے طاق رکھ دیا ، اب تو ڈنکے کی چوٹ پر بغیر دھوئیں کے آگ لگانے کا کھیل سرعام کھیلا جارہا ہے ۔ کورونا جیسی مہلک بیماری پر بھارتی میڈیا کو مودی سرکار کے اقدامات کی لاپرواہی پر اگرچہ سوال اٹھانے چاہیے تھے لیکن ہفتوں تک بھارتی میڈیا میں سناٹاچھایا ہوا تھا لیکن تبلیغی جماعت کا قصہ سامنے آتے ہی ان کے تن مردہ میں گویا جان پڑ گئی ۔ ایک ساتھ کئی بھارتی نیوز چینلوں نے تبلیغی جماعت کے نام پر مسلمانوں پرہلہ بول دیا ۔ اس معاملے پر بحث شروع ہوگئی،اس کے بعد آر ایس ایس کے شرپسندوں کے آئی ٹی سیل نے اپنا کام شروع کر دیا ۔ سالوں پرانے ویڈیوز نکال کر انہےں مسلمانوں سے منسوب کرکے ہندواکثریت کے ذہنوں میں یہ بات ڈالنے کی پوری کوشش کی گئی کہ مسلمان سازش کے تحت کورونا وائرس پھیلانے میں لگے ہوئے ہےں ۔ اس شرا نگیزی کی وجہ سے بھارت کے مختلف علاقوں میں مسلمانوں پر حملے شروع ہوگئے ہےں ۔ گزشتہ چند روز میں کچھ بھارتی حلقے اس سارے معاملے کو بھی ہندو مسلم منافرت کا نام دینے پر تلے ہوئے ہےں اور اس قسم کے دوسرے واقعات بھی روز بروز بڑھ رہے ہےں ۔ توقع کی جانی چاہیے کہ دہلی کا حکمران ٹولہ اور امریکی سربراہ کم از کم کورونا کے معاملے اور ناتواں کشمیریوں کی حالت زار کو مدنظر رکھتے ہوئے مثبت رویہ اپنائیں گے تاکہ کورونا جیسی مہلک وبا کے خاتمے کیلئے اپنا انسانی فریضہ نبھا سکیں اور دنیا اس آسمانی آفت سے قدرے مناسب انداز سے نمٹ سکے ۔ علاوہ ازیں یہ امید بھی کی جانی چاہیے کہ حالیہ دنوں میں چین اور پاکستان کی بابت جو منفی پراپیگنڈا کیا جارہا ہے اس کے پس پردہ محرکات کو سمجھتے ہوئے بین الاقوامی برداری مثبت طرز عمل اپنائے گی اور سی پیک اور چین کے خلاف جاری سازشوں کا سلسلہ بند کرانے کی جانب سنجیدہ توجہ دے گی ،یہ بات بھی ذہن نشین ر ہنی چاہیے کہ پاک چین تعلقات کسی وقتی مصلحت کا نتیجہ نہےں بلکہ ان کی اپنی تاریخ ہے ۔ یوں بھی جس موثر ڈھنگ سے چین نے کورونا پر قابو پایا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے ۔